اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

منشی پریم چند کی کہانی، ان کی زبانی

میں اتنا ناامید ہوا کہ فارم لے کر پھر دوبارہ پرنسپل کے پاس نہ گیا، سیدھا گھر چلا آیا۔ حساب میرے لیے ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی تھی جس پر میں کبھی نہ چڑھ سکا۔ انٹرمیڈیٹ کے امتحانِ حساب میں دو مرتبہ فیل ہوا اور ناامید ہو کر امتحان دینا چھوڑ دیا۔ دس بارہ سال کے بعد جب ریاضی کا مضمون اختیاری ہو گیا تو میں نے دوسرے سبجیکٹ لے کر آسانی سے انٹرمیڈیٹ پاس کر لیا۔ اس وقت تک ریاضی کی بدولت صدہا طلباء کی آرزوؤں کا خون ہوا۔ خیر میں ناامید ہو کر گھر تو لوٹ آیا لیکن پڑھنے کی تمنا باقی رہی، گھر بیٹھ کر کیا کرتا، کسی طرح حساب پختہ کر کے پھر کالج میں داخل ہو جاؤں، یہی دھن تھی، مگر اس کے لیے شہر میں رہنا ضروری تھا۔ اتفاق سے ایک وکیل صاحب کے لڑکوں کو پڑھانے کا کام مل گیا، پانچ روپے تنخواہ ٹھہری، میں نے دو روپے میں گزر کر کے تین روپے گھر دینے کا مصمم ارادہ کیا۔ وکیل صاحب کے اصطبل کے اوپر ایک چھوٹی سی کچی کوٹھری تھی اسی میں رہنے کی اجازت مل گئی، ایک ٹاٹ کا ٹکڑا بچھا لیا، بازار سے ایک چھوٹا سا لیمپ لے آیا اور شہر میں رہنے لگا۔ گھر سے کچھ برتن بھی لایا، ایک وقت کھچڑی پکا لیتا اور برتن دھو مانج کر لائبریری چلا جاتا، حساب تو بہانہ تھا، ناول وغیرہ پڑھا کرتا۔ پنڈت رتن ناتھ دَر کا ’’فسانۂ آزاد‘‘ انھیں دنوں پڑھا، ’’چندرکانتا1 ستت‘‘ بھی پڑھا۔ بنکم بابو کے اردو ترجمے بھی جتنے لائبریری میں ملے سب پڑھ ڈالے۔ جن وکیل صاحب کے لڑکوں کو پڑھاتا تھا ان کے سالے میٹریکولیشن میں میرے ساتھ پڑھتے تھے۔ انھیں کی سفارش سے مجھے یہ ٹیوشن ملا تھا۔ اس دوستی کی وجہ سے جب ضرورت ہوتی ان سے پیسے ادھار لے لیا کرتا اور تنخواہ ملنے پر حساب بے باق کر دیتا۔ کبھی دو روپے ہاتھ آتے، کبھی تین، جس دن تنخواہ کے دو تین روپے ملتے میری قوتِ ارادی کی باگ ڈھیلی ہو جاتی، للچائی آنکھیں حلوائی کی دکان کی طرف کھینچ لے جاتیں اور دو تین آنے کے پیسے ختم کیے بغیر واپس نہ آتا۔ پھر اسی دن گھر جاتا اور دو ڈھائی روپے دے آتا۔ دوسرے دن سے پھر ادھار لینا شروع کر دیتا لیکن کبھی کبھی ادھار لینے میں پس و پیش بھی ہوتا جس کی وجہ سے سارا دن روزہ رکھنا پڑتا۔

اس طرح چار پانچ مہینے گزر گئے۔ اسی درمیان ایک بزاز سے دو ڈھائی روپے کے کپڑے لیے تھے روز ادھر سے نکلنا ہوتا تھا، اس کا مجھ پر پورا بھروسہ تھا، جب مہینے دو مہینے ہو گئے اور میں روپے نہ چکا سکا تو پھر میں نے ادھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا، چکر دے کر نکل جاتا۔ تین سال کے بعد اس کے روپے ادا کر سکا۔ اسی زمانہ میں شہر کا ایک بیل دار مجھ سے کچھ ہندی پڑھنے آیا کرتا تھا، اس کا گھر وکیل صاحب کے مکان کی پشت پر تھا۔ ’’جان لوبھیّا‘‘ اس کا سخن تکیہ تھا۔ چنانچہ سب لوگ اسے ’’جان لوبھیّا‘‘ ہی کہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے اس سے آٹھ آنے پیسے ادھار لے لیے تھے۔ یہ پیسے اس نے مجھ سے میرے گھر گاؤں میں جا کر پانچ برس کے بعد وصول کیے۔ اب بھی میری پڑھنے کی خواہش تھی لیکن روز بروز ناامید ہوتا جاتا تھا، جی چاہتا تھا کہ کہیں نوکری مل جائے تو کر لوں، لیکن نوکری کس طرح اور کہاں ملتی ہے، یہ مجھے معلوم نہ تھا۔

جاڑے کا موسم تھا، مگر کوڑی پاس نہ تھی، دو دن تک تو ایک ایک پیسے کے بھنے ہوئے چنے کھا کر کاٹے، میرے مہاجن نے ادھار دینے سے انکار کر دیا تھا، اور میں لحاظ کے مارے اس سے مانگنے کی جرأت نہ کر سکتا تھا، چراغ جل چکے تھے، اس وقت میں ایک بک سیلر کی دکان پر ایک کتاب بیچنے گیا جو پروفیسر چکرورتی کی بنائی ہوئی ارتھمیٹک کی شرح تھی اور جسے میں نے دو سال ہوئے خریدی تھی، اب تک اسے بڑی احتیاط سے رکھا تھا۔ لیکن آج جب چاروں طرف سے مایوس ہو گیا تو اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا، کتاب کی قیمت دو روپے تھی لیکن ایک روپیہ پر سودا ہوا، میں روپیہ لے کر دکان سے اترا ہی تھا کہ لمبی مونچھوں والے ایک متین شخص نے مجھ سے پوچھا:

’’تم یہاں کہاں پڑھتے ہو؟‘‘

میں نے کہا، ’’پڑھتا تو کہیں نہیں، پر کہیں نام لکھانے کی فکر میں ہوں۔‘‘

’’میٹریکولیشن پاس ہو؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘

’’نوکری تو نہیں چاہتے؟‘‘

’’نوکری کہیں ملتی ہی نہیں۔‘‘

یہ بھلے مانس کسی چھوٹے سے اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور انھیں ایک اسسٹنٹ ماسٹر کی ضرورت تھی، اٹھارہ روپے تنخواہ پر مجھے ملازم رکھ لیا۔ اس وقت یہ اٹھارہ روپے میری مایوس تمنا کی معراج تھے۔ میں دوسرے دن ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس حاضر ہونے کا وعدہ کر کے چلا تو پاؤں زمین پر نہ پڑتے تھے۔ یہ 1899ء کی بات ہے۔ میں گرد و پیش کے حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار تھا۔ اور اگر ریاضی کی وجہ سے اٹک نہ جاتا تو ضرور آگے تک جاتا، مگر ریاضی نے سارے ارمان خاک میں ملا دیے۔

(2)

پہلے پہل 1907ء میں میں نے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ ڈاکٹر ربیندر ناتھ کی کئی کہانیاں میں نے انگریزی میں پڑھی تھیں، ان میں سے بعض کا ترجمہ کیا، اور پہلا ناول تو میں نے 1901ء ہی میں لکھنا شروع کیا۔ میرا ایک ناول 1902ء میں شائع ہوا اور دوسرا 1904ء میں، لیکن کہانیاں سب سے پہلے 1907ء ہی میں لکھیں۔ میری پہلی کہانی کا نام تھا ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘۔ وہ 1907ء میں رسالہ ’’زمانہ‘‘ میں چھپی۔ اس کے بعد میں نے زمانہ میں چار پانچ کہانیاں اور لکھیں۔ 1909ء میں پانچ کہانیوں کا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا۔ اس وقت ملک میں تقسیم بنگالہ کی شورش برپا تھی اور کانگریس میں ’’گرم دَل‘‘ کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ ان پانچوں کہانیوں میں حبِ وطن کا ترانہ گایا گیا تھا۔

اس وقت میں سرشتۂ تعلیم میں سب ڈپٹی انسپیکٹر مدارس تھا اور ہمیرپور کے ضلع میں تعینات تھا، کتاب کو نکلے چھ مہینے ہو چکے تھے۔ ایک دن رات کو میں اپنے کیمپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ کلکٹر صاحب کا پروانہ پہنچا کہ ’’فوراً آ کر مجھ سے ملو۔‘‘ جاڑے کا موسم تھا، میں نے بیل گاڑی جتوائی اور راتوں رات تیس چالیس میل کا سفر طے کر کے دوسرے دن صاحب سے ملا۔ ان کے سامنے ’’سوزِ وطن‘‘ کی ایک جلد رکھی ہوئی تھی، میرا ماتھا ٹھنکا، اس وقت میں ’’نواب رائے‘‘ کے نام سے لکھا کرتا تھا، مجھے اس کا کچھ کچھ پتہ مل چکا تھا کہ خفیہ پولیس اس کتاب کے مصنف کی کھوج میں ہے، میں سمجھ گیا کہ ان لوگوں نے مجھے کھوج نکالا اور صاحب کلکٹر نے اسی کی جواب دہی کے لیے مجھے بلایا ہے۔

صاحب نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا یہ کتاب تم نے لکھی ہے؟‘‘

میں نے کہا، ’’ہاں۔‘‘

صاحب نے ایک ایک کہانی کا مجھ سے مطلب پوچھا، اور آخر میں بگڑ کر بولے، ’’تمہاری کہانیوں میں سڈیشن بھرا ہوا ہے، اپنی تقدیر پر خوش ہو کہ انگریزی عملداری میں ہو، مغلوں کا راج ہوتا تو تمہارے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے جاتے۔ تمہاری کہانیاں یک طرفہ ہیں، تم نے انگریزی سرکار کی توہین کی ہے‘‘ وغیرہ۔ آخر کار فیصلہ یہ ہوا کہ میں ’’سوزِ وطن‘‘ کی کل کاپیاں سرکار کے حوالے کر دوں اور آئندہ صاحب سے اجازت لیے بغیر کچھ نہ لکھوں، میں سمجھا کہ چلو سستا چھوٹ گیا، کل ہزار کاپیاں چھپی تھیں اور ابھی مشکل سے تین سو جلدیں فروخت ہو سکی تھیں، میں نے بقیہ سات سو کاپیاں زمانہ پریس سے منگا کر صاحب کی نذر کر دیں۔

میں سمجھا بلا ٹل گئی، لیکن افسرانِ محکمہ کی اس سے سیری نہ ہوئی، چنانچہ جیسا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کلکٹر صاحب نے ضلع کے دوسرے افسروں سے بھی میرے بارے میں مشورہ کیا۔ سپریٹینڈنٹ پولیس، دو ڈپٹی کلکٹر اور ڈپٹی انسپیکٹر مدارس جن کا میں ماتحت تھا میری تقدیر کا فیصلہ کرنے بیٹھے، ایک ڈپٹی کلکٹر صاحب نے میری کہانیوں سے ثابت کیا کہ ان میں شروع سے لے کر آخر تک باغیانہ خیالات اور انقلاب انگیز جذبات کے سوا اور کچھ نہیں۔ محکمۂ پولیس کے خداوند نے کہا کہ ایسا خطرناک آدمی سخت سزا کا مستحق ہے۔ ڈپٹی انسپیکٹر صاحب کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔ اس ڈر سے کہ کہیں معاملہ طول نہ پکڑے انھوں نے کہا کہ وہ دوستانہ طریقہ پر میرے سیاسی خیالات کا پتہ لگا کر کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ دراصل ان کا ارادہ تھا کہ مجھے سمجھا بجھا کر رپورٹ میں لکھ دیں کہ مصنف صرف قلم کا مرد ہے مگر سیاسی امور سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کمیٹی نے اس مشورہ کو پسند کیا حالانکہ پولیس کے خداوند اس وقت بھی پینترے بدلتے رہے۔

مگر کلکٹر صاحب نے ڈپٹی صاحب سے پوچھا، ’’آپ کو امید ہے کہ وہ اپنے دل کی باتیں آپ سے کہہ دے گا؟‘‘

ڈپٹی صاحب نے کہا، ’’ان سے میری گہری دوستی ہے۔‘‘