اُن کا مکان گویا ایک ذی رُتبہ رئیس کا محل تھا۔ دروازے اور دہلیز پر سونے چاندی سے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے اہلِ حجاز کی تنگ حالی و مصیبت یاد آئی۔ بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ اور دل میں کہا ’’عراق والے اپنے مکانوں کی چھتوں میں سونے چاندی کے بیل بوٹے بنوائے ہیں اور حجاز کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ سوکھا گوشت اُبال اُبال کے کھاتے اور کھجور کی گٹھلیاں چوستے ہیں‘‘۔ میں رو ہی رہا تھا کہ محمد بن حسنؒ آ گئے۔ اور کہا ’’اندیشہ نہ کرو۔ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو کسبِ حلال سے حاصل ہوا ہے جس کا خدا مواخذہ نہ کرے گا۔ میں ہر سال اس دولت و ثروت کی زکوٰۃ ادا کرتا رہتا ہوں۔ جس سے دوستوں کو خوشی ہوتی ہے اور دشمنوں کو تکلیف‘‘۔
اس مکان میں جا کے میں سونے نہیں پایا تھا کہ محمد بن حسنؒ نے مجھے ہزار درہم کا قیمتی خلعت دیا۔ پھر اپنے کتب خانے سے امام ابو حنیفہؒ کی کتاب اوسط9 نکال لائے۔ میں نے اُلٹ پلٹ کے دیکھا۔ اور اُسی رات کو صبح ہونے سے پہلے بر زبان یاد کر لی۔ مگر محمد بن حسنؒ کو اس کی خبر نہ کی۔ وہ کوفے میں مسائل کے بڑے صحیح جواب دینے والے اور بڑے بڑے مشکل سوالوں کے حل کر دینے والے مشہور تھے۔ ایک دن میں اُن کے برابر بیٹھا ہوا تھا اور کسی نے ایک مسئلہ پوچھا۔ اُنھوں نے جواب دیا اور کہا ’’یہی قول ابو حنیفہ کا ہے‘‘۔ میں نے فوراً ٹوکا اور کہا ’’آپ کو دھوکا ہوا ہے۔ اس کا صحیح جواب یہ ہے۔ اور ابو حنیفہؒ نے یہ فرمایا ہے۔ اُن کی کتاب اوسط میں دیکھ لیجیے۔ فلاں مسئلہ کے بعد اور فلاں مسئلہ سے پہلے اُن کا یہ قول موجود ہے‘‘۔ اُنھوں نے فوراً کتاب منگوا کے دیکھی۔ اور اپنے جواب کو واپس لے کر میرے کہنے کے مطابق جواب دیا۔ مگر اس کے بعد پھر کبھی کوئی کتاب مجھے نہیں دکھائی۔
اب میں نے اُن سے روانگی کی اجازت مانگی۔ اُنھوں نے کہا ’’تمھارے ایسے مہمان کو اجازت نہ دوں گا‘‘۔ اور اپنی دولت و ثروت میں مجھے شریک کرنا چاہا۔ میں نے کہا ’’نہ اس مقصد کے لیے میں آیا ہوں اور نہ ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔ میرا جانا ضروری ہے‘‘۔ آخر اُنھوں نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اُن کے گھر میں جو کچھ سونا چاندی موجود ہو سب لے آئے۔ وہ لے آیا تو اُس کی مقدار تین ہزار درہم کی تھی۔ یہ سب رقم اُنھوں نے میری نذر کر دی۔
اسی رقم کو لے کے میں نے سارے بلادِ عراق اور فارس و عجم کے شہروں کا سفر کیا۔ اور اتنی مدت تک سفر میں مصروف رہا کہ میری عمر اکیس برس کی ہو گئی۔ پھر پھرا کے دوبارہ عراق میں آیا تو ہٰارون رشید کا عہد تھا۔ جیسے ہی خلیفہ کے قصر کے دروازے پر پہنچا ایک نوعمر غلام میرے پاس آیا۔ لطف و مہربانی سے گفتگو کی۔ اور میرا نام پوچھا۔ میں نے کہا ’’محمد‘‘۔ پوچھا ’’والد کا نام؟‘‘ کہا ’’ادریس شافعی کا بیٹا ہوں‘‘۔ پوچھا ’’آپ مُطلب کے گھرانے سے ہیں؟‘‘ کہا ’’ہاں‘‘۔ اب اس نے اپنی آستین سے ایک تختی نکالی۔ ان سب باتوں کو اس پر لکھ لیا۔ اور مجھے چھوڑ کے چلا گیا۔ میں مجبوراً ایک مسجد میں جا کے پڑ رہا۔ اور متردد تھا کہ دیکھیے اس مخبر کی کارروائی کا کیا انجام ہوتا ہے؟
آدھی رات گذری تھی کہ مسجد میں بہت سے آدمی گھس آئے اور گھور گھور کے ایک ایک کی صورت دیکھنے لگے۔ یہاں تک کہ میری صورت دیکھی اور تمام مسجد والوں سے کہا ’’آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ ہم جس کی تلاش میں آئے ہیں وہ یہ ہیں‘‘۔ پھر مجھ سے کہا ’’چلیے۔ امیر المومنین نے آپ کو یاد کیا ہے‘‘۔ میں بے عذر اُٹھ کے اُن کے ساتھ ہو لیا۔ اور جیسے ہی خلیفہ کا سامنا ہوا اُن کو صاف و فصیح الفاظ میں سلام کیا۔ میرے طرزِ ادا کو اُنھوں نے پسند کیا اور سلام کا جواب دے کر کہا ’’تمھارا گمان ہے کہ تم بنی ہاشم میں سے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’امیر المومنین از روئے کتاب اللہ ہمارے گمان باطل ہیں‘‘۔ کہا ’’اچھا اپنا نسب بیان کرو‘‘۔ میں سارا نسب نامہ حضرت آدم تک بیان کر گیا۔ اور رشید نے سُن کے کہا ’’یہ فصاحت و بلاغت بجز اولادِ مُطلب کے اور کسی میں نہیں ہو سکتی۔ تم قبول کرو گے اگر میں تم کو مسلمانوں کا قاضی مقرر کروں۔ اپنی حکومت میں تم کو شریک کروں۔ اور تمھارا اور میرا حکم شرعِ رسالت اور اجماع امت دین کے مطابق دنیا میں جاری ہو؟‘‘ میں نے کہا امیر المومنین اگر آپ کی یہ خواہش ہو کہ صبح کو میں قضا کا دروازہ کھولوں اور رات کو بند کروں تو مجھے ہرگز نہیں منظور ہے‘‘۔ میرا یہ جواب سن کے رشید رونے لگا۔ اور کہا ’’اچھا دولتِ دنیا میں سے کچھ قبول کرو گے؟‘‘ میں نے کہا ’’جو کچھ مرحمت ہو جلدی مرحمت ہو‘‘۔ اُس نے ایک ہزار دینار دینے کا حکم کیا۔ جو رقم اسی وقت مجھے مل گئی۔ باہر نکلا تو خلافت کے غلاموں اور چوبداروں وغیرہ نے درخواست کی کہ ’’خدا نے جو دیا ہے اُس میں ہمیں بھی شریک کیجیے۔ مجھے قبول نہ کرنا خلافِ مروت نظر آیا۔ برابر برابر کے بہت سے حصوں میں وہ رقم بانٹ دی۔ اور اُتنا ہی ایک حصہ مجھے ملا۔
اب میں پھر اُس مسجد میں جا کے لیٹ رہا۔ فجر کی نماز ایک نوعمر شخص نے پڑھائی۔ قرات تو اچھی کی مگر نماز میں اُسے سہو ہو گیا اور نہ بن پڑا کہ کیا کرے۔ آخر گھبرا کے سلام پھیر دیا۔ میں نے کہا ’’تم نے اپنی اور ہم سب کی نماز خراب کی۔ دوبارہ پڑھو۔ چنانچہ اُس نے اور ہم سب نے پھر نماز پڑھی۔
بعد نماز میں نے اس نوجوان سے کہا ’’کاغذ لاؤ کہ نماز میں سہو ہو جانے پر ایک رسالہ لکھ دوں‘‘۔ وہ کاغذ لے آیا۔ اور میں نے بر بنائے احکامِ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ صلعم اور اجماعِ امت اس بحث میں ایک کتاب لکھ دی جس کو اُسی کے نام سے نامزد کیا۔ یہ کتاب چالیس جز پر ہے۔ ’’کتاب الزعفران‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور یہی کتاب ہے جس کو میں نے ملکِ عراق میں تصنیف کیا۔ اور اُس کی تصنیف میں تین سال کا زمانہ صرف ہوا۔
اب رشید نے مجھ کو وصول صدقات نجران کا والی مقرر کیا۔ اسی اثنا میں حاجیوں کا قافلہ آیا۔ اور میں گیا کہ اُن لوگوں سے ارضِ حجاز کے حالات دریافت کروں۔ وہاں ایک نوجوان کو دیکھا جو اپنی محمل میں بیٹھا آ رہا تھا۔ میں نے سلام کا اشارہ کیا۔ اور اُس نے ساربان کو رُکنے کا حکم دیا۔ اور میری طرف اشارہ کیا کہ جو کہنا ہو کہو۔ میں نے امام مالکؒ اور اہلِ حجاز کی خیریت پوچھی۔ اُس نے کہا ’’سب خیریت سے ہیں‘‘۔ میں نے امام مالک کے حالات پھر پوچھے۔ اُس نے کہا ’’طول دے کے بیان کروں یا اختصار کے ساتھ؟‘‘ میں نے کہا ’’فصاحت اختصار ہی میں ہوتی ہے‘‘۔ اُس نے کہا ’’تو سنیے۔ وہ تندرست ہیں۔ اور سو کنیزیں اُن کے حرم میں ہیں۔ جس کسی کے پاس ایک دن جاتے ہیں تو برس بھر تک دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی۔ بس یہی اُن کا مختصر حال ہے جو میں نے بیان کر دیا‘‘۔
یہ حال سُن کر میرا جی چاہا کہ پھر جا کے اُنھیں جاہ و ثروت کی حالت میں بھی دیکھ لوں۔ اسی شخص کی طرف متوجہ ہو کے کہا ’’آپ کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ سفر کے لیے کافی ہو سکے؟‘‘ اُس نے کہا آپ کی باتوں نے تو سارے عراق والوں کو خصوصاً مجھے حیران کر دیا۔ بہر حال جو کچھ سرمایہ اس محمل میں موجود ہے سب آپ کی نذر ہے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’اور آپ کی حالت کیا ہے؟‘‘ کہا ’’صاحبِ دولت و ثروت ہوں‘‘۔ یہ کہتے ہی کہا ’’یہ ساری رقم موجود ہے آپ کو جتنی چاہیے ہو لے لیجیے‘‘۔ میں نے بقدرِ ضرورت رقم لے لی۔ اور سفر شروع کر کے بنی ربیعہ اور بنی مضر کی بستیوں کی سیر کرتا ہوا حرّان10 میں پہنچا۔
