اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

شیخ حبیب اللہ صاحب کے نام

میں حسین آفندی سے ملا، پہلے سفیر بمبئی تھے اور اب یہاں محکمۂ پولیس کے افسر کل ہیں، مل کر نہایت خوش ہوا، ان کے اخلاق نے مجھ کو نہایت گرانبار کر دیا ہے اور میں کسی قدر سبکدوش ہونا چاہتا ہوں، اس لیے عرض ہے کہ نہایت اہتمام، نہایت تلاش اور جد و جہد کے ساتھ نظام آباد4 کے برتن ارسال فرمائیے، کسی ہوشیار شخص کو نظام آباد بھیجئے، جو وہاں کے کسی رئیس کی معرفت فرمائشی بنوا کر لائے، یہاں ہندوستان کے ظروف گِلی آتے ہیں مگر اچھے نہیں آتے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو لکھنؤ کی چکن کا ایک تھان مگر نہایت عمدہ فردی بوٹیاں ہوں، نہایت باریک اور نازک کام ہو اور 30؍ روپے سے کم قیمت کا نہ ہو، خواجہ عزیز الدین5 صاحب کی معرفت اگر خریدا جائے تو غالباً اچھا ہوگا، میں یہاں آخر اگست تک رہوں گا، اس وقت تک آ جائے، یہ بھی نہ ہو تو مراد آباد کا کوئی برتن مگر نہایت عمدہ، غرض کوئی نادر چیز ضرور بھیجئے۔ والتسلیم

شبلی

قسطنطنیہ، ادارۂ معارف، باب عالی

15؍ جون 1892ء


خط (4) — 19 جون 1892ء

قبلہ ام!

آج میں نے ’’عجیب دلآویز‘‘ خواب دیکھا ہے، ’’عجیب‘‘ اس لیے کہ دوپہر کا وقت تھا اور آنکھیں بیدار تھیں، اور ’’دلآویزی‘‘ کی یہ کیفیت ہے کہ جاگے ہوئے مدت ہو چکی ہے اور اب تک آنکھوں میں وہی سماں پھر رہا ہے، مفصل سنیئے: آج جمعہ کا دن تھا اور معمول کے موافق موکبِ سلطانی کا نظارہ گاہ تھا، میں بھی ہمہ تن شوق بن کر گیا، جامع حمیدیہ میں داخل ہوا، سلطان المعظم بڑی شوکت و شان سے آئے، لیکن میں کچھ دیکھ نہ سکا، کیوں کہ یہ سیر صرف ان لوگوں کو نصیب ہو سکتی ہے جو گذرگاہِ سلطانی پر پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور پھر نماز کے ختم ہونے تک جگہ سے حرکت نہیں کر سکتے۔

محلِ سلطانی سے تھوڑی دور کے فاصلے پر ایک نہایت پر تکلف جامع مسجد ہے، جو سلطان کے نام سے حمیدیہ مشہور ہے، اس گذرگاہ میں ایک مکان ہے اور دور دور ملکوں سے آئے ہوئے معزز سیاح یا عہدہ دار جو موکبِ ہمایونی کی سیر کرنا چاہتے ہیں، وہ کسی معزز شخص کے ذریعہ سے اجازت حاصل کرتے ہیں اور اس مکان کی چھت پر بیٹھ کر یہ تماشا دیکھتے ہیں، اس کے سوا اور کوئی تدبیر نہیں ہے، کیوں کہ سواری کے وقت دور تک چاروں طرف فوج کا دائرہ ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا، حسین حبیب آفندی6 (سابق سفیر بمبئی) نے مجھ کو اجازت دلانے کا وعدہ کیا تھا مگر اتفاق سے وہ دیر میں آئے، ادھر سواری کا وقت قریب آیا اور طرقوا اور دور باش7 کی صدائیں بلند ہونے لگیں، مجبوراً میں مسجد میں داخل ہوا اور صفِ اول میں جا کر بیٹھا، سلطان کی گاڑی زینہ تک آتی ہے اور وہ اتر کر فوراً مسجد کے بالائی حصہ پر جہاں نہایت مقرب اور مخصوص لوگوں کے سوا کوئی نہیں جا سکتا تشریف لے جاتے ہیں، وہاں ایک مقصورہ ہے، جس کا دروازہ منبر کے بائیں طرف ہے، یہ سلطان کی نماز کی جگہ ہے، جب سلطان تشریف لاتے ہیں تو اطلسی پردے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور کوئی شخص ان کو دیکھ نہیں سکتا، خطیب نے جب سلطان کے مقصورہ کی طرف نگاہ اٹھا کر بڑے جوش سے یہ کہا کہ اللھم انصر مولانا السلطان السلطان الغازی عبد الحمید خان‌اے اللہ! ہمارے آقا سلطان، سلطان غازی عبد الحمید خان کی مدد فرما تو میرے بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور دیر تک دل کا یہ حال رہا کہ امڈا چلا آتا تھا، خطیب نے پہلے صحابہؓ کا نام پڑھا اور سلطان کا نام آیا تو ایک زینہ اتر آیا تاکہ ظاہر ہو کہ سلطان اگرچہ آج ظل اللہ ہیں تاہم ان کا رتبہ حضرت صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے کچھ نسبت نہیں رکھتا، نماز کے بعد حسین آفندی نے اتفاقاً مجھ کو دیکھ لیا اور مسجد کے صحن میں جہاں پاشا اور سردارانِ فوج حلقہ باندھے کھڑے تھے لے جا کر کھڑا کر دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ ان سے کوئی تعرض نہ کرے، سلطان مقصورہ سے اتر کر زینہ کے قریب پردہ کے اوٹ میں بیٹھے اور فوجیں سامنے سے گذرنی شروع ہوئیں، دو گھنٹہ کامل ایک عجیب تماشا نظر آتا رہا، قریباً دس ہزار فوج تھی، مختلف رسالے اور ہر رسالے کے تمام ساز و اسلحہ جدا جدا تھے، میں کیا کہوں، ترکی جوانوں کی دلیرانہ مورتیں، چمکتے ہوئے اسلحہ، موزوں اور باقاعدہ رفتار، گھوڑوں کی جست و خیز، پاشاؤں کا زرکار لباس، جگمگاتے ہوئے تمغے، عجیب سماں تھا جو کسی طرح بیان نہیں کیا جا سکتا، اخیر میں دونوں شہزادے آئے، بڑے کی عمر نو دس برس کی ہے، لیکن جس شان و شوکت سے وہ گھوڑے پر سوار تھا، بڑے بڑے دلیروں کے وہ تیور نہیں ہو سکتے، فوجیں گذر چکیں تو سلطان گاڑی پر سوار ہوئے اور ہمارے سامنے سے گذرے، سواری مقابل آئی تو تمام حلقہ نے رکوع کے قریب جھک کر سلام کیا، سلطان دونوں ہاتھوں سے ان کا جواب دیتے تھے، یورپ کے اکثر معزز اشخاص یہ تماشا دیکھنے آئے تھے، حالانکہ یہ معمولی چیز ہے اور ہر جمعہ کو ہوتی ہے، عید کے دن کہتے ہیں کہ قیامت کا سماں ہوتا ہے، خدا وہ دن بھی دکھلائے۔

شبلی نعمانی

قسطنطنیہ

19؍ جون 1892ء