’’آپ دوست بن کر اس کے دل کی تھاہ لینا چاہتے ہیں، میں اسے کمینہ پن سمجھتا ہوں۔‘‘
ڈپٹی صاحب اس جواب کے لیے تیار نہ تھے، صاحب کی باتوں سے مرعوب ہو کر بولے، ’’میں تو حضور کے حکم……‘‘ مگر صاحب نے بیچ ہی میں بات کاٹ دی۔ ’’نہیں، یہ میرا حکم نہیں ہے۔ میں ایسا حکم نہیں دینا چاہتا۔ اگر کتاب سے سڈیشن ثابت ہوتا ہو تو مصنف پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ورنہ تنبیہ کر کے چھوڑ دیجیے، منہ میں رام اور بغل میں چھری مجھے پسند نہیں۔‘‘
جب کئی دن بعد یہ واقعہ ڈپٹی صاحب نے مجھ سے بیان کیا تو میں نے پوچھا، ’’کیا آپ سچ مچ میری مخبری کرتے؟‘‘
وہ ہنس کر بولے، ’’نہیں، یہ ناممکن تھا، کوئی لاکھ روپے بھی دیتا تو بھی میں ایسا نہ کرتا۔ میں تو صرف عدالتی کارروائی روکنا چاہتا تھا، اور میں خوش ہوں کہ وہ رک گئی۔ مقدمہ عدالت میں جاتا تو سزا ہو جانا یقینی تھی۔ یہاں آپ کی پیروی کرنے والا کوئی نہ تھا، مگر صاحب بڑے شریف آدمی ہیں۔‘‘ میں نے بھی منظور کیا کہ واقعی بہت شریف ہیں۔
( 3 )
میں ہمیرپور ہی میں تھا کہ مجھے پیچس کی شکایت پیدا ہو گئی۔ گرمی کے دنوں میں یہاں کوئی سبز ترکاری نہ ملتی تھی۔ ایک بار کئی دن لگاتار خشک اروی کھانا پڑی۔ ایک روز پیٹ میں ایسا درد ہوا کہ تمام دن مچھلی کی طرح تڑپتا رہا، چورن کھایا، پیٹ پر گرم بوتل پھیری، جامن کا عرق پیا، غرض دیہات میں جتنی دوائیں مل سکتی تھیں سب کھائیں لیکن درد کم نہ ہوا۔ دوسرے دن پیچس ہو گئی، لیکن درد جاتا رہا۔
اسی طرح ایک مہینہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد میں ایک قصبہ میں پہنچا تو وہاں کے تھانہ دار صاحب نے مجھ سے تھانہ ہی میں ٹھہرنے اور کھانے کو کہا۔ کئی دن سے مونگ کی دال کھاتے کھاتے اور پرہیز کرتے کرتے پریشان ہو گیا تھا۔ سوچا کیا ہرج ہے، آج یہیں ٹھہر جاؤں کھانا تو لذیذ ملے گا۔ تھانہ ہی میں اڈا جما دیا۔ داروغہ جی نے زمین قند پکوایا، پکوڑیاں، دہی بڑے، پلاؤ سب کچھ بنوایا، میں نے بھی خاص طور پر کھایا، لیکن کھا پی کر جب تھانے میں داروغہ جی کے پھوس کے بنگلے میں لیٹا تو دو ڈھائی گھنٹے کے بعد پھر پیٹ میں درد ہونے لگا۔ ساری رات اور اگلے دن پھر کراہتا رہا۔ سوڈے کی دو بوتلیں پینے کے بعد قے ہوئی تو چین ملا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ تمام زمین قند کی خرابی ہے۔ تب سے اروی اور زمین قند دونوں کی صورت دیکھ کر کانپ جاتا ہوں۔ درد تو خیر جاتا رہا لیکن پیچس کی دائمی شکایت ہو گئی۔ پیٹ چوبیس گھنٹے تنا رہتا۔ اپھرن کی شکایت برابر قائم رہی۔ کچھ دنوں تک روزانہ بلاناغہ چار پانچ میل ٹہلنے جاتا۔ کسرت کرتا، پرہیزی کھانا کھاتا اور کوئی نہ کوئی دوا بھی کھایا کرتا، لیکن پیچس میں کوئی کمی نہ ہوئی اور بدن بھی سوکھا جاتا تھا، کئی مرتبہ کانپور آ کر علاج کرایا۔ ایک بار مہینے بھر الہ آباد میں آیورویدک اور ڈاکٹری دوائیں کھاتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔
تب میں نے اپنے تبادلے کی درخواست کی۔ چاہتا تو یہ تھا کہ روہیلکھنڈ میں تبدیلی ہو، مگر ٹپکا گیا بستی کے ضلع میں اور وہ حلقہ ملا جو نیپال کی ترائی کے قریب ہے۔ خوش قسمتی سے یہاں میرا تعارف پنڈت منن دویدی گجپوری سے ہوا جو ڈمریا گنج میں تحصیلدار تھے۔ ان کے ساتھ اکثر علمی مباحث پر بات چیت ہوتی رہی۔ لیکن بستی آ کر پیچس کی شکایت اور بڑھ گئی۔ تب میں نے چھ مہینے کی چھٹی لی اور لکھنؤ کے میڈیکل کالج میں علاج کرایا۔ یہاں فائدہ نہ ہوا تو بنارس کے ایک حکیم کا علاج کیا۔ تین چار مہینے کے بعد تھوڑا فائدہ معلوم ہوا لیکن بیماری جڑ سے نہ گئی۔ رخصت کے بعد جب پھر بستی پہنچا تو وہی حالت ہو گئی۔ تب میں نے دورے کی نوکری چھوڑ کر بستی ہائی اسکول میں اسکول ماسٹری قبول کر لی۔ یہاں سے تبدیل ہو کر گورکھپور پہنچا مگر پیچس کی شکایت حسب سابق قائم رہی۔ یہاں میرا تعارف مہا بیر پرشاد جی پوتدار سے ہوا جو ہندی لٹریچر کے فاضل، مادرِ وطن کے سچے خادم اور بڑے جفا کش و محنتی شخص ہیں۔ میں نے بستی میں ہی ہندی کے رسالہ ’’سرسوتی‘‘ میں کئی کہانیاں چھپوائیں۔ پوتدار جی کی صلاح سے میں نے ’’سیوا سدن‘‘ نامی ناول لکھا۔ گورکھپور ہی میں میں نے پرائیویٹ طور پر بی-اے بھی پاس کیا۔ ’’سیوا سدن‘‘ کی جو قدر و منزلت ہوئی اس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے دوسرا ناول ’’پریم آشرم‘‘ لکھا۔ اس اثناء میں کہانیاں بھی برابر لکھتا رہا۔
پوتدار جی کے مشورے سے میں نے پانی کا علاج شروع کیا لیکن تین چار مہینے کے غسل اور پرہیز کا الٹا اثر یہ ہوا کہ میرا پیٹ بڑھ گیا اور مجھے پیدل چلنے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔ ایک مرتبہ کئی دوستوں کے ساتھ مجھے ایک زینے پر چڑھنا پڑا اور لوگ تو دھڑا دھڑ چڑھ گئے مگر میرے پاؤں اٹھتے ہی نہ تھے۔ بڑی مشکل سے ہاتھوں کا سہارا لیتے ہوئے اوپر پہنچا۔ اسی دن مجھے اپنی کمزوری کا احساس ہوا، سمجھ گیا کہ اب تھوڑے دنوں کا مہمان اور ہوں۔ پانی کا علاج بند کر دیا۔
ایک دن شام کے وقت اردو بازار میں شریجت دسرتھ پرشاد جی دویدی ایڈیٹر ’’سودیش‘‘ سے ملاقات ہو گئی، کبھی کبھی ان سے بھی لٹریچر کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ انھوں نے میری زرد صورت دیکھ کر کہا، ’’بابو جی آپ تو بالکل ہی پیلے پڑ گئے ہیں۔ اس کا علاج کیجیے۔‘‘
مجھے اپنی بیماری کا ذکر بہت برا لگتا تھا۔ میں اپنی بیماری کو بھول جانا چاہتا تھا۔ جب دو ہی چار مہینے کی زندگی ہے تو پھر کیوں نہ ہنستے ہوئے مروں۔ میں نے چڑھ کر کہا ’’مر ہی تو جاؤں گا بھائی یا اور کچھ؟ میں موت کے خیر مقدم کو تیار ہوں۔‘‘ بیچارے دویدی جی نے ندامت سے سر نیچے کر لیا۔ بعد کو مجھے بھی اپنی اس تلخ گفتاری پر بڑا افسوس ہوا۔ یہ 1920ء کا واقعہ ہے۔ ان دنوں تحریکِ عدمِ اشتراکِ عمل زوروں پر تھی۔ جلیانوالہ باغ کا واقعہ ہو چکا تھا۔ انہیں دنوں مہاتما گاندھی نے گورکھپور کا دورہ کیا۔ غازی میاں کے میدان میں اونچا پلیٹ فارم تیار کیا گیا۔ دو لاکھ سے کم کا مجمع نہ تھا۔ تمام ضلع کی عقیدت مند پبلک دوڑی آئی تھی۔ ایسا مجمع اس سے پہلے میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ مہاتما جی کے درشنوں کی یہ برکت تھی کہ میرے ایسے مردہ دل آدمی میں بھی جان آ گئی۔ اس کے دو ہی چار دن کے بعد میں نے اپنی بیس سال کی سرکاری ملازمت سے استعفا دے دیا۔
اب دیہات میں کچھ کام کرنے کی طبیعت ہوئی۔ پوتدار جی کا دیہات میں ایک مکان تھا ہم اور وہ دونوں وہاں چلے گئے اور چرخے چلانے لگے۔ ایک ہی ہفتے بعد میری پیچس کم ہو گئی یہاں تک کہ ایک مہینے کے اندر بالکل صحت ہو گئی، مگر اس کے بعد میں بنارس چلا آیا اور اپنے دیہات میں بیٹھ کر پرچار اور ادبی خدمت میں زندگی بسر کرنے لگا۔ غلامی سے نجات پا کے ہی میں نو سال کے پرانے مرض سے چھٹکارا پا گیا۔ اس تجربے نے مجھے پورے طور پر ’’قسمت پرست‘‘ بنا دیا۔
اب مجھے کامل یقین ہے کہ جو مالک کی مرضی ہوتی ہے وہی ہوتا ہے۔ انسان کی کوئی کوشش اس کی مرضی کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی۔
