ہمارے ناظرین نے ابن جبیر اندلسی اور ابن بطوطہ کے سفرنامے پڑھے ہوں گے۔ اور آج کل کے سیاحوں کے سفرنامے بھی کثرت سے دیکھے ہوں گے۔ لیکن شاید یہ لطف کسی میں نہ آیا ہوگا جو قرون اولی کے ایک امامِ اجل اور فاضلِ بے بدل کے اس سفرنامے میں آئے گا۔ یہ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کا سفرنامہ ہے جس کو اُنھوں نے خود اپنی زبان سے ارشاد فرمایا۔ اس کو سنہ 553ھ میں امام اَبو القاسم عبدالعزیز بن یوسف اردبیلی نے مصر کی قدیم جامع مسجد میں اپنے سلسلۂ روایت سے اس تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا کہ کس راوی نے کس سنہ میں کس سے سُنا۔ یہاں تک کہ وہ سلسلہ ربیع بن سلیمان تک پہنچا۔ جنھوں نے خود امام شافعی کی زبانِ مبارک سے سُنا کہ اُنھوں نے فرمایا۔
’’میں نے چودہ برس کی عمر میں اپنے وطن مکہ معظمہ کو خیرباد کہی جب کہ سبزۂ آغاز بھی نہ تھا۔ مقام اَبطح1 سے چلا تو شہر کے باہر ذی طوی2 میں پہنچا۔ اور دو یمانی چادریں میرا لباس تھیں۔ وہاں بعض شتر سوار ایک صحبت میں بیٹھے نظر آئے۔ اُنھیں سلام کیا۔ اور اُنھوں نے جوابِ سلام دیا۔ ساتھ ہی اُن میں سے ایک معزز شخص اُٹھ کے میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں تمھیں قسم دلاتا ہوں کہ ہمارے ساتھ چل کے کھانے میں شریک ہو۔ مجھے خبر نہ تھی کہ دسترخوان بچھنے والا ہے۔ مگر بے عذر اُن کی درخواست قبول کرنا پڑی۔ اور کھانے والوں میں جا بیٹھا۔ اب اُن لوگوں کو دیکھا کہ پانچوں انگلیوں سے کھاتے۔ اور خوب اطمینان سے چبا چبا کے نگلتے ہیں۔ یہی طریقہ میں نے بھی اختیار کیا تاکہ مجھ سا ناخواندہ مہمان لوگوں کو صحبت میں بار نہ ہو۔ میری اس وضع کو وہ معزز شخص جس نے مجھے قسم دلا کے کھلایا تھا کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے پانی پی کر کہا ’’الحمد للہ‘‘۔ اور خدا کی ثنا و صفت بیان کی۔
اب وہ شخص میری طرف متوجہ ہوا۔ اور پوچھا ’’تم مکے کے رہنے والے ہو؟‘‘ کہا ’’جی ہاں‘‘۔ پوچھا ’’اور قریشی ہو؟‘‘ کہا ’’بے شک قریشی ہوں۔ مگر چچا (عرب ہر اجنبی بزرگ کو چچا کے لفظ سے خطاب کیا کرتے تھے) آپ کو یہ باتیں کیسے معلوم ہوئیں؟‘‘ کہا ’’تمھارے حضری یعنی متوطن مکہ ہونے کا حال تو مجھے تمھارے وضع و لباس سے معلوم ہوگیا۔ باقی رہا تمھارے قریشی ہونے کا حال تو وہ تمھارے کھانا کھا لینے سے کُھلا۔ قریش کا طریقہ ہے کہ جو اُنھیں کھلانا پسند کرتا ہے اُس کا کھانا کھانے کو وہ بھی پسند کرتے ہیں‘‘۔
اب میں نے اس شخص سے دریافت کیا کہ ’’آپ کا وطنِ مالوف کہاں ہے؟‘‘ کہا ’’یثرب یعنی مدینۃ النبی صلعم۔ میں نے پوچھا ’’آج کل وہاں کے عالم آیاتِ قرآنی سے بحث کرنے اور حدیثِ نبی صلعم کی رو سے فتویٰ دینے والے کون بزرگ ہیں؟‘‘ کہا ’’بنی اَصبح کے مقتدا مالک بن انس‘‘۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا ’’ہائے مجھے مالک سے ملنے کا کس قدر شوق ہے!‘‘ اس نے کہا ’’خدا نے تمھارا شوق پورا کر دیا۔ اس تیار اونٹ کو لو جو ہمارے تمام اونٹوں سے اچھا ہے۔ اور ہم خود ساتھ چلتے ہیں۔ راہ میں تمھاری صحبت سے لطف آتا رہے گا۔ اور تم بہت ہی جلد امام مالک سے جا ملو گے‘‘۔
تھوڑی ہی دیر میں اونٹ ایک دوسرے میں باندھ کے مرتب کیے گئے۔ میں اُس اونٹ پر بٹھایا گیا۔ اور قافلہ چلا۔ راہ میں میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ رات کو بھی اور دِن کو بھی قرآن مجید کا دورہ کیا کرتا۔ آٹھ دن میں مدینے پہنچا۔ اور رات دِن میں سولہ دورے تلاوتِ قرآن کے ختم کیے۔ آٹھ دِن کی تلاوت میں اور آٹھ رات کی تلاوت میں۔ سولھویں دن عصر کے وقت مدینے کی آبادی میں داخل ہوا۔ مسجد نبوی میں نمازِ عصر پڑھی۔ پھر اُٹھ کے تربتِ رسولِ اکرم علیہ السلام پر حاضر ہوا۔ بارگاہِ نبوت میں سلام عرض کیا۔ اور زیارتِ قبر شریف سے برکتیں حاصل کیں۔
میں نے امام مالک کو اس وضع میں دیکھا کہ ایک چادر کی تہمد باندھے ہیں ایک چادر اوڑھے ہیں اور کہہ رہے ہیں ’’مجھ سے بیان کیا نافع نے، اُن کو معلوم ہوا اِبن عمر3 سے اور اُن کو اس قبر والے یعنی رسول اللہ صلعم سے (اور کہتے وقت اُنھوں نے قبر شریف پر ہاتھ مارا)۔ اُن کی اس حرکت اور اس اندازِ بیان سے میرے دل پر ایک ہیبت طاری ہوئی۔ امام ممدوح کے حلقۂ درس میں دور4 پر بیٹھ گیا۔ زمین سے ایک تنکا اُٹھا لیا۔ اور جو کچھ وہ فرماتے اُس کو اس تنکے سے لب لگا لگا کے اپنے ہاتھ پر لکھتا جاتا تھا۔ اُنھوں نے اپنی روایت سے بہت سی حدیثیں بیان کیں۔ میں نے سب کو اسی طرح لکھا۔ امام مالک میری اس حرکت کو دیکھتے جاتے تھے۔ اور مجھے خبر نہ تھی جب صحبت ختم ہوئی تو وہ اوروں کی طرح میرے بھی اُٹھنے کا انتظار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ اکیلا میں رہ گیا۔ تب اُنھوں نے انگلی کے اشارے سے مجھے اپنے قریب بلایا۔ میں پاس گیا تو کچھ دیر تک میری صورت دیکھتے رہے۔ پھر پوچھا ’’کیا تم حرم کے رہنے والے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ پوچھا ’’مکے کے باشندے؟‘‘ عرض کیا ’’جی ہاں‘‘۔ کہا ’’اور قریشی ہو؟‘‘ کہا ’’جی ہاں‘‘۔ ارشاد ہوا ’’تمام صفتیں تم میں جمع ہیں لیکن بے ادب ہو‘‘۔ عرض کیا ’’میری کون سی بے ادبی حضرت نے دیکھی؟‘‘ فرمایا ’’میں تو حضرت رسول علیہ السلام کی حدیثیں سُنا رہا تھا مگر تم اس کھیل میں لگے ہوئے تھے کہ تنکے سے اپنے ہاتھ پر تھوک لگاتے اور اس طرح الفاظِ رسالت سے ملاعبت کر رہے تھے‘‘۔ کہا ’’میں تو آپ کے درس کو لکھ رہا تھا‘‘۔ یہ سنتے ہی امام مالک نے میرا ہاتھ کھینچ کے دیکھا اور فرمایا ’’مجھے تو اس پر کوئی تحریر نہیں نظر آتی‘‘۔ میں نے کہا ’’لعابِ دہن کا نشان کیا باقی رہ سکتا ہے؟ میرا مقصد اس لکھنے سے فقط یہ تھا کہ آپ کے بیان کو سمجھوں اور جو کچھ سنوں یاد کر لوں‘‘۔ یہ سُن کے امام مالک کو حیرت ہو گئی۔ اور فرمایا ’’اچھا میری بیان کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک ہی حدیث کو سُناؤ‘‘۔ میں نے حکم ہوتے ہی اُن کا وہی انداز اختیار کر کے کہا ’’حدثنا مالک عن نافع عن ابن عمر‘‘ یہ کہہ کے اُنھیں کی طرح قبر شریف پر ہاتھ مارا۔ اور پوری پچیس حدیثیں جو اُنھوں نے اول سے آخر تک روایت کی تھیں اُسی ترتیب سے سُنا دیں۔
اتنی دیر میں آفتاب غروب ہوگیا۔ امام مالک نے مغرب کی نماز پڑھی۔ اور اپنے غلام سے کہا ’’اپنے ان آقا کو ہاتھ پکڑ کے ساتھ لے چلو‘‘۔ اور مجھ سے فرمایا ’’اِن کے ساتھ جاؤ‘‘۔ میں نے بے عذر اُن کی فیاضیوں کو قبول کیا۔
ان کے وہاں پہنچا تو خادم نے لے جا کے ایک خلوت کے کمرے میں بٹھا دیا۔ اور کہا ’’لو دیکھو ادھر قبلہ ہے۔ یہ پانی کا لوٹا ہے۔ اور یہ پاخانہ ہے‘‘ اور یہ کہہ کے چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد خود امام مالک مع اُس خادم کے تشریف لائے۔ اور اُس کے ہاتھ میں خوان تھا۔ امام صاحب نے مجھے سلام کیا۔ خادم نے خوان زمین پر رکھا۔ امام صاحب نے اُسے حکم دیا کہ ہاتھ دھلائے۔ اُس نے آفتابہ لے کے پہلے میرا ہاتھ دھلانے کا قصد کیا تو اُنھوں نے ڈپٹ کے کہا ’’کھانے سے پیشتر میزبان کو پہلے ہاتھ دھونا چاہیے اور کھانے کے بعد مہمان کو‘‘۔ میں نے اُن کی اس تہذیب کو پسند کیا۔ اور عرض کیا کہ اس کو تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمائیں۔ فرمایا اس لیے کہ میزبان چونکہ اپنی فیاضی کی طرف مہمان کو بلاتا ہے لہذا پہلے اُسی کو ہاتھ دھونا چاہیے اور بعد اُس کو پہلے اس لیے ہاتھ نہ دھونا چاہیے کہ مہمان تو کھانے سے فارغ ہو کر ہاتھ دھوتے ہیں مگر مہمان دار کو انتظار کرنا چاہیے کہ شاید کوئی اور آ جائے اور اُس کی فیاضی سے فائدہ اُٹھائے‘‘۔
اب امام مالک نے خوان کو کھولا تو اُس میں دو ظرف تھے ایک میں دودھ تھا۔ اور دوسرے میں خرمے۔ ہم دونوں نے بسم اللہ کر کے کھانا شروع کیا۔ وہ دونوں برتن خالی کر دیے۔ اور امام صاحب نے محسوس کیا کہ میرا پیٹ ابھی نہیں بھرا ہے۔ فرمایا ’’یاد رکھو کہ یہ کوشش ایک غریب کی ایسے کے ساتھ ہے جس کے پاس کچھ نہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’اس شخص کو کسی عذر خواہی کی ضرورت نہیں جس نے احسان کیا ہو۔ معذرت خواہ تو اُسے ہونا چاہیے جس نے کسی قسم کی بدسلوکی کی ہو‘‘۔
اب امام مالک مجھ سے مکہ کے مختلف لوگوں کے حالات پوچھتے رہے یہاں تک کہ عشاء کا وقت آگیا۔ وہ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اور فرمایا ’’مسافر کے لیے حکم ہے کہ لیٹ کے سفر کی تھکن مٹائے‘‘۔ چنانچہ وہ گئے اور میں لیٹ کے سو رہا۔
