جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سرگذشت ایران

ملک ایران کی موجودہ تباہی کا حال تو تمام عالم میں مشہور ہے۔ لیکن اس کے اسباب سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اور اس معاملے میں سب سے زیادہ بے خبر اہل ہندوستان ہیں۔ ایران کی تاراجی اور بربادی کا الزام بلا تامل روس کے سر ہے۔ کیونکہ گورنمنٹ روس اور اس کے محکومیں نے جو ایران میں موجود ہیں اپنے جابرانہ برتاؤ اور بیجا مداخلت سے آج ایران کو یہ دن دکھایا ہے۔ جس دن سے ایران میں مشروطہ قائم ہوا گورنمنٹ روس اس کی جڑ میں دیمک کی طرح بیٹھ گئی اور شروع سے آج تک یکساں برتاؤ کرتی چلی آتی ہے۔ بالخصوص گذشتہ چند ماہ سے تو جور و ستم اس حد پر پہنچا دیا ہے کہ الامان و الحفیظ۔

شاہ معزول محمد علی نے جولائی 1909ء میں تخت سلطنت کو خیرباد کہا اور اس وقت سے آج تک شاہ مذکور اور رعایہائے ایران کے درمیان مسلسل جنگ رہی ہے۔ محمد شاہ نے بوقت تاجپوشی اور کئی ایک دیگر مواقع پر قسم کھائی کہ وہ مشروطہ کا جس کو کہ مظفرالدین شاہ مرحوم نے ایک سال قبل انتقال عطا کیا تھا حامی اور معین رہے گا۔ مگر افسوس کہ اس کی بدنفسی اور بدطنیتی اس کو اس اقرار پر قائم نہ رکھ سکی اور وہ بہت جلد خودمختارانہ اور ظالمانہ حکومت حاصل کرنے کا ساعی ہو گیا۔ اس نے تاج پوشی کے ایک سال بعد ہی مشروط کا قلع قمع کرنے کی ٹھان لی اور جون 1908ء ہی میں اس کو کامیابی حاصل ہو گئی اور اس نے جمیعت کاسکس Cossacks کی مدد سے جس کا افسر خونخوار اور بے رحم کرنل لیا کاف تھا پارلیمنٹ کو توپ کے گولوں سے اڑا دیا اور ہزار ہا معروف و مشہور مصلحان قوم اور وکلائے مشروطہ کا خون ناحق بہا دیا اور مثل سابق مستبدہ قائم ہو گئی۔

اس اثناء میں کہ شاہ معزول اور حامیان پارلیمنٹ کے درمیان جنگ و جدل جاری تھی۔ باشندگان تبریز نے نہایت بہادری اور استقلال کے ساتھ افواج شاہی کا مقابلہ کیا۔ نو ماہ تک شاہی افواج تبریز کا محاصرہ کیے رہیں اور ماہ اپریل 1909ء میں باشندگان شہر پر فاقہ کشی کی نوبت پہنچ گئی، اور بالآخر بمنظوری برٹش فارن آفس روسی فوج جنرل نارسکی کے ماتحت روانہ کی گئی اور محاصرہ اٹھا دیا گیا۔ سڑکیں اور راہیں حسب سابق جاری ہو گئیں۔ اگرچہ بارہا اعلان ہوا ہے کہ روسی فوج کا ایران بھیجا جانا صرف باشندگان تبریز کی بہتری اور ان کو ہلاکت سے محفوظ رکھنے کی غرض سے تھا مگر تجربہ نے ثابت کر دیا کہ اس میں اور کئی اغراض پنہاں تھے۔ مثلاً سر تہرنکلسن نے (سابق سفیر انگلستان و سینٹ پیٹر برگ و حال مددگار سر ایڈورڈ گرے) اس معاملہ کے متعلق اس وقت لکھا کہ بظاہر تو اس روسی فوج سے باشندگان تبریز کا فائدہ مدنظر ہو گا کہ دراصل مطلب سفیروں کی حفاظت سے ہے اور اگر اس مقصد کے حاصل ہونے میں باشندگان تبریز کی حق تلفی بھی ہو جائے تو کچھ ہرج نہیں (WHITEBOOK No 208)۔ خیر اصل مطلب جو کچھ بھی ہو امر واقعی یہ ہے کہ اس قسم کے متعدد وعدوں کے باوجود کہ تبریز میں امن قائم ہوتے ہی روسی فوج واپس کر لے جائے گی۔ آج تک وہ تبریز میں ہر وقت ایک بلائے ناگہانی کی طرح وہاں موجود رہتی ہے۔

اہل تبریز اس شکست کے بعد چند دن خاموش رہے مگر پھر ان کے مردہ دل زندہ ہو گئے اور وہ حریت کی حمایت میں افواج شاہی سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے اور یکایک دو نئی جماعتیں مشروطہ کے دوبارہ جاری اور قائم کرنے کے لیے میدان میں خم ٹھوک کر آموجود ہوئیں۔ ان میں سے ایک گروہ نے رشت کو اپنا مرکز قرار دیا اور دوسرے نے جو قبائل بختیاری میں مشتمل تھا۔ جنوبی اصفہان کو اپنا میدان کار زار مقرر کیا۔ ان دونوں گروہ نے ایک ہی وقت میں جہاں محمد علی شاہ مقیم تھا فوج کشی کرنے کا عزم بالجزم کر لیا اور گورنمنٹ انگلستان اور روس کی ان دھمکیوں کے باوجود ”کہ اگر تم ایک قدم بھی آگے بڑھو گے تو روسی فوج بلائی جائے گی“ ان جان نثاران ملک و ملت نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا۔ یعنی 1909ء میں دونوں جانب سے حملہ کر دیا۔ اس وقت لطیفہ یہ ہوا کہ کرنل لیا کاف اور نامہ نگار اخبار لندن ٹائمز نے نہایت زور و شور کے ساتھ اعلان کیا ”کہ موجودہ کاسکس1 ریجمنٹ باغیوں کے پسپا کرنے کے لیے کافی ہو گی اور فوج کے اضافہ کے لیے روس سے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“ مگر بوقت کارزار لیا کاف کی آنکھیں کھل گئیں اور بدمستی کا خمار اتر گیا۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ کرنل صاحب کو شکست فاش اٹھانی پڑی اور گورنمنٹ روس کا عتاب ان پر نازل ہوا اور وہ ہمیشہ کے لیے ایران سے واپس بلائے گئے۔

حامیان مشروطہ نے بعد فتح اس قدر حلم و تحمل سے کام لیا کہ تمام اخبارات یورپ و ایشیا نے ان پر آفرین کی صدائیں بلند کیں۔ لندن ٹائمز نے اپنے 14 جولائی 1909ء کے تار میں لکھا کہ ”حامیان مشروطہ کا برتاؤ بعد فتح ایسا قابل تحسین تھا کہ کوئی فرد بشر اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں کر سکتا“ ماسوائے اس کے بعد فتح قیدیوں کے ساتھ نہایت انسانیت سے پیش آئے اور استقلال کے ساتھ اندرونی انتظامات سلطنت کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ڈیلی ٹیلیگراف نے لکھا کہ ”حامیان مشروطہ کا برتاؤ اور ان کے اخلاق نہایت ہی عمدہ تھے اور جو کچھ ان سے ہوا بالکل صائب تھا اور ان کا حسن عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حکومت کرنے اور انتظام قائم کرنے کے ہر طرح لائق و قابل ہیں۔“ اس جنگ میں 500 فدائی شہید ہوئے اور تمام جنگ میں صرف ایک یورپین قتل ہوا اور وہ بھی محض اتفاقاً۔ اس جنگ کے بعد محمد علی شاہ کو یقین ہو گیا کہ اس کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہی۔ چنانچہ اس نے سفیر روس کے یہاں جا کر پناہ لی یہاں تک کہ مجلس نے اس کی معزولی اور شہر بدری کا حکم جاری کر دیا۔

محمد علی شاہ معزول تو فوراً ہو گیا مگر اس کے وظیفہ کا جھگڑا ستمبر 1909ء تک جاری رہا اور اس وقت تک اس کو وظیفہ نہ ملا۔ بالآخر گورنمنٹ ایران نے اس کے اخراجات کے لیے ایک لاکھ روپیہ سالانہ مقرر کیا۔ اور روسی و انگریزی گورنمنٹ کی ضمانت پر اس کا تصفیہ ہو گیا۔ اس ضمانت نامہ کی دفعہ 11 سننے کے قابل ہے۔

”آرٹیکل نمبر 11: انگریزی و روسی حکومتیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں اور ضامن ہوتی ہیں کہ وہ محمد علی کو معاملات ایران (1) میں مداخلت کرنے سے ہر وقت اور ہر طرح سے روکیں گی اور امپریل گورنمنٹ روس وعدہ کرتی ہے کہ بروقت مزاحمت وہ عملی طور سے رفع کر دے گی۔“

دفعہ (2) اگر محمد علیشاہ ملک روس سے باہر چلا جائے گا اور کسی اور مقام پر بودوباش اختیار کر کے وہاں کوئی کاروائیِ حکومتِ ایران کے خلاف شروع کرے گا اور اس بات کا اطمینان گورنمنٹ روس و انگلستان کو ہو جائے گا تو بلا لحاظ کسی عذر وغیرہ کے دونوں گورنمنٹیں حکومت ایران سے اس کا وظیفہ فوراً بند کرنے کی درخواست کریں گی۔

یہ وعدے کہاں تک ایفا ہوئے اس کا حال دنیا پر روشن ہو گیا ہے۔ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف دکھانے کے دانت تھے کھانے کے نہیں۔ محض ایک مغالطہ تھا اور کچھ نہیں۔ یہاں پر ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے یعنی جس وقت حامیان مشروطہ نے طہران پر چڑھائی کی تھی روس نے تیس ہزار اور جمعیت زشت و قازوین کی جانب روانہ کی اور جولائی 1909ء میں سر ایڈورڈ گرے نے خود اس بات کا اقبال کیا ہے کہ ”تبریز میں چار ہزار اور زشت وغیرہ میں 1700 اور دیگر مختلف مقامات پر چھ سو روسی سپاہی موجود ہیں جو امن قائم ہوتے ہی واپس چلے جائیں گے۔“