اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

سفرنامۂ امام شافعی

اب میں اُس کرسی پر بیٹھا۔ اور اسی بحث ’’زخم عمد‘‘ میں چار سو سوالات طلبہ کے سامنے پیش کیے۔ اور کوئی کسی کا جواب نہ دے سکا۔ تب میں نے اُسی ترتیب سے چاروں سو سوالوں کے اطمینان بخش جواب دے دیے۔ یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔ تب نمازِ مغرب پڑھ کے امام مالکؒ مجھے ہاتھ پکڑ کے اپنے گھر لے گئے۔ وہاں جا کے دیکھا تو پہلے غریبانہ مکان کی جگہ عالیشان عمارت قائم ہے۔ اُس کو دیکھ کے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ اُنھوں نے پوچھا ’’روتے کیوں ہو؟ کیا تمھیں اندیشہ ہے کہ میں نے آخرت کو بیچ کے دنیا خرید لی؟‘‘ میں نے کہا ’’بخدا میرے دل میں یہی خیال تھا‘‘۔ فرمایا دل کو خوشی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھو۔ یہ برکت اُن ہدیوں کی ہے جو میرے پاس خراسان، مصر اور ممالکِ دور دراز سے آئے۔ اور حضرت رسولِ خدا صلعم ہدیوں کو قبول فرماتے اور خیرات کو پھیر دیتے تھے۔ آج میرے پاس تین سو حُلّے خراسان کے باریک کپڑوں کے اور مصر کے قبطی کپڑوں کے ہیں۔ اور اتنی ہی لونڈی غلام ہیں۔ جو ابھی بالغ نہیں۔ اُن سب کو میں ہدیۃً تمھاری نذر کرتا ہوں۔ اور میرے ان صندوقوں میں پانچ ہزار دینار ہیں جن کی ہر سالی زکوٰۃ دیتا رہا ہوں۔ ان میں سے بھی آدھے تمھارے ہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’سُنیے آپ کے بھی ورثاء موجود ہیں اور میرے بھی۔ یہ تمام چیزیں جو آپ نے مجھے دی ہیں اُن پر میری مہر ہو جائے۔ اور میرے قبضے میں آ جائیں۔ مگر شرط رہے کہ اگر میں پہلے مر جاؤں تو یہ آپ کے ورثہ کو نہیں بلکہ میرے ورثہ کو ملیں۔ اور اگر پہلے آپ کی وفات ہو تو بھی یہ آپ کے ورثہ کو نہیں بلکہ مجھے ملیں۔ مگر رہیں آپ ہی کے پاس‘‘۔ یہ سُن کر امام مالک ہنسے۔ اور فرمایا ’’تم بجز علم کے کسی چیز کو نہ لو گے‘‘۔ میں نے کہا اس سے بہتر صورت نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ یہ سب چیزیں میری ہی ہو گئیں۔

دوسرے دن جماعت سے نمازِ فجر ادا کر کے میں قافلہ کی فرودگاہ کی طرف چلا۔ امام مالکؒ میرے ساتھ تھے۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیے ہوئے تھے۔ اُن کے دروازے پر بہت سے بہترین خراسانی گھوڑے اور مصری خچر تیار کھڑے تھے۔ اُن کو دیکھ کے میری زبان سے نکلا ’’اِن سے اچھے گھوڑے میں نے نہیں دیکھے‘‘۔ فرمایا ’’یہ گھوڑے اور خچر سب تمھاری نذر ہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’ایک تو اپنے لیے رہنے دیجیے‘‘۔ فرمایا ’’مجھے شرم آتی ہے کہ جس بستی کی خاک پر رسول اللہ صلعم چلے پھرے ہیں اُس کو چوپایوں کے سُموں سے پامال کروں‘‘۔ یہ جواب سُن کر مجھے یقین آیا کہ امام مالکؒ کا اتقا اس دولتمندی پر بھی بدستور قائم ہے۔

غرض تین دن اُن کا مہمان رہ کے میں نے مکّے کی طرف کوچ کیا۔ خدا کی دولت اور نعمت میرے ہمراہ رکاب تھی۔ اور جو کوئی مکے کا آگے جانے والا ملتا اُس کی زبانی اپنے آنے کی خبر کہلا بھیجتا۔ حرم میں پہنچا تو بوڑھی والدہ چند اور خاتونانِ مکہ کے ساتھ میرے لینے کو آئی ہوئی تھیں۔ سامنا ہوتے ہی مجھے سینے سے لپٹا لیا۔ اس کے بعد ایک اور بوڑھی خاتون نے جن کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔ اور میں اُنھیں خالہ کہتا تھا مجھے چھاتی سے لگا لیا۔ اور ایک شعر پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ

تمھاری ماں ہی موت سے نہیں بچتی رہیں۔ بلکہ تم وہ ہو کہ ہر دل تمھارے لیے ماں ہے۔