اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

سفرنامۂ امام شافعی

تہائی رات باقی تھی کہ امام مالک نے پھر آ کے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو اندر آئے۔ اور ہاتھ میں پانی کا لوٹا تھا۔ فرمایا ’’اب نماز پڑھنی چاہیے۔ خدا تم پر رحمت کرے‘‘۔ مجھے اُن کا یہ زحمت کرنا گراں گزرا۔ اس کو وہ سمجھ گئے۔ اور فرمایا ’’اس کا خیال نہ کرو۔ مہمان کی خدمت کرنا فرض ہے‘‘۔ بہرحال میں نماز کے لیے تیار ہوا۔ اور مصروفِ عبادت ہوا۔ یہاں تک کہ فجر کی نماز اُنھیں کے ہمراہ جا کے مسجد نبوی میں ادا کی۔ اور ابھی اتنا اندھیرا تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکتے تھے۔ نماز کے بعد ہم سب بیٹھ کے تسبیح و وظائف میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر آفتاب طلوع ہوا۔ فوراً امام مالک درس دینے کو بیٹھ گئے۔ اور مجھے اپنی کتاب ’’مؤطا‘‘ دی کہ لوگوں کو پڑھ کے سناؤں اور سب لکھتے جائیں۔

اب روز کا یہی معمول ہو گیا۔ میں نے ساری مؤطا بر زبان یاد کر لی۔ اور آٹھ مہینے تک امام مالک کا مہمان رہا۔ مجھ میں اُن میں اس قدر اُنس بڑھا ہوا تھا اور ایسی محبت تھی کہ کوئی سمجھ نہ سکتا تھا کہ ہم میں کون مہمان ہے اور کون مہمان نواز۔ اب حج کا موسم آیا۔ اہلِ مصر حج کر کے اُن کی زیارت اور درسِ مؤطا کے لیے آئے۔ اور میں نے اُن کو بر زبان مؤطا سنائی۔ اُن مصر کے آنے والوں میں عبداللہ بن عبدالحکیم، اشہب ابن قاسم۔ اور غالباً لیث بن سعد5 تھے۔

اِن لوگوں کے بعد زیارتِ تربتِ رسول علیہ السلام کے لیے اہلِ عراق آئے۔ میں نے اُن لوگوں میں سے ایک خوش رو شخص کو مرقدِ رسولِ اطہر اور حضرت رسالت کے منبر کے درمیان میں دیکھا جس کے کپڑے نہایت صاف ستھرے تھے۔ اور نماز نہایت عمدگی سے ادا کرتا تھا۔ میں نے اس کو ایک شگونِ نیک تصور کیا اور بڑھ کے اس کا نام اور وطن پوچھا۔ اس نے عراق کو اپنا وطن بتایا۔ میں نے کہا ’’عراق کا کون شہر؟‘‘ کہا ’’کوفہ‘‘۔ میں نے پوچھا ’’وہاں کے عالم، کتاب اللہ سے بحث کرنے اور احادیثِ رسالت کی رو سے فتویٰ دینے والے کون بزرگ ہیں؟‘‘ کہا ’’اَبو یوسف اور محمد بن حسن جو امام اَبو حنیفہ کے صحبت یافتہ ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’اور آپ لوگ کب واپس جانے والے ہیں؟‘‘ کہا ’’کل صبح کو نماز کے وقت‘‘۔

میں فوراً امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا ’’میں بغیر اپنی بوڑھی ماں سے اجازت لیے علم کے شوق میں گھر سے چلا آیا تھا۔ اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ والدہ کے پاس واپس جاؤں یا طلبِ علم میں اور سفر کروں؟‘‘ فرمایا ’’علم ایسی چیز ہے جس سے بہت فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ کیا تمھیں نہیں خبر کہ طالب علم کے شوق پر خوش ہو کے فرشتے اُس کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں؟‘‘

اب میں آمادۂ سفر ہو گیا تو امام مالک نے مجھے زادِ راہ مرحمت فرمایا۔ اور صبح ہوئی تو مجھے رخصت کرنے کے لیے بقیع تک آئے۔ وہاں تک پہنچتے ہی اُنھوں نے بہ آوازِ بلند کہا ’’کوفے تک کے لیے کون اپنا اونٹ کرایے پر دے گا؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ سواری کیوں ڈھونڈتے ہیں؟ نہ آپ کے پاس کچھ ہے نہ میرے پاس۔ پھر کرایہ کہاں سے دیا جائے گا؟‘‘ فرمایا ’’کل بعد عشا میں گھر گیا تو ابن قاسم نے دروازے پر دستک دی۔ باہر نکلا تو دیناروں کی ایک تھیلی پیش کر کے اصرار کرنے لگے کہ اس ہدیے کو قبول فرمائیے۔ میں نے اس کو لیا تو اُس میں سو دینار تھے۔ اُن میں سے پچاس میں نے اپنے اہل و عیال کے لیے رکھ لیے اور پچاس تمھارے مصارفِ سفر کے واسطے لے آیا ہوں۔ یہ کہہ کے اُنھوں نے چار دینار دے کے اونٹ ٹھہرایا۔ باقی چھیالیس دینار میرے حوالے کیے۔ اور مجھ سے رخصت ہو کے واپس گئے۔ میں قافلۂ حجاج کے ساتھ چلا تو روانگی کے چوبیسویں دن عصر کے وقت کوفے پہنچا۔

جامع مسجد میں گیا تو نماز ہو چکی تھی۔ میں نے عصر کی نماز پڑھی۔ اور وہیں بیٹھا تھا کہ ایک خوش رو نوجوان نے آ کے نماز پڑھی مگر ارکانِ نماز اچھی طرح نہیں ادا کیے۔ میں اُٹھ کے اُس کے پاس گیا اور کہا ’’بھیا، نماز اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کے پڑھا کرو تاکہ خدا تعالیٰ اس خوبصورت چہرے کو آگ کے عذاب سے محفوظ رکھے‘‘۔ اُس نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ آپ حجاز کے رہنے والے ہیں اس لیے کہ آپ حجازیوں کے اخلاق میں سختی و درشتی ہوتی ہے۔ ہم عراق والوں کی سی نرمی نہیں ہوتی۔ میں پندرہ برس سے امام محمد بن حسن اور امام اَبو یوسفؒ کے سامنے یوں ہی نماز پڑھتا رہا ہوں۔ اُنھوں نے کبھی عیب نہیں لگایا‘‘۔ یہ کہہ کے وہ ایک تبختر6 کے ساتھ اُٹھا۔ اور چادر سے مُنہ جھاڑتا ہوا چلا۔ مسجد کے دروازے تک گیا تھا کہ محمد بن حسن اور اَبو یوسف نظر آئے۔ اُن سے پوچھا ’’بھلا آپ نے کبھی میری نماز میں کوئی عیب پایا ہے؟‘‘ اُنھوں نے کہا ’’خدا جانتا ہے کہ ہم نے اُس میں کوئی نقصان نہیں دیکھا‘‘۔ بولا ’’مگر یہاں مسجد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو میری نماز کو عیب لگاتے ہیں‘‘۔ دونوں نے کہا ’’اچھا اس معترض سے جا کے پوچھو ’’کس چیز سے نماز میں داخل ہوتے ہیں؟‘‘ فوراً پلٹ کے میرے پاس آیا اور کہنے لگا ’’اے میری نماز کو عیب لگانے والے بتاؤ نماز میں کس چیز سے داخل ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’دو فرضوں اور ایک سنت کے ذریعے سے‘‘۔ اس نے واپس جا کے اُنھیں میرا یہ جواب بتایا تو سمجھے کہ یہ ایسے شخص کا جواب ہے جسے علم میں بصیرت حاصل ہو۔ مگر اس سے کہا ’’یہ بھی پوچھ آؤ کہ وہ دونوں فرض کون ہیں؟ اور وہ سنت کون سی ہے؟‘‘ جب اُس نے آ کے یہ سوال مجھ سے کیا تو میں نے بتایا کہ ’’پہلا فرض نیت ہے۔ اور دوسرا تکبیرِ تحریمہ۔ اور سنت دونوں ہاتھ اُٹھانا ہے‘‘۔ یہ جواب سُن کے وہ دونوں بزرگ مسجد کے اندر آئے۔ مجھے دیکھا۔ اور غالباً سمجھ بھی گئے کہ مجھ ہی سے بواسطہ سوال و جواب ہو رہے ہیں۔ مگر ایک طرف فاصلے پر بیٹھ گئے۔ اور اُس نوجوان سے کہا ’’جا کے ان سے کہو کہ ’’ہم دونوں اُنھیں بلاتے ہیں۔ چلیے‘‘۔ جب اُس نے مجھے آ کے یہ پیام دیا تو میں نے دل میں خیال کیا کہ کوئی علمی بات ہی مجھ سے پوچھیں گے لہذا اُس سے کہا ’’جا کے کہو علم کی شان یہ ہے کہ لوگ خود اس کی طرف آئیں۔ اور مجھے اُن سے کوئی کام بھی نہیں ہے‘‘۔ یہ جواب سنتے ہی دونوں صاحب اُٹھ کے میرے پاس آئے۔ جب اُنھوں نے آ کے سلام کیا تو میں تعظیم کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ بشاش چہرے سے ملا۔ اور دونوں کے سامنے بیٹھ گیا۔

اب محمد بن حسن (امام محمد) نے میری طرف توجہ کی اور پوچھا ’’آپ حرم کے رہنے والے ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ پوچھا ’’آزاد عرب ہیں یا کسی کے غلام؟‘‘ میں نے کہا ’’آزاد عرب‘‘۔ پوچھا ’’کس قبیلے سے؟‘‘ کہا ’’مُطلب کے خاندان سے‘‘۔ پوچھا ’’کس کی اولاد ہیں؟‘‘ کہا ’’شافع کی‘‘۔ پوچھا ’’آپ مالک سے بھی ملے ہیں؟‘‘ کہا ’’اُنھیں کے پاس سے آ رہا ہوں‘‘۔ پوچھا ’’آپ نے مؤطا دیکھی ہے؟‘‘ کہا ’’میں اُس کا حافظ ہوں۔ یہ دعوی محمد بن حسن کو بہت بڑا معلوم ہوا۔ اور دوات قلم کاغذ منگوا کے مسائلِ طہارت، زکوٰۃ، معاملات، بیع و شرع، فرائض، رہن، حج اور ایلا7۔ غرض ہر فقہی بحث کا ایک ایک سوال لکھا۔ ہر سوال کے آگے جگہ چھوڑ دی اور میری طرف بڑھا کے کہا ’’ان سب سوالوں کے جواب مؤطا سے لکھ دیجیے‘‘۔ میں نے سب کے جواب کلامِ الہی، سنتِ رسالت پناہی (سنتِ نبوی)، اور اجماعِ امت کی رو سے لکھے۔ اور اُن کے سامنے پیش کر دیے۔ اُنھوں نے سب کو پڑھا۔ اُن پر غور کیا۔ اور ساتھ ہی اپنے غلام کو حکم دیا کہ ’’ان حضرت کو گھر لے چلو‘‘۔ اور مجھ سے بھی کہا کہ ’’آپ اس کے ہمراہ تشریف لے چلیں‘‘۔ میں بلا تامل اُٹھ کھڑا ہوا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ کے غلام نے کہا ’’میرے آقا کا حکم ہے کہ آپ کو سوار کرا کے لے چلوں‘‘۔ میں نے سواری مانگی تو اُس نے ایک خچر پیش کیا جو عمدہ ساز و یراق8 سے آراستہ تھا۔ میں اُس پر سوار ہو کے چلا۔ اور مجھے اپنی ذات میں ایک شان نظر آنے لگی۔ اسی حال سے کوفے کی سڑکوں سے گزر کے میں امام محمد بن حسن شیبانی کے مکان پر پہنچا۔