جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ساحل کی سیر

کچھ عرصہ ہوا، یہاں البرٹ ہال میں ایک بڑا جلسہ تھا، جس میں ایک مشہور یتیم خانے کی کئی سو لڑکیاں اور کئی سو لڑکے موجود تھے۔ لڑکوں کا ایک گروہ بحری وردی پہنے ہوئے قواعد کرتا ہوا حاضرین کے سامنے آیا، اور چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ایک گروہِ کثیر نے ننھی ننھی پیاری پیاری آوازوں میں ایک گیت گایا، جس میں انگلستان کے لوگوں کے اس شوق کا اظہار بڑے پُر زور اور مؤثر طریقے میں کیا گیا ہے۔ اس گیت میں ایک خوبصورت لڑکی اپنے چاہنے والے نوجوان کو خطاب کر کے کہتی ہے: ’’سمندر کی خدمت میں جانا مری جان‘‘۔ یہ الفاظ کےگیت میں ہر چار مصرعوں کے بعد دہرائے جاتے تھے، اور عجب تاثیر پیدا کرتے تھے۔ وہ سماں مدتوں نہیں بھولے گا، کیونکہ اسے دیکھ کر یہ عقدہ حل ہوتا تھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو اس قوم کے اتنے افراد کو بحری خدمت اختیار کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ گیت اُن گیتوں کا نمونہ ہے، جن سے عرب خواتین اپنے شجاع شوہروں کی ہمت بڑھایا کرتی تھیں، کہاں ہیں وہ پاک دل اور پاک طینت گانے والیاں، اور کہاں ہیں وہ قدردان سننے والے، جو جانیں لڑا دیتے تھے کہ گھر جائیں تو سرخرو جائیں، ورنہ میدان میں کام آئیں، دنیا ایک عالمِ خواب ہے، پر گزشتہ قوموں کی عظمت کی اب صرف داستانیں رہ گئی ہیں، اور آج جن کی نوبت ہے وہ اپنا فرض ادا کر رہی ہیں۔ اُس گیت کا مفہوم اگر کسی قدر آزادی کے ساتھ اردو میں ادا کیا جائے، تو مندرجہ ذیل اشعار سے مطلب نکل آتا ہے:۔

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

اسی میں ترقی کا ہے راز پنہاں

اس سے بڑھے ہیں جو ہم میں بڑھے ہیں

اسی کے سہارے ہم اکثر لڑے ہیں۔

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

تجارت ہماری سمندر کے بل پر

حکومت ہماری سمندر کے بل پر

اسی سے یہ دولت یہ ثروت ہماری

نہ کیوں کر ہمیں اس کی موجیں ہوں پیاری

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

اسی سے کیا نام نیلسن نے پیدا

اسی پر ہرا ہم سے تھا آرمیدا

اسی سے زمانے میں ہے دھاک اپنی

اسی سے بنی قوم بے باک اپنی

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

کہاں ہم کہاں ملک ہندوستاں تھا

سمندر کا رشتہ مگر درمیاں تھا

سمندر نے دُوری کو کیسا مٹا یا

پھریرا ہمارا کہاں جا اُڑایا

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

اگر چاہو تم مجھ کو اپنا بنانا

سمندر کی خدمت سےدل مت چرانا

محبت وطن کی دکھاؤ تو جانوں

اگر ملک کے دل لبھاؤ تو مانوں

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

سمندر سے جب نام کر کے پھرو گے

وطن کا کوئی کام کر کے پھرو گے

تو میں بھی فدا جان تم پر کروں گی

تمہاری ہمیشہ کو میں ہو رہوں گی

سمندر کی خدمت میں جانا مری جاں

اگر لڑتے لڑتے گئے خود بھی مارے

سمندر میں اگلے جہاں کو سہارے

منگیتر بہادر کی پھر میں بنوں گی

تمہیں اگلی دُنیا میں جلدی ملوں گی

سمندر کی خدمت الخ

عبدالقادر (از لندن)۔