جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ساحل کی سیر

اچھی اچھی تعلیم یافتہ لیڈیاں اپنی اچھی پوشاکوں سمیت اور ان کے خوش پوش ہمراہی جنٹلمین، کنارے کے ریتے پر جو بے شمار چھوٹے چھوٹے کنکروں سے ڈھکا ہوتا ہے، ٹہلتے جاتے ہیں۔ نہ کپڑوں کے خراب ہونے کی پروا ہوتی ہے، نہ اس طرح زمین پر بیٹھنے میں کوئی کسرِ شان سمجھی جاتی ہے۔ بچے ایک دوسرے پر کنکر برساتے ہیں اور سمندر کی ہوا میں کچھ ایسی روح افزائی ہے کہ بڑے بوڑھے بھی دم بھر کے لیے بچے بن جاتے ہیں، اور اس کھیل میں شریک ہو لیتے ہیں۔ جہاں یہ ہجوم ہوتا ہے، وہاں کشتیوں والے آکر شور مچاتے ہیں اور لوگوں کو کشتی کی سیر کے لیے بلاتے ہیں۔ جن لوگوں کو کشتی چلانے کی مشق ہے، وہ یہاں بھی کشتی کرایہ کر کے اور اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر اسے خود چلاتے ہیں اور جنہیں پوری مشق نہ ہو یا ساری کشتی نہ لے سکیں، وہ کشتی بان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کچھ شوقین ہیں جو کنارے پر بیٹھے ہوئے آتی جاتی کشتوں کی تصویر لے رہے ہیں۔ کوئی صاحب مچھلی پکڑنے کے جال یا کانٹے لے کر کشتی میں جاتے ہیں اور اس شغل سے اپنا جی بہلاتے ہیں۔ غرض دُور تک کنارے پر اسی طرح رونق چلی جاتی ہے، بعض مقامات ایسے سیر حاصل بنائے گئے ہیں کہ دھوپ کے وقت کے لیے کنارے کے قریب سایہ دار سڑکیں اور روشیں موجود ہیں۔ جہاں لوگ چل پھر سکتے اور بیٹھ سکتے ہیں۔ آبادی بلندی پر ہے اور اس کی حفاظت یا تو قدرت نے ہی چٹانوں کے ذریعے کر دی ہے اور یا صنعت نے بڑے بڑے مضبوط بند بنا دیے ہیں۔

اس بلندی پر کنارۂ بحر کے متساوی ایک سڑک ہوتی ہے۔ جو سیر کے دنوں میں صبح شام مرجعِ انام ہوتی ہے۔ اس سڑک پر باجے کی جگہ بنی ہوتی ہے۔ جہاں لوگ بیٹھ کر باجا سنتے رہتے ہیں یا اور تماشے ہوتے رہتے ہیں، جنہیں ٹکٹ دے کر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ان تماشوں میں اکثر عوام کا جمگھٹ رہتا ہے، معقول پسند لوگ قدرت کے تماشوں اور کھلی ہوا کو ان مشاغل پر ترجیح دیتے ہیں۔ ساحلِ بحر پر اکثر بھوک خوب لگتی ہے۔ اور وجوہ اس کے ظاہر ہیں۔ کام سے نجات صحت بخش آب و ہوا۔ اس پر ورزش و تفریح ۔ پھر سوائے کھانے کے اور کیا سوجھے۔ وہاں کے جو مقیم ہیں، ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کی وجہ معاش یہی ہے کہ سمندر کے نظارے کے شائق جو آئیں، اُن کے قیام کا انتظام کریں۔ ان گھروں میں بعض اوقات عجیب مجمعے ہوتے ہیں۔ شہروں سے ہر مذاق اور ہر فن کے لوگ آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر چند مختلف فنون کے ماہر اتفاق سے ایک گھر میں جمع ہو جائیں، تو شام کو کسی تماشاگاہ میں تفریح کے لیے جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ گھر کا کمرہ ہی ایک تماشا گاہ بن جاتا ہے، جس میں ہر شخص اپنا کمال دکھاتا اور اپنے رفقا کی تفریح کے سرمائے میں اپنا حصہ دیتا ہے۔

عام دستور ان گھروں کا یہ ہے کہ صبح کو وقت مقررہ پر جب ایک میز پر چاشت کھاتے ہیں، اسی میں ہر شخص اپنے اپنے رفقا سے تصفیہ کر لیتا ہے کہ کہاں کی سیر ہو۔ اسی قرارداد کے مطابق باہر نکلتے ہیں، اور پھر دوپہر کے بعد کھانے پر جمع ہوتے ہیں۔ ہر ایک اپنے حالات کہتا ہے، اور ایک دوسرے سے پوچھنا، کہ آپ نے آج کیا کیا دیکھا اور کس مشغلے میں وقت گزارا، اخلاق میں داخل ہوتا ہے۔ کوئی کہتا ہے، میں تو سارا دن پانی میں رہا، یعنی کشتی کی سیر کی۔ کوئی بتاتا ہے، ہم تو دو گھنٹے پانی میں رہے، یعنی نہاتے، تیرتے اور غوطے لگاتے رہے۔ کوئی بیان کرتا ہے، ہم تو گاڑی پر بیٹھ کر کنارے ہی کنارے کئی میل تک سواری کو نکل گئے تھے۔ کسی نے کنارے کے کنکروں پر وقت گزارا، اور کسی نے سایہ دار سڑکوں کی سیر کی۔

مگر ان سب بیانوں میں مشرقیوں کے لیے بہت کچھ تعجب خیز بیان وہ ہے، جو بہت سے پر رونق ساحلی مقامات میں عام ہوتا جاتا ہے اور جس کا نام “مکسڈ بیدنگ” یعنی غسلِ مخلوط رکھا گیا ہے۔ ہر شخص سوال کرتا ہے، “کہیے، مکسڈ بیدنگ میں گئے تھے یا نہیں؟” اور کہتا ہے، “ہم گئے تھے، ہمیں تو بڑا لطف آیا۔” اس میں زن و مرد یکجا نہاتے ہیں۔ نہانے کے کپڑے خاص بنے ہیں، جو مردوں کے لیے ہیں، وہ صرف وسط بدن کو ڈھانپتے ہیں اور جو عورتوں کے لیے ہیں، وہ وسط بدن اور سینے کو۔ باقی سارا بدن ننگا ہوتا ہے، اور اس ہیئتِ کذائی میں یہ مدعیانِ شائستگی دریا میں کود پڑتے ہیں۔ غیر مرد اور غیر عورتیں، جان نہ پہچان، پاس پاس نہا اور تیر رہے ہیں، غوطے لگا رہے ہیں۔ اور اس حالت میں ایک دوسرے پر پانی پھینک دینا، یا آپس میں ہنس بول لینا، کچھ ایسا معیوب نہیں سمجھا جاتا، چاہے پانی سے نکل کر کپڑے پہنتے ہی پھر ایک دوسرے سے بیگانے بن جائیں، جیسے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ ہمارے خیال میں یہ دستور یا تو انگلستان کے زمانۂ جاہلیت کا بقیہ ہے، جو اب پھر تازہ ہونے لگا ہے یا اس خوفناک سرعتِ رفتار کا نتیجہ ہے، جس کے ساتھ عورت کی آزادی کی رو مغربی دنیا میں چل رہی ہے۔ بہر حال، یہ حصہ ساحل کے مشاغل کا ہر گز اس قابل نہیں کہ کوئی اس کی نقل کرنا چاہے۔ گو یہاں یہ کیفیت ہے کہ جن مقامات میں یہ مروج ہے، وہاں کے ہوٹلوں والے اخبارات میں اُس مقام کے قدرتی نظاروں اور صحت بخش اثرات کا ذکر کرتے ہوئے، ترغیب کے لیے یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ یہاں غسلِ مخلوط مروج ہے۔

دوپہر کا کھانا ختم کرتے ہی، لوگ پھر گھروں سے نکلتے ہیں اور اسی طرح اپنی اپنی پسند کے مشغلوں میں وقت بسر کرتے ہیں۔ کچھ ذوقِ مطالعہ میں سرشار ہوتے ہیں، کتاب لے کر دور نکل جاتے ہیں۔ جہاں آمد و رفت تو ہو کم، مگر جنگل بھی نظر آئے، سمندر بھی نظر آئے اور ہوا بھی صاف ہو، گھاس پر بیٹھ جاتے، یا لیٹ جاتے ہیں اور کتاب پڑھتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ اور کوئی نہ ملا تو کتاب لے لی، مگر زندہ یا حاضر جلیس کو مردہ یا غائب جلیس پر قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔ غرض ’’ہر سرے و ہر سودائے‘‘ہر سر میں ایک الگ سودا (خیال) ہوتا ہے، ہر ایک اپنی دھن میں لگا ہوتا ہے، اور اس تفریح کے جتنے دن ملیں، انہیں غنیمت سمجھتا ہے۔ کئی مہینوں رہتے ہیں، کئی ہفتوں، مگر ایسا تو کوئی ہی خدا کا مارا ہوتا ہوگا جو چند دن کے لیے سمندر کی ہوا سے اپنا دماغ تازہ نہ کر آئے۔

یہ تو تھی گرما کی کیفیت۔ مزا یہ ہے کہ امرا اور خوشحال لوگ سرما میں بھی وہیں جاتے ہیں۔ گرچہ سرما میں وہ چہل پہل اور وہ رونق نہیں ہوتی، پھر بھی جو لوگ شہروں کی دھند اور غبار سے گھبرا جاتے ہیں اور سردی کی کثرت سے تنگ آتے ہیں، وہ ساحلِ بحر کو غنیمت سمجھتے ہیں، جہاں دھند سے عموماً نجات ہوتی ہے، اور جہاں انگلستان کے جنوبی حصے میں جاڑے میں بھی آب و ہوا معتدل سی رہتی ہے۔ اسی لیے جنوبی ساحل کو ’’سنی ساؤتھ‘‘ یعنی آفتاب سے روشن جنوب کہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بہار انگلستان میں جنوبی دروازے سے داخل ہوتی ہے۔ جن کے پاس دولت یا فرصت اس قدر ہے کہ انہیں سال بھر میں سوائے موسموں کے تغیر پر خوشی یا افسوس کرنے کے کچھ کام نہیں، وہ بہار کے خیر مقدم کے لیے جنوب کو تشریف لے جاتے ہیں۔ مصروف اور محنتی اصحاب چاہے ایسی مسلسل تفریح کو نظرِ حقارت سے دیکھیں، مگر انگلستان کی مجموعی تمدنی حالت کے بنانے میں ان بظاہر بیکار لوگوں کا بھی حصہ ہے، اور عیب چاہے ان میں کتنے ہوں، ان کی اس خوبی سے انکار نہیں ہو سکتا کہ سمندر اور پانی کے دلدادہ ہونے میں یہ اپنی قوم کے کسی دوسرے حصے سے کم نہیں، اور کھیل ہی کھیل میں اتنی مہارت بہم پہنچائے ہوئے ہیں کہ ضرورت کے وقت کسی ڈوبتے کو بچانے، کسی گرتے کو سنبھالنے کے لیے بھی اسی آسانی سے پانی میں کود پڑتے ہیں جس سے اپنی تفریح کے لیے غوطہ زنی کرتے ہیں۔ اور جب تک انگلستان کی بڑائی بحری طاقت پر منحصر ہے، اُس وقت تک قوم میں اس عام مذاق کو قائم اور تازہ رکھنے والے بیکار نہیں سمجھے جاسکتے۔