مخزن کے نامور بانی جناب شیخ عبدالقادر صاحب بی اے نے علامہِ اقبال کی مشہور مثنوی ’’رموزِ بیخودی‘‘ پر تنقید لکھی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ شیخ صاحب موصوف کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے اس قدر عرصے کے بعد مخزن کی طرف توجہ مبذول فرمائی یا علامہ1 اقبال کے ممنون ہوں، جنہوں نے مثنوی لکھی۔ اور شیخ صاحب کو اس پر تنقید لکھنے کا خیال آیا۔ بہرحال مثنوی ’’رموزِ بیخودی‘‘ قوم و ملت کو جو فوائد عظیمہ پہنچائے گی، ان میں سے ایک کا ظہور تو ہو گیا، کہ وہ بے نظیر ادیب جو برسوں سے عزلت نشین خاموش ہو چکا تھا۔ اس کا نام پھر ایک دفعہ مخزن کے اوراق پر نظر آیا۔ خدا کرے شیخ صاحب موصوف اپنی اس تعجب انگیز خاموشی کو چھوڑ کر پھر ادبِ اردو کی خدمت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ وہ شخص جس نے برسوں قوم و ملک کی خدمت کی ہو اس کے اس طرح خاموش ہو جانے کو عوام اچھا نہیں سمجھتے۔۔ تنقید کے متعلق ہمیں کچھ عرض کرنا نہیں ہے۔ شیخ صاحب موصوف جس اعلیٰ پائے کے نقاد ہیں۔ وہ ان کے گزشتہ ادبی کارناموں سے ظاہر ہے۔ اس تنقید میں مثنوی ’’رموزِ بیخودی‘‘ پر سرسری نظر ڈالی گئی ہے۔ لیکن اس سرسری میں بھی معارف و حقائق کے وہ موتی پروئے ہیں۔ کہ باوید و شاید (تاجور)
مثنویاں تو بہت لکھی گئی ہیں اور لکھی جائیں گی۔ لیکن یہ امتیاز شاید کسی کسی کو حاصل ہو کہ ملک و قوم تک کوئی ضروری پیغام پہنچانے کے لئے مثنوی کو ذریعۂ اظہارِ خیال بنایا جائے۔ خدا جزائے خیر دے شیخ محمد اقبال کو۔ جنہوں نے اس زمانۂ انحطاط میں ملت اسلامیہ کو مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ کے ذریعہ سے پیغامِ عمل دیا ہے، اور ’’رموزِ بیخودی‘‘ میں مژدہِ حیات سنایا ہے۔
دنیا میں سب سے بڑی مثنوی غالباً مثنویِ مولانا روم (علیہ الرحمۃ) جس کو اسلامی ممالک میں اکثر لوگ قرآن مجید کے بعد اعلیٰ درجہ کی مذہبی کتاب سمجھتے ہیں، اور ’’قرآن در زبانِ پہلوی‘‘ کا خطاب دیتے ہیں۔ اس کی زبان ایسی سلیس اور اندازِ بیان ایسا دلنشین ہے کہ خاص و عام میں مقبول ہے۔ یہ عالیشان مثنوی ایک دریائے ناپیداکنار ہے۔ اس کی کئی ضخیم جلدیں ہیں۔ جن میں کلام الہٰی کے ضروری مسئلے جا بجا عام فہم پیرایہ میں اور مثالوں اور حکایتوں کے ذریعے لوگوں کو سمجھائے گئے ہیں۔ اس کتاب کا مقصد مذہبِ اسلام کی خدمت ہے۔ تصوف کا عنصر اس میں غالب ہے، اور اس لئے یہ کتاب علماء اور صوفیا دونوں میں مقبول ہے، اور فلسفی بھی اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔
’’اسرارِ خودی‘‘ اور ’’رموزِ بیخودی‘‘ میں طرزِ مثنویِ مولوی معنوی کا تتبع کیا گیا ہے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ہم ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کی ان دو مختصر مثنویوں کا مولانا روم کی عظیم الشان کتاب سے مقابلہ کیا چاہتے ہیں۔ ہاں یہ نسبت ضرور ہے کہ اقبال نے مثنوی شریف کی شیریں زبان اپنی مثنویوں کے لئے اختیار کی ہے، اور مثنوی کی مقبول بحر اپنے لئے تبرکاً انتخاب کی ہے۔ جناب مولٰنا علیہ الرحمۃ کا فیضِ معنوی سمجھئے کہ ان دونوں مثنویوں میں ایک خاص تاثیر موجود ہے۔ ذیل کے اشعار میں اسرارِ خودی کی تمہید میں اقبال نے خود اس فیض کا اعتراف کیا ہے۔
|
ایں قدر نظارہ ام بیتاب شد |
بال و پر بشکست و آخر خواب شد |
|
ترجمہ میرا نظارہ اس قدر بے تاب ہوا کہ اس کے بال و پر ٹوٹ گئے اور آخرکار وہ سو گیا۔ |
|
|
روئے خود بنمود پیرِ حق سرشت |
کو بحرف پہلوی قرآں نوشت |
|
ترجمہ اس حق سرشت پیر نے اپنا چہرہ دکھایا، جس نے پہلوی حرفوں میں قرآن لکھا۔ |
|
|
گفت اے دیوانۂ ارباب عشق |
جرعہ گیر از شرابِ نابِ عشق |
|
ترجمہ اس نے کہا، 'اے عشق والوں کے دیوانے، عشق کی خالص شراب کا ایک گھونٹ پی لے۔' |
|
|
بر جگر ہنگامہ محشر بزن |
شیشہ بر سر دیدہ بر نشتر بزن |
|
ترجمہ اپنے جگر پر محشر کا ہنگامہ برپا کر دے۔ سر پر شیشہ اور آنکھ پر نشتر مار لے۔ |
|
|
آشنائے لذت گفتار شو |
اے درائے کارواں بیدار شو |
|
ترجمہ گفتار کی لذت سے آشنا ہو جا۔ اے قافلے کی گھنٹی، بیدار ہو جا۔ |
|
”درائے کارواں“ یعنی اقبال نے بیدار ہو کر اس ارشاد کی تعمیل کی ہے۔ سوزوگداز خدائے فطرت میں ودیعت کیا تھا۔ ملت اسلامیہ کی موجودہ حالت پر نظر پڑتے ہی وہ سوزوگداز نالۂ نے کی طرح فریاد بن کر سینہ سے نکلا اور پکارا کہ دنیا میں وہی افراد زندگی کا فرض کماحقہ ادا کرتے ہیں جو لذتِ عمل سے بہرہ یاب ہیں، اور جو قوتِ عمل کھو بیٹھے یا محو خیال ہو بیٹھے ہیں۔ ان کا شمار زندوں میں نہیں۔۔ اس ایک مضمون کو کئی پیرایوں میں ادا کیا گیا ہے، اور کئی تشبیہوں سے اور کئی موثر مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔ ’’اسرارِ خودی‘‘ کے لئے ایک بسیط ریویو جداگانہ درکار ہے۔ جو پھر کبھی (اگر حالات مساعد ہوئے) لکھا جائے گا۔ اخبارات میں اس پر بہت لے دے ہو چکی ہے، اور بہت کچھ اس کی تعریف میں لکھا جا چکا ہے۔ اس وقت تو اس مثنوی کے دوسرے حصے سے بحث ہے۔ جو حال میں شائع ہوا ہے۔ اور جس کا نام ’’رموزِ بیخودی‘‘ رکھا گیا ہے۔
اگر صرف دونوں مثنویوں کے ناموں کو سرسری طور سے دیکھا جائے تو خیال ہوتا ہے کہ حضرت اقبال نے اضداد کے جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ نکتہ چینی زبانِ قلم سے بے اختیار نکلنے کو ہوتی ہے، کہ پہلے تو ملت اسلامی کو پیغام دیا کہ اس کا ہر فرد خودداری سیکھے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے جدوجہدِ زیست کے میدان میں مردانہ کارزار کے لئے تیار ہو۔ اور پھر دوسری کتاب میں خود ہی خودی سے بیگانہ بن کر وہی بیخودی کا جادہ فرسودہ اختیار کر لیا۔ لیکن جب ’’رموزِ بیخودی‘‘ کو غور سے پڑھیں تو یہ اعتراض رفع ہو جاتا ہے۔ اول تو یہ صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ مصنف نے ’’رموزِ بیخودی‘‘ میں ان اصولوں سے بالکل انحراف نہیں کیا، جو ’’اسرارِ خودی‘‘ میں اصولِ زندگی قرار دیئے گئے تھے۔ اور دوسرے یہ ظاہر ہوتا ہے، کہ جہاں افراد کے لئے خودی اور خودداری ذریعہِ استواری ہے۔ وہیں افراد کا اپنی ہستیِ قومی میں محو کر دینا اور اپنی انفرادی زندگی کے جزو کو قومی زندگی کے کل میں شامل کر دینا قومی ترقی کے لئے لازم ہے، اور اس کو بیخودی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ گویا یہ وہ بیخودی ہے جو خودداری اور خود شناسی کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ اور جو فرد و قوم دونوں کے لئے عین نفع ہے۔ اس مثنوی میں یہ مضمون کس خوبی سے ادا ہوا ہے۔
|
تو خودی از بیخودی نشناختی |
خویش را اندر گماں انداختی |
|
ترجمہ تو نے خودی کو بےخودی سے پہچانا نہیں، (اس لیے) تُو نے خود کو وہم و گمان میں ڈال دیا ہے۔ |
|
|
جوہر نوریست اندر خاکِ تو |
یک شعاعش جلوۂ ادراک تو |
|
ترجمہ تیری خاک (جسم) کے اندر ایک نورانی جوہر ہے، اُسی کی ایک شعاع تیرے ادراک کا جلوہ ہے۔ |
|
|
خوگرِ پیکار پیہم دیدمش |
ہم خودی ہم زندگی نامیدمش |
|
ترجمہ میں نے اسے (خودی کو) مسلسل جدوجہد کا خوگر پایا، اور اسی کو خودی اور اسی کو زندگی کا نام دیا۔ |
|
|
چوں ز خلوت خویش را بیروں کشد |
پائے در ہنگامۂ جلوت نہد |
|
ترجمہ جب یہ (خودی) اپنے آپ کو خلوت سے باہر لاتی ہے، تو جلوت کے ہنگامے میں قدم رکھتی ہے۔ |
|
|
در جماعت خود شکن گردد خودی |
تا ز گلبرگے چمن گردد خودی |
|
ترجمہ جماعت میں شامل ہو کر خودی اپنی انانیت کو توڑ دیتی ہے، تاکہ ایک پھول کی پتی سے پورا چمن بن جائے۔ |
|
(رموز بیخودی صفحہ 514)
یہ اصول ذہن نشین کرتے ہوئے شاعر مطلب کی طرف آتا ہے اور یہ بتلاتا ہے کہ ربطِ افراد کا نام ہی ملت ہے۔ اور افراد کی ہستی کے قیام کا مدار اسی ارتباط پر ہے، اور اس دعوے کی زبردست دلیل نیچر کا مشاہدہ ہے۔
|
محفل انجم ز جذب باہم است |
ہستیٔ کوکب ز کوکب محکم است |
|
ترجمہ ستاروں کی محفل باہمی کشش کے سبب قائم ہے، اور ہر ستارے کا وجود دوسرے ستارے سے مستحکم ہے۔ |
|
(صفحہ 7)
اس ضمن میں کیا اچھا اصول بتایا ہے کہ افرادِ انسانی کو باہم مربوط کرنے کے لئے کسی خاص صاحبِ اثر فرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ کے اہم ترین موقعوں پر وہ فرد لباسِ نبوت میں جلوہ گر ہوا ہے، اور اس سے کم ضروری مرحلوں پر رہبر کامل کی صورت میں ایسے انسان کامل کے اوصاف کیسے اچھے پیرائے میں بیان کئے گئے ہیں۔
|
تا خدا صاحبدلے پیدا کند |
کز فغانے نغمہ انشا کند |
|
ترجمہ خدا کوئی ایسا صاحبِ دل پیدا کرے جو ایک فغاں سے نغمہ تخلیق کر دے۔ |
|
|
ساز پروازے کہ از آوازۂ |
خاک را بخشد حیات تازۂ |
|
ترجمہ وہ ایک ایسی پرواز کا سامان کرے جس کی آواز خاک کو ایک نئی زندگی بخش دے۔ |
|
|
زندہ از یک دم دو صد پیکر کند |
محفلے رنگیں ز یک ساغر کند |
|
ترجمہ ایک زندہ ہستی ایک ہی سانس سے سینکڑوں جسم پیدا کر لیتی ہے، اور ایک ہی ساغر سے پوری محفل کو رنگین بنا دیتی ہے۔ |
|
