خط (1) — 12 جنوری 1918ء (جلد اوّل، خط 278)
لاہور 12؍ جنوری 181
ڈیر مسٹر محمد اکبر!
عنایت نامہ کا شکریہ۔ آپ کی نظم جو ملفوف تھی، میں نے نہایت دل چسپی سے پڑھی۔ آپ نے اپنے عنایت نامہ اور نظم میں جس قدر میری تعریف و توصیف فرمائی ہے اس کے لیے آپ کا نہایت شکر گزار ہوں اگرچہ میں جانتا ہوں کہ اس تحسین و ستایش کا سزاوار نہیں۔ آپ کی نظم سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ نے مشق جاری رکھی اور غور و فکر کی عادت ڈالی تو ایک روز آپ کو اس میدان میں بہت بڑی کامیابی نصیب ہوگی۔ شعر کا منبع و ماخذ شاعر کا دماغ نہیں، اُس کی رُوح ہے۔ اگرچہ تخیّل کی بے پایاں وسعتوں سے شاعر کو محفوظ رکھنے کے لیے دماغ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
مخلص محمد اقبال
(انگریزی سے)
(اقبال نامہ)
خط (2) — 21 اپریل 1920ء (جلد دوم، خط 99)
لاہور 21؍ اپریل 1920ء2
مکرم بندہ۔ السلام علیکم
آپ کا نوازش نامہ مل گیا ہے جسے پڑھ کر مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ یہ ایک نادر موقع مل گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے بڑا فائدہ اٹھائیں گے۔ واپسیِ ہندوستان پر بھی یہ تجربہ آپ کے لیے ازبس مفید ہوگا۔ عربی زبان سیکھنے کے لئے میری رائے ناقص میں مصر بیروت سے بہتر ہے۔ فلسفے کی مندرجہ ذیل کتب فی الحال پڑھیے پھر اور لکھ دوں گا3۔
یہ سب کتابیں غالباً لاہور سے مل جائیں گی۔ راما کرشنا کو لکھنا چاہیے، نہ ملیں تو وہ انگلستان سے منگوا دے گا۔
فوٹو کی نسبت یہ عرض ہے کہ اس وقت میرا کوئی فوٹو میرے پاس موجود نہیں۔ ہاں بنواؤں گا تو آپ کی خدمت میں ایک کاپی ضرور مرسل ہوگی۔ باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ شیرازی صاحب سے بھی میرا سلام کہیے۔ امّید کہ مقتضیاتِ زمانہ سے ادھر کے لوگ باخبر ہوتے جائیں گے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر ایام لائے۔
مخلص محمد اقبال، لاہور
(اقبال نامہ)
خط (3) — 4 اگست 1920ء (جلد دوم، خط 110)
لاہور 4؍ اگست 20ء
مکرّم بندہ۔ السلام علیکم
آپ کا خط ابھی ملا ہے۔ مجھے یہ معلوم کر کے بڑی مسرت ہوئی کہ آپ ایران جانے والے ہیں۔ شیراز فارسیوں کے کلچر کا مرکز ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہاں کا قیام آپ کے لیے بہت مفید ہوگا۔ حال کی ایرانی شاعری میں کچھ نہیں۔ البتہ اس قوم کی بیداری کے شواہد کے طور پر اسے ضرور پڑھنا چاہیے۔ علاوہ اس کے زبان کی تحصیل کے لیے بھی مفید ہے۔ ایرانی شاعری کا تو قاآنی پر خاتمہ ہو گیا۔ خالص فلسفہ میں اگر کتابیں آپ کو مل جائیں تو انھیں جمع کرتے جائیے۔ قلمی ہوں یا مطبوعہ۔ تصوّف کی کتب کا جمع کرنا بھی مفید ہوگا۔ حال کے ایرانی حکما میں ہادی سبزواری مشہور ہیں۔ ان کی کتاب اسرار الحکم میری نظر سے گذری ہے محض افلاطونیت کا چربہ ہے اور بس۔ حال کے دیگر حکما میں سے اگر کسی کی تصنیفات آپ کے ہاتھ آ جائیں تو غنیمت ہے۔ فلسفے اور تصوّف کی کتابوں پر اگر خرچ ہو تو پرواہ نہ کیجئے۔ اس میں مجھے بھی شریک سمجھئے۔ البتہ کتاب خریدنے میں احتیاط لازم ہے۔ کیونکہ نوّے فی صد کتابوں میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لوگ نام کی وجہ سے خرید لیتے ہیں۔
ایک کتاب غالباً ’’لطائفِ غیبی‘‘ نام ایران میں شائع ہوئی تھی۔ پروفیسر براؤن4 نے لٹریری ہسٹری5 میں اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب اُن اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی ہے جو شیعہ حضرات نے وقتاً فوقتاً خواجہ حافظؒ پر کیے ہیں۔ اگر کہیں سے دستیاب ہو جائے تو میرے لیے خرید کر کے بھیج دیجئے۔
یونانیوں کے فلسفے پر حال ہی میں ایک نہایت عمدہ چھوٹی سی کتاب شائع ہوئی ہے۔
A CRITICAL HISTORY OF GREEK PHILOSOPHY BY W.T. STACE
اسے ضرور پڑھیے۔ میکملن6 سے ملے گی۔ اس سے زیادہ صاف اور واضح کتاب آج تک میری نظر سے نہیں گذری۔ بعد کا یوروپین فلسفہ سمجھنے میں اس سے بڑی مدد ملے گی۔
اسرارِ خودی کا انگریزی ترجمہ ہو گیا ہے۔ اس وقت پریس میں ہے۔ غالباً سردیوں میں شائع ہوگا۔ پروفیسر نکلسن7 کا خط آیا تھا۔ انھوں نے وہاں کی لٹریری سوسائٹیوں میں اس کتاب کے مضمون پر متعدّد لیکچر دیے ہیں جس کی وجہ سے اس نئے فلسفے کا وہاں بڑا چرچا ہے۔ اب میں گوئٹے8 کے ’’دیوان‘‘ کے جواب میں ایک فارسی دیوان لکھ رہا ہوں۔ جس کا ایک تہائی حصہ لکھ چکا ہوں۔ اسرارِ خودی کا ترجمہ یورپ کی اور زبانوں میں بھی ہو جائے تو تعجب نہیں۔ میں نے سنا ہے فرانس میں بھی اس کا چرچا ہے۔ یہ غالباً پروفیسر نکلسن کے لیکچروں کی وجہ سے ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دیوان کا ترجمہ بھی ضرور ہوگا۔ کیونکہ یورپ کی دماغی زندگی کے ہر پہلو پر اس میں نظر ڈالی گئی ہے اور مغرب کے سرد خیالات و افکار میں کسی قدر حرارت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
زیادہ کیا عرض کروں۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ ہندوستان اور بالخصوص پنجاب سے بے شمار لوگ (مسلمان) افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ اس وقت تک پندرہ بیس ہزار آدمی (اور ممکن ہے کہ زیادہ) جا چکا ہوگا۔
محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (4) — 30 جنوری 1922ء (جلد دوم، خط 184)
لاہور 30؍ جنوری 22ء
مخدومی، السلام علیکم
آپ کا نوازش نامہ ابھی ملا ہے جس کے لیے سراپا سپاس ہوں۔ اس سے پہلے بھی آپ کا ایک نہایت دلچسپ خط ملا تھا۔ مگر میری صحت کچھ عرصے سے خراب ہے۔ جواب لکھنے سے قاصر رہا۔ عصرِ آزادی میں آپ کی دونوں نظمیں دلاویز ہیں۔ ان شاء اللہ آپ کی زبان شستہ ہو جائیگی اور ایران کا قیام آپ کی شاعری کے لیے نہایت مفید ہو گا۔ ملا صدر الدین شیرازی کی تفسیرِ قرآن کے لیے ممنون ہوں۔ یہ چیز عجیب و غریب ہو گی۔ امید کہ چند روز تک یہاں پہنچ جائیگی۔ میں حال میں ان کی کتاب ’’ملا صدرا‘‘ کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اگر وقت نے مساعدت کی تو ان کے خیالات پر کچھ لکھوں گا بھی۔
عرصے سے میرا ارادہ ایک انٹرنس کورس فارسی ترتیب دینے کا ہے۔ جدید فارسی نظم و نثر کے کچھ عمدہ اور آسان نمونے مل جائیں تو یہاں کے طلبا کے لیے نہایت مفید ہو گا۔ اگر آپ کو چند ایسی کتب نظم و نثر مل جائیں تو میرے لیے خرید کر لیجئے۔ نظمیں مشہور اساتذۂ حال کی ہوں اور سلیس اور آسان طرزِ جدید میں لکھی گئی ہوں تو زیادہ مناسب ہے۔ پولیٹکل نظموں کی ضرورت نہیں۔ ایک کتاب (سفینۂ طالبی) سنا ہے بہت اچھی ہے مگر ہندوستان میں دستیاب نہیں ہوتی۔ یہ کتاب یا کوئی اور کتاب اسی قسم کی مل جائے تو خوب ہے۔ غرض کہ آپ یہاں کے انٹرنس کے طلبا کی ضروریات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ میرا مقصود یہ ہے کہ فارسی کے ذریعے سے بھی جدید خیالات اور احساسات طلباءِ ہند تک پہنچیں۔ انگریزی کورسوں میں مضامین کا تنوع نہایت دلچسپ ہوتا ہے۔ انتخاب میں وہ بھی زیرِ نظر رہے۔
باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ یہاں کے حالات بدستور ہیں۔ عدمِ تعاون روز افزوں ہے اور گورنمنٹ تشدد پر آمادہ ہے۔ زمانۂ حال کی طبیعت میں ہیجان و اضطراب ہے۔ معلوم نہیں باطنِ فطرت میں کیا کیا اسرار ہیں جو ظہور پذیر ہونگے۔
فلسفہ کی کتابوں کے نام دوسرے صفحے پر لکھتا ہوں۔ لاجک9 کی فی الحال آپ کو ضرورت نہیں ہے......10
مخلص
محمد اقبال لاہور
(اقبال نامہ)
خط (5) — 8 مئی 1922ء (جلد دوم، خط 199)
ڈیر مسٹر منیر السلام علیکم11
آپ کا خط ابھی ملا جس کے لیے سراپا سپاس ہوں۔
اخبار استخر جس میں آپ کی نظم شائع ہوئی ملاحظہ سے گزرا۔ آپ کی زبان صفائی میں بہت ترقی کر رہی ہے۔ اللّٰہم زِد فزد12! خیالات کے لیے طبیعت پر زور دینا چاہیے۔ مطالبِ جلیلہ کی مشرقی نظم کو بہت ضرورت ہے۔ حکیم سنائی اور مولانا روم کو زیرِ نظر رکھنا چاہیے۔ اِس قسم کے لوگ اقوام و ملل کی زندگی کا اصلی راز ہیں۔ اگر یہی لوگ غلط راستے پر پڑ جائیں تو اقوام کی ممات بھی انہی کے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔ مولانا روم کے تو اسرار و حقائق زندۂ جاوید ہیں۔ حکیم سنائی سے طرزِ ادا سیکھنا چاہیے۔ کیونکہ مطالبِ عالیہ کے ادا کرنے میں اُن سے بڑھ کر کسی نے قدم نہیں رکھا۔
