جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نگاہِ ناز

(1)

دن رات سے گلے ملتا تھا اور لکھنو کے ایک خوش قطع باغچہ میں محبت کے دو متوالے باہم بغلگیر ہو رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آنسوؤں کی آڑ میں اشتیاق اور التجا، آرزو اور کشش کے راز و نیاز ہو رہے تھے۔ پیڑوں کی پتیاں خاموش اور پھولوں کی زبانیں بند تھیں۔ ہاں، نرگس کی نیم باز آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ مگر ان میں بھی رازداری تھی۔ کیونکہ یہ گناہ کا نظارہ تھا۔ صرف نسیمِ غماز پتیوں میں چھپ کر سنتی تھی۔ اور مسکراتی تھی۔

”یہ کمبخت شام روز آتی ہے۔“

”میں تو اسے صبحِ امید سمجھتا ہوں۔“

”مردوں اور عورتوں میں بڑا فرق ہے۔ تم لوگوں کا دل سخت ہوتا ہے۔ جیسے شیشہ۔ ہمارا دل نرم ہوتا ہے، برہ کی آنچ کو نہیں سہہ سکتا۔“

”شیشہ ٹھیس لگتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ نرم چیزوں میں لچک ہوتی ہے۔“

”چلو باتیں نہ بناؤ۔ دن بھر راہ دیکھوں، رات بھر گھڑی کی سوئیاں، تب کہیں آپ کے درشن ہوتے ہیں۔“

”میں تو ہر دم تمہیں اپنے گوشہ جگر میں بٹھائے رکھتا ہوں۔“

”ٹھیک بتلاؤ کب آؤ گے؟“

”گیارہ بجے، مگر احاطہ کا پچھلا دروازہ کھلا رکھنا۔“

”انہیں میری آنکھیں سمجھو۔“

”اچھا تو رخصت!“

”کیسے بے درد ہو۔ جاتے ہو اور گلے بھی نہیں ملتے۔“

(2)

پنڈت کیلاش ناتھ لکھنؤ کے ممتاز بیرسٹروں میں تھے، کئی انجمنوں کے سکرٹری، کئی سوسائیٹیوں کے پریسیڈنٹ، اخباروں میں اچھے اچھے مضمون لکھتے۔ پلیٹ فارم پر پرجوش تقریریں کرتے۔ شروع شروع میں جب وہ مغرب سے لوٹے تو یہ جوش انتہائے عروج پر تھا۔ لیکن رجوعات کی ترقی کے ساتھ اس جوشِ ایثار میں بہت کچھ کمی ہو گئی تھی۔ اب بیکار نہ تھے۔ بیگار کیوں کرتے۔ ہاں، کریکٹ کا شوق اب تک قائم تھا۔ وہ قیصر کلب کے بانی اور کریکٹ کے بہت مشاق کھلاڑی تھے۔

اور اگر مسٹر کیلاش کو کریکٹ کی دھن تھی تو ان کی بہن کا منی ٹینس کی دلدادہ تھیں۔ انہیں نت نئے تفریحات کی تلاش رہتی تھی۔ شہر میں کہیں ڈرامہ ہو، کوئی تھیٹر آئے، کوئی سرکس، کوئی بائسکوپ، کامنی کی طرف سے بے التفاتی غیر ممکن تھی۔ غرض، تفننِ طبع کا کوئی سامان ان کے لئے اسی طرح ضروری تھا، جس طرح ہوا یا روشنی۔ مسٹر کیلاش اپنے بعض دیگر روشن خیال ہم نشینوں کی طرح اربابِ نشاط کے سخت دشمن تھے۔ معلوم نہیں یہ کسی ستم کا بدلہ تھا یا کیا، لیکن اس فرقہ کے خلاف انہوں نے بائیکاٹ کی پرزور تحریک قائم کر رکھی تھی۔ ان کی حیاریز نگاہیں۔ ان کے شرمناک کنائے۔ ان کی اخلاق سوز ادائیں۔ ان کے محرب نفس ترانے ان کے عصمت فروشانہ غمزے۔ غرض ان کا وجود مہلک ہماری سوسائٹی کو مسموم اور متعفن اور مکروہ بنا رہا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہمارے بچے آنکھیں کھولتے ہی یہ پستی کا نظارہ دیکھیں؟ کیا یہ لازمی ہے کہ ہماری مبارک شادیاں ایسی نامبارک ہستیوں کا جولان گاہ بنائی جائیں؟ خانہ داری کے پاک مندر میں قدم رکھتے ہی ہم ایسے ناپاک جذبات کا شکار بنیں جو خانہ داری کے منافی ہیں؟ یہ مسٹر کیلاش کے خیالات تھے۔ اور ان پاکیزہ خیالات کو وہ رنگین اور سجیلے الفاظ پہنا کر اپنے مضامین اور اپنی تقریروں میں بڑے جوش سے ادا کرتے تھے۔ رندانہ روش کے لوگ انہیں اکثر مزاح کا نشانہ بناتے۔ لیکن مزاح اور تضحیک اور ہنسی یہ رفارمروں کے انعام ہیں۔ مسٹر کیلاش ان کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔

باوجود اس مصلحانہ جوش کے مسٹر کیلاش خشک یا روکھے آدمی نہیں تھے۔ وہ واعظ ضرور تھے۔ مگر واعظ رنگین کامنی کی طرح تھیٹروں پر ان کی بھی نظرِ شفقت رہتی تھی۔ مگر وہاں بھی وہی حسن فروشیاں تھیں۔ وہی اخلاقی۔ مگر دھان وہی عاشقانہ رند پرستیاں وہی حسن کے چرچے۔ وہی بے حجابانہ سحر ادائیاں۔ وہی ناز و ادا کی گھاتیں۔ تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔ تھیٹر تھیٹر تھا اور ناچ ناچ تھا۔ تھیٹر اور ناچ میں کوئی مناسبت نہیں ہو سکتی تھی۔ غرض، مسٹر کیلاش اور کامنی ان بزرگوں کی طرح جو یورپین اقوام سے مساوات کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر اپنی ہی قوم کے بعض آراکین کو حیوان سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔ صرف حرف کے پابند تھے۔ معنی سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔ خوش قسمتی سے کامنی کے شوہر مسٹر گوپال ناراین بھی اس کے ہم مذاق اور ہم خیال تھے۔ وہ سال بھر سے ایڈبزک میں تحصیلِ علم کر رہے تھے۔

(3)

لکھنؤ میں الفریڈ تھیٹریکل کمپنی آئی ہوئی تھی۔ اور شہر میں جہاں دیکھئے اسی تماشے کے چرچے تھے۔ کامنی کے لئے یہ عید کی راتیں تھیں۔ رات بھر تھیٹر دیکھتی، دن کو کچھ سوتی اور کچھ دیر وہی تھیٹر کے نغمے الاپتی حسن اور محبت کی ایک نئی دلفریب دنیا کی سیر کر رہی تھی۔ جہاں کی مصیبتیں اور آفتیں بھی اس دنیا کی خوشیوں اور مسرتوں سے زیادہ دلآویز تھیں۔ یہاں تک کہ تین مہینے گزر گئے۔ حدیث عشق کی مسلسل تلقین اور طریق الفت کے روزانہ ورد و ذکر کا قلب پر، اور وہ بھی عالم شباب میں کچھ نہ کچھ اثر ہونا چاہیئے تھا۔ اور وہ اثر ہوا۔ اس کی ابتدا اس طرح ہوئی جس طرح ہوا کرتی ہے۔ وہ فوری یا ناگہانی نہ تھی۔ تھیٹر ہال میں ایک خوش وضع شکیل نوجوان کی نگاہیں کامنی کی طرف اٹھنے لگیں۔ وہ حسین تھی اور چنچل تھی۔ اس لئے پہلے اسے ان نگاہوں میں کوئی خصوصیت نہ معلوم ہوئی۔ آنکھوں کو حسن سے ازلی تعلق ہے۔ گھورنا مردوں کی اور لجانا عورتوں کی عادت ہے۔ کچھ دنوں کے بعد اسے ان میں کچھ چھپے ہوئے معنی نظر آنے لگے۔ منتر اپنا کام کرنے لگا۔ پھر نگاہوں میں سرگوشیاں ہوئیں۔ آنکھیں ملنے لگیں۔ تالیف کی منزل دشوار تمام ہوئی۔ تب اضطراب کا دور شروع ہوا۔ کامنی ایک دن کے لئے بھی اگر کسی دوسرے جلسے یا تقریب میں شریک ہوتی تو وہاں اس کا جی اچاٹ رہتا۔ آنکھیں کسی کو ڈھونڈا کرتیں۔ آخر پیمانہ چھلک پڑا۔ خیال نے عمل کی صورت اختیار کر لی۔ خاموشی کی مہر ٹوٹی۔ تعارف ہوا۔ زبان گویا نے پہلے کنایوں سے پھر لطافت سے کام لیا۔ نظم کے بعد نثر کا دور آیا۔ وصال کے دروازے پر آپہنچے۔ اس کے بعد جو کچھ ظہور میں آیا اس کی ایک جھلک ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ اس نوجوان کا نام روپ چند تھا۔ پنجاب کا رہنے والا، سنسکرت کا شاستری، فارسی اردو میں دستگاہ کامل، انگریزی کا ایم اے، لکھنو کے ایک وسیع لوہے کے کارخانہ کا مینجر تھا۔ گھر میں حسین بیوی، دو پیارے پیارے بچے، اپنے ہم جلسوں میں بے لوث مشہور۔ نہ شباب کی مستی تھی۔ نہ مزاج کا چھچھوراپن، عیالداری کی زنجیر میں جکڑا ہوا۔ معلوم نہیں وہ کونسی کشش، کونسی ترغیب تھی جو اسے اس طلسم میں لے گئی۔ جہاں کی زمین آگ ہے اور آسمان شعلہ، جہاں ذلت ہے، تباہی ہے، اور گناہ ہے، اور کامنی۔ بدنصیب کامنی کو کیا کہا جائے جس کے سیلابِ محبت نے ضبط اور وفا کے باندھ کو توڑ کر اپنی آزادانہ رو میں اخلاق کے شکستہ حال جھونپڑوں کو ڈھا دیا۔ اور ننگ و ناموس کے ہرے بھرے سبزہ زار کو دبا دیا۔ یہ سب پورب جنم کے سنسکار تھے۔

(4)

رات کے دس بج گئے تھے۔ کامنی اپنے کمرے میں برقی لیمپ کے سامنے بیٹھی ہوئی چٹھیاں لکھ رہی تھی۔ حسن کا چراغ روشن تھا۔

لکھنو۔ کیلاش بھون۔

”میری جان! تمہارے خط کو پڑھ کر جان نکل گئی۔ اف! ابھی ایک مہینہ لگے گا۔ اتنے دنوں میں تو شاید تمہیں یہاں میری راکھ بھی نہ ملے گی۔ ایک ہی ہفتہ میں نیم جان ہو گئی۔ تم سے اپنے دکھ کیا روؤں۔ بناوٹ کے الزام سے ڈرتی ہوں۔ جو کچھ بیت رہی ہے وہ میں ہی جانتی ہوں۔ لیکن بلا دردِ دل سنائے جلن کیسے جائے گی۔ یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو گی؟ اب مجھے معلوم ہوا کہ محبت اگر دہکتی ہوئی آگ ہے تو جدائی اس کے لئے روغن ہے۔ تھیٹر اب بھی جاتی ہوں مگر لطفِ دید کے لئے نہیں۔ رونے اور بسورنے کے لئے۔ رونے ہی میں کچھ طبیعت کو تسکین ہوتی ہے۔ آنسو ہیں کہ امڈے چلے آتے ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے اس آہنی پیشے نے تمہارے دل پر بھی کچھ نہ کچھ اثر ضرور کیا ہے۔ ورنہ کیا ممکن تھا کہ تمہیں بالکل خبر نہ ہوتی۔ میری زندگی بے مزہ، خشک، اجیرن ہو گئی ہے۔ نہ کسی سے ملنے کو جی چاہتا ہے، نہ کسی سیروتفریح کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے۔ پرسوں ڈاکٹر کلکر کا لکچر تھا۔ بھائی صاحب نے بہت اصرار کیا۔ مگر میں نہ گئی۔ پیارے، موت سے پہلے مت مارو۔ مصیبت کے دن تو آئیں ہی گے۔ آہ! جب ان آنے والی مصیبتوں کا خیال کرتی ہوں تو دماغ میں چکر آجاتا ہے۔ ایشور کرے وہ دن دیکھنے کے لئے میں زندہ نہ رہوں۔ لیکن خوشی کے ان گنے چنے لمحوں میں جدائی کا دکھ مت دو۔ آؤ، جس قدر جلد ممکن ہو، اور گلے سے لگا کر میرے دل کی جلتی ہوئی آگ کو بجھاؤ۔ ورنہ کیا عجیب ہے کہ برہ کا یہ اتھاہ دریا کوزۂ صبر میں نہ بند ہو سکے۔“ تمہاری کامنی

اس کے بعد کامنی نے دوسرا خط اپنے شوہر کو لکھا۔

لکھنؤ، کیلاش بھون۔