جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سلطان محمود اور فردوسی

یکا یک ازو بخت برگشتہ شد

بدستِ یکے بندہ بر گشتہ شد

ترجمہ اچانک اس سے قسمت روٹھ گئی ۔ وہ ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا ۔

فرؔدوسی کا کلام اس کے کلام سے ممتاز ہے۔

اسی طرح کے چار سو شاعر دربار محمودی میں موجود تھے۔ کِس کِس کا تذکرہ کیا جائے۔ مگر ان میں سے ہر ایک قدر دانی کے زرّین رشتہ سے بندھا ہوا تھا۔

فرؔدوسی کوئی چار سال غزؔنی رہا۔ وہ گاہ گاہ سلطان کو اپنی جدید نظم کے حصص سنا آتا اور بیش بہا انعام (علاوہ مشاہرہ مقررہ) لے آتا تھا۔ اس کے بعد وہ سلطانی اجازت سے طؔوس گیا۔

جب فرؔدوسی طوس میں بیٹھ کر ہزار ابیات لکھ چکا تو خواجہ اؔحمد وزیر نے سلطانی حکم سے فرؔدوسی کو ہزار دینار بھیجے۔

پھر جب چہارم حصے کے قریب ”شاہ نامہ“ نظم ہو چکا تو اُس نے وہ سلطان کی خدمت میں پیش کیا بہت پسند آیا۔ اور فرؔدوسی نے بیش بہا انعام پایا۔

کچھ مدت بعد سلطانی دربار میں شکایت ہوئی کہ فرؔدوسی قرؔامطی عقائد رکھتا ہے روایت ہے کہ وزیر خواجہ اؔحمد بن حسن میمندی فرؔدوسی کا مربی تھا۔ مگر خواجہ اؔیاز سے اس کی نہیں بنتی تھی اور حقیقی بنائے شکایت یہی نا موافقت یا مخالفت تھی!

فرؔدوسی سے جواب طلب ہوا تو اُس نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور پھر یہ حسن تعلیل اشعار ذیل میں معذرت خواہ ہوا۔

چودر ملک سلطان کہ چرخش ستود

بسے ہست ترؔسا و گؔبر و یہؔود

ترجمہ اُس سلطان کی سلطنت میں جس کی آسمان نے بھی تعریف کی۔ بہت سے عیسائی، آتش پرست (گبر) اور یہودی بستے ہیں۔

گرفتند در ظلّ عدلش قرار

شدہ ایمن از گردش روزگار

ترجمہ اُس کے عدل کے سائے میں (سب نے) قرار پایا۔ اور زمانے کی گردش سے محفوظ ہو گئے ۔

چہ باشد کہ سلطان گردوں شکوہ

رہے کا شمار و یکے زاں گروہ

ترجمہ کیا عجب کہ وہ فلک مرتبت بادشاہ ۔ (مجھے بھی) اُس گروہ میں سے ایک شمار کر لے ۔

اگرچہ فرؔدوسی کا وظیفہ و مشاہرہ بحال رہا۔ مگر ظاہر ہے کہ دیندار سلطان کے دل میں اُس کی پہلی سی وقعت نہیں رہی ہو گی۔

آخرکار فرؔدوسی نے تیس سالہ جگر کاوی کے بعد ”شاہ نامہ“ مکمّل کیا جس میں ساٹھ ہزار اشعار تھے! کہتا ہے کہ

بسے رنج بُردم دریں سال سی

عجم زندہ کردم بدیں پارسی

ترجمہ میں نے ان تیس سالوں میں بہت رنج اٹھایا۔ (اور) اس فارسی (زبان) سے عجم کو زندہ کر دیا۔

جب مکمّل کتاب خدمت سلطانی میں پیش کی گئی تو سلطان اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوا حتّٰی کہ اُس کی زبان سے جوش مسّرت میں نکلا

بہ چشمم چو بکشود گنج گہر

کنوں پہلوانش دہم گنج و زر

ترجمہ چونکہ اُس نے میری آنکھوں کے سامنے (اپنے) جوہر کا خزانہ کھول دیا ہے ۔ اب میں اِس پہلوان کو مال و زر عطا کرتا ہوں۔

اب سلطان نے حکم دیا کہ فردوسی کو ایک بار فیل اشرفیاں دی جائیں لیکن اُس کے مخالف وزیر نے (یا امیر نے) شاعر کو ساٹھ ہزار درم دینے چاہے جو فرؔدوسی نے نہیں لئے اور آزردہ ہو کر چلا گیا۔

دوسری روایت یہ ہے کہ فرؔدوسی نے ساٹھ ہزار درم کھڑے کھڑے خدمت گاروں اور فقراء میں تقسیم کر دیئے۔

اس واقعہ کے کچھ مدت بعد دربار میں ایک لطیفہ ہوا۔ ایک گورنر سرکش ہو گیا تو اُسے تنبیہاً مراسلہ لکھا گیا۔ اس وقت سلطان وزیر خواجہ احمد مہمندی سے کہنے لگا کہ اگر جواب حسب مراد نہ آیا تو پھر کیا کِیا جائے گا! وزیر کی زبان سے دفعتاً نکلا۔

اگر نہ بہ کام من آید جواب

من و گرز و میدان و افراسیاب

ترجمہ اگر جواب میری مرضی کے مطابق نہ آیا۔ تو پھر میں ہوں، میرا گرز، میدان (جنگ کا)، اور افراسیاب (آمنے سامنے ہوں گے)۔

یہ شعر فرؔدوسی کا تھا۔ جسے سُن کر سلطان بےحد متاثر ہوا حتٰی کہ فرؔدوسی کا قصور معاف کر دیا۔ اور اسے ہزار دینار بھی بھجوائے لیکن جب شاہی کا رندے روپیہ لے کر طؔوس پہنچے تو لوگ فرؔدوسی کا جنازہ قبرستان لے جا رہے تھے۔

واقعہ صرف اسی قدر ہے باقی افسانہ۔ اور افسانہ بھی بے سروپا۔ اور ایجاد متاخرین!

انگریز مؤرخ لیتھبرج صاحب بہادر، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ سلطان محمود کو شعر و سخن کا شوق تھا، سلطان شعرا کی بڑی قدر کرتا تھا، اور یہ کہ فرؔدوسی پر بادشاہ کی خاص نظر عنایت تھی، سلطان محمود کے حالات میں لکھتے ہیں کہ

”اس بادشاہ کے تذکرہ میں ایک اور مشہور قصّہ بھی قابل ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں ایک عیب بھی تھا یعنی بعض اوقات انصاف پر طمع غالب ہو جاتی تھی۔ بادشاہ نے فرؔدوسی کو ”شاہ نامہ“ لکھنے کا حکم دیا اور فی شعر ایک اشرفی عطا کرنے کا وعدہ کیا۔ فرؔدوسی نے بڑا خون جگر کھا کر ساٹھ ہزار اشعار لکھے محمود اتنے کثیر اشعار دیکھ کر اپنے وعدے سے پچھتایا۔ اور فرؔدوسی کو دونِ ہمتی سے صرف ساٹھ ہزار روپیہ (موعدہ انعام کا سولھواں حصّہ دینے لگا)۔ اس کو فرؔدوسی نے منظور نہ کیا اور ناراض ہو کر غزؔنی سے چلا گیا۔ کہتے ہیں کہ پیچھے محمود نے نادم ہو کر فرؔدوسی کے پاس پورا انعام بھیجا جو بعد وفات طؔوس پہنچا‘‘۔

اصل واقعہ پر اضافہ کا مفہوم صرف اسی قدر ہے کہ سلطان نے فی شعر ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا تھا مگر پورا نہیں کیا جس کا نتیجہ لؔیتھرج صاحب اور متاخر مؤرخین نے نکالا کہ

”سلطان میں بیشمار خوبیوں کے باوجود ایک عیب بھی تھا کہ بعض اوقات انصاف پر طمع غالب ہو جاتی تھی۔ سلطان پر دون ہمتی کا الزام بھی لگایا گیا ہے“۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ سلطان کا فرؔدوسی کو فی شعر ایک اشرفی دینے کا وعدہ کرنا بھی غلط اور اس سے انحراف بھی غلط! اور فرؔدوسی پر محؔمود کی ہجو گوئی کا الزام بھی خلاف واقعہ ہے۔

اور اس امر کے بیشمار ثبوت موجود ہیں۔

(1) یہ روایات متاخرین کی ایجادات یا اضافہ ہے۔ یعنی متقدمین کے کان بھی ان سے آشنا نہیں تھے۔

(الف) سلطان کے کسی ہمعصر مُورخ نے ان باتوں کا ذکر نہیں کیا۔

(ب) سلطان کی اولاد کے زمانہ کے مؤرخین نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا۔

(ج) اگر یہ کہا جائے کہ مؤرخین وابستگان دولت غزنویہ نے خوف یا طمع سے یہ واقعہ چھپایا تو پھر ہم ”منہاج سراج“ کی تاریخ ناصری پیش کریں گے! اس مؤرخ کا تعلق غوریوں سے تھا اور یہ بات ہر تاریخ داں جانتا ہے کہ غوری سخت ترین دشمن تھے غزنیوں کے!

پس اگر سلطان نے وعدہ اور پھر بد عہدی کی ہوتی تو اس کا ذکر طبقات ناصری میں ضرور کیا جاتا۔

(د) ہندوستانی مُورخ (ضیاء برنی) مصنف فیروز شاہی۔ نہایت ثقہ اور معتبر مُورخ اور ہر بات (اچھی ہو یا بُری) کھول کر بیان کرنے کا عادی تھا مثلاً وہ امیر خؔسرو دہلوی کے کمالات اور علاء الدین خلجی کی حکومت کی ناقدر دانی کی شکایت کرتا ہوا کہتا ہے کہ

”کاش امیر خؔسرو جیسا با کمال انسان عہد مؔحمود میں ہوتا اور فیاض و قدر دان سلطان انعام و اکرام و جاگیراتِ سیر حاصل سے امیر خؔسرو کو مالا مال کرتا“۔

ہم ضیائے برؔنی کے اس بیان سے دو نتائج اخذ کریں گے۔

(1) اس تاریخ کی تدوین کے زمانہ (عہدِ تغلق) تک سلطان کی بد عہدی اور ہجو وغیرہ کا اضافہ نہیں تراشا گیا تھا۔ بلکہ بعد کی ایجاد ہے۔

(2) سلطان محمود کی علم پروری و قدردانی کا شہرہ افغانستان اور ترکستان و خراسان سے نکل کر ہندوستان تک آ پہنچا تھا۔

(3) ہم نے واقعات میں لکھا کہ سلطان نے فرؔدوسی کو ایک بار فیل زر دینے کا حکم دیا۔ لیکن وزیر یا کسی اور درباری کی مخاصمت سے فرؔدوسی کو رقم نہیں ملی۔

ہم نے یہ بھی لکھا کہ فرؔدوسی کے بد مذہب ہونے کی شکایت کی گئی! مگر یہ باتیں محض خیالی یا قیاسی نہیں بلکہ ایک قلمی تاریخ سے ماخوذ ہیں۔

یہ تاریخ نویں صدی ہجری کی تصنیف ہے اور اس کا نام ہے ”تالیف التذکرہ“! یہ کتاب میاں وڈا صاحب کے کتب خانہ (واقعہ حصار پخاب) میں موجود ہے۔

(3) تاریخ فرشتہ ایک معتبر اور معتمد تاریخ ہے جس کے متعلّق فاضل لیتھبرج کی رائے ہے کہ جو حالات ہندوستان کی نہایت مستند انگریزی تاریخوں میں مندرج ہیں وہ بیشتر تاریخ فرشتہ ہی سے لئے گئے ہیں۔

اسی تاریخ فرشتہ میں مرقوم ہے کہ ”یہ قصّہ (سلطانی بد عہدی) غلط ہے‘‘۔کیوں کہ سلطان علوم و فنون کا نہایت قدردان و سر پرست تھا۔

(4) ابوالؔفضل، فرؔدوسی کو طامع اور سخن فروش کے خطابات دیتا ہے گویا الزام فرؔدوسی کے سر رکھتا ہے! پس اس تحریر سے بھی مفروضۂ بد عہدی کی تردید ہوتی ہے!

(5) الؔفنسٹن صاحب کی رائے کا مفہوم بھی اسی نوع کا ہے (دیکھو اردو تاریخ ص 554)

(6) لؔیتھبرج صاحب بھی اسے واقعہ نہیں کہتے۔ بلکہ قصّہ قرار دیتے ہیں یعنی ”فرضی کہانی“۔ حقیقت یا واقعہ نہیں۔