جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نظم القرآن و جمہرۃ البلاغۃ

یہ مسلم ہے کہ نطق صرف آواز اور صوت کا نام نہیں ہے، بلکہ دو چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے، آواز، اور معنی۔ اور جب تک ان دونوں میں حسن نہ پایا جائے، نطق کا کمال نہیں ہو سکتا، خوش چشم آدمی اگر ایک آنکھ کا کانا ہو، تو حسین نہیں کہا جا سکتا۔

حسنِ کلام کی بھی یہی حالت ہے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک عمدہ اور پراثر مضمون، نحو و صرف کی معمولی پابندیوں میں مقید رہ کر ادا نہیں ہو سکتا، اس حالت میں، الفاظ مضمون کا حجاب بن جاتے ہیں، اور اس وجہ سے مضمون، اس حجاب کو چاک کر کے دل میں اترتا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی بادشاہ ضرورت کے وقت، آدابِ سلطنت چھوڑ کر خود سفیر بن کر جائے، اور اپنا پیغام خود پہنچا آئے، اس بیان سے ثابت ہوا کہ حسن کلام، الفاظ کا پابند نہیں، اور یہ کہ بلیغ، دراصل مضمون ہوتا ہے، نہ الفاظ، لغت میں بلیغ کے معنے ’’پہنچنے والا‘‘ کے ہیں، اور جو چیز دل میں پہنچتی ہے، وہ دراصل معانی ہیں، نہ الفاظ۔

اس تمہید کے بعد، اس بات پرلحاظ کرو کہ جب کوئی مضمون فی نفسہ بیہودہ اور لغو ہوتا ہے تو گو کیسے ہی فصیح اور شستہ الفاظ میں ادا کیا جائے، دل میں جگہ نہیں کرتا بلکہ اچٹ جاتا ہے، ممکن ہے کہ اس قسم کے مضمون سے کسی احمق اور بے مذاق کو مزہ آئے، لیکن کلام کے حسن و خوبی کا فیصلہ، احمقوں کے مذاق کے رو سے نہیں ہو سکتا، غرض ان اسباب سے کلام میں جب تک مضمون اور معنی کی خوبی نہ ہو، دل میں نہیں اتر سکتا اور اس بنا پر اس کو بلیغ بھی نہیں کہہ سکتے، یہی وجہ ہے کہ شعرائے عرب کلام کی تعریف حسنِ مضمون کے لحاظ سے کرتے ہیں۔

زہیر بن ابی سلمیٰ کہتا ہے۔

وذی نعمۃ تممتہا وشکرتہا

وخصم یکاد الحق یغلب باطلہ

ترجمہ کتنے ہی صاحبِ نعمت ہیں جن کی نعمت میں نے پوری کی اور اس کا شکر ادا کیا، اور کتنے ہی جھگڑالو ہیں جن کا باطل حق پر غالب آیا چاہتا تھا

دفعت بمعروف ومن القول صائب

اذا ما اضل الناطقین مفاصلہ

ترجمہ میں نے اسے بھلائی سے اور ایسی سچی بات سے دفع کیا جو عین نشانے پر بیٹھتی ہے جب بولنے والوں کے فیصلے راہ کھو بیٹھیں

وذی خطل فی القول یحسب انہ

مصیب فما یلمم بہ فہو قائلہ

ترجمہ اور کتنے ہی بیہودہ گو ہیں جو اپنے تئیں درست سمجھتے ہیں، جو بات ان کے جی میں آ جائے وہ کہہ ڈالتے ہیں

عبأت لہ حلما واکرمت غیرہ

واعرضت عنہ وہو باد مقاتلہ

ترجمہ میں نے اس کے مقابلے میں بردباری سے کام لیا اور اس کے سوا دوسروں کی عزت کی، اور اس سے منہ پھیر لیا حالانکہ اس کے مقتل (کمزوریاں) ظاہر تھے

قرآن مجید میں جہاں بلیغ کا لفظ آیا ہے، اسی معنے میں آیا ہے، مثلاً قل لہم فی انفسہم قولا بلیغاان سے ان کے دلوں میں اتر جانے والی بات کہو، یعنی اے محمد! ان لوگوں سے ایسی بات کہہ جو بلیغ ہو، یعنی ان کے دل میں اتر جائے، اسی طرح اس آیت میں بھی وللہ الحجۃ البالغۃاور اللہ ہی کی حجت پوری پہنچنے والی ہے یہی معنے مراد ہیں، حاصل یہ کہ جو مضمون، جس قدر زیادہ دلنشیں اور دلپذیر ہو گا اسی قدر زیادہ بلیغ ہو گا۔

ایک اور واضح مثال سے یہ نکتہ ذہن نشین ہو سکتا ہے، فرض کرو، ایک شخص کسی آدمی کو گالیاں دے رہا ہے اور گالیوں میں ہر قسم کی سخن آرائی، لفاظی، جدت پسندی، استعارہ بندی صرف کرتا ہے، الفاظ بھی نہایت شستہ، بامحاورہ، اور فصیح ہیں، تو کیا تم اس شخص کو فصیح و بلیغ کہو گے؟!

اس تمام تقریر سے امور ذیل ثابت ہوئے، کلام کی خوبی، صرف محاکات کا نام نہیں، کلام کی اصل غرض و غایت صرف، سامعین کا حظ اٹھانا نہیں، بلکہ عقل کی سفارت اور پیغامبری ہے، کلام سے جو لذت حاصل ہوتی ہے وہ اس لیے نہیں کہ کلام ایک قسم کی محاکات ہے، اور محاکات، انسان کی فطرت میں داخل ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ نطق ایک قوت ہے، اور ہر قوت کے استعمال میں انسان کو خواہ مخواہ مزہ آتا ہے، انسان کا اصلی خاصہ محاکات نہیں، بلکہ نطق ہے۔ کلام کی خوبی، سچائی پر موقوف ہے۔

ان مقدمات سے معلوم ہو گا کہ بلاغت جس چیز کا نام ہے وہ عقل کی دست و بازو، انسانیت کا عنصر، راستی کی مترجم، اور فخر کا تاج ہے، وہ اس رتبہ کی چیز ہے، کہ ایک پیغمبر اولوالعزم کا معجزہ قرار پائی، اسی کا اثر تھا کہ قرآن مجید کے اعجاز نے اعجازِ موسوی کو بے حقیقت کر دیا، عصائے موسوی کا معجزہ، یہودیوں یا قبطیوں کو غلامی کی حد سے آگے نہ بڑھا سکا، لیکن اعجازِ قرآنی نے لوگوں کو حضیضِ خاک سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا!

لیکن اگر بلاغت کی وہ حقیقت ہو جو ارسطو نے بیان کی تو نعوذ باللہ، وہ کسی پیغمبر کا معجزہ کیا قرار پا سکتی ہے!

بلاغت کی ماہیت اور حقیقت بیان کرنے کے بعد، اب ہم اس کے اصول اور آئین مرتب کرنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ بلاغت کا بہت بڑا مظہر، شاعری اور خطبہ پردازی ہے، اس لیے پہلے ہم ان دونوں کی حقیقت سے بحث کرتے ہیں۔

شاعری اور خطابت، اگرچہ بلاغت کی حیثیت سے برابر کے شریک ہیں تاہم ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے، شاعری کی حقیقت خود شاعری کے لفظ سے اچھی طرح سمجھی جا سکتی ہے، اہل عرب چونکہ شاعری کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے اس کا نام بھی ایسا رکھا جو خود شعر کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے، شاعر کے لفظی معنے، صاحبِ شعور کے ہیں، شعور، احساس (فیلنگ) کو کہتے ہیں، یعنی شاعر وہ شخص ہے، جس کا احساس قوی ہو، انسان پر خاص خاص حالتیں طاری ہوتی ہیں، مثلاً رونا، ہنسنا، انگڑائی لینا، یہ حالتیں جب انسان پر غالب ہوتی ہیں تو اس سے خاص خاص حرکات صادر ہوتی ہیں، مثلاً رونے کی حالت میں آنسو جاری ہوتے ہیں، ہنسنے کے وقت، ایک خاص آواز پیدا ہوتی ہے۔ انگڑائی کی حالت میں، اعضا تن جاتے ہیں، اسی طرح شعر بھی ایک خاص احساس کا نام ہے جو شاعر کی طبیعت پر رنج، یا خوشی، یا غصہ، یا استعجاب کے طاری ہوتے ہی ایک خاص اثر پڑتا ہے، یہ اثر الفاظ کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے اسی کا نام شاعری ہے، شاعر کا احساس، اوروں کے احساس سے قوی ہوتا ہے لیکن اس کے معنے یہ نہیں کہ اس کو اوروں کی بہ نسبت، زیادہ رنج، یا زیادہ خوشی ہوتی ہے، بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ احساس کے وقت اس کی تمام قوتیں جوش میں آ جاتی ہیں، احساس اس کی قوتِ تخییلہ کو، نطق کو، لہجہ کو، آواز کو، سب کو یک بارگی مشتعل کر دیتا ہے، شاعر گویا وہ نودمیدہ سبزہ ہے، کہ جب اس پر پانی پڑتا ہے تو رگ رگ میں سرایت کر جاتا ہے اور وہ لہلہانے لگتا ہے۔

خطیب (لکچرار) کا احساس بھی شاعر کے احساس سے کم نہیں ہوتا لیکن خطیب، اس احساس سے مغلوب نہیں ہوتا، اس کی غرض، دوسروں پر اثر ڈالنا ہوتا ہے، وہ اپنے احساس کو قابو میں رکھ سکتا ہے اور اس سے اسی حد تک، اور اسی ترتیب اور تناسب سے کام لیتا ہے جہاں تک دوسروں کے تاثر میں اس کے کام آئے، شاعر کو صرف موجودہ حالت سے کام ہوتا ہے، لیکن خطیب کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، اس بنا پر خطیب، شاعر کی بہ نسبت، زیادہ عاقل، زیادہ ذکی النفس، زیادہ عالی منزلت ہوتا ہے اور اسی بنا پر اہل عرب، شعر کو جادوگری، اور خطبہ کو حکمت کہتے ہیں۔

عام لوگوں کا خیال ہے کہ شاعری کا اصلی عنصر تشبیہات اور استعارات ہیں، چنانچہ حضرت عیسیٰ کے مواعظ اس بنا پر ایک قسم کی شاعری سمجھے جاتے ہیں کہ وہ تمثیلات سے مملو ہیں، لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے، شاعر کی اصلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہایت سریع الانفعال، اور موسیقی الطبع ہوتا ہے، جب اس پر کوئی خاص اثر طاری ہوتا ہے تو نغمہ، وزن، رقص، کی قوتیں جو اس میں فطری ہوتی ہیں ایک دفعہ تحریک میں آ جاتی ہیں۔

حضرت داؤد پر جب خدا کے احسانات کا اثر غالب آتا تھا تو بے ساختہ وہ وجد میں آ کر رقص کرنے لگتے تھے۔ ان کا کلام جس قدر ہے، سرتاپا شعر ہے، جو ان کے پرجوش دل سے بے ساختہ نکلتا تھا، اسی بنا پر ان کے اشعار کو مزامیر کہتے ہیں، بخلاف ان کے حضرت عیسیٰ پر شاعرانہ احساس غالب نہ تھا اسی لیے ان کے کلام میں شاعری کے بجائے حکمت اور فلسفہ ہوتا تھا۔