علمائے اسلام نے فنِ شعر اور بلاغت کی بنیاد، ارسطو کی کتاب پر قائم کی، ارسطو اگر عرب میں پیدا ہوا ہوتا، اور کلام عرب کے تتبع اور استقرا کی بنا پر اس فن کی بنیاد قائم کرتا، تو یقیناً اس مقصد میں کامیاب ہوتا، لیکن وہ یونان میں پیدا ہوا، اور وہیں تربیت پائی، یونانیوں ہی کا کلام اس کے پیش نظر رہا۔ اس لیے شاعری اور فن بلاغت کے جو اصول اس نے قائم کیے، یونانی شعرا کے کلام سے مستنبط کر کے قائم کیے، یونان میں شعر کا جو سب سے بہتر نمونہ سمجھا جاتا تھا، وہ ہومر اور سوفکلیس کی شاعری تھی، ان دونوں نے شاعری کی بنیاد مصنوعی قصوں، اور حکایتوں پر رکھی تھی۔
فنون لطیفہ کی تدوین کا عام قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کا حسن عام طور پر مسلم الثبوت ہوتا ہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں، اور اس کے اجزا کی تحلیل کرتے ہیں، یعنی یہ کہ اس میں کیا کیا باتیں پائی جاتی ہیں، پھر انہیں چیزوں کو محاسن قرار دے کر کلیات قائم کر لیتے ہیں۔
یونان میں ہومر، اور سوفکلیس کا کلام، فصاحت و بلاغت میں بے نظیر تسلیم کیا جاتا تھا، ارسطو نے تحلیل کر کے دیکھا تو ان کا کلام تمام تر حکایتیں اور افسانے تھے، اس نے یہ بھی دیکھا، کہ یہ حکایتیں واقعی نہیں ہیں، بلکہ اکثر مصنوعی اور فرضی واقعات ہیں، اس سے اس کو خیال پیدا ہوا کہ کلام کی اصلی خوبی صرف یہ ہے کہ کسی واقعہ کی تصویر کھینچی جائے، واقعہ فی نفسہ صحیح ہو، یا نہ ہو، اس سے غرض نہیں، ارسطو نے یہ بھی دیکھا کہ جو چیزیں فی نفسہ بدصورت اور کریہ منظر ہیں، ان کی بھی اگر ٹھیک تصویر کھینچ دی جائے تو طبیعت کو مزہ آتا ہے، اس سے اس نے یہ فیصلہ کیا، کہ واقعہ صحیح ہو یا غلط، لیکن اگر اس طرح ادا کر دیا جائے کہ اس کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے تو حسن کلام حاصل ہو جائے گا، اس خیال کی امور ذیل سے اور بھی تائید ہوتی ہے۔
انسان میں محاکات کا مادہ تمام اور حیوانات سے زیادہ پایا جاتا ہے، بچہ وہی کام کرتا ہے، جو اوروں کو کرتے دیکھتا ہے، اس بنا پر کسی واقعہ کی تصویر کھینچنا، انسان کی اصلی فطرت کا تقاضا ہے، علم فی نفسہ ایک مرغوب چیز ہے، اور کسی واقعہ کا بیان کرنا بھی ایک طرح کا علم ہے، اس بنا پر واقعہ نگاری مرغوبِ عام ہے۔
ان وجوہ کی بنا پر ارسطو نے، محاسنِ کلام کی تمام تر بنیاد انھیں دو اصولوں پر رکھی، اور ان کے خلاف جو باتیں نظر آئیں، ان کو رد کر دیا، سوفاکلیس پر لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ اتنے لوگوں کے اخلاق و عادات کی جو تصویریں کھینچی، وہ اصل کے مطابق نہیں، سوفاکلیس نے کہا کہ
میں نے ان کا ویسا حلیہ بیان کیا، جیسا ہونا چاہیے، نہ کہ جیسا ان کا واقعی حلیہ ہے۔
سوفاکلیس کا یہ جواب، اگرچہ غلط ہے، لیکن ارسطو نے اس کو اپنے اصول کے موافق پسند کرتا ہے۔
یونان میں شاعری سے جو کام لیا جاتا تھا، وہ صرف، مذاقیہ جلسوں کا گرم کرنا تھا، شعرا عموماً مذاقیہ مصنوعی قصے نظم کرتے تھے، یہاں تک کہ شاعر سخن ساز اور دروغ باز کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس بنا پر ارسطو نے یہ اصول قائم کیا، کہ شاعری کا اصلی مقصد لطف انگیزی ہے، اور اسی بنا پر اس کی رائے یہ ہے کہ اگر راست گوئی سے یہ مقصود حاصل نہ ہو، تو شاعر کو، واقعہ کا گھٹانا یا بڑھانا جائز ہے۔
علمائے اسلام نے چونکہ بنیادِ فن، ارسطو ہی کے اصول پر قائم کی، اس لیے تمام مسائل میں وہی ارسطو کے خیالات کا اثر پایا جاتا ہے۔ ارسطو نے چونکہ جھوٹے طلسم باندھنے کو کمال شاعری قرار دیا تھا علمائے اسلام نے بھی یہ اصول قرار دیا کہ احسن الشعر اکذبہ یعنی اچھا شعر وہ ہے، جس میں زیادہ جھوٹ ہو، ارسطو کے نزدیک بلاغت مصوری کا نام ہے اس لیے علمائے اسلام کے نزدیک بھی بلاغت کی اصلی روح وہی تشبیہ اور تمثیل ہے، کیونکہ تشبیہ بھی درحقیقت ایک قسم کی مصوری ہے، چنانچہ عبد القاہر جرجانی نے اسرار البلاغۃ میں لکھا ہے کہ بلاغت کے مہمات مسائل، تشبیہ ہی سے متفرع ہیں۔
ایک اور امر نے علمائے اسلام کو خیال دلایا کہ بلاغت اور شاعری میں جھوٹ کو سچ پر ترجیح ہے، انہوں نے دیکھا کہ استعارہ، تشبیہ سے زیادہ لذیذ اور لطیف ہوتا ہے، مثلاً ان دونوں فقروں میں ’’زید شیر کے مشابہ ہے‘‘ ’’زید، شیر ہے‘‘
پہلا، تشبیہ اور دوسرا استعارہ ہے، اور یہی دوسرا فقرہ زیادہ پرزور اور بلیغ ہے، اب ان دونوں فقروں کو دیکھا تو نظر آیا کہ پہلا فقرہ، واقعیت کا پہلو رکھتا ہے، کیونکہ ایک شجاع شخص، دلیری اور بہادری میں شیر کا مثل کہا جا سکتا ہے، لیکن دوسرا فقرہ تمام تر مبالغہ اور جھوٹ ہے، اس پر یہ رائے قائم ہوئی کہ بلاغت اور شاعری میں جو زور، یا لطف پیدا ہوتا ہے، وہ مبالغہ اور جھوٹ سے پیدا ہوتا ہے، ان خیالات نے، تمام لٹریچر کو مبالغہ اور کذب سے بھر دیا۔
ارسطو کے یہ دونوں مذکورہ بالا اصول، غلط ہیں، ارسطو کا یہ خیال کہ انسان میں محاکات1 کا مادہ تمام جانوروں سے زیادہ ہے، محض غلط ہے، اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ جانور اور انسان، دونوں میں محاکات کا مادہ ہے، تاہم بڑا فرق یہ ہو گا کہ انسان صرف، انسانوں کی محاکات کرتا ہے، بخلاف اس کے بندر، تمام حیوانات اور انسانوں کی محاکات کرتا ہے، آدمی کا بچہ جانوروں کو بھی بولتے دیکھتا ہے، لیکن ان کی بولی کی مطلق نقل نہیں کرتا، بخلاف اس کے ہزار داستان، یا مینا، ہر جانور کی بولی بول لیتی ہے، آدمی کا بچہ، جو اپنے ماں، باپ، بھائی کے اقوال و افعال کی نقل کرتا ہے، وہ اس بنا پر نہیں، کہ اس کی فطرت میں محاکات کی قوت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے، تو اس میں تمام خصائل انسانی بالقوۃ موجود ہوتے ہیں، یہ خصائل نمونہ اور مثال کے دیکھنے سے ابھرتے اور ظہور کرتے ہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے ساتھ دودھ پینا شروع کرتا ہے۔ اس نے پہلے کسی کو دودھ پیتے نہیں دیکھا تھا، لیکن چونکہ خدا نے اس کی فطرت میں یہ قوت رکھی تھی، اس لیے وقتِ معین پر خود بخود اس کا ظہور ہوتا ہے، اسی طرح انسان کو جو قوتیں عطا ہوئی ہیں، وقتاً فوقتاً خود ان کا ظہور ہوتا ہے، نمونہ اور مثال سے اس قوت کی تحریک ہوتی ہے، نہ یہ کہ یہ افعال محاکات کی فطرت کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔
ارسطو کا یہ خیال بھی غلط ہے کہ بلاغت کا مدار، کذب، سخن سازی، اور مبالغہ پر ہے، چنانچہ اس کی حقیقت آگے چل کر واضح ہو گی۔
ارسطو کے خیالات کے رد کرنے کے بعد، مصنف نے خود اس مسئلہ پر نہایت تفصیل سے بحث کی ہے کہ نطق اور بلاغت کس چیز کا نام ہے؟ اور اس کے کیا اصول و شرائط ہیں، ان کی تقریر کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
انسان فطرۃً ناطق پیدا کیا گیا ہے، انسان، اور دیگر تمام جانوروں میں جو چیز اصلی مابہ الامتیاز ہے، اور جس کو منطق کی اصطلاح میں فصل کہتے ہیں وہ یہی نطق ہے، لیکن نطق سے آواز، یا لہجہ، یا راگ مقصود نہیں یہ چیزیں بلبل اور طوطی میں بھی پائی جاتی ہیں، اور انسان سے بڑھ کر پائی جاتی ہیں، بلکہ نطق سے مراد یہ ہے کہ دل میں جو خیالات آئیں ان کا اظہار کر سکے، عقل کا کام، سوچنا اور غور و فکر کرنا ہے، غور و فکر سے جو خیال پیدا ہوتا ہے، عقل جب اس کو ظاہر کرنا چاہتی ہے تو نطق ہی کے ذریعہ سے کر سکتی ہے، اس لیے نطق، عقل کا آلہ ہے۔
ارسطو کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ انسان کی اصلی فضیلت، اور اس کا اصلی خاصہ محاکات قرار دیتا ہے حالانکہ یہ خاصہ محاکات نہیں، بلکہ نطق ہے، محاکات بھی نطق ہی کا ایک نتیجہ ہے، انسان میں قوت نطق نہ ہوتی تو محاکات بھی نہ ہوتی۔
نطق کا کمال دو چیزوں پر منحصر ہے، خیالات اور مطالب صحت اور خوبی سے ادا کیے جائیں، جو مطالب ادا کیے جائیں، خود بھی عمدہ اور صحیح ہوں۔
ارسطو، اور پیروان ارسطو کے نزدیک دوسری شرط، ضروری نہیں، ان کے نزدیک نطق کا کام صرف یہ ہے کہ مضمون کو بعینہ ادا کر دے، مضمون فی نفسہ برا ہو یا بھلا، اس سے غرض نہیں، ابو جعفر قدامہ، نقد الشعر میں لکھتا ہے کہ
اگر کسی شعر میں کوئی بیہودہ اور لغو مطلب ادا کیا گیا ہو، تو اس سے شعر کی خوبی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
شعر کی خوبی کے لیے اسی قدر کافی ہے کہ جو مضمون ادا کیا گیا، کس خوبی اور لطافت سے ادا کیا گیا، لیکن یہ خیال تمام تر غلط ہے، اور چونکہ یہ ایک اہم بحث ہے، اس لیے ہم اس کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
