جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نگاہِ ناز

”مائی ڈیر گوپال! اس دوران میں تمہارے دو محبت نامے آئے۔ مگر افسوس ہے کہ میں ان کا جواب نہ دے سکی۔ دو ہفتہ سے دردِ سر میں مبتلا ہوں۔ کسی پہلو چین نہیں آتا۔ مگر اب کچھ افاقہ ہوا ہے۔ کوئی اندیشہ مت کرنا۔ تم نے جو ڈرامے بھیجے ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ طبیعت صاف ہو جائے تو پڑھنا شروع کروں۔ تم وہاں کی دلفریبیوں کا ذکر مت کیا کرو، مجھے تم پر رشک آتا ہے۔ اگر میں اصرار کروں تو بھائی صاحب مجھے وہاں تک پہنچا تو دیں گے۔ مگر ان کے مصارف اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سے ماہوار مستقل امداد کی توقع نہیں ہو سکتی۔ اور غالباً تم مجھے بار سمجھنے لگو۔ ایشور چاہے گا تو وہ دن بھی آئیں گے جب میں تمہارے ساتھ اس زندگی، بہار اور نغمہ کی سرزمین کی سیر کروں گی۔ میں تمہیں اس وقت کوئی تکلیف تو نہیں دینا چاہتی۔ لیکن اپنی ضروریات کس سے کہوں؟ میرے پاس اب کوئی خوش وضع گاؤن نہیں رہا۔ کسی تقریب میں جاتے ہوئے شرماتی ہوں۔ پہلے کے کپڑے ضرورت سے زیادہ شوخ اور بھڑکیلے ہیں، اگر تمہارے امکان میں ہو تو میرے لئے ایک اپنی پسند کا گاؤن بنوا کر بھیج دو۔ ضرورتیں تو اور بھی بہتیری ہیں، مثلاً کانوں کے آویزے چھوٹے اور بے آب ہو گئے ہیں۔ مگر فی الحال اسی قدر کافی ہے۔ کیونکہ آخر تمہارے وسائل بھی تو محدود ہیں۔ امید ہے کہ تم بہت اچھی طرح ہو گے۔“ تمہاری پیاری کامنی

(5)

لکھنؤ کے سیشن جج کے اجلاس میں بڑی بھیڑ بھاڑ تھی۔ کمرۂ عدالت میں سیاہ عباؤں والی مخلوق دورویہ اس کثرت سے جمع ہو گئے تھے۔ گویا یہ سیاہی اور تاریکی ہے۔ جو انصاف کی حمایت کرتی ہے۔ ہر شخص کی آنکھیں مبصرانہ بے صبری کے ساتھ اس شعلۂ حسن کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ جو استقلال اور بے باکی کے ساتھ جج صاحب کے روبرو کھڑی تھی۔ یہ کامنی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اور پیشانی پر عرق کے قطرے نمودار تھے۔ کوئی سنگدل شاعر اس کے پیشانی پر بکھری ہوئی زلفوں اور موتی کے قطروں کے لئے اچھی تشبیہ لا سکتا ہے۔ مگر ایک واقعہ نگار یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ علامتیں باوجود ہزار کوششِ ضبط کے، اس کے سکونِ قلب کا راز افشا کر رہی تھیں۔ کمرہ میں موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف وکلاء کی پرمعنی نگاہیں زبانِ خاموش سے ہمکلام ہو رہی تھیں۔ کبھی کبھی دبی ہوئی سرگوشیوں کی بھی نوبت آجاتی تھی۔ احاطہ میں اس قدر انبوہ کثیر تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سارا شہر یہیں سمٹ کر آگیا ہے۔ اور تھا بھی ایسا ہی۔ شہر کی اکثر دوکانیں بند تھیں۔ اور جو کھلی تھیں ان پر لڑکے بیٹھے ہوئے تاش کھیلتے تھے کیونکہ کوئی خریدار نہ تھا۔ شہر سے باہر بارگاہِ عدالت تک آدمیوں کا تانتا لگا ہوا تھا۔ کامنی کو ایک نظر دیکھنے کے لئے اس کی زبان کا ایک کلمہ سننے کے لئے اس وقت ہر شخص اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔ وہ لوگ جو کبھی پنڈت دین دیال شرما جیسے آتش بیان مقرر کی تقریریں سننے کے لئے گھر سے باہر نہیں نکلے، وہ جنہوں نے اپنے نوجوان اور منچلوں بیٹوں کو الفریڈ تھیٹر میں جانے کی اجازت نہیں دی، وہ وادیٔ سکون میں بسنے والے لوگ جنہیں وائسرائے کی تشریف آوری کی خبر نہ ہوئی تھی۔ وہ رنگ آلودہ روحیں جنہیں محرم کی دلچسپیاں بھی گوشۂ تنہائی سے باہر نہ نکال سکتی تھیں وہ سب آج گرتے پڑتے اٹھتے بیٹھتے، آستانِ عدالت کی طرف چلے جا رہے تھے۔ پردہ نشین عورتیں اپنے بالاخانوں پر جا جا کر ایک بیکسانہ اشتیاق کے ساتھ اس طرف نگاہیں دوڑاتی تھیں۔ جدھر ان کے خیال میں عدالت تھی۔ حالانکہ غریب نگاہیں محلات کی بے رحم دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی تھیں۔ اس لئے کہ آج بزمِ عدالت میں بڑا دلچسپ، بڑا حیرت انگیز تماشہ ہونے والا تھا۔ جس پر الفریڈ کے ہزاروں تماشے قربان تھے۔ آج وہ رازہائے سربستہ کھلنے والے تھے جو تاریکی میں رائی ہوتے ہیں۔ اور روشنی میں آکر پربت ہو جاتے ہیں۔ حضرت دل کی لغزشوں اور طبعِ انسانی کی نیرنگیوں کا پردہ اٹھنے والا تھا۔ یہ غیر ممکن تھا کہ روپ چند جیسا شخص سرقہ بالجبر کا مجرم ہو۔ پولیس کا اگر یہ بیان ہے تو ہوا کرے۔ شہادتیں اگر پولیس کی تائید کرتی ہیں تو کریں۔ زبانِ خلق کا فیصلہ ناطق تھا۔ یہ پولیس کی ستم طرازیاں ہیں۔ اور حق تو یہ ہے کہ یہ حسنِ ہوش ربا، یہ چشمِ فسوں ساز، یہ پھول سے رخسار، یہ ملاحت جو کچھ نہ کرے، تھوڑا ہے۔ سامعین ہر ایک منچلے مخبر کی داستان کو ایسی حیرت سے منہ پھیلا کر سنتے تھے۔ گویا کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔ ہر ایک زبان پر یہی چرچا تھا، افواہ، اختلاف اور رنگ آمیزیوں میں لپٹا ہوا مگر اس عام دلچسپی میں ہمدردی یا عبرت کو مطلق دخل نہ تھا۔ یہ حظِ نفس کی تحریک تھی۔ گناہ سے انسان کا کوئی خلقی رشتہ ہے۔

(6)

پنڈت کیلاش ناتھ کا بیان ختم ہو گیا۔ اور کامنی اجلاس پر تشریف لائیں۔ ان کا بیان بہت مختصر تھا۔ ”میں اپنے کمرہ میں رات کو سو رہی تھی۔ کوئی ایک بجے کے قریب چور چور کا غل سن کر چونک پڑی۔ اور اپنی چارپائی کے قریب چار آدمیوں کو ہاتھا پائی کرتے ہوئے پایا۔ میرے بھائی صاحب اپنے دو چوکیداروں کے ساتھ ملزم کو پکڑتے تھے۔ اور وہ اپنے تئیں ان سے چھڑا کر بھاگنا چاہتا تھا۔ میں تیزی سے اٹھ کر برآمدے میں نکل آئی۔ اس کے بعد میں نے چوکیداروں کو مجرم کے ساتھ پولیس اسٹیشن کی طرف جاتے دیکھا۔“

روپ چند نے کامنی کا بیان سنا۔ اور ایک ٹھنڈی سانس لی۔ آنکھوں کے سامنے سے پردہ سا ہٹ گیا۔ کامنی! کیا تو ایسی بے وفا، ایسی ستم شعار، ایسی کمزور ہے! کیا تیری وہ نازبرداریاں، تیری وہ بیقراریاں، وہ عاشقانہ دلفگاریاں، سب دھوکے کی ٹٹی تھیں۔ تو نے کتنی بار کہا ہے کہ رسوائی آئینِ وفا کی پہلی منزل ہے۔ تو نے کتنی بار آنکھوں میں آنسو بھر کر اسی آغوشِ ناز میں چمٹے ہوئے مجھے کہا ہے کہ میں تمہاری ہو گئی۔ میری لاج تمہارے ہاتھ ہے، مگر افسوس تیری وہ سب مہرانگیزیاں آزمائش کا ایک جھونکا بھی نہ سنبھال سکیں! آہ، تو نے دغا دی اور میری زندگی خاک میں ملا دی۔

روپ چند تو ان خیالات میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے وکیل نے کامنی سے جرح کے سوالات کرنے شروع کیے۔

وکیل: ”کیا تم ازروئے ایمان کہہ سکتی ہو کہ روپ چند تمہارے مکان پر اکثر نہیں جایا کرتا تھا؟“

کامنی۔ ”میں نے کبھی اسے اپنے گھر پر نہیں دیکھا۔“

وکیل۔ ”کیا تم قسم کھا سکتی ہو کہ تم اس کے ساتھ کبھی تھیٹر دیکھنے نہیں گئیں؟“

کامنی۔ ”میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔“

وکیل۔ ”کیا تم خلفاً کہہ سکتی ہو کہ تم نے اسے محبت آمیز خطوط نہیں لکھے؟“

شکرے کے چنگل میں پھنسی ہوئی فاختہ کی طرح خطوط کا نام سنتے ہی کامنی کے ہوش اڑ گئے۔ ہاتھ پیر پھول گئے۔ اوسان جاتے رہے۔ زبان نہ کھل سکی۔ جج نے، وکیلوں نے اور دو ہزار آنکھوں نے اس کی طرف پرمعنی نگاہوں سے دیکھا۔

مگر روپ چند کا چہرہ انتقام کی خوشی سے چمک اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک شیطانی تبسم نمودار ہوا۔ جہاں پھول تھا وہاں کانٹا پیدا ہوا۔ دغا باز عورت! اپنے عیش اور اپنی خیالی عزت پر میری اور میرے خاندان کی زندگی کو قربان کرنے والی! تو اب بھی میرے قابو میں ہے۔ میں اب بھی تجھے اس بے وفائی اور ابلہ فریبی کی سزا دے سکتا ہوں۔ چٹھیاں جنہیں تو نے نہیں معلوم صدقِ دل سے لکھا یا نہیں۔ مگر جنہیں میرے دلِ بے قرار کو تسکین دینے کی جادو صفت تاثیر تھی جو تنہائی کے لمحوں میں مجھے کبھی رلاتی تھیں۔ کبھی بہلاتی تھیں۔ اور کبھی اس سبزہ زار میں لے جاتی تھیں جہاں حسن ہے، اور نغمہ ہے، اور بہار ہے۔ وہ سب چٹھیاں میرے پاس ہیں۔ اور وہ اسی وقت تیری بے وفائی اور کج ادائی کا پردہ فاش کریں گی۔ اس طرح غصہ سے مغلوب ہو کر روپ چند نے اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ جج نے، وکیلوں نے اور دو ہزار آنکھوں نے اس کی طرف نظرِ تحسین سے دیکھا۔

تب کامنی کی گھبرائی ہوئی آنکھیں چاروں طرف سے مایوس ہو کر روپ چند کے چہرے کی طرف پہنچیں ان میں اس وقت ندامت اور التجا کا پیغام تھا۔ ان میں معذرت اور بیکسی صاف جھلکتی تھی۔ ان میں شکوہ بھی تھا اور عذرِ تقصیر بھی۔ وہ زبانِ حال سے کہتی تھیں میں عورت ہوں، کمزور ہوں، اوچھی ہوں، تم مرد ہو، مضبوط ہو، عالی ہمت ہو۔ یہ کینہ پروری تمہاری شان سے بعید ہے۔ میں کبھی تمہاری تھی۔ اور گو اب اتفاقات مجھے تم سے جدا کیے دیتے ہیں۔ لیکن میری لاج تمہارے ہاتھ ہے۔ اور روپ چند کی آنکھوں نے جواب دیا۔ اگر تمہاری لاج میرے ہاتھ ہے تو اس پر بھی کوئی آنچ نہ آنے پائے گی۔ تمہاری لاج پر آج اپنا سب کچھ نچھاور ہے!