انگریزوں کو چونکہ ایک جہازراں قوم بننا اور جہازرانی میں نام پیدا کرنا تھا، اس لیے قدرت نے اس مقصد کے حصول کے اسباب اُن کے گردو پیش ڈال دیئے۔ اول تو اُن کو پیدا کیا ایسی جگہ جس کے چاروں طرف پانی ہو، دوسرے پانی کی محبت اُن کے دل میں پیدا کر دی۔ ہندوستان کے ان حصوں کے باشندے جہاں سمندر تو ایک طرف دریا بھی بہت قریب نہیں ہوتے، اور بڑے سے بڑا پانی کا ذخیرہ، گاؤں کا تالاب، اور بہتر سے بہتر نہانے کا موقع نہر کی شاخ ہوتی ہے، کیا جانیں کہ انگریزوں کی زندگی میں پانی کے قریب رہنے، بلکہ اکثر پانی کے اوپر یا پانی کے اندر رہنے نے کیسا انقلابِ عظیم پیدا کیا ہے؟ اُن کی جرات، ہمت، چستی اور اعصابی قوت میں اس جزو کا کتنا اثر ہے؟ بابر بادشاہ کا ایک قول مشہور ہے کہ جب وہ ہندوستان میں آیا تو اُسے سب سے زیادہ حیرت یہ دیکھ کر ہوئی کہ اگر کوئی ہندی امیر اتفاق سے دریا کے کنارے خیمہ لگاتا تھا، تو عموماً اس خیمے کی پشت دریا کی طرف ہوتی تھی اور بابر اور اس کے ہمراہی پانی کے نظارے پر مرتے تھے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پانی کے کنارے ڈیرے ڈالتے تھے۔ اور لب دریا بیٹھ کر روانیٔ آب کے مزے لیتے اور دادِ کامرانی دیتے تھے۔
مزاج کے اس قدرتی فرق نے جو بظاہر مذاق کا ایک معمولی فرق معلوم ہوتا ہے، قسمتوں میں اتنا فرق ڈال دیا کہ بابر اور اس کے ہمراہی حاکم بنے اور دریا کی طرف پیٹھ موڑ کر بیٹھنے والے محکوم بنے۔ جب تک بابر کی نسل ہندوستان میں حکمراں رہی، اُن میں اپنی جد کے مزاج کا وہ حصہ برابر موجود رہا۔ زمانے نے اُن کی طبیعتوں میں کئی انقلاب پیدا کیے، نئی نئی ملکی رسوم نے اُن کے ہاں دخل پایا، زبان بدل گئی، مگر ہائے رے پانی کے نظارے کا عشق! یہ وہ سودا تھا کہ دماغ سے نہ گیا۔ محل بنائے تو دریا کے کنارے، سر بہ فلک قلعے تعمیر کیے تو لبِ دریا، مسجدیں بنائیں تو پانی کے قریب اور اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ مر کر بھی اس شوق سے چھٹکارا نہ ہوا، مقبرے کے لیے بھی قربِ آب کی جستجو ہوئی۔ یہی مذاق جہانگیر کو آئے دن سفرِ کشمیر پر آمادہ رکھتا تھا اور اسی مذاق کا اثر شاہ جہاں کے شوقِ تعمیر کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ کاش انہیں کوئی سمندر کا بھی مزا چکھا دیتا، اور ہمیشہ اندرونِ بر پانی کے چھوٹے چھوٹے تختے تلاش کرنے کی بجائے پہنائے بحر سے اُن کی آنکھ آشنا ہو جاتی، تو عجب نہیں اُن کے خاندان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ یہ باتیں معلوم تو خفیف ہوتی ہیں، مگر ان کا اثر قومی خصائل پر قدرت کے بعض باریک قوانین سے متعلق ہیں جو مشکل سے سمجھ میں آسکتے ہیں، مگر جو اپنے نتائج دکھائے بغیر نہیں رہتے۔
انگلستان میں اگر کسی مسافر نے انگریزوں کی آب پرستی کو نہیں دیکھا تو وہ یہاں کی زندگی کی آدھی بہار سے محروم ہے۔ اس کا سب سے پہلا ثبوت تو یہاں کے شہروں کی آبادی کی طرز میں ملتا ہے۔ لندن ہی کو لیجیے۔ دریائے ٹیمز اس کی آدھی رونق ہے۔ شہر کے بیچ میں بل کھاتا ہوا جا رہا ہے اور دریا کے اس پار اور اُس پار دونوں طرف آبادی ہے۔ ہندوستان میں کشمیر والے چاہیں تو سرینگر میں ایک چھوٹے سے پیمانے پر یہ نقشہ پیدا کر سکتے ہیں، مگر انہیں مقامی جھگڑوں سے کہاں فرصت؟
لندن کے بہت سے بڑے بڑے مقامات لبِ دریا واقع ہیں۔ پارلیمنٹ کی پرانی مگر شاندار تعمیر کی بنیاد کو تو ٹیمز ہر وقت بوسہ دے کر گزرتا ہے۔ اُن کا تو ذکر ہی کیا، کئی اچھے کلب گھر اور ہوٹل ایسی جگہ بنائے گئے ہیں کہ اپنے کمروں میں بیٹھ کر کھڑکی سے آبِ رواں کی بہار لوٹیے۔ لندن سے باہر علاقے میں دریا کے کنارے کنارے سفر کرو اور منبع کی طرف چلو، تو دونوں طرف آبادی چلی جاتی ہے۔ اور کئی گھر تو ایسے ہیں کہ اُن کے باغ سے نکل کر چار سیڑھیاں اتریں، تو دریا میں جا پہنچیں۔ وہاں ان گھروں کے رہنے والے موسمِ گرما میں کرسیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں اور گزرِ آب کا تماشا کرتے رہتے ہیں۔ سیڑھیوں کے نیچے ہر ایک صاحبِ توفیق کا ڈونگا بندھا رہتا ہے، تاکہ جب جی چاہا، اتر کر دریا کی سیر کو نکل گئے۔
کشتی کو کھینچنے کے لیے کشمیر کی طرح نوکر نہیں رکھتے، بلکہ اچھے اچھے امیر خود اپنے ہاتھ سے کھینچتے ہیں۔ عورتیں ساتھ ہوں اور عموماً ہوتی ہیں، تو مرد کا فرض ہے کہ انہیں تکلیف نہ دے، بلکہ خود کھینچنا فخر سمجھے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں اپنی تفریح یا ورزش کے لیے خود کھینچنا چاہتی ہیں اور اسی شوق اور دیگر مردانہ ورزشوں اور کھیلوں میں ان کی حیرت انگیز نمو، تندرستی اور بشاش چہروں کا راز چھپا ہے۔
انگلستان کا قریب قریب ہر بڑا شہر یا سمندر کے کنارے یا کسی دریا کے کنارے آباد ہے۔ یہاں کے دونوں مشہور تعلیمی مرکز کیمبرج اور اکسفورڈ اسی کلیہ کی مثالیں ہیں۔ گو دریائے کم جس سے کیمبرج کا نام نکلا ہے، ایک چھوٹی سی ندی ہی ہے، تاہم کیمبرج کی خوبی میں اس کا کچھ کم حصہ نہیں۔ اکثر کالج لبِ دریا بنے ہیں۔ اُن کے کتب خانوں میں بیٹھے دریا کی طرف جھانک لو اور جی چاہے تو عقبِ کالج جا کر چند سیڑھیاں اتر جاؤ اور کشتی چلانے لگو۔ یہ نمونہ شمالی انگلستان بلکہ سکاٹ لینڈ تک چلا گیا ہے اور اہل برطانیہ کا یہ شوق ہر جگہ ظہور پذیر ہے۔ ہمارے ہاں صوبجاتِ متحدہ آگرہ و اودھ میں چند شہر گنگا اور جمنا کے کنارے واقع ہیں۔ اور دو تین میں کچھ حصہ آبادی کا عین لبِ دریا تک پہنچ گیا ہے۔ مگر دوسری طرف عموماً خالی ہے۔ اور دریا کے وجود سے ہرگز اتنا یا اس قسم کا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا۔ اگر کوئی چیز کسی کو دریا کی طرف کھینچتی ہے تو مذہبی شوق یا مذہبی فرض، اور دریا کی توقیر محض اس لیے کہ وہ قدرت کا ایک دلچسپ اور دلکش کرشمہ ہے، اس سے مستفید اور محظوظ ہونا ہمارا استحقاق ہے، یہ چیز بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔
دریاؤں اور اُن کی سیر کی عمومیت کا ذکر تو اہلِ انگلستان کے شوقِ نظارۂ آب کے ضمن میں آگیا۔ مگر ہمارا اصلی مقصود تو اُس شغف کا بیان کرنا ہے جو یہاں کے باشندوں کو سمندر اور اس کے کنارے کی سیر سے متعلق ہے۔ ساحل کی سیر یہاں ضروریات میں سمجھی جاتی ہے۔ اور ساحل پر پہنچ کر جو طریق زندگی اختیار کیا جاتا ہے وہ اندرون ملک کے شہروں کے طریق روز مرہ سے بہت کچھ جدا ہے۔ مثلاً سفر میں خموشی اور بلا تعارف کسی سے گفتگو کرنے سے پرہیز انگریزوں کے مشہور خواص میں ہے۔ وہ اصحاب جو ہندوستان میں ریل گاڑی میں بیٹھتے ہی ہمسفر سے مخاطب ہو کر سوالاتِ بے پایان کا دفتر کھولنے کے عادی ہیں، سخت گھبرائیں، اگر انہیں یہاں کسی انگریز کا ہم سفر ہونا پڑے۔ گھنٹوں کا ساتھ ہے، مگر ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کرتا۔
لیکن ساحل کی سیر میں یہ قاعدہ ٹوٹ جاتا ہے، وہاں ہر شخص تفریح کے لیے یا شوقِ صحت میں جاتا ہے، کاروبار سے فراغ حاصل ہوتا ہے اور دن بھر کاٹنا ہوتا ہے۔ پس سب کی آسانی کے لیے یہ اصول قرار پا گیا ہے کہ اگر وہاں کوئی کسی سے بلا تعارف بھی بات چیت شروع کر دے، تو مضائقہ نہیں۔ تھوڑی سی ملاقات ہوئی، تو مل کر سیر کو نکلنا، اکٹھے کشتی میں جانا یا اکٹھے نہانے جانا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس میں بے تکلف بات چیت کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس سیر کا مزا دیکھنا ہو تو موسمِ گرما میں دیکھو۔ یہ پانی کے کیڑے سمندر میں یوں تیرتے پھرتے ہیں، جیسے بڑی بڑی سفید مچھلیاں۔ تھوڑی بہت مشق تو ہر زن و مرد، بچے بوڑھے کو ہے۔ مگر بعض تو کمال کرتے ہیں، شرطیں باندھ کر میلوں تک تیرتے نکل جاتے ہیں۔ اگر سینکڑوں تیر رہے ہیں تو ہزاروں کنارے پر بیٹھے تماشا دیکھتے ہیں۔ ساحلِ بحر کی سادگیِ وضع کی یہاں انتہا ہو جاتی ہے۔
