جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

رومیو و جولیٹ

(7) رومیو کو ویرونا سے روانہ ہوئے ابھی بہت عرصہ نہیں ہوا تھا کہ لارڈ کیپولیٹ نے جولیٹ کی نسبت کونٹ پیرس سے تجویز کی جو ایک بہادر اور شریف النسب کونٹ تھا اور جو بالکل جولیٹ کے حسبِ منشاء ہوتا اگر نوجوان رومیو نے اس کا دل پہلے ہی سے نہ چھین لیا ہوتا۔ ایسی حالت میں خوف زدہ جولیٹ کوئی عذر پیش نہ کر سکی۔ سوائے اس کے کہ ٹائی بلٹ کی موت نے اس کو ایسا پژمردہ خاطر بنا دیا ہے کہ اب وہ کبھی اپنے شوہر سے خندہ روئی سے مل سکتی ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ ابھی ٹائی بلٹ کی وفات کو بہت تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔ لیکن اس حقیقت کو کہ وہ پہلے ہی شادی کر چکی ہے۔ اُس نے ہرگز فاش نہ کیا لارڈ کیپولیٹ نے بہت اصرار کیا کہ ایسے شریف اور امیر خاندان کے ساتھ نسبت میں کسی قسم کی عذرات پیش نہ ہونے چاہئیں۔ آخر کار اُس نے جمعرات کا روز برات کے لیے مقرر کر دیا۔ ایسے نازک موقع پر جولیٹ صلاح و مشورہ کے لیے فقیر کی کٹی کی طرف گئی۔ اُس نے کہا کہ میں زندہ درگور ہونا پسند کروں گی بہ نسبت اس کے کہ کونٹ پیرس سے شادی کر کے اپنے آپ کو اپنے حقیقی شوہر کی نافرمانبردار بیوی ثابت کروں۔ یہ سُن کر فقیر نے کہا کہ ”جاؤ اپنے گھر اور بخوشی شادی کی رضا مندی ظاہر کرو۔ اور برات سے ایک رات پیشتر جو پانی کہ اس بوتل میں ہے پی لینا جو کہ تمہیں 45 گھنٹے کے لیے مدہوش اور بیجان کر دے گا تا کہ جس وقت دولہا تمہارے لینے کے واسطے آوے تمہیں مرا ہوا پاوے اور تمہیں اس قبرستان میں جو میری کُٹی کے قریب ہی ہے لا کر دفن کیا جاوے اسی اثناء میں مَیں رومیو کو منچوا میں لکھ دوں گا کہ وہ قبرستان میں پہنچ کر تمہیں اپنے پاس لے جاوے“۔ الغرض رومیو کی محبت نے جولیٹ کو فقیر کی ہدایات پر جن پر عمل کرنا ایک عورت کے لیے سخت مشکل ہے رضا مند کر دیا اور وہ بخوشی بوتل بغل میں دبائے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی۔ راستہ میں کونٹ پیرس سے ملاقات ہو گئی اور وہیں اُس نے شادی کی رضا مندی ظاہر کر دی۔ والدین بھی یہ سُن کر نہایت خوش ہوئے اور وہ ایک دفعہ اور اپنے پیارے والدین کی پیاری بیٹی تسلیم کی گئی۔ بُدھ کی رات کو جولیٹ نے حسب ہدایت زہر کی بوتل پی لی اور بیہوش ہو گئی۔ جب کونٹ پیرس علی الصباح اپنے سسرال کے درِ دولت پر پہنچا تا کہ وہ اپنی دُلہن کو ہمراہ لے کر اپنی سلطنت کو روانہ ہو۔ تو اُسے معلوم ہوا کہ اُس کی زندہ دل جولیٹ رہگرائے ملکِ عدم ہو گئی۔ اُس کی مایوسی حد سے بڑھ گئی تمام کنبہ میں گریہ و زاری بپا ہو گئی۔ خصوصاً لارڈ اور لیڈی کیپولیٹ کی آہ و زاری کا پیمانہ اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا جس کا اندازہ اُسی شخص سے لگایا جا سکتا ہے جس کے ہاں صرف ایک ہی پیارا لڑکا یا لڑکی ہو اور وہ بھی اُس سے چھین لیا جائے۔ اُسی گھر میں جہاں کہ تھوڑا عرصہ پیشتر شادی کے سامان ہو رہے تھے جنازہ کی تیاریاں شروع ہونے لگیں۔ گلہائے بوقلموں جو کہ جولیٹ کے راستہ پر نچھاور کیے جانے والے تھے اب اس کی لاش پر بکھیرے جانے لگے۔

(8) یہ امر مسلمہ ہے کہ بہ نسبت نیک خبروں کے بُری خبریں جلد مشتہر ہوتی ہیں۔ رومیو کو اپنی پیاری بیوی کی وفات کی خبر فوراً مل گئی، پیشتر اس کے کہ فقیر لارنس کا معہودہ قاصد اُس کے پاس پہنچتا جو اُس کو اس امر کے متعلق خبر دیتا کہ جولیٹ کا جنازہ ایک ظاہری جنازہ تھا اور اُس کی پیاری بیوی قبر میں صرف تھوڑی دیر کے لیے جب تک رومیو وہاں نہیں پہنچتا اور اُس کی مخلصی نہیں کراتا دفن کی گئی ہے۔ پیشتر اس کے کہ رومیو کی وفات کی خبر ملتی وہ غیر معمولی خوش و خرم بیٹھا تھا کیونکہ اُس نے رات کے وقت خواب دیکھا تھا کہ وہ مر گیا ہے لیکن جولیٹ کے ہاتھ سے پھر زندہ ہو گیا ہے اور شہنشاہ بنایا گیا ہے۔ پس جب ویرونا سے آدمی اُس کے پاس آیا تو اُس کی خوشی اور بھی زیادہ ہوئی۔ اس خیال سے کہ شاید تعبیرِ خواب کے مطابق ظاہر ہونے لگی۔ لیکن جب قاصد نے اُلٹا قصہ جولیٹ کی وفات کا سنایا تو سنتے ہی اُس نے گھوڑوں کی تیاری کا حکم دیا تاکہ ویرونا کو روانہ ہو اور اپنی وفات یافتہ بیوی کی قبر ہی میں ملاقات کر لے۔ وہ خود ایک طبیب کی طرف گیا تا کہ اُس سے خالص زہر حاصل کرے جس کا کہ اُس نے ایک بار بدیں الفاظ ذکر کیا تھا۔ ”کہ وہ ایک خالص زہر رکھتا ہے جو خواہ کتنا ہی قوی ہیکل انسان ہو اُس کو آن کی آن میں مردہ بنا دیتا ہے“۔ الغرض تھوڑے سے تامل کے بعد طبیب نے ایک سونے کی مہر لے کر کسی قدر زہر فروخت کیا۔ زہر کو جیب میں ڈال کر رومیو نے ویرونا کے قبرستان کا سیدھا راستہ لیا۔ وہاں پہنچ کر جولیٹ کی قبر کو اُکھاڑنے کے لیے تیار ہی ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آواز آئی۔ ”او شیطان مانٹیگ“ یہ سن کر وہ ذرا تھرا گیا۔ قبرستان میں یہ شخص کونٹ پیرس تھا جو اس وقت جولیٹ کی قبر پر پھول بکھیرنے کے لیے آیا تھا۔ اُس نے یہ سمجھ کر کہ رومیو بہ سبب کیپولیٹ خاندان کی دشمنی کے جولیٹ کی لاش کو خراب کرنا چاہتا ہے اُسے دھمکا دیا بلکہ اس سے یہ بھی کہا کہ بلا اجازت ویرونا میں آنا تیرے لیے موت ہے۔ رومیو نے اُس کو بار بار خاموشی پر آمادہ کیا مگر اُس نے ایک نہ مانی آخر لڑائی تک نوبت پہنچی۔ بیچارہ کونٹ بھی ضرب شدید کے لگنے سے اپنی جولیٹ کے قبر کے پاس ہی گر کر مر گیا۔ غرض کہ ایک طرف ٹائی بلٹ کی قبر، ساتھ ہی جولیٹ کا مدفن، اس کے برابر کونٹ کا مردہ ہے، ان ہی اجل رسیدگان کے قرب میں ایک اور عاشق حقیقی کی لاش آنے والی ہے۔ جو کہ اپنی پیاری جولیٹ پر اپنے آپ کو قربان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

(9) رومیو نے ایک پرتکلف بوسہ جولیٹ کی پیشانی پر دے کر زہر کا گھونٹ جو وہ اپنے ہمراہ لایا تھا پی لیا اور جولیٹ کے سرہانے کی طرف چت لیٹ گیا۔ فقیر لارنس بہت دیر تک رات کو رومیو کا منتظر رہا لیکن فقیر کا قاصد رومیو کو نہ پا سکا۔ اس خیال سے کہ اب جولیٹ کے ہوش میں آنے کا وقت آن پہنچا ہے وہ خود کلہاڑا لے کر اس کی قبر کے پاس پہنچا تا کہ اس کو قبر سے نکالے۔ وہاں پہنچ کر وہ رومیو کو ایک عجیب سین میں دیکھ کر سخت متعجب ہوا۔ اسی اثناء میں جولیٹ بھی ہوش میں آ گئی۔ آنکھیں کھولیں تو فقیر سے رومیو کے متعلق پوچھا۔ فقیر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا تمام منصوبہ ہماری مرضی کے برعکس ہو گیا۔ اتنے میں شہر کے آدمیوں کی آواز سنائی دی اور وہ اپنی کُٹیا کی طرف لوٹ گیا۔ جولیٹ اُٹھی تو کیا دیکھتی ہے کہ رومیو کی لاش اُس کے سرہانے پڑی ہے۔ اور زہر کا خالی پیالہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ خیال کیا زہر ہی اس کا موجبِ وفات ہے۔ اپنی موت کا کوئی ذریعہ نہ پا کر آخر کار اُس نے اپنی کمر سے ایک تیز خنجر نکال کر اپنے نازک سینہ میں چبھو لیا۔ اور اپنے جانباز رومیو کے ساتھ ہی سدھار گئی۔

(10) کونٹ پیرس کا ملازم رومیو اور کونٹ کے درمیان لڑائی دیکھ کر تمام شہر کے آدمیوں کو بلا لیا۔ غرضکہ قبرستان پر ایک خلق عظیم جمع ہو گئی۔ فقیر لارنس بھی گریہ و زاری کرتا ہوا وہاں دوبارہ پہنچ گیا۔ اُس نے تمام قصہ پرنس سے لارڈ مانٹیگ اور لارڈ کیپولیٹ کے روبرو کہہ سنایا کہ اس طرح رومیو اور جولیٹ کی محبت کا آغاز ہوا اور اس طرح اُس نے خود اُن کی شادی میں حصہ لیا اور اس طرح اُس نے جولیٹ کو بیہوشی کی دوائی پلائی تا کہ اُسے مردہ ظاہر کیا جائے اور اس طرح ایک قاصد اُس نے رومیو کی طرف روانہ کیا جو کہ بدقسمتی سے اُس کے پاس نہ پہنچ سکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام منصوبہ اُس کے لیے وبالِ جان ہو گیا۔ باقی حالات کونٹ پیرس کے ملازم نے سنائے۔ جس نے لڑائی سے لے کر جولیٹ کا اپنے کو خنجر سے قتل کرنے تک کا واقعہ بچشم خود دیکھا تھا۔

(11) آخر کار پرنس نے اُٹھ کر ایک پُر اثر تقریر کی کہ ”مانٹیگ اور کیپولیٹ ہر دو خاندانوں کے لیے اُن کی دشمنی اور ایک دوسرے کے عناد کی یہ ایک عبرت ناک مثال ہے۔ اُس نے التجا کی کہ اب وہ ایک دوسرے سے رضا مند ہو جاویں، ورنہ کیا معلوم کہ خداوند کریم اس سے بھی خوفناک آسمانی بلائیں اُن پر نازل کرے۔ یہ سُن کر دونوں لارڈ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بغلگیر ہو گئے۔ لارڈ مانٹیگ نے جولیٹ جیسی شریف النسب، نیک نہاد اور جان نثار لڑکی کا اُس کی یاد میں اُس کا سنہری بت تیار کروایا۔ اسی طرح لارڈ کیپولیٹ نے رومیو جیسے پیارے اور حقیقی عاشق کا سنہری بت کھڑا کیا۔ تا کہ اُس کی یاد ہمیشہ کے لیے زندہ رہے۔