اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

شیخ حبیب اللہ صاحب کے نام

خط (1) — 25 مئی 1887ء

قبلہ ام، تسلیم!1

گو میرا قلم، خامۂ نقاش کی ہمسری کرے جس سے میں اس عجیب و غریب مقام (نینی تال2) کی پوری تصویر کھینچ سکوں، تاہم مجھ کو یہ امید نہیں کہ اس کوشش سے عزیزانِ وطن کو جو میرے خط پر آنکھ لگائے بیٹھے ہوں گے اپنے شوق و انتظار کا صلہ مل جائے گا۔

میں بے تکلف تسلیم کرتا ہوں کہ نینی تال ایک عجیب اور حیرت انگیز مقام ہے، لیکن اگر ’’تعجب انگیز‘‘ اور ’’دلچسپ و فرحت زا‘‘ ہونا دو جداگانہ چیزیں ہیں تو مجھ ایسے ایشیائی خیال کے آدمی سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ میں اس کو ’’فرحت زا‘‘ بھی مان لوں گا، ہاں جو لوگ انگریزوں کی ہر ادا پر جان دیتے ہیں، ان کا مذہب کیا پوچھنا

ہر چہ آید در دلم غیر تو نیست

ترجمہ میرے دل میں جو کچھ بھی آتا ہے، تیرے سوا کچھ نہیں۔

اب حالات سنئے۔

کاٹ گودام تک ریل ختم ہوتی ہے اور پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، کاٹ گودام سے نینی تال 12 میل ہے، مگر تمام راستہ قدرتِ الہی کی نیرنگی و عظمت کا مرقع ہے، عرض میں پانچ چھ ہاتھ زمین چھوٹی ہوئی ہے، جس پر رستہ چلتا ہے، باقی ایک طرف پہاڑ کی وہ ہیبت ناک دیوار ہے، جس کی طرف دیکھنے سے نگاہ کانپ جاتی ہے، دوسری جانب نہایت عمیق ہولناک غاروں کا سلسلہ ہے اور اگر اس پہاڑ میں سخت سردی نہ ہوتی تو یہ غار بڑے بڑے اژدر اور موذی جانوروں کے دار السلطنت ہوتے، نینی تال جب تین میل رہ جاتا ہے تو پہاڑ کی چڑھائی شروع ہوتی ہے، سطحِ زمین سے اس مقام کا ارتفاع تین میل سے کم نہیں مگر اس کج و پیچ سے راہ نکالی ہے کہ بے اختیار انگریزوں کی ہمت پر آفریں کی صدا بلند ہوتی ہے، آپ خود خیال کر سکتے ہیں کہ جو کوٹھا تین میل کا اونچا ہوگا اس کے زینے کیسے پر پیچ اور دشوار گذار ہوں گے، کوئی شخص کیسا ہی بے حس یا مستقل دل رکھتا ہو، یہاں پہنچ کر ممکن نہیں کہ حیرت کے صدمہ سے بچ سکے، تال جو ایک میل سے زیادہ لمبا ہے، یہ ایک نہایت گہرا غار تھا جس کی تھاہ اب بھی غیر معلوم ہے، اس میں مدت سے قدرتی چشموں کا پانی گرتا ہے اور اب وہ بھر گیا ہے اور تال کے لقب سے ممتاز ہے، شام کو اس کے کنارے میموں اور مسوں کا مجمع ہوتا ہے اور وہ مختلف طرح کے کھیل کھیلتی ہیں، سامنے ایک میدان ہے، جس میں انگریز کرکٹ کھیلتے ہیں، یہ سب کچھ ہے مگر چوں کہ اس کے دونوں طرف پہاڑ کی نہایت اونچی دیواریں کھڑی ہیں، مجھ کو یہ جگہ ہر طرف سے نہایت بند اور گھٹی ہوئی معلوم ہوئی، مجھ کو یقین ہے کہ جو شخص صحرائیت اور فضائیت کا دلدادہ ہے میرے دعوی کی شہادت پر فوراً آمادہ ہوگا، جس کوٹھی میں میں ہوں بہت بلندی پر نہیں ہے، تاہم دو دن کی مشق میں نیچے تک پہنچنے اور واپس آنے میں میرا دم ٹوٹ جاتا ہے اور کئی جگہ ٹھہرنا پڑتا ہے، ہر ایک کوٹھی سے انگریزوں کی بے روک ہمت اور پر جوش محنت کی شہادت ملتی ہے، یہاں جو کچھ آرام ہے صرف یہ ہے کہ کسی وقت یہاں آفتاب کی عملداری نہیں ہونے پاتی، یہ بات ہے جس کے لیے انگریزوں نے لاکھوں کروڑوں روپے صرف کر دیے ہیں، درحقیقت ہم کو انگریزوں سے سبق سیکھنا چاہئے کہ صحت سب چیزوں پر مقدم ہے اور کوئی کام دنیا میں ناممکن نہیں، رمضان تو خوب گذرے گا مجھ کو اگر کچھ دلچسپی ہے تو اسی سے، جس کوٹھی میں میں ہوں سید صاحب کے حقیقی بھتیجے بھی مع اہل و عیال کے تشریف فرما ہیں اور مجھ کو بھی مشکل سے جگہ ملی، یقیناً اگر میاں محمد آتے تو نہایت تکلیف اور سید صاحب پر بار ہوتا، تحریر فرمائیے کہ مدرسہ کے لیے کیا ہوا، منشی جی نے رقعہ لکھایا نہیں، میرا خط محمد سمیع کو عنایت ہوتا کہ تمام لوگ یہاں کے حالات سے مطلع ہو سکیں، میرا پتہ یہ ہے۔

نینی تال، کوٹھی نمبر 160، ایڈونیسٹو ایاریاٹا فرودگاہ سید احمد خاں

شبلی نعمانی

25؍ مئی 1887ء


خط (2) — 5 جون 1892ء

از قسطنطنیہ

قبلہ ام! تسلیم

میں بفضلہ اچھا ہوں، اب میں ایک دوسرے مکان میں اٹھ آیا ہوں جو نہایت خوش منظر ہے، تمام ضروریات کا جامع ہے، کرایہ زیادہ تھا مگر بغیر اس کے چارہ نہ تھا، یہاں کے حالات خط میں نہیں سما سکتے، اس لیے اس کو سرے سے موقوف رکھتا ہوں، افسوس ہے کہ یہاں بجز ترکی زبان کے کسی اور زبان کا رواج نہیں، تمام چیزوں میں دقت پیش آتی ہے اور اکابر کی ملاقات تو بالکل بے معنی ہوتی ہے، نہ وہ میری سمجھتے ہیں نہ میں ان کی۔

کتابیں یہاں عجائب و غرائب ہیں، لیکن حسرت کے سوا کچھ حاصل نہیں، نہ نقل ہو سکتی ہیں نہ حافظہ ان کے لیے کافی ہے، میں ہر روز دو تین میل پیادہ سیر کرتا ہوں، کیوں کہ کتب خانے دور دور واقع ہیں، یہ سیر صحت کے لیے بہت مفید ہے، ترکی پڑھنی میں نے شروع تو کی ہے دیکھئے پوری بھی کر سکتا ہوں یا نہیں، یہاں بعض بعض ہندوستانی بھی ہیں اور سرکاری عہدوں پر مامور ہیں، لیکن تنخواہیں کم ہیں، یہاں تنخواہیں عموماً کم ہوتی ہیں، چونکہ میں زیادہ قیام کرنا نہیں چاہتا، اس لیے خط بھیجنے میں مطلق تاخیر نہ ہونا چاہئے، ورنہ مجھ کو نہیں مل سکے گا، 20-22 دن میں خط پہنچتا ہے۔

ماموں صاحب سے فرما دیجئے کہ آج کل یہاں عینی بخاری کی شرح چھپ رہی ہے، 9 جلدیں چھپ چکی ہیں، نہایت عمدہ چھپ رہی ہیں، میں خیال کرتا ہوں کہ بعض تحقیقات اس میں ایسی ہیں جو فتح الباری میں نہیں مل سکتیں، قیمت ابھی متعین نہیں ہوئی، ایک مشترک کمپنی ڈیڑھ دو لاکھ سرمایہ کی ہے، جس نے ایک عظیم الشان مطبع قائم کیا ہے، اسی میں یہ کتاب چھپ رہی ہے، اس مطبع میں تمام کام انجن اور کلوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔

یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھ کو بہت پسند آئی، ہر کالج کا خاص لباس ہے اور کوٹ پر گریبان کے قریب ہر کالج کا نام لکھا ہوتا ہے، مجھ کو یہ بات نہایت پسند ہوئی، ہمارے کالج میں یہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا، سید صاحب قبلہ بغیر کسی پس و پیش کے کالج کا ایک خاص لباس قرار دیں تو بہت اچھا ہے۔

جناب سلطان المعظم ہر جمعہ کو مسجد حمیدیہ میں تشریف لاتے ہیں اور وہ نہایت عمدہ نظارہ ہے، کہتے ہیں کہ عید کے دن عجیب سماں ہوتا ہے، خدا سے امید ہے کہ میں دیکھ سکوں، میں یہاں دو تین مہینہ سے زیادہ ٹھہرنا نہیں چاہتا، اس کے بعد ان شاء اللہ طرابلس اور دمشق کی سیر کر کے قاہرہ جاؤں گا اور وہاں چند روز قیام کروں گا۔

اگرچہ میری امیدیں مسلمانوں کی ترقی و قوت کی نسبت بالکل برباد ہو گئی ہیں، کیوں کہ یہاں کی حالت وہاں سے کچھ اچھی نہیں، تاہم سفر بے شبہ ضروری تھا، جو اثر اس سفر سے میرے دل پر ہوا وہ ہزاروں کتابوں کے مطالعہ سے نہیں ہو سکتا تھا، مجھ کو معلوم ہوا کہ انسان جب تک دنیا کے بڑے بڑے حصے نہ دیکھے انسان نہیں ہو سکتا، افسوس ہے ان لوگوں پر جن کی تمام عمر ایک مختصر سی چار دیواری پر بسر ہو جاتی ہے۔

میرے نام اس پتہ سے خط بھیجنا چاہئے، قسطنطنیہ، باب عالی ادارۂ اختر، لیکن لفافہ پر انگریزی اور عربی دونوں خط میں ہونا چاہئے، میرے تمام احباب و اعزہ کو سلام و نیاز، میاں محمد اسحاق3 کا نام معلوم نہیں کہ درجِ امیدوارانِ منصفی ہو گیا یا نہیں، جواب خط میں کالج کے نتیجۂ امتحان کی تفصیل ضرور ہو، یہ خط یا اس کی نقل سید صاحب قبلہ کو بھیج دی جائے، جناب موصوف کی خدمت میں عرض ہے کہ علی گڈھ گزٹ میرے نام جاری کر دیں۔

والسلام

شبلی نعمانی

قسطنطنیہ، جادۂ باب عالی معرفت ادارۂ اختر

5؍ جون 1892ء


خط (3) — 15 جون 1892ء

قبلہ ام!

ایک خط خدمتِ عالی میں روانہ کر چکا ہوں، سید صاحب کو آج کی ڈاک میں ایک خط لکھا ہے، وہ بھی آپ کو ملے گا۔