اب شاہ معزول کا حال سنیے کہ وظیفہ ملتے ہی یہ عہد شکن یورپ کے سفر کے لیے نکلا۔ یہ سفر سیر و سیاحت کی غرض سے نہ تھا بلکہ سازشوں کا جال پھیلانے کے لیے کیونکہ اثناء سفر میں یہ صرف انہی مقامات سے گزرا۔ جہاں کہ اس کے قدیم دوست جو مشہور دشمنان قوم تھے بھاگ گئے تھے۔ اس کا یہ سفر اور سازشیں بیکار نہ گئیں اور سال گذشتہ 1911ء میں اس نے پھر ایک بار تخت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ شروع سال میں اسی کی بدولت دو قتل ہوئے جو تمام ایران کے حق میں مضر ہوئے۔ کیونکہ دونوں خونی روس نے اپنی رعایا کہہ کر جبراً ایران سے چھین لیے اور اسی طرح وہ بغیر کسی سزا کے رہا ہو گئے۔
پہلا واقعہ یکم جنوری کو اصفہان میں گزرا، جبکہ ایک شخص عباس نامی نے معتمد خان گورنر اصفہان کو زخمی کیا اور ان کے بھائی کو شہید کر کے سفارت روس میں پناہ لی۔ دوسرا واقعہ پانچ دن بعد طہران میں پیش آیا کہ دو گرجیوں نے وزیر خزانہ صانع الدولہ کو شہید کیا (صانع الدولہ طرفدار جرمنی تھے اور اسی زمانہ میں جرمنی سے قرضہ لینے کی کوشش کر رہے تھے)۔
ان واقعات کے دو روز بعد ناصر الملک3 نائب سلطنت مقرر ہو کر طہران وارد ہوئے۔ ان کے آنے سے اہل ایران کے مرجھائے ہوئے دل شگفتہ ہونے لگے۔ نئی نئی امیدیں اور آرزوئیں دلوں میں موجزن ہوئیں۔ اور ایک حد تک ان کی خوشی حق بجانب ثابت ہوئی کہ ناصر الملک کے آنے کے ایک ماہ بعد سوائے اسی کاسکس کے تمام روسی فوج قازدین سے ہٹا دی گئی۔ ناصر الملک کے زمانہ میں بھی اگرچہ سازشوں اور بغاوتوں کا سلسلہ قائم رہا مگر گذشتہ طوفان بے تمیزی اور بدامنی کی بہ نسبت چار مہینہ گورنمنٹ کا انتظام کسی قدر قابل اطمینان رہا اور پھر کچھ بگڑا ہوا کام بنتا نظر انے لگا۔
ان خانہ جنگیوں بغاوتوں اور بدانتظامیوں سے ایران کی مالی حالت بہت ابتر ہو گئی ہے۔ خزانہ خالی ہو گیا ہے۔ محصول خانے ویران ہو رہے ہٰں اور نہ کوئی ٹیکس وصول کرنے والا باقی تھا۔ ان سب باتوں کی اصلاح ضروری تھی۔ اس لئے اسی سال مئی میں گورنمنٹ ایران نے مسٹر مارگن شوستر اور چند امریکن محاسبوں کو منصرمانہ طور پر مقرر کیا۔ مسٹر شوستر نے آتے ہی نہایت دلدہی اور خیر خواہی سے کام شروع کیا۔ ان کے خیال میں محصولات وغیرہ کے وصول کرنے کے لیے ایک پلٹن جمعیت باقاعدہ قائم کرنا ضرور تھا چنانچہ بہت جلد اس کا انتظام کیا گیا اور میجر اسٹوک STOKE جو انڈین آرمی کے افسر تھے اور جن کی مدتِ خدمت (ایران میں) ختم ہو گئی تھی مسٹر شوستر کی تحریک پر اس پلٹن کے افسر مقرر کر دیے گئے ۔ ابتداً گورنمنٹ انگلستان نے میجر اسٹوک کے تقرر کو تسلیم کر لیا اور ان کا استعفا بھی سرکار انگریزی سے منظور کرا لیا گیا۔ مگر دس روز بھی نہ گزرے تھے کہ گورنمنٹ روس نے اعتراض کیا کہ یہ تقرر ناجائز ہے کیونکہ میجر اسٹوک اس حصۂ ایران پر افسر بنائے گئے ہیں جو بموجب عہدنامۂ روس و انگلستان گورنمنٹ روس کی زیر نگرانی ہے۔ اس مسئلہ پر گورنمنٹِ روس اور انگلستان کے درمیان عرصہ تک خط و کتابت ہوتی رہی اور بالآخر یہ تصفیہ ہوا کہ برٹش گورنمنٹ نے میجر اسٹوک کو خدمت سے دست بردار ہونے کا حکم دیا۔ غور سے دیکھا جائے تو ہمیں گورنمنٹِ روس کی بیجا دستاندازی اور گورنمنٹِ انگلستان کی کمزوری صاف ظاہر ہے۔ گو اس میں روس کو اعتراض کا کوئی حق نہ تھا۔ کیونکہ اس تقرر میں کوئی سیاسی چال پنہاں نہ تھی اس سے صرف اندرونی انتظام منظور تھا اور گورنمنٹ ایران نے میجر اسٹوک کو تجربہ کار اور عقلمند سمجھ کر اس عہدہ پر مامور کیا تھا۔ یہ معاملہ ہنوز طے نہ ہوا تھا کہ غریب ایران پر ایک اور بلائے ناگہانی ٹوٹ پڑی شاہ محمد علی مع اپنے بھائی شعاع السلطنتہ اور ایک تعدادِ کثیر ترکمان کے لیے ہوئے ایران کے شمال میں آ اترا۔ اس میں بھی روس کا خونخوار ہاتھ شریک تھا کیونکہ روسی اپنی سرحد سے محمد علی نہ گزرنے دیتے اور اپنی کشتی کرسٹو پورس نامی میں اس کو لا کر ایران کی سرحد پر نہ اتارتے تو شاہ سابق سرزمینِ ایران کو خواب میں بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ روس نے احتیاطِ مزید کے طور پر ایک سامانی جہاز بھی کنارے پر تیار رکھا تاکہ خطرہ کی حالت میں اس بدبخت کی جان بچ جائے اور یہ پھر کام آسکے۔
غرض شمال میں تو شاہ پہنچا اور دوسری جانبِ مغرب سے اس کا دوسرا بھائی سالار الدولہ ترکی سرحد طے کر کے آنکلا۔ اور کرمان شاہ پر حملہ آور ہو گیا۔ اس وقت گورنمنٹِ ایران کی عجب حالت تھی۔ دوطرفی حملہ کا جواب دے یا اندرونی انتظام قائم کرنے کی فکر کرے۔ مسٹر مارگن شوستر نے اس وقت مثلِ ایک سچے حامی اور دوست کے رم بڑھایا اور برٹش گورنمنٹ اور روس سے درخواست کی ”کہ عہدنامہ مورخہ 25 اگست 1909ء کے خلاف محمد علی وارد ایران ہو گیا ہے۔ اس لیے آپ دونوں اس کے ایران سے خارج کرنے میں مدد دیجیئے۔“
