رسولِ عربی کی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا کا نام مبارک اس سلسلہ میں مسلمان عورتوں کے لئے نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ اپنی خوبیوں اور نیکی کے لحاظ سے رسول کریمؐ جیسے باپ کی پیاری بیٹی تھیں۔ حضرت علی جیسے شوہر کی چہیتی بیوی، اور حضرت امام حسن حضرت امام حسین جیسے بیٹوں کی واجب تعظیم ماں بنی۔ اور انہوں نے اپنی زندگی میں مثال قائم کی، کہ عورت ذات کس طرح اپنی زندگی کے ان تینوں مرحلوں پر اپنے فرائض کو ادا کرے، کہ ساری ملت کے لئے بہتری کا باعث ہو۔ حضرت فاطمہ کی شان میں جو اشعار اقبال کے قلم سے نکلے ہیں، وہ اس دلی ارادت کے ترجمان ہیں، جو اقبال کو رسولؐ اور آلِ رسولؐ سے ہے۔ اور ان میں یہ دو شعر آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ صفات کا ایک دریا ہے، جو ایک ایک شعر کے کوزے میں بند کیا گیا ہے۔ اہلِ نظر داد دیں گے، اور جنہیں تفصیل نہ معلوم ہو وہ صفحاتِ تاریخ و سیر ملاحظہ کریں۔
|
آں ادب پروردۂ صبر و رضا |
آسیا گردان و لب قرآں سرا |
|
ترجمہ وہ (خاتون) جو صبر و رضا کے ادب کی تربیت یافتہ تھیں، چکی پیس رہی تھیں اور ان کے لبوں پر قرآن (کی تلاوت) جاری تھا۔ |
|
|
گریہ ہائے او زبالیں بی نیاز |
گوہر افشاندے بدامانِ نماز |
|
ترجمہ ان کے آنسو تکیے سے بے نیاز تھے اور نماز کے دامن میں موتی بکھیرتے تھے۔ |
|
آخری باب جس میں مثنوی کے مطالب کا خلاصہ اور سورہ قل ہو اللہ احد کی تفسیر ہے، خاص طور پر پڑھنے کے لائق ہے۔ کتاب کا خاتمہ عرضِ حالِ مصنف پر ہوتا ہے، جو بارگاہِ رسالت مآبؐ میں کیا گیا ہے۔ اس میں مسلمانوں کی موجودہ حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے، کہ وہ راستے سے دور جا پڑے ہیں۔ ان کے ’’شیخ‘‘، ’’برہمن‘‘ سے زیادہ بت پرست ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ان کے دماغوں میں بت چھوڑ مندر بھر گئے ہیں۔ جو صفات پہلے غیر مسلموں سے مخصوص تھیں۔ وہ انہوں نے سیکھ لی ہیں۔ موت سے نہ ڈرنے کی بجائے ڈرنے لگے ہیں۔ عرب کی بجائے عجم کی تقلید میں مبتلا ہیں۔ دعا ہے، کہ ان کو جو پیغام اس مثنوی کے ذریعے رہِ حق کی طرف پھر آنے کے لئے دیا گیا ہے، وہ بااثر ثابت ہو، اور مقبول ہو۔
آخیر میں چند شعر شاعر نے اپنی ایک دلی آرزو کے اظہار میں لکھے ہیں، اور ان میں درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ان شعروں کا مزا اہلِ دل اور فدائیان نبیؐ لیں گے۔
|
ہست شانِ رحمتت گیتی نواز |
آرزو دارم کہ میرم در حجاز |
|
ترجمہ تیری شانِ رحمت دنیا پر مہربان ہے، میری آرزو ہے کہ میں حجاز میں مروں۔ |
|
|
مسلمے از ما سوا بیگانۂ |
تا کجا زنجیریِٔ بت خانۂ |
|
ترجمہ مسلمان تو (خدا کے) ماسوا سے بیگانہ ہوتا ہے، تُو کب تک بت خانے کا قیدی بنا رہے گا؟ |
|
|
حیف چوں او راسر آید روزگار |
پیکرش را دیر گیرد در کنار |
|
ترجمہ افسوس! جب اس کی زندگی ختم ہوتی ہے تو بتکدہ اس کے جسم کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ |
|
|
از درت خیزد اگر اجزائے من |
وائے امروزم خوشا فردائے من |
|
ترجمہ اگر میرے جسم کے اجزا تیرے در سے اٹھیں، تو میرے آج پر افسوس لیکن میرا کل کیا ہی مبارک ہو گا۔ |
|
(صفحہ 138)
