جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نگاہِ ناز

ڈیفنس کے وکیل نے کامنی سے پھر وہی سوال کیا۔ ”کیا تم ازروئے حلف کہہ سکتی ہو کہ تم نے روپ چند کو محبت آمیز خطوط نہیں لکھے؟“

کامنی نے بیباکانہ انداز میں جواب دیا۔ ”میں ازروئے حلف کہتی ہوں کہ میں نے اسے کبھی کوئی خط نہیں لکھا۔ اور عدالت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ مجھے ان اہانت آمیز حملوں سے بچائے۔“

(7)

استغاثہ کی کارروائی ختم ہوئی۔ اب ملزم کے بیان کی باری آئی۔ اس کی طرف صفائی کی کوئی شہادت نہ تھی۔ مگر وکیلوں کو اور جج کو، اور بے صبر پبلک کو یقین کامل تھا کہ ملزم کا بیان استغاثہ کے اس ہوائی قلعہ کو ایک چھن میں مسمار کر دے گا۔ روپ چند اجلاس کے روبرو آیا۔ اس کے چہرے پر مضبوط ارادہ تھا۔ اور آنکھوں میں اطمینان اور شانتی جلوہ گر تھی۔ ناظرین مشتاقانہ اضطراب کے عالم میں ایسے بیخود ہوئے کہ بارگاہِ عدالت میں گھس پڑے۔ اور جج کو پولیس کی مدد لینا پڑی۔ روپ چند اس وقت عید کا چاند تھا یا دیو لوک کا فرشتہ، یا بازارِ حسن کا یوسف۔ ہزاروں آنکھیں اس کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ مگر دلوں کو کیسی مایوسی، کیسا اچنبھا ہوا جب روپ چند نے نہایت مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ لوگ ایک دوسرے کے منہ تاکنے لگے۔

ملزم کا بیان ختم ہوتے ہی عدالت میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ہر شخص ہر شخص سے باتیں کر رہا تھا، ہر ایک چہرے پر حیرت تھی۔ شبہ تھا اور مایوسی تھی۔ غالب، میر اور آتش کی شاید اتنی قدر کبھی نہ ہو گی، معشوق کی بے وفائی اور ستم ادائی پر منظوم گفتگو ہو رہی تھی۔ ہر ایک شخص قسم کھا سکتا تھا کہ روپ چند بے گناہ ہے۔ شرطِ وفا اور آئینِ الفت نے اس کی زبان بند کر رکھی ہے۔ مگر بعض ایسے گرگ باراں دیدہ بھی تھے جو اس کی حماقت پر ہنستے تھے۔

دو گھنٹے گزر گئے۔ عدالت میں ایک بار پھر خاموشی کا راج ہوا۔ جج صاحب فیصلہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ فیصلہ مختصر تھا۔ ”ملزم جوان ہے۔ تعلیم و تہذیب یافتہ ہے۔ اور اس لئے آنکھوں والا اندھا ہے۔ اسے عبرت ناک سزا دینی ضروری ہے۔ اقبالِ جرم سے جرم کا ازالہ نہیں ہوتا۔ میں اسے پانچ سال کی قید سخت کی سزا دیتا ہوں۔“

دو ہزار آدمیوں نے بہ دلِ پردرد یہ فیصلہ سنا۔ اور جگر تھام کر رہ گئے۔ معلوم ہوتا تھا کلیجوں میں بھالے چبھ گئے ہیں۔ ہر ایک چہرے پر مایوسانہ غصہ جھلک رہا تھا۔ یہ انصاف نہیں ہے، ظلم ہے، سختی ہے۔ مگر روپ چند خاموش اور مطمئن تھا۔ ہاں مضبوط ارادے کے بجائے اب اس کے چہرے پر زرد حسرت تھی۔ آگ جل چکی، صرف راکھ باقی تھی۔ اور کامنی! آہ، بدنصیب بے وفا کامنی، وہیں عدالت میں کھڑی زار زار رو رہی تھی۔