جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سلطان محمود اور فردوسی

مولوی شبلی مغفور کا قول ہے کہ ”جو بات جس قدر زیادہ مشہور ہوتی ہے۔ وہ اُسی قدر غلط اور خلاف واقعہ بھی ہوتی ہے؟“

شاید یہ اصول ہر جگہ صحیح نہ ہو۔ تاہم یہ امرِ واقعہ ہے کہ صفحات تاریخ میں ایسے بیانات کی تعداد کچھ کم نہیں ہے۔ چنانچہ غزنوی سلطان اور فردوسی کا مشہور افسانہ بھی اسی قبیل سے ہے۔ جس کی تحقیقات ہم آج کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں فرؔدوسی کی حیات پر بھی سرسری نظر ڈال جائیں گے تا کہ اس کی سیرت ہمارے ذہن نشین ہو سکے۔

نام ابو1القاسم بن اسحاق مولد و وطن شاداب (طوس)۔ اُس کا باپ زمیندار اور حاکم طوس کے ”چار باغ“ میں خدمت باغبانی پر مامور تھا۔ شاید اُس نے اِسی نسبت سے یہ تخلص پسند اور اختیار کیا۔

فردوسی نے ملکۂ سخن آفرینی۔ خدا داد پایا۔ چنانچہ وہ بچپن ہی سے شعر موزوں کر کے الشعراء تلامیذ الرحمٰن کا ثبوت دینے لگا۔ کھیت، باغ، چمن، میدان، ٹیلے اور پہاڑ۔ اس کی جولانگاہ اور طائرانِ نغمہ سنج ہمصفیر بنے۔

مولوی آزاد لکھتے ہیں کہ

”اگرچہ اس کی طبیعت کو خالص انسانیت نے شائستگی دی تھی اور امیروں کی صحبت اور درباری تکلفات سے محروم رکھا تھا لیکن خوبی اس میں یہ ہوئی کہ اُن کی خود آرائی۔ اور ظاہر نمائی کے دھبوں سے بچ گیا! اس سے بڑھ کر یہ کہ زورِ طبع اُس کا، صحرا کے خلوت خانہ میں۔ اپنے تئیں آپ ورزش دیتا رہا۔ غیروں کے کام۔ اس کے کلام کے لیے نمونہ ہوئے۔ بلکہ علم کی اصطلاح۔ اور مصنوعی تکلّف اس کے لکھے کو قلم نہ چھوا سکے“۔

کلام فردوسی کی خوشبو شاداب میں خوب پھیلی۔ حتٰی کہ وہ مشہور شعراء کے زمرہ میں شمار ہونے لگا۔ امیر طوس ابو منصور محمد اُس کا مربّی بن گیا۔ ان دنوں سلطان غزنوی کی شان و شوکت اور علم پروری کی روایات و حکایات ایشیا بھر میں افسانوں کی طرح زبان زد خالص و عام تھیں۔ اس کا دربار مرجع شعرا بنا ہوا تھا۔ پس فردوسی نے بھی امیر طوس کی ترغیب و تحریص سے عزمِ غزنی کیا۔

اُس نے یہ بھی سنا تھا کہ غزنی کے شاہی خاندان کو شاہان عجم کی نظم تاریخ کا شوق ہے اور دقیقی کی قبل از وقت موت نے یہ سلسلہ ناتمام چھوڑ دیا تھا۔ پس فردوسی نے پہلے اپنا امتحان وطن ہی میں کیا اور خود ہی کیا۔ چنانچہ اُس نے زوالِ جؔمشید اور عروجِ ضؔخاک کے واقعات نظم کر کے اپنے احباب کو سُنائے تو انہوں نے پسند کر کے خوب داد دی۔ جس سے فؔردوسی کی طبیعت اور ہمّت بڑھ گئی حتیٰ کہ وہ بسم اللہ مجریہا کہتا ہوا وطن سے چل دیا اور غزنی جا پہنچا۔

مولوی آزاد لکھتے ہیں

”وہاں (غزنی میں) فؔردوسی کی ملاقات عؔنصری شاعر سے ہوئی۔ محمود مدّت سے نظم شاؔہ نامہ کی فرمائش (عنصری سے) کر رہا تھا اور وہ ٹالتا تھا۔ اب فؔردوسی اور اس کے کلام کی شان و شوکت کو مناسبِ حال دیکھا (تو فردوسی) سے کہا کہ چند شعر بادشاہ2 کی تعریف میں کہہ لو۔ اور چل کر دربار میں سُناؤ! فردوسی نے اسی زمین میں کچھ اشعار لکھے۔

الغرض فردوسی دربار محمودی میں پہنچا۔ اور اُس نے مدحیہ اشعار سرِ دربار پڑھے جن میں سے چند حسب ذیل ہیں۔

ز یزداں بر آن شاہِ باد آفریں

کہ نازد با اُو تخت و تاج و نگیں

ترجمہ خدا کی طرف سے اُس بادشاہ پر آفریں ہو ۔ کہ جس (کی ذات) پر تخت، تاج اور نگینہ بھی ناز کرتے ہیں ۔

جہاں وار محمود شاہِ بزرگ

بہ آبشخور آرد ہمے شیر و گرگ

ترجمہ جہاندار محمود ایک عظیم بادشاہ ہے ۔ وہ (اپنے عدل سے) ہمیشہ شیر اور بھیڑیے کو ایک ہی آبخور (پانی پینے کی جگہ) پر لاتا ہے ۔

جہاں آفریں۔ تاجہاں آفرید

چو او مر زبانے نیامد پدید

ترجمہ جب سے جہان کے خالق نے جہان کو پیدا کیا ہے ۔ اس جیسا کوئی صاحبِ کلام پیدا نہیں ہوا۔

زکشمیر تا پیش دریائے چیں

بر و شہر یاراں کند آفریں

ترجمہ کشمیر سے لے کر دریائے چین تک۔ تمام بادشاہ اس کی تعریف کرتے ہیں ۔

چوکودک لب از شیر مادر بششت

بگہوارہ محمود گوید نخست

ترجمہ جب بچہ ماں کے دودھ سے اپنے ہونٹ دھو لیتا ہے ۔ تو گہوارے میں سب سے پہلے 'محمود' کہتا ہے ۔

یہ بزم اندر او آسمان و قاست

بہ رزم اندر او شیر جنگ آزما ست

ترجمہ محفل میں وہ آسمانی وقار کا مالک ہے ۔ میدانِ جنگ میں وہ ایک جنگجو شیر ہے ۔

بہ تن زندہ پیل وبہ جاں جبرئیل

بہ کف ابر بہمن بہ دل روز نیل

ترجمہ وہ تن میں زندہ ہاتھی (جیسا قوی) اور جان میں جبرئیل (جیسا پاک) ہے ۔ اُس کا ہاتھ بہمن کے بادل (کی طرح سخی) اور دل دریائے نیل (کی طرح وسیع) ہے ۔

فؔردوسی نے اس کے بعد رسؔتم و اؔسفند یار کی نظم داستان سُنائی جو اُس نے طؔوس ہی میں موزوں کی تھی۔ تمہید ملاحظہ ہو۔

کنوں خورد باید مئے خوشگوار

کہ مے بوئے مہ آید از جوئے بار

ترجمہ اب خوشگوار شراب پینی چاہیے ۔ کیونکہ بارش کی ندی سے مہینے (یعنی بہار) کی خوشبو آ رہی ہے ۔

ہوا پُر خروش و زمیں پُر ز جوش

خنک آنکہ دل شاد دارد ز نوش

ترجمہ ہوا (فضا) شور سے بھری تھی اور زمین جوش و جذبے سے پُر تھی۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو پینے (شراب نوشی) سے اپنا دل خوش رکھتا ہے۔

درم دارد و نقل و نانِ نبید

سرِ گوسفندے تواند برید

ترجمہ اُس کے پاس درہم (دولت)، گزک، روٹی اور شراب ہے ۔ وہ ایک بھیڑ (یا دنبہ) ذبح کر سکتا ہے ۔

پروفیسر آزاد لکھتے ہیں کہ

”اُس کی نظم کے دبدبہ سے دربار گونج اُٹھا۔ مؔحمود بہت خوش ہوا نظم شاہ نامہ کے لئے حکم دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک خانہ باغ اپنے حرم سرا کے زیر سایہ وہیں انواع و اقسام کے ہتھیار۔ شاہان سلف کے دربار اور مشہور معرکوں کے مرقع۔ عجیب جانوروں کی تصویریں سجا کر ایک عجائب خانہ مرتب کر دیا‘‘۔

سلطان نے فؔردوسی کا مشاھرہ مقرر کر دیا۔ اور وہ غزنی میں قیام کر کے نظم شاہ نامہ کی تحریر میں مصروف ہوا۔

دربار کے دیگر شعرا

حکیم عؔنصری، منؔوچہر بلغی، فرخی، اؔسدی، طوسی دقیقی وغیرہ شعرا بھی دولت غزنی سے وابستہ اور سلطانی دربار کے گویا نورتن تھے۔ یہ دربار علماء فضلا اور شعرا کا مرجع بنا ہوا تھا۔ اہل علم کی طبایع بیش تر سخن وری ہی کی طرف مائل تھیں۔ چنانچہ محمودی دربار میں چار سو سے کم شاعر نہیں تھے۔

حکیم عنؔصری (المتوفی 431ھ) دربار محمودی کا ملک الشعراء تھا۔ اور اس نے امیر سبکتگین کا زمانہ بھی دیکھا تھا۔ اسے امیر الامرائی اور مصاحبت خاص کے مناسب جلیلہ بھی حاصل تھے۔ اُسے کم و بیش چار سو ہمعصر شعرا اُستاد مانتے تھے۔ حتّٰی کہ خود منؔوچہر نے بھی (جو خود اُستاد تھا) اپنے قصائد میں اُس کے شاگرد ہونے کا اشارہ کیا ہے۔ تیس ہزار اشعار اُس کی یادگار بتائے جاتے ہیں۔ لیکن کُل کلام، اب ایران میں بھی نہیں پایا جاتا اُس نے (بقول شمس العلماء آزاد) زبان فارسی میں ایسی اصلاح کی ہے کہ اپنی نظم دو سو برس آگے بڑھا کر اُسے شعرائے طبقہ دوم سے ملا دیا ہے۔

مؔنوچہر بلخی (341ھ) منوچہری۔ درامغانی (بلخ) دربار محمودی کا دوسرے درجہ کا شاعر تھا۔ عنصری کے بعد اُسی کا نمبر تھا۔ امارت و مصاحبت کے اعزاز حاصل تھے۔ اُس نے زیادہ تر قصائد ہی لکھے مگر ان میں قدیم الفاظ و محاورات زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔

فرؔخی (المتوفی 429ھ) یہ بھی دربار محمود کا سر بر آوردہ شاعر تھا جس کی شہرت عنؔصری سے کم نہیں تھی اُس نے اور اس کی شاعری نے سیستان میں نشونما پائی تھی۔ اُس نے پہلے امیر بلخ کے دربار سے توسل پیدا کیا اور پھر اُسی امیر کے ذریعہ محمودی دربار میں پہنچا۔ اس کے کلام میں اصالت زبان، اور قدرت کلام کے جوہر موجود ہیں۔ تاہم عربیّت کا رنگ غالب ہے۔

اسؔدی طوسی (المتوفی 465ھ) ابو نصر علی بن احمد نام تھا۔ یہ بے اختلاف اُستاد، اور کاملِ فن تسلیم کیا گیا ہے۔ فرؔدوسی نے اس کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔ لغاتِ فارسی سب سے پیشتر اسی نے مدوّن کی۔ زمانہ ما بعد کے لوگ اُس کے مقلد بنے۔ بڈھا اُستاد نوجوان دل رکھتا تھا۔

دقؔیقی (المتوفی 341ھ) نام اؔبو منصور محمد بن احمد۔ وطن بلخ (یا سمرقند) طبقہ اولٰے کا شاعر تھا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں دربارِ غزنوی میں پہنچا۔ دربار امیر نصر بن ناصر الدین سبکتگین میں زمزمہ سنجی شروع کی۔ بہاؔریہ، عاؔشقانہ اور مدحیہ رنگ میں طبع آزمائی کی۔ مولوی آزاد سخندان پارس میں لکھتے ہیں کہ

”معلوم ہوتا ہے کہ سبکتؔگین کے گھرانے میں شاہان عجم کی تاریخ کی مدت سے فرمائش تھی۔ کیونکہ دقؔیقی نے امیر نؔصر کی فرمائش سے اس نظم پر کمر باندھی تھی۔ مگر مسلسل نہیں (بلکہ) مختلف بادشاہوں کی حالات نظم کئے تھے کہ بد عملی نے دفعتاً نیک عمل سے محروم کر دیا۔ کمبخت غلام پر عاشق تھا وہ غیرت والا تھا۔ خنجرِ مردانگی سے مالک کو مار ڈالا۔ فرؔدوسی کہتا ہے کہ