اس شہر میں جمعہ کے دن پہنچا تھا۔ نہانے کی فضیلت اور اس کے بارے میں جو احکام وارد ہوئے ہیں اُن کا خیال آیا۔ اور ایک حمام میں پہنچا۔ سر پر پانی پڑا تو دیکھا کہ بال بہت بڑھ گئے ہیں۔ حجام کو بلوایا۔ اُس نے سر مونڈنا شروع کیا۔ تھوڑا ہی مونڈا ہو گا کہ بعض معززینِ شہر آ گئے۔ اور اُس کو بلایا۔ وہ مجھے چھوڑ کے اُن کے پاس چلا گیا۔ اور جب اُن کے خط بنا چکا تو میرے پاس واپس آیا۔ مگر میں نے بغیر اس کے کہ اُس سے کام لوں خیر باد کہی۔ اور میرے پاس جتنے دینار تھے اُن کا زیادہ حصہ اُس حجام کو دے دیا اور کہا ’’یہ اپنی مزدوری لو۔ اور جب کسی اجنبی سے کام پڑے تو اُس کی حقارت نہ کیا کرو‘‘۔ وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا۔ اور حمام کے دروازے پر خلقتِ کثیر جمع ہو گئی۔ میں نکلا تو لوگ مجھ سے سخت کلامی کرنے لگے۔ اور میں اُن کو جواب دیتا تھا۔
اسی اثنا میں ایک معزز شخص حمام سے نکلا۔ سواری کے لیے اُس کے سامنے خچر پیش کیا گیا۔ اور وہ سوار ہوا۔ اتنے میں اُس نے میری آواز سُنی۔ فوراً اتر پڑا۔ اور مجھ سے آ کے پوچھا ’’آپ شافعی ہیں؟‘‘ میں نے کہا جی ہاں‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس نے سواری میری طرف بڑھائی۔ اور کہا۔ میں خدا کا واسطہ دلاتا ہوں کہ آپ اس پر سوار ہوں‘‘۔ میں سوار ہو گیا۔ اور غلام میرے آگے آگے سر جھکائے ہوئے چلا۔ آخر میں اُس نوجوان کے گھر پر پہنچا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی آ گیا۔ نہایت بشاشت سے ملا۔ مجھے اپنے یہاں غسل کرایا۔ جو کام ادھورے رہ گئے تھے پورے ہوئے۔ اور دسترخوان بچھا۔ اور اُس نے کھانے کے لیے بسم اللہ کہی مگر میں نے کھانے سے ہاتھ روکا۔ اُس نے کہا ’’یہ کیوں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ مجھ سے آپ سے کہاں کی شناسائی ہے آپ کا کھانا مجھ پر حرام ہے‘‘۔ نوجوان نے کہا ’’جس کتاب کو آپ نے بغداد میں تصنیف کیا اُس کے آپ سے پڑھنے والوں میں ایک میں بھی ہوں۔ اور آپ کا شاگرد ہوں‘‘۔ یہ سُن کر میں نے کہا ’’صاحبانِ عقل کے لیے علم قرابتِ قریبہ ہے‘‘۔ یہ کہہ کے میں نے مسرت و اطمینان سے کھانا کھایا۔ تین دن اُس کی میزبانی میں بسر کیے تھے کہ اُس نے کہا ’’اطرافِ حران میں میرے چار موضع ہیں جن سے اچھے موضع اس علاقے میں نہیں۔ میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اگر آپ یہاں کی سکونت اختیار کر لیں تو وہ چاروں آپ کی نذر ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا۔ پھر آپ کیسے بسر کریں گے؟‘‘ کہا اس دولت پر جو میرے ان صندوقوں میں موجود ہے۔ یہ چالیس ہزار درہم کا سرمایہ ہے اس سے تجارت شروع کر دوں گا‘‘۔ میں نے کہا۔ ’’نہ میرا یہ مقصد ہے اور نہ اس غرض کے لیے گھر سے نکلا ہوں۔ میرا مقصد بجز علم کے اور کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔ اُس نے کہا ’’تو پھر یہ نقد دولت آپ کی نذر ہے۔ اور مسافر کو اس میں عذر نہیں ہو سکتا۔ غرض میں نے وہ پورے چالیس ہزار درہم لے لیے اور حرّان سے روانہ ہوا۔
اس دولت و ثروت کے صندوق لیے سفر کر رہا تھا کہ مجھے اکثر اہلِ حدیث ملے جن میں احمد بن حنبلؒ، سفیان بن عیینہ اور اوزاعی تھے۔ اس دولت میں میں نے اُن سب کو اپنے ساتھ شریک کیا۔ چنانچہ شہرِ رملہ11 میں داخل ہوا تو دس دیناروں کے سوا میرے پاس کچھ نہ تھا۔ اُنھیں سے رملہ میں میں نے ایک اونٹ خریدا۔ اور اس پر سوار ہو کے عازمِ حجاز ہوا۔ آخر منازلِ سفر طے کرتا ہوا ستائیس دن بعد عصر کے وقت مدینۂ طیبہ میں داخل ہوا۔
مسجد نبوی میں حاضر ہو کے نمازِ عصر پڑھی۔ وہاں دیکھا کہ ایک آہنی کرسی بچھی ہے۔ اُس پر مصر کا پُرتکلف قبطی تکیہ ہے اور اُس تکیہ پر لکھا ہے ’’لا الٰہ الا اللہ۔ محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ و سلم‘‘ اُس کے چاروں طرف چار سو بلکہ اس سے زیادہ قلم دوات کاغذ رکھے ہیں۔ دیکھ ہی رہا تھا کہ مالک بن انسؒ رضی اللہ عنہ باب نبی صلعم سے داخل ہو کے مسجد میں آئے۔ اور اُن کے کپڑوں کی خوشبو سے ساری مسجد مہک اُٹھی۔ گرد چار سو سے زیادہ آدمیوں کا جھرمٹ ہے۔ اور اُن میں سے چار اُن کے دامنوں کو اُٹھائے ہوئے ہیں کہ زمین پر نہ لوٹیں۔ اُن کے آتے ہی جو لوگ بیٹھے تھے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ کرسی پر آ کے بیٹھ گئے۔ سب لوگ گرداگرد اپنے مقام پر بیٹھے۔ اور امام مالکؒ نے ’’زخم عمد12‘‘ کے مسئلے کے متعلق ایک سوال کیا۔
میں نے وہ تقریر سُنی تو ضبط نہ ہو سکا۔ حلقۂ طلبہ کے پیچھے اُٹھ کھڑا ہوا اور ایک بے پڑھے لکھے شخص سے جو امام مالکؒ کے قریب تھا کہا اس کا جواب یہ دو۔ امام صاحب نے اپنی تقریر ختم نہیں کی تھی کہ اُس نے وہ جواب پیش کر دیا۔ امام مالکؒ نے حلقہ کے تمام طلبہ سے کہا ’’اس جاہل شخص کا جواب دو‘‘۔ اُنھوں نے لاطائل بحثیں شروع کیں۔ امام صاحب نے فرمایا ’’تم سب غلطی پر ہو۔ اور یہ شخص صحیح کہہ رہا ہے‘‘۔ اس داد پر وہ جاہل خوش ہو گیا۔ اور امام مالکؒ نے دوسرا سوال پیش کیا۔ اب کی وہ جاہل خود ہی میرے پاس آ گیا۔ اور پوچھا ’’اس کا جواب کیا ہے؟‘‘ میں نے وہ بھی بتا دیا۔ اور اس نے اُس کی تقریر امام صاحب کے سامنے کر دی۔ مگر امام صاحب نے اُس کی طرف رُخ نہ کیا۔ اور شرکائے حلقہ سے اپنے سوال کا جواب مانگا۔ اُنھوں نے جو جوابات دیے اُن کو بھی امام نے غلط بتایا اور کہا ’’یہی شخص سچ کہہ رہا ہے‘‘۔ اب تیسرا سوال پیش ہوا۔ اور اُس کا بھی یہی انجام ہوا۔ اب کی مرتبہ امام صاحب نے اُس جاہل شخص کو بلا کے اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اور کہا ’’تمھارا درجہ یہ ہے‘‘۔ اور اُس سے پوچھا ’’تم نے مؤطا پڑھی ہے؟‘‘ اُس نے کہا ’’نہیں‘‘۔ پوچھا یہ نہیں تو ابن جریج13 سے ملے ہو؟ (یہ اُس زمانے کے بڑے نامور محدث تھے)‘‘ اُس نے کہا ’’جی نہیں‘‘۔ پھر پوچھا ’’جعفر بن محمد صادق (امام جعفر صادق) سے ملے ہو؟‘‘ کہا ’’نہیں‘‘۔ پوچھا ’’تو پھر یہ علم تم کو کہاں سے حاصل ہوا؟‘‘ اُس نے عرض کیا میرے برابر ایک نوجوان صاحبزادے کھڑے تھے وہی یہ جواب بتا دیتے تھے‘‘۔ یہ سنتے ہی امام صاحب نے نظر دوڑائی۔ اور اُن کے ساتھ سارے حلقے والے اُسی طرف دیکھنے لگے۔ اور جب میں نظر آیا تو اُنھوں نے اُس شخص سے کہا ’’اُٹھ اور اُس نوجوان کو یہاں لے آ‘‘۔ وہ جاہل مجھے آ کے کھینچ لے گیا۔ اور امام صاحب کے پاس وہیں بٹھا دیا جہاں وہ بٹھایا گیا تھا۔ امام مالکؒ کچھ دیر تک مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھتے رہے۔ اور آخر بولے ’’کیا تم شافعی ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ یہ سنتے ہی اُٹھ کے مجھے سینے سے لگا لیا۔ پھر کرسی پر سے اُتر پڑے اور مجھ سے فرمایا کہ ’’اب تم ہی میری جگہ بیٹھ کر اس مسئلہ کے مباحث کو ختم کر دو۔ اس کے بعد ہم دونوں اُس گھر میں چلیں گے جو تمھارے لیے مخصوص ہے‘‘۔
