جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سرگذشت ایران

انگریزی اور روسی گورنمنٹ نے اس کے جواب میں یہ تو منظور کر لیا کہ شاہ کو وظیفہ نہ دیا جائے مگر اس کے ایران سے بدر کرنے میں مدد دینے سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ تم جانو اور شاہ جانیں ہمیں ایرانی اندرونی معاملات سے غرض نہیں ۔ ایرانیوں پر یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا۔ نہ تو مقابلے کے لیے باقاعدہ جمعیت ہی موجود اور نہ زر ہی پاس کہ جمعیت مہیا کر لی جائے۔ سب آسمان تکنے لگے۔ ”یا خدا کیا حشر ہو گا؟“ کیا یہ مجلس اور یہ حریت جو صدہا بلکہ ہزار ہا کا خون بہا کر حاصل کی گئی ہے اس طرح دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے چلی جائے گی؟“۔ مگر یہ دعائیں بے اثر نہ ہوئیں۔ ان کا جواب ان مصیبت زدہ قوم کے عاشقوں سے بہت جلد ملا اور ایسا ملا کہ تمام دنیا جانتی ہے۔ جانثار بہادر اٹھ کھڑے ہوئے اور شاہ کے مقابلہ کو تیار ہو گئے۔ ایرانی فوج کے بہادروں نے میدانِ کارزار میں جانیں لڑا دیں اور ایسا جی چھوڑ کر لڑے کہ غنیم کے چھکے چھوٹ گئے اور پھر ایک بار سر زمینِ ایران محمد علی کے ناپاک وجود سے پاک ہو گئی۔ فتح و ظفر نے علم اٹھائے۔ الوالعزمی نے ڈنکے بجائے اور کملائے ہوئے دل ایک دم شگفتہ ہو گئے۔ اسی لڑائی میں ارشد الدولہ سالارِ فوجِ شاہی گرفتار ہوا اور وہ 5 ستمبر کو قتل کر دیا گیا۔ لیکن افسوس کہ روسیوں کی مدد سے شاہ سابق پھر جان بچا لے گیا اور سرحدِ روس میں پناہ گزیں ہوا ورنہ اس کا کام بھی تمام کر دیا جاتا اور کل جھگڑے ہمیشہ کے لیے طے ہو جاتے۔ تین ہفتہ بعد سالار الدولہ نے بھی شکست فاش اٹھائی اور 4 اکتوبر کو یورپ نکل بھاگا۔ ملکِ ہمدان جو اتنے دنوں سے اس کے ماتحت تھا گورنمنٹِ ایران کے قبضہ میں آگیا۔ ان سب واقعات کے بعد امید تھی کہ اب گورنمنٹِ ایران کو مہلت ملے گی اور کچھ دن چین سے گزریں گے لیکن افسوس شومیٔ طالع کب کسی کو چین لینے دیتی ہے! جب روس اور انگلستان کو یقین ہو گیا کہ اب شاہ کے ذریعے سے مطالبِ دلی بر نہ آسکیں گے اور اب ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے کا موقع نکل گیا تو فوراً ایران کے اندرونی معاملات میں دخل در معقولات شروع کر دیا اور ہر قسم کی مشکلات پیدا کرنے لگے۔ انگلستان نے سالِ گذشتہ 1911ء میں اس حیلہ سے کہ جنوبی ایران میں بدامنی ہے اور اس کا انتظام ضروری ہے تو فوراً ایک فوج ہندوستانی سپاہیوں کے اتار دینے کی دھمکی دی اور اس واقعہ کے چند دنوں بعد روسیوں سے ایک نیا قصہ چھڑ گیا۔ یعنی گورنمنٹِ ایران نے شاہ معزول کے بھائی شعاع السلطنتہ کی کل جائداد بجرمِ بغاوت ضبط کر لی۔ اور اس کی جاگیر دولت آباد و منصور آباد کی حفاظت کے لیے سرکاری حکام مقرر کیے گئے۔ یہ ہونا ہی تھا کہ روسی کونسل جنرل پاکٹ ناف POKHITANOFF نے پھر دست اندازی کی اور چند روسی سپاہی دولت آباد اور منصور آباد کی جانب روانہ کر دیے کہ سرکاری حکام کو مار کر نکال دیں۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل ہو گئی۔ مگر ایک دو روز بعد گورنمنٹ نے باقاعدہ پلٹن بھیج کر ان کو بھگا دیا۔ اور پھر قبضہ کر لیا۔ اخبار لندن ٹائمز نے اس معاملہ کے متعلق لکھا ہے کہ یہ صرف کونسلِ روس کی شرارت تھی ورنہ اس کو کوئی حق نہ تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا۔ شعاع السلطنتہ روس کی رعایا تھا نہ روس کا قرضہ دار تھا بلکہ وہ رعایائے روم ہو گیا تھا۔ اگر گورنمنٹِ ترکی مداخلت کرتی تو بجا تھا۔ خیر اس وقت یہ واقعہ رفع دفع ہو گیا۔ مگر اس کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا چنانچہ چند روز بعد دو روسی افسر پھر وہاں پہنچے اور انہوں نے سرکاری سپاہیوں کو گالیاں دیں اور ان سے حقارت آمیز الفاظ کہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر دونوں گورنمنٹوں میں جھگڑا ہو گیا جو ایک عرصہ کی خط و کتابت کے بعد طے ہوا۔

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ مسٹر شستر میجر اسٹوک کے پلٹنِ خزانہ عامرہ پر تقرر کی تحریک برٹش گورنمنٹ سے کی تھی اور گورنمنٹ نے اسے منظور کر کے میجر اسٹوک کا استعفا بھی قبول کر لیا تھا لیکن ابھی میجر اسٹوک اپنی خدمت کا جائزہ بھی نہ لینے پائے تھے کہ 17 اکتوبر کو روس اعتراض کر بیٹھا اور نہایت ضد کے ساتھ اس اعتراض پر قائم رہا۔ انگریزی گورنمنٹ نے روس کے خوش کرنے کے لیے میجر اسٹوک کو خدمت مذکور حاصل کرنے کی یہ قطعی ممانعت کردی۔ اور میجر موصوف کو مجبوراً اس حکم کی تعمیل کرنا پڑی۔ اس واقعہ کے دوسرے ہی روز اخبارِ لندن ٹائیمس نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں مسٹر شستر کی حرکات پر اعتراض کیے۔ خصوصاً مسٹر شستر کے اس قول کی تردید کی کہ انگلستان اور روس دونوں ممالک کی غرض ایران کی تباہی اور تقسیم ہے۔ مسٹر شستر نے اس آرٹیکل کا معقول جواب دیا جس کا ایک بے معنی اور فضول جواب الجواب پھر ٹائیمس نے دیا۔

میجر اسٹوک کے واقعہ نے روسیوں کو اور دلیر کر دیا۔ انگلستان کی بے موقع ہمدردی اور فارن آفس کی کمزوری سے ان کے دل اور بڑھ گئے۔ 22 اکتوبر کو روس نے گورنمنٹ ایران پر ایک اور حملہ کر دیا۔ گورنمنٹ ایران بائیس سوئیڈیش SWEDISH افسروں کا تقرر چاہتی تھی۔ روس نے اس سے بھی اپنی نا رضامندی ظاہر کی اور سویڈیش گورنمنٹ کو ورغلا کر اس تجویز پر بھی پانی پھیر دیا۔

27 اکتوبر کو انگریزی گورنمنٹ کی جانب سے ایک پلٹن ہندوستانی سپاہیوں کی بو شہر میں اتاری گئی۔ اور اسی دن دو سو روسی سپاہی انزلی میں داخل ہوئے۔ چند ہی روز بعد اور دو ہزار روسی سپاہی تبریز میں وارد ہوئے۔ انگریزی جمعیت کا جنوب میں اترنا اور روسیوں کا شمال میں یوں فوج کشی کرنا بے معنی تھا۔ جس دن سے کہ انگلستان اور روس کے درمیان ایران کے متعلق معاہدہ ہوا ہے ہر ایک دور اندیش شخص یہ سمجھ گیا کہ یہ معاہدہ نئے گل کھلائے گا اور ایران کی تقسیم ایک نہ ایک دن ہو کر رہے گی۔ یہ خیال صرف خیالِ خام نہ تھا بلکہ بہت جلد اس کی حقیقت روس اور انگلستان کے ان حرکات سے دنیا پر ظاہر ہو گئی۔

2 نومبر کو شعاع السلطنہ کی جاگیرات کا جھگڑا پھر یکایک چھڑ گیا۔ روسی وزیر پاک لیسکی POKLEVSKI نے ایک زبانی الٹی میٹم ULTIMATUM گورنمنٹ ایران کو بھیجا کہ سرکاری سپاہی شعاع السلطنہ کی جاگیر سے ہٹا دیئے جائیں۔ اور گورنمنٹ ایران جس نے گذشتہ موقع پر روسی افسروں کی بےعزتی کی تھی اس وقت معافی مانگے۔ گورنمنٹ ایران نے پہلے تو معافی مانگنے سے قطعی انکار کیا اور اس کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا کہ گذشتہ موقع پر زیادتی روسیوں کی تھی کہ انہوں نے ایران کے اندرونی معاملات میں دخل دیا تھا اور اس پر بھی روسی افسروں کی بے عزتی نہیں کی گئی تھی۔ اور یہ سب مصنوعی باتیں ہیں۔ اس پر روس نے 11 نومبر کو تحریری الٹی میٹم بھیجا اور گورنمنٹ ایران نے سفیر انگلستان کے حسب منشا معافی مانگ لی۔ اس قضیہ کا ابھی فیصلہ نہ ہو پایا تھا اور گورنمنٹ ایران کو دم لینے کی بھی فرصت نہ ملی تھی کہ 29 نومبر کو روس کی جانب سے اور ایک الٹی میٹم آپہنچا اور اس کی تعمیل کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی۔ جس کے شرائط ایران کے لیے نہایت مضر اور ناقابل برداشت تھیں۔ پہلی شرط یہ تھی کہ گورنمنٹ ایران مسٹر شستر اور مسٹر بیکاد کو فوراً علیحدہ کر دے۔ دوسری یہ کہ آئندہ سے گورنمنٹ ایران کسی غیر ملکی شخص کا تقرر بلا اجازت گورنمنٹ روس و انگلستان نہ کرے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ گورنمنٹ ایران روسی فوج کا کل خرچ جو اول سے آخر تک ایران میں وقتاً فوقتاً رہی ہے، حساب کر کے دے دے۔ اس الٹی میٹم نے پھر ایک ہلچل مچا دی۔ اس کا قبول کرنا گویا ایران کے لیے خطِ غلامی قبول کرنا تھا اور ان تمام حقوق کا جو ہزار ہا خون بہا کر لیے تھے چشم زدن میں کھو بیٹھتا تھا۔ خیر بھیڑیے اور بکری کا قصہ درپیش تھا مگر بکری سینگ تول کر کھڑی ہو گئی اور تادم آخر حملہ روکنے کے لیے تیار ہو گئی۔ اور 30 نومبر کو مجلس نے روسی الٹی میٹم کی شرائط پوری کرنے سے قطعی انکار کر دیا۔