جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

رموزِ بیخودی

اقبال نے ایک باب ہجرت پر لکھا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ اس میں معنی آفرینی کی داد دی ہے۔ مقصود تو اس باب سے وہی ہے جو پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔ کہ ملتِ اسلام کی بنیاد مذہبی یگانگت پر ہے۔ اور یہ کسی خاص ملک یا وطن کی پابند نہیں۔ مگر اس باب میں مصنف نے اپنے دعوے پر ایک زبردست دلیل ہجرتِ نبوی کے مسلمہ واقعہ سے پیدا کی ہے۔ یعنی آنحضرت صلعم جو مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں جا بسے، اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے، کہ وہ فی الحقیقت دشمنوں سے عاجز آکر بھاگ گئے تھے۔ بلکہ اس میں یہی حکمت چھپی تھی، کہ اسلام کی عالمگیری کی بنیاد پڑے، اور اسلام کے نام لیوا ہر جگہ اپنا وطن بنائیں، اور وہاں نورِ اسلام پھیلائیں۔

آنکہ در قرآں خدا اورا ستود

آنکہ حفظِ جان او موعود بود

ترجمہ وہ ہستی جس کی تعریف قرآن میں خود خدا نے کی، وہ ہستی جس کی جان کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا تھا۔

دشمناں بیدست و پا از ہیبتش

لرزہ بر تن از شکوہِ فطرتش

ترجمہ اُس کی ہیبت سے دشمن بے دست و پا ہو جاتے تھے، اور اُس کی فطری شان و شوکت سے اُن کے جسموں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔

پس چرا از مسکنِ ابا گریخت؟

تو گماں داری کہ از اعدا گریخت؟

ترجمہ تو پھر وہ اپنے آبائی وطن سے کیوں نکلے؟ کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ دشمنوں کے ڈر سے بھاگے تھے؟

قصہ گویاں حق ز ما پوشیدہ اند

معنیٔ ہجرت غلط فہمیدہ اند

ترجمہ قصہ گوؤں نے ہم سے حقیقت کو چھپایا ہے، اور انہوں نے ہجرت کے معنی کو غلط سمجھا ہے۔

ہجرت آئینِ حیات مسلم است

ایں ز اسباب ثباتِ مسلم است

ترجمہ ہجرت مسلمان کی زندگی کا آئین (قانون) ہے، اور یہی مسلمان کے استحکام کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

(صفحہ 46)

اس کے مقابل میں ملت کی بنا وطن پر رکھنے کا جو خیال ہے اور جس کے خلاف دلائل چند اشعار میں اس سے پہلے بیان ہو چکی ہیں۔ ان پر اس باب میں اقبال نے ایک اور دلیل کا اضافہ کیا ہے، اور وہ عام انسانی اغراض کے لحاظ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں، کہ مختلف جغرافیائی قطعات میں سے ایک قطعہ بنیادِ ملت قرار پانے سے دنیا میں تنگ خیالی ایسی پھیلی ہے، کہ ایک قوم دوسری قوم کی دشمن بن گئی ہے۔ اور دنیا میں جنگ وجدال کی کثرت ہو گئی ہے۔ گہری فلسفیانہ نگاہ سے اگر دیکھیں تو عام بنی نوعِ انسان کو اس اصول سے ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ گو وہ محدود جماعتیں جو علیٰحدہ علیٰحدہ قومیں بنی ہوئی ہیں۔ اس اصول کی بدولت جلد ترقی کر جائیں۔ ان خیالات کو نظم میں یوں بیان کیا گیا ہے۔

آں چناں قطعِ اخوت کردہ اند

بر وطن تعمیرِ ملت کردہ اند

ترجمہ اُنہوں نے اخوت (بھائی چارے) کا رشتہ یوں توڑا ہے کہ ملت کی بنیاد وطن پر استوار کی ہے۔

(صفحہ 48)

ایں شجر جنت ز عالم بردہ است

تلخیٔ پیکار بار آوردہ است

ترجمہ اِس درخت نے دنیا سے جنت چھین لی ہے، اور لڑائی جھگڑے کی تلخی کو پھل کے طور پر لایا ہے۔

مردمی اندر جہاں افسانہ شد

آدمی از آدمی بیگانہ شد

ترجمہ دنیا میں انسانیت ایک افسانہ بن کر رہ گئی، اور آدمی آدمی سے بیگانہ ہو گیا۔

روح از تن رفت و ہفت اندام ماند

آدمیت گم شد و اقوام ماند

ترجمہ روح جسم سے پرواز کر گئی اور صرف سات اعضاء (ظاہری ڈھانچہ) باقی رہ گئے، آدمیت گم ہو گئی اور (صرف) قومیں باقی رہ گئیں۔

(صفحہ 49)

اس مسئلہ سے کہ ملت اسلامی حدودِ مکانی کی پابند نہیں۔ قدرتی طور پر حدودِ زمانی کی طرف خیال منتقل ہوتا ہے۔ اور اس کے متعلق شاعر نے ایک باب میں یہ بیان کیا ہے، کہ ملت اسلامی کا دوام جریدۂ عالم پر ثبت ہے۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں۔

رومیاں را گرم بازاری نماند

آں جہانگیری جہانداری نماند

ترجمہ رومیوں کی گرم بازاری (شان و شوکت) باقی نہ رہی، اُن کی وہ جہاں گیری اور جہاں داری بھی ختم ہو گئی۔

شیشۂ ساسانیاں در خوں نشست

رونقِ خمخانۂ یوناں شکست

ترجمہ ساسانیوں کا جام لہو میں ڈوب گیا، اور یونانیوں کے میخانے کی رونق بھی جاتی رہی۔

(صفحہ 56)

مصر ہم در امتحاں ناکام ماند

استخوان او تہِ اہرام ماند

ترجمہ مصر بھی امتحان میں ناکام رہا، اس کی ہڈیاں اہرام کے نیچے رہ گئیں۔

درجہاں بانگ اذان بودست و ہست

ملتِ اسلامیاں بودست و ہست

ترجمہ دنیا میں اذان کی آواز پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے، ملتِ اسلامیہ پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے۔

گرچہ مثلِ غنچہ دلگیریم ما

گلستاں میرد اگر میریم ما

ترجمہ اگرچہ ہم کلی کی طرح دل گرفتہ ہیں، لیکن اگر ہم مر گئے تو سارا گلستان ہی ویران ہو جائے گا۔

(صفحہ 57)

اسلامیوں کو یہ بتانے کے بعد کہ ان کی ملت ان کے مذہب پر مبنی ہے۔ اور اس کے دوام کا وعدہ ہو چکا ہے۔ ان کو یہ یاد دلایا گیا ہے، کہ یہ سب جبھی ہو گا، کہ وہ اپنے آئین کے پابند ہوں، جو ان کی آسمانی کتاب یعنی قرآن شریف میں مندرج ہے۔ اس باب میں قرآن مجید کی تعریف خوب اشعار میں کی گئی ہے۔ جن میں سے صرف دو یہاں درج کیے جاتے ہیں۔

نوع انساں را پیام آخریں

حامل او رحمۃ اللعالمین

ترجمہ وہی رحمت اللعالمین (ﷺ) ہیں جو نوعِ انسانی کے لیے آخری پیغام کے حامل ہیں۔

(صفحہ 59)

گر تو مے خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن

ترجمہ اگر تُو مسلمان کی حیثیت سے جینا چاہتا ہے تو قرآن کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

(صفحہ 62)

آگے چل کر مسلمانوں کو شرع کی پابندی کی تاکید کی گئی ہے۔

ہست دینِ مصطفیٰ دین حیات

شرعِ او تفسیر آئین حیات

ترجمہ دینِ مصطفیٰ (ﷺ) زندگی کا دین ہے، اور ان کی شریعت زندگی کے آئین کی تفسیر ہے۔

گر زمینی آسماں سازد ترا

آنچہ حق مے خواہد آں سازد ترا

ترجمہ اگر تُو زمینی ہے تو وہ (دین) تجھے آسمانی بنا دیتا ہے، اور جو کچھ حق تعالیٰ چاہتا ہے، وہ تجھے ویسا ہی بنا دیتا ہے۔

(صفحہ 68)

اگر اسی طرح باقی سب بابوں کا خلاصہ اس مختصر تبصرہ میں درج کیا جائے تو شاید باعثِ طوالت ہو گا۔ شائقین اصل کتاب کو پڑھیں اور مستفید ہوں۔ مگر تین بابوں کے خاص خاص اشعار کا ذکر کیے بغیر پھر بھی رہا نہیں جا سکتا۔ ان میں ایک تو وہ باب ہے جس میں علمِ تاریخ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ ترقیِ قومی کے لئے تاریخ دانی لازم ہے۔ یہ مضمون کیسے خوبصورت اور سلیس لفظوں میں ادا ہوا ہے۔

ربطِ ایام است مارا پیرہن

سوزنش حفظِ روایاتِ کہن

ترجمہ ایام کا تسلسل (یعنی تاریخ) ہمارے لیے لباس کی مانند ہے، اور پرانی روایات کا تحفظ اس لباس کی سلائی ہے۔

چیست تاریخ اے ز خود بیگانہ

داستانے۔ قصۂِ۔ افسانۂِ

ترجمہ اے خود سے بیگانہ! تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک داستان، ایک قصہ، ایک افسانہ ہے؟

ایں ترا از خویشتن آگہ کند

آشنائے کار و مردِ رہ کند

ترجمہ یہ (تاریخ) تجھے تیری اپنی ذات سے آگاہ کرتی ہے، کام سے آشنا اور راہِ عمل کا مرد بناتی ہے۔

(صفحہ 100)

اس سے اگلا باب بھی توجہ کے قابل ہے۔ اس میں عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ جتایا گیا ہے، کہ اچھے بیٹوں بیٹیوں کی ماں بننا بڑے فخر کی بات ہے اور نوعِ انسان کے صنف نازک کا یہ سب سے بڑا فرض ہے۔ جدید زمانہ میں اس فرض کی طرف جو بے توجہی کا میلان ہے، وہ بہت نقصان دہ ہے۔ ایک گنواری اور بدوضع لڑکی جو کسی نیک اور کارآمد شخص کی ماں بنتی ہے، اس نازنین گل اندام سے بہتر ہے، جو اپنے اس اہم فرض سے بے پروا ہو، یا اس ذمہ داری کی متحمل ہونے کے ناقابل۔ اس پیغام کو تو حضرت اقبال سے انہی کے الفاظ میں سنئے۔

آں دخِرستاقزادے جاہلے

پست بالائے۔ سطبرے۔ بد گِلے

ترجمہ وہ ایک گاؤں کی رہنے والی، اَن پڑھ، پست قد، بھاری بھرکم اور بد ہیت لڑکی ہے۔

نا تراشے پرورش نادادۂ

کم نگاہے۔ کم زبانے۔ سادہ

ترجمہ اَن گھڑ، غیر تربیت یافتہ، کوتاہ نظر، کم سخن اور سادہ مزاج۔

دل زا آلام امومت کردہ خوں

گرد چشمش حلقہ ہائے نیلگوں

ترجمہ ماں بننے کے مصائب نے اس کا دل خون کر دیا ہے، اور اس کی آنکھوں کے گرد نیلے حلقے ہیں۔

ملت ار گیرد ز آغوشش ہدست

یک مسلمانِ غیور و حق پرست

ترجمہ اگر ملت اس کی آغوش سے ایک غیور اور حق پرست مسلمان حاصل کر لے۔

ہستیٔ ما محکم از آلام اوست

صبح ما عالم فروز از شام اوست

ترجمہ ہماری ہستی اسی (ماں) کے دکھوں سے مضبوط ہے؛ ہماری صبح اسی کی شام کی بدولت جہاں کو روشن کرنے والی ہے۔

(صفحہ 105)