جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

رموزِ بیخودی

گلستاں در دشت و دَر پیدا کند

تازہ اندازِ نظر پیدا کند

ترجمہ وہ دشت و در میں گلستاں پیدا کر دیتا ہے، (اور) ایک تازہ اندازِ نظر پیدا کر دیتا ہے۔

(صفحہ 9)

قوم کا اندازِ نظر بدل دینا یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ جو خاص اور برگزیدہ آدمیوں کے حصے میں آتا ہے۔ اور اگر وہ اندازِ نظر صحیح ہے تو اسی سے حیات تازہ پیدا ہوتی ہے۔ اس نئی زندگی کے پروں سے قوم بلند پروازیاں کرتی ہے۔ مگر اس کی بلند پروازیاں آئین کی پابندی پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہ ایک عجیب صداقت ہے۔ جس پر اس مثنوی میں جابجا زور دیا گیا ہے۔ کہ آئین یا قانون جو بظاہر پابندی ہے۔ یہی اصل میں آزادی کی بنا ہے۔ اور جو قومیں آئین کی پابندیاں اپنے اوپر لازم کیے بغیر آزادی کے خواب دیکھتی ہیں وہ ایک خیال خام میں مبتلا ہیں جو ان کو منزلِ مقصود سے ہمیشہ دور رکھے گا۔ اس سلسلے میں یہ جتایا گیا ہے، کہ آئینِ اسلام کا بنیادی پتھر توحید ہے، یعنی خدائے واحد پر ایمان لانا۔ ایک کلمہ، ایک کعبہ، ایک کتاب، ایک سنت یا دستور العمل، یہ اینٹیں ہیں جن کے ساتھ وہ بنیادی پتھر مضبوط گڑا ہوا ہے۔ ملت کے استحکام کے لئے ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

ملت از یک رنگی دلہاستے

روشن از یک جلوہ ایں سیناستے

ترجمہ ملت دلوں کی یکجہتی اور ہم آہنگی سے تشکیل پاتی ہے، یہ سینا (ملت کا اجتماعی وجود) ایک ہی جلوے سے روشن ہے۔

قوم را اندیشہا باید یکے

در ضمیرش مدّعا باید یکے

ترجمہ قوم کے افکار و نظریات ایک ہونے چاہییں، اور اس کے باطن میں مقصد بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔

(صفحہ 14)

یہ مشہور مسئلہ ہے کہ اسلام میں ملت کی بنا نہ ایک ملک کے باشندے ہونے پر ہے اور نہ ایک نسل پر، بلکہ ہم مذہب یعنی ہم عقیدہ اور ہم خیال ہونے پر ہے۔ مگر اس زمانہ میں اکثر لوگ اس رائے کی طرف مائل ہیں کہ یہ ہم خیالی کا رشتہ گو خالی از اثر نہیں، مگر ایسا مضبوط نہیں ہو سکتا، جیسا وہ رشتہ جس کی بنا قومیت یا وطنیت پر ہو، اور اس رائے کی تائید میں بعض ممالک کے جوشِ قومیت یا وطنیت کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں، اور اس کے مقابل میں موجودہ دنیائے اسلام کی منتشرہ اور غیر متحدہ حالت دکھائی جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ کرنا اس مختصر ریویو میں ممکن نہیں، مگر عام اسلامی خیال اب تک مذہبی بنا ہی کو بہتر سمجھتا ہے، اور اس بارے میں حضرت اقبال کا مذہب اس خیال کے عین مطابق ہے۔ اس کی تائید میں جو دلائل انہوں نے پیش کیے ہیں۔ نظم میں آجانے سے ان کا زور دوبالا ہو گیا ہے۔ میرے خیال میں اس سے زیادہ پرزور الفاظ میں اس مسئلے کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

با وطن وابستہ تقدیر امم

بر نسب بنیاد تعمیر امم

ترجمہ قوموں کی تقدیر وطن سے وابستہ ہے، اور قوموں کی تعمیر کی بنیاد حسب و نسب پر ہے۔

اصل ملت در وطن دیدن کہ چہ

باد و آب و گل پرستیدن کہ چہ

ترجمہ قوم کی اصل بنیاد وطن میں دیکھنا کیا ہے؟ ہوا، پانی اور مٹی کی پرستش کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

بر نسب نازاں شدن نادانی است

حکم او اندر تن و تن فانی است

ترجمہ اپنے نسب پر فخر کرنا نادانی ہے۔ اس کا تعلق تو صرف جسم سے ہے اور جسم فانی ہے۔

ملت مارا اساس دیگر است

ایں اساس اندر دل ما مضمراست

ترجمہ ہماری ملت (اسلامیہ) کی بنیاد دوسری ہے، اور یہ بنیاد ہمارے دلوں میں پوشیدہ ہے۔

تیر خوش پیکان یک کیشیم ما

یک نما یک بیں یک اندیشیم ما

ترجمہ ہم ایک ہی ترکش کے خوش ساختہ تیر ہیں، ہمارا ظاہر ایک، ہماری نظر ایک اور ہماری سوچ بھی ایک ہے۔

مدعائے ما۔ مآل ما یکے است

طرز و انداز خیال ما یکے است

ترجمہ ہمارا مقصد اور ہماری منزل ایک ہے، ہمارے خیال کا طرز اور انداز بھی ایک ہے۔

ماز نعمتہائے او اخواں شدیم

یک زبان و یک دل و یک جاں شدیم

ترجمہ ہم اس (خدا) کی نعمتوں کے سبب آپس میں بھائی بھائی بن گئے ہیں، ہم ایک زبان، ایک دل اور ایک جان ہو گئے ہیں۔

(صفحہ 15-16)

قومی زندگی کی بنیادِ یکدلی پر رکھ کر قومی خیالات کی تدبیروں کا ذکر شروع کیا گیا ہے۔ پہلے تنبیہ کی ہے کہ یاس و ناامیدی قومی زندگی کے لئے زہر کا حکم رکھتی ہیں۔ ترقی چاہنے والی قوموں کو چاہیے کہ ناامیدی کو پاس نہ آنے دیں، حوصلے بلند رکھیں، اور سرگرم جستجو رہیں۔ ناامیدی عموماً خوف سے پیدا ہوتی ہے یا غم سے، اس لئے خوف اور غم سے بھی الگ رہنا چاہیے۔ اس ہدایت پر عمل کی تاکید کرتے ہوئے مثنوی میں آیات و احکام قرآنی کے حوالے پیش کیے گئے ہیں، اور بتایا گیا ہے کہ سوائے خدا کے کسی سے ڈرنا شانِ ایمان کے خلاف ہے، اور جب بیمِ غیراللہ سے نجات ہو، تو کوئی کام ایسے آدمی کے لئے دشوار نہیں ہوتا۔

بیم چوں بند است اندر پائے ما

ورنہ صد سیل است در دریائے ما

ترجمہ خوف ہمارے پاؤں کی زنجیر ہے، ورنہ ہمارے دریا میں سینکڑوں سیلاب ہیں۔

(صفحہ 20)

اس سلسلہ میں ایک حکایتِ اورنگ زیب عالمگیر درج کی ہے۔ جس پر جنگل میں نماز پڑھنے کی حالت میں شیر نے حملہ کیا، مگر بادشاہ اس سے نہ ڈرا، اور بغیر تاک کے ضرب لگانے کے اس نے خنجر کا ایسا وار کیا کہ شیر کو ہلاک کر دیا، اور پھر مصروف نماز ہو گیا۔ اس حکایت کو نظم کرتے ہوئے اورنگ زیب کی خدماتِ مذہبی کی تعریف کی ہے، اور اس ساری تعریف کی جان یہ شعر ہے، جو عالمگیر کی شان میں کہا گیا ہے۔ دوسرے مصرعہ کی بلاغت خصوصاً قابل داد ہے۔

درمیانِ کارزارِ کفر و دیں

ترکش ما را خدنگِ آخریں

ترجمہ کفر و دیں کے معرکے میں، تُو ہمارے ترکش کا آخری تیر ہے۔

(صفحہ 23)

اس کے بعد ملت اسلامی کو بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا باہمی رشتہ جنابِ رسالت مآب صلعم کی ذاتِ بابرکات کی بدولت مضبوط ہے۔

از رسالت ہم نوا گشتیم ما

ہم نفس ہم مدعا گشتیم ما

ترجمہ ہم رسالت (نبوت) کی بدولت ہم آواز ہوئے، ہم ایک جان اور ایک مقصد والے بن گئے۔

کثرتِ ہم مدعا وحدت شود

پختہ چوں وحدت شود ملت شود

ترجمہ جب مقصد ایک ہو جائے تو کثرت، وحدت میں بدل جاتی ہے، اور جب یہ وحدت پختہ ہو جائے تو ملت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

(صفحہ 30)

پھر ملت اسلامی کی خصوصیات چند پُر معنی شعروں میں بیان کی ہیں، اور بتایا ہے کہ حریت اور مساوات اس ملت کی سرشت میں داخل ہیں۔ اسلامی مساوات کی تمثیل کے طور پر ایک درد انگیز تاریخی روایت نظم کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں کہ سلطان مراد نے ایک مسجد بنوائی تھی، جو ملکِ خجند کے رہنے والے ایک پردیسی معمار نے بنائی تھی۔ بادشاہ کو اس کی عمارت کچھ ناپسند ہوئی، اور اس نے معمار کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس معمار نے قاضی کی عدالت میں بادشاہ کے برخلاف استغاثہ کیا۔ بادشاہ عدالت میں طلب کیا گیا۔ قاضی نے مقدمہ سننے کے بعد فتویٰ دیا، کہ

عبد مسلم کمتر از احرار نیست

خونِ شہ رنگیں تر از معمار نیست

ترجمہ مسلمان غلام آزاد لوگوں سے کمتر نہیں، اور بادشاہ کا خون معمار کے خون سے زیادہ سُرخ نہیں ہوتا۔

یہ فتویٰ سن کر بادشاہ نے اپنا ہاتھ کاٹے جانے کے لئے پیش کیا

چوں مراد ایں آیۂ محکم شنید

دست خویش از آستیں بیروں کشید

ترجمہ جب مراد نے یہ محکم آیت سنی تو اپنا ہاتھ آستین سے باہر نکالا۔

مدعی راتاب خاموشی نماند

آیہ بالعدل والاحسان خواند

ترجمہ مدعی میں خاموش رہنے کی تاب نہ رہی، اُس نے عدل اور احسان والی آیت پڑھی۔

گفت از بہر خدا بخشیدمش

از برائے مصطفیٰ بخشیدمش

ترجمہ اُس نے کہا، ”میں نے اُسے خدا کے واسطے بخش دیا، میں نے اُسے مصطفیٰ ﷺ کے واسطے معاف کر دیا۔“

(صفحہ 38)

یعنی قانون نے ہاتھ کاٹنے کے عوض میں ہاتھ کاٹنے کا فتویٰ دے دیا، مگر خود مستغیث کو رحم آگیا، اور اس نے اپنا بدلہ نہیں لیا۔ اور بادشاہ کو معاف کر دیا۔ آگے چل کر میدان کربلا میں حضرت امام حسین کی شہادت کے متعلق ایک پُر درد باب لکھا ہے، جس میں یہ ظاہر کیا ہے، کہ حضرت امام حسین کی شہادت حریت کی بنیاد رکھنے کے لئے اور ضمیرِ انسانی کا حقِ آزادی قائم کرنے کے لئے تھی۔

ماسو اللہ را مسلماں بندہ نیست

پیشِ فرعونے سرش افگندہ نیست

ترجمہ مسلمان اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں ہوتا، اُس کا سر کسی فرعون کے سامنے نہیں جھکتا۔

خون او تفسیرِ ایں اسرار کرد

ملت خوابیدہ را بیدار کرد

ترجمہ اُن (امام حسینؓ) کے خون نے اس راز کی تشریح کی اور سوئی ہوئی ملت کو بیدار کر دیا۔

(صفحہ 43)