اب گورنمنٹ ایران کو دو برس اطمینان اور چین کے گزرے جس میں انہوں نے اپنی پوری توجہ ملک کے اندرونی معاملات خصوصاً مالی حالت درست کرنے کی طرف مبزول کردی۔ مگر افسوس کہ روسی حکام کی جانب سے بیجا خلل اندازیاں بھی ہوتی رہیں۔ مثلاً اگست 1909 میں مشہور ڈاکو رحیم خان نے حکومت اور مجلس کے خلاف بغاوت شروع کی۔ اتفاقاً 29 اگست کو یہ روسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اب روسیوں نے بجائے اس کے کہ اس کو گورنمنٹ ایران کے حوالے کر دیتے 28 ہزار ترکی پونڈ اور 180 اونٹ بطور رشوت لے کر اس کو رہا کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ماہ بعد اس دشمن قومی نے اردبیل پر حملہ کیا۔ اب کیا تھا روس کو تازہ جمعیت روانہ کرنے کا اور پچھلی فوج کو واپس نہ کرنے کا خاصہ بہانہ مل گیا۔ اور 9 نومبر تک رحیم خان طہران پر چڑھائی اور مشروطہ کو تباہ کرنے پر آمادہ ہو گیا اور بظاہر اس نے شاہ معزول کی بحالی کا بیڑا اٹھا لیا اور گورنمنٹ ایران کو اس کے مقابلہ کے لئے 25 ہزار پونڈ کا زیربار ہونا پڑا۔ بیرحم خان نے اس تیار کردہ فوج کی مدد سے رحیم خان کو شکست فاش دی اور چاروں راستے فرار کے اس پر بند کر دیے تاہم ایک راستہ اس کے بچ نکلنے کا کھلا رہ گیا یعنی روسی سرحد۔ گورنمنٹ ایران نے ہرچند روس کو فوراً ہی اس بات کی اطلاع دی اور صلح ترکمانچی کی دفعہ 15 کی طرف ان کی توجہ مبذول کرا کے التجا کی کہ خدارا رحیم خان کو اپنے حدود میں پناہ گزیں نہ ہونے دو مگر روس نے ایک نہ سنی اور اس بدمعاش کو اپنے سرحدی مقامات میں پناہ دے دی یہاں تک کہ 1911ء میں وہ پھر تبریز واپس آگیا۔
دوسری مثال اس سے زیادہ تعجب خیز ہے۔ 1910ء میں شاہزادہ داراب مرزا نے جو خود کو رعایائے روس کہتا تھا۔ اور ایک ریجمنٹ کاسکس کا افسر بھی تھا مقام زنجان پہنچ کر مشروطہ کو نیست و نابود کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس وقت گورنمنٹ ایران بذات خود بلا مدد وغیرہ اس کو سزا دینے کے لئے تیار ہو گئی اور فوراً ایک جمعیت اس کے مقابلہ کے لئے روانہ کردی مگر روسیوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ اٹھایا اور بطور خود ایک کاسکس ریجمنٹ داراب خان کی گرفتاری کے لئے بھیج دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی فوج اور روسی ریجمنٹ سے مڈبھیڑ ہو گئی اور علی خان کمانڈرِ افواجِ ایرانی شہید ہوئے۔ جب گورنمنٹ روس سے اس معاملہ میں استفسار کیا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ ان کو اس معاملے سے کچھ تعلق ہی نہیں مگر ان کی بدقسمتی سے کئی کاغذات ایسے دستیاب ہوئے جن میں اس معاملے میں ان کی شرارت و شرکت کا بین ثبوت موجود تھا۔ مثلاً پروانہ راہداری جو کہ روسی کرنل رکوزا نے داراب مرزا اور اس کے ہمراہیوں کو دیا تھا۔ جس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ سب شریف اور صلح پسند روسی رعایا ہیں اگر ان کو یا ان کے متعلقین کو کسی قسم کا ضرر پہنچے گا تو گورنمنٹ روس فوراً مخل ہو گی۔
ان پروانوں پر کرنل رکوزا کی مہر چسپاں ہے۔ ان دونوں واقعات کا انجام بخیر نہ ہوا تھا کہ ایک دوسری بلا ان موذی روسیوں کے ہاتھوں ایرانیوں پر نازل ہوئی، یعنی 1911ء میں ایک روسی فوج نے قصبہ ورمونی پر حملہ کیا اور نہایت بیدروی اور قصابی سے باشندگانِ قصبہ کو جو اکثر دہقان تھے بلا امتیاز زن و مرد و پیر و جوان قتل کر دیا اور رشید الملک کو رہا کر دیا جس کو کہ گورنمنٹ ایران نے بجرمِ بغاوت و نمک حرامی قید کر رکھا تھا۔ اس نرغے میں اخبارات مقتولین کی تعداد 60 بتلاتے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ سیکڑوں قتلِ عام ہو گئے۔ یہ چند واقعات جو اوپر بیان کیے گئے مشتے نمونہ از خروارے ہیں، اصل یہ ہے کہ جس روز سے پارلیمنٹ کی بنیاد قائم ہوئی آج تک ایسے ایسے صدہا حادثات ایران پر گزر چکے ہیں۔ اور ان سب کی صرف یہی غرض ہے کہ گورنمنٹ کو ایک لمحہ اندرونی انتظام کے لیے مہلت نہ ملے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہمیشہ گورنمنٹ ایران کی ساری قوت اور توجہ بیرونی فسادوں اور بغاوتوں کے روکنے اور روس اور انگلستان کی دھمکیوں کے جوابات دینے ہی میں صرف ہوئی اور جنوبی حصہ ایران میں امن کی کوئی خاطر خواہ صورت پیدا نہ ہو سکی۔ چند روز بعد ایک نیا قصہ درپیش ہوا۔ گورنمنٹ ایران کو کچھ روپیہ قرض لینے کی ضرورت ہوئی۔ روس اور انگلستان تو انتظار ہی میں تھے انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر قرضہ دینے کی خود ہی تحریک کی اور اپنے شرائط پیش کئے کہ گویا سارا ایران ان کے حوالہ کر دیا جائے اس وقت عام طور سے تمام دنیا کے مسلمانوں میں ہل چل مچ گئی۔ جابجا جلسے ہوئے اور بحث کی گئی کہ کیا ایران ان شرائط کو منظور کر لے گا؟ کیا سلطنت ایران اس طرح قرضہ لے کر اپنے ملک کو فروخت کر دے گی؟ ایران کو ایسا نہ کرنا چاہیئے! غرض ہزار ہا جلسوں کے رزولیوشن بھیجے گئے آخر کار ایران کو ایک لخت ان شرائط پر قرضہ لینے سے انکار ہی کرنا پڑا۔
دو ماہ بعد ایرانیوں نے ایک انگریزی کمپنی SALIGMANN سے قرضہ کے متعلق خط و کتابت شروع کی۔ معاملہ تقریباً طے ہو چکا تھا۔ کمپنی ضمانت کے طور پر شاہی جواہرات رکھنے پر راضی ہو گئی تھی۔ مگر افسوس پھر یہاں ایک صلح پسند اور ایک خونخوار قوم یعنی انگلستان اور روس نے بنے بنائے معاملہ کو بگاڑ دیا اور گورنمنٹ ایران کو مجبور کیا کہ شاہی جواہرات ضمانت میں نہ دیے جائیں۔ ایران میں اب دو اقوام کے مقابلہ کی قوت کہاں تھی۔ جبر گو فہراً خاموش ہونا پڑا۔
25 اگست 1910ء میں روس نے چند مزید اختیارات کا مطالبہ کیا اور یہ دھمکی دی کہ جب تک ایران میں مزید اختیارات حاصل ہوں گے روسی فوج سرزمین ایران سے ایک قدم نہ ہٹے گی۔
انہیں ایام میں روس اور انگلستان کے سفیروں کا تبادلہ کیا گیا۔ گورنمنٹ انگلستان نے لارڈ ہارڈنگ جو بر حال وائسرائے ہند ہیں ایران سے ہندوستان روانہ کر دیا اور ان کے بجائے سر آرتھر نکلس کو مقرر کیا اور گورنمنٹ روس نے مسٹر پاکٹ ناف (جو ایک جبر پسند شخص ہے) سفیر ایران بنا کر طہران روانہ کیا۔
اس نے آتے ہی ال ٹیمیٹم2 کا سلسلہ جاری کیا، اور دو الٹی میٹم یکے بعد دیگرے ماہِ نومبر 1910ء میں گورنمنٹ ایران کو دیے۔ ادھر روسی فتنہ برپا کر رہے تھے۔ ادھر سفیر انگلستان نے بھی ان کے قدم بقدم چلنا شروع کیا اور خود بھی ایک ال ٹیمیٹم دے دیا کہ یا تو جنوبی ایران میں امن قائم ہو ورنہ انگریزی فوج اس کے لیے بھیجی جائے گی۔ ایرانی گورنمنٹ کو اس سے قدرتاً بہت پریشانی ہوئی۔ ادھر روسیوں کا دباؤ ادھر انگلستان کی دھمکی اور پھر شاہ معزول اور اس کے ہمراہیوں کی سازشیں۔ غرض ایران نے اس سراسیمگی اور بیکسی کی حالت میں قیصر جرمنی سے درخواست کی کہ، ”آپ حامیِ اسلام کہے جاتے ہیں، براہِ مہربانی اس وقت مدد کیجیے“۔ اس سے ایران کو تو کچھ فائدہ نہ پہنچا مگر جرمنی کو ضرور موقع ہاتھ آگیا کہ روس اور انگلستان پر دباؤ ڈال کر خود چند اختیارات ایران میں حاصل کر لے اور ایسا ہی اس نے کیا۔ یہ تمام واقعات ایران کی موجودہ حالت سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔ اب حال کی داستان سنیے۔
29 اکتوبر 1910ء کو حسین قلی خان وزیر خارجیہ نے جو ایک نایت قابل مدبر ہے۔ انگلستان اور روس کے سفیروں کو اطلاع دی کہ شاہ معزول نے چند قبائل ترکمان سے پوشید سازشیں شروع کی ہیں اور اس کے چند کاغذات بھی دستیاب ہوئے ہیں جن سے عہدنامہ مورخہ 25 اگست 1909ء کی خلاف ورزی ثابت ہے لہذا گورنمنٹ ایران جب تک کل حالات سے واقف نہ ہو جائے اور اس کا پورا تصفیہ اور انتظام نہ کر لے تب تک شاہ کا مقررہ وظیفہ نہ دے گی۔ دونوں سفیروں نے اس کے جواب میں وہ حرکت کی جس کی مثال غالباً تاریخ دنیا میں کہیں نہ ملے گی۔ انہوں نے صرف اپنی نارضامندی ہی ظاہر نہیں کی بلکہ حسین قلی خان کے گھر چند غلام بھیج دیے اور ان سے یہ تاکید کر دی کہ جب تک شاہ معزول کا وظیفہ وصول نہ کر لیں حسین قلی کا پیچھا نہ چھوڑیں۔ ان بدذاتوں نے حسین قلی خان کو اس قدر تنگ کیا کہ ان کو دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اور اس پر لطف یہ کہ سر ایڈورڈ گرے وزیر خارجیہ انگلستان نے اپنے ایک اسپیچ میں اس جابرانہ حرکت کو ”ایرانی رسم رواج“ کہہ کر ٹال دیا۔ غرض اس تمام جھگڑے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سفیران روس اور انگلستان پر حسین قلی خان کی ایمانداری اور قومی ہمدردی ظاہر ہو گئی اور دونوں نے ان کی بیخکنی کا عزم بالجبر کر لیا اور ایسا تنگ کیا کہ یہ غریب مجبوراً 27 دسمبر 1910 کو اپنی خدمت سے مستفی ہو گئے۔
