(4) عنقریب صبح صادق کا وقت تھا۔ جب رومیو رخصت ہوا اس کے دماغ میں مختلف خیالات کا دورہ جاری تھا۔ جن کی وجہ سے نیند تو درکنار آرام بھی نا ممکن تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ گھر جائے اُس نے اپنا رُخ ایک فقیر بنام لارنس کی کُٹی کی طرف کیا۔ لارنس اُس وقت اپنی عبادت میں مشغول تھا۔ رومیو کو علی الصباح دیکھنے پر اُس نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ روزالین کی محبت نے اُس کو رات بھر چین نہیں لینے دیا لیکن جب رومیو نے اپنی نئی معشوقہ جولیٹ کی محبت کا اظہار کیا اور نکاح خوانی میں لارنس کی مدد مانگی تو لارنس بیساختہ بولا کہ شاید جوان آدمیوں کی محبت اُن کے دلوں میں قرار نہیں پاتی۔ بلکہ اُن کی نظروں میں ہوتی ہے۔ رومیو مارے شرم کے پسینے پسینے ہو گیا۔ آخر کار آہستہ سے کہا کہ روزیلین کی محبت صرف یک طرفہ تھی اور یہ دو طرفہ ہے۔ لارنس نہایت خوش ہوا اور خیال کیا کہ دونوں عالی خاندانوں کے متفق اور رضا مند ہونے کا موقع آن پہنچا ہے۔ چونکہ لارنس کی محبت اور دوستی دونوں خاندانوں کے لیے یکساں تھی۔ اس لیے اُس نے بخوشی نکاح خوانی کے فرائض کے ادا کرنے کا وعدہ کیا۔
حسبِ وعدہ قاصد کے ذریعہ جولیٹ نے وقت مقرر کیا اور وقتِ معہودہ پر وہ فقیر کی کٹی میں آئی۔ رسم ادا ہونے پر لارنس نے دعا کی کہ ”اے خداوندِ تعالیٰ یہ شادی ان دونوں خاندانوں کے لیے مبارک ہو“۔ بعد ازاں جولیٹ اپنے گھر کو روانہ ہوئی اور نہایت بیقراری سے رات کی تاریکی کی منتظر ہوئی تا کہ اُس کو اپنا پیارا رومیو اُسی باغ میں پھر مل سکے۔
(5) اُسی روز دوپہر کے وقت جبکہ رومیو، بنولیو اور مرکویشیو ویرونا کے ایک کوچے سے گذر رہے تھے یکا یک وہ ٹائی بلٹ سے دو چار ہو گئے۔ ٹائی بلٹ نے فوراً اُن کی طرف مخاطب ہو کر مرکیشیو کو بدین الفاظ بُرا بھلا کہنا شروع کیا کہ ”وہ اُس کے مخالفین یعنی خاندان مانٹیگ سے اتحاد پیدا کرتا ہے“۔ پھر رومیو کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ ”او بدمعاش تو کیوں ہمارے کوچوں کو پراگندہ کرتا ہے“۔ رومیو نے کوشش کی کہ دنگہ و فساد سے درگذر کرے۔ اس لیے جواب میں اُس نے کچھ نہ کہا اور چپ ہو رہا۔ بہ حیثیتِ ایک شریف النسب ہونے کے اُس نے ایسے بیہودہ کلمات کا جواب دینا ہی مناسب نہ سمجھا یا اس وجہ سے کہ ٹائی بلٹ جولیٹ کا چچا زاد بھائی تھا اُس کی اس کو رعایت مدِ نظر تھی۔ غرض کہ اس کے ہمراہی اُس کی خاموشی پر حیران رہ گئے۔ آخر کار جب ٹائی بلٹ نے سخت زیادتی شروع کی یہاں تک کہ ایک تیز خنجر سے مرکویشیو کا کام تمام کر دیا۔ تو رومیو نے فوراً آگے بڑھ کر ایک ضرب شدید لگائی۔ ٹائی بلٹ حواس باختہ ہو کر زمین پر گر پڑا اور جان بحق ہوا۔ شہر کے تمام خرد و کلاں کا اُس کوچہ میں ہجوم ہو گیا۔ مفسدوں کے والدین اور پرنس بھی، جو کہ مرکویشیو کا قریبی رشتہ دار تھا وہاں پہنچ گئے۔ پرنس روز مرہ کے ایسے دنگہ و فساد سے سخت تنگ آ گیا تھا۔ اس لیے اب کے اُس نے ایک سخت قانون مفسدوں کے مخالف مرتب کرنا چاہا۔ پرنس نے بنولیو سے تمام قصہ سنا۔ لیڈی کیپولیٹ پرنس کو اس بات پر آمادہ کرتی رہی کہ وہ رومیو کو سخت سزا دے۔ اُسے کیا معلوم کہ رومیو اُس کا داماد ہے۔ دوسری طرف لیڈی مانٹیگ اپنے فرزندِ دلبند کے جُرم کو خفیف بنانے کے لیے مختلف دلائل پیش کرتی کہ بہ حیثیت قاتل کو قتل کرنے کے اس پر کوئی بڑا جُرم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن پرنس نے ان کے والدین کی باتوں کا ہرگز خیال نہ کیا اور یہ فیصلہ سنایا کہ ”رومیو جلا وطن کیا جائے اور کبھی ویرونا میں داخل نہ ہونے پائے“۔ ایسی سخت پاداش نے کسی کے دل پر اس قدر چوٹ نہ لگائی جس قدر کہ جولیٹ کے دل پر۔ اُس کے دل میں اپنے بھائی کے قتل کا رنج بھی سخت تھا۔ اسی غصہ میں ایک تنہائی کے عالم میں بیٹھی آہستہ سے چلا رہی تھی کہ ”او رومیو! او خوبصورت ظالم، او فرشتہ سیرت دیو، او خونریز، تو ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا جس سے قیامت تک رہائی نہ ہو گی۔ لیکن اُس کا چہرہ پھول کی طرح کھل گیا۔ جب اُس نے خیال کیا کہ ٹائی بلٹ کی موت سے رومیو اُس کے پنجے سے چھوٹ گیا۔ ورنہ ٹائی بلٹ ضرور کسی وقت اُسے موقع پا کر قتل کر دیتا۔ اُس کو رومیو کی جلا وطنی کا رنج کئی ٹائی بلٹ جیسے عزیزوں کی موت سے بڑھ کر تھا۔
(6) دنگہ کے بعد رومیو سیدھا لارنس کی کٹی کی طرف روانہ ہوا۔ جہاں اُسے اپنی جلا وطنی کی خبر موصول ہوئی۔ جو موت سے بڑھ کر تھی۔ لارنس نے ہر چند کوشش کی کہ اپنے فلسفانہ طریقہ سے اُس کی تشفی کرے، لیکن مصرع: ”نہ صبر در دلِ عاشق نہ آب در غربال“۔ جولیٹ اُس کی نظر میں گھر کیے ہوئے تھی۔ اُس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، اپنے بالوں کو نوچ ڈالا۔ اسی خراب و خستہ حالت میں تھا کہ ایک پیغام اُس کی پیاری بیوی نے بھیجا جس سے اُس کو کسی قدر اطمینان ہوا۔ تب فقیر نے دوبارہ اپنی پند و نصائح شروع کیں۔ جب اُس نے دیکھا کہ اب رومیو کے ہوش و حواس پوری طرح قائم ہو گئے تو اُس نے یہ تجویز پیش کی کہ ”رومیو تم آج ہی رات کو اپنی پیاری جولیٹ سے ملاقات کر کے منچوا کو روانہ ہو جاؤ وہاں اُس وقت تک اپنا قیام کرو جب تک کہ میں موقع پا کر تمہاری شادی کو مشتہر نہ کروں۔ تب خداوندِ ایزدی سے اُمیدِ واثق ہے کہ پرنس بھی خوش ہو کر تمہاری جلا وطنی کے حکم کو منسوخ کر کے تمہیں واپسی کی اجازت دے دے گا“۔ اس طرح تم دو خاندانوں کے لیے باعثِ راحت و آرام ہو گئے“۔ فقیر کی ان نصیحتوں سے رومیو بہت موثر ہوا۔ پہلے اُس نے لارنس سے الوداع کہی۔ پھر جولیٹ کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ رات وہاں گزار کے اُس نے علی الصباح تنہا سخت بیدلی میں منچوا کا راستہ لیا۔ اُس نے جولیٹ سے وعدہ کیا کہ منچوا سے وہ ہر لمحہ اپنی خیرو عافیت کی خبر بھیجتا رہے گا۔
