جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سرگذشت ایران

1911ء کے واقعات تقریباً ہر ایک اخبار بین کو یاد ہوں گے۔ یہ سال ایران کے لیے امید وبیم کا سال تھا۔ بہت لوگ اس خیال میں تھے کہ شاید روس کی فوج جو مثلِ دریا بڑھی چلی آرہی تھی رک جائے گی۔ اور غالباً سر ایڈورڈ گرے جو اب تک روس کا ساتھ دیتے چلے آئے تھے۔ خفیہ طور پر گورنمنٹ روس پر دباؤ ڈالیں گے اور مجبور کریں گے کہ اس مداخلتِ بیجا سے باز آیئے مگر افسوس کہ یہ سب خیالات خواب ثابت ہوئے اور تمام امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اور روسی فوج کشی مثل سابق جاری رہی یہاں تک کہ 15 دسمبر 1911ء کو تبریز و رشت میں روسیوں نے قتل عام کیا اور وہ بیرحمی اور سرکشی دکھائی کہ خدا دشمن کو بھی نہ دکھائے۔

تبریز کے واقعات تو ایسے دردناک ہیں کہ لکھتے قلم کانپتا ہے جگر پھٹتا ہے۔ روسی سپاہیوں نے تبریز میں گھر گھر گھس کر مردوں کو بلا لحاظ پیر و جوان تہِ تیغ کیا اور مستورات کی بے حرمتی کی۔ وہ عورتیں جن کی زچگی کو دو دن بھی نہ گزرے تھے اپنے بچوں کو ظالموں کے حوالے کر کے اپنی عزت اور ناموس کی خاطر خودکشی کر بیٹھیں۔

عاشورہ محرم کو جناب ثقۃ الاسلام اعلی اللہ مقامہ اور آٹھ دیگر ایرانی سولیوں پر چڑھائے گئے۔ اس کے علاوہ بعض تو مثلِ گوسفند ذبح کیے گئے اور بعض کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اور بعض کو زندہ دو ٹکڑے کر ڈالا۔ بہرحال ایسے ایسے ظلم ہوئے کہ مختصر مضمون میں لکھنا ممکن نہیں۔ اگر کسی صاحب کو خواہش ہو تو وہ پروفیسر براؤن کیمبرج یونیورسٹی یا مسٹر ٹرنر نامہ نگار مانچسٹر گارڈین مانچسٹر سے خط و کتابت کر کے ان واقعات کی تصاویر منگا سکتے ہیں4۔ اس کے بعد کے حالات یعنی پارلیمنٹ کا برخاست ہونا۔ نائبِ ایران ناصر الملک کا یورپ چلا آنا۔ مسٹر شستر کی موقوفی وغیرہ وغیرہ تازہ باتیں ہیں اور ہر شخص ان سے واقف ہے اس لئے ان کا لکھنا چنداں ضروری نہیں۔

علاوہ ازیں ان سب واقعات کا مختصر مضمون لکھنا دور ازمکان ہے۔ یہ ایک قوم کی شہادت کا مرثیہ ہے جس کے لکھنے کے لیے دل و جگر کی ضرورت ہے۔ قصہ مختصر ایران کی تباہی کی بڑی وجہ گورنمنٹِ انگلستان کی چشم پوشی اور غفلت ہے۔ گذشتہ دو ایک سال سے گورنمنٹِ انگلستان نے طوطی صفت ہو کر روس کی تمام حرکات و اقوال پر سوائے ”دریں چہ شک“ کہنے کے اور کوئی جواب ہی نہیں دیا ہے۔ اگر گورنمنٹ کی جانب سے روس کو وقتا فوقتاً اس طرح کی ترغیب نہ ہوتی اور انگلستان روس کو عہد نامۂ روس و انگلستان پر قائم رہنے کے لئے مجبور کرتا رہتا تو آج ایران کو یہ روزبد دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اور یہ مجلس اور آزادی جو ہزاروں خون بہا کر حاصل ہوئی تھی آج یوں ظالم روسیوں کے ہاتھوں برباد نہ ہو جاتی۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے اور اگر اس وقت بھی اہلِ انگلستان اپنی شریفانہ اور اعلیٰ طبعیتوں کو جوش میں لائیں اور اپنی قدیم رسم و رواج یعنی انصاف اور ہمدردی (کہ جس کے لیے یہ ہمیشہ سے مشہور رہے ہیں) اختیار کریں اور روس کو سختی کے ساتھ اپنے عہدنامے پر قائم رہنے کے لیے مجبور کریں تو مریض ایران کی جو قریب المرگ ہے جان بچنے کی پوری امید ہے۔ انگلستان کی موجودہ پالیسی سخت حیرت انگیز ہے۔ اس کی خاموشی سے روس کا دن بدن فائدہ ہو رہا ہے۔ ایران کا جس قدر زرخیز حصۂ شمالی ایران کا ہے سب روس دبا بیٹھا ہے اور ساعت بہ ساعت بڑھا چلا آرہا ہے۔ انگلستان کو اب تک کچھ فائدہ نہ ہوا۔ بلکہ یہی حالت رہی تو بجائے فائدے کے نقصان ہی ہو گا۔ اور خوف ہے کہ کہیں روس کی دوستی سے وہی مثل صادق نہ آئے کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ہندوستانیوں کا کیا فرض ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم ایرانی نہیں اور نہ ہمیں ایرانیوں سے کوئی تعلق ہے مگر ہمارا فرضِ انسانی ہے کہ ہم اس غریب مشرقی قوم کی جس طرح ممکن ہو اعانت کریں اور اس کو تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔ ہم رعایائے انگلستان ہیں ہم سے اور تو کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم تمام ہندوستان میں جلسے کرکے گورنمنٹ آف انڈیا سے استدعا کرتے رہیں کہ وہ گورنمنٹِ انگلستان پر زور ڈالے کہ وہ روس کو روکے اور اس کی شرکت میں ایران کے خونِ ناحق کا دھبہ اپنے دامن پر نہ لگائے۔ افسوس؎

تاسحر وہ بھی نہ چھوڑی تو نے او باد صبا

یادگار رونق محفل تھی پروانے کی خاک