(7) اس قسم کے معاہدے جس کے انحراف کا الزام سلطان کو دیا جاتا ہے محض تاجرانہ ہوتے ہیں۔ ایسے معاہدے تاجران کتب (یا اہل مطابع) شعراء اور مصنفین سے کیا کرتے ہیں اور یہ بھی دور جدید کی ایجاد ہے۔ ایسا معاہدہ کسی تاجدار (خصوصاً کسی مشرقی حکمران) کی شان کے منافی اور گویا اس کی ہتک ہے! پس اگر اور تمام باتوں سے قطع نظر کر کے اِس قصّے کو اسی اصولی عینک سے دیکھا جائے تو اس کی حقیقت و اصلیت آئینہ ہو جاتی ہے۔
(8) فرؔدوسی کو مشاہرہ نیز وظیفہ ملتا تھا۔ پس ایسی صورت میں تصنیف کے آخر میں کسی خاص رقم کا وعدہ کیسا؟ رہا انعام کا معاملہ تو وہ اختیاری یعنی خوشی کا سودا ہے دیا،دیا نہ دیا،نہ دیا۔ یہ لازمی و لابدی نہیں کہ تنخواہ دار ملازم کو انعام بھی ضروری دیا جائے۔
(9) فرؔدوسی نے سلطانی مصاحبت اور جاگیر کی خواہش کی تھی۔ پس وہ ایسی صورت میں کسی گراں بہا انعام کا متوقع کیسے ہو سکتا تھا۔ اگر ہوتا تو یہ خود اس کی غلطی یعنی نتیجۂ حرص و طمع سمجھا جا سکتا ہے۔
(10) یہ ممکن ہے کہ فرؔدوسی کو غلط فہمی ہوئی ہو۔ اوّل ہزار اشعار لکھے جانے پر سلطان نے اپنے وزیر خواجہ اؔحمد کی معرفت فرؔدوسی کو ہزار اشرفیاں بطور انعام بھیجی تھیں۔ پس بہت ممکن ہے کہ فردوسی نے قیاس کر لیا ہو کہ اگر شاہ نامے میں ساٹھ ہزار اشعار لکھے جا سکے تو اُسے ساٹھ ہزار اشرفیاں ملیں گی۔ لیکن اگر یہ صحیح ہے تو یہ خود فرؔدوسی کی خام خیالی اور محض قیاس آرائی تھی یعنی اس کا الزام سلطان پر مطلق نہیں عائد ہوتا!
(11) فرؔدوسی کسی وزیر (یا امیر) کی ریشہ دوانی سے روپیہ لئے بغیر چلا گیا۔ اس کے بعد وزیر کے مُنہ سے اتفاقاً فرؔدوسی کا شعر نکلا تو سلطان کو فرؔدوسی یاد آ گیا۔ اُس نے شاعر کا قصور معاف کر دیا اور اس کے واسطے زرِ سرخ بھجوایا۔
اگر سلطان (بقول متاخّرین) طامع تھا تو اب وہ روپیہ کیوں بھیجواتا؟ اب تو اُس کے پاس ایک زبردست بہانہ بھی تھا۔ اگر وہ ایک ایسے شخص کو جس پر بد مذہب ہونے کا الزام تھا معاف نہ کرتا اور اسے زرِ خطیر نہ بھیجتا تو اُسے یقیناً ملامت نہیں کی جا سکتی تھی۔
(12) یہ معلوم کر کے کہ فرؔدوسی، قراؔمطہ کے عقائد رکھتا ہے، سلطان ایسے دیندار بادشاہ کا اُس کی جانب کم التفاتی کا سلوک کرنا، قابل ملامت نہیں ہو سکتا! خصوصاً ایسی صورت میں جب خود فرؔدوسی نے اپنے اشعار میں دبی زبان سے اعتراف و اقبال جرم کر لیا اور کہہ دیا کہ آخر سلطان کے زیر سایہ اور بھی کفار و مشرک بھی تو رہتے تھے۔
فرؔدوسی کو اوّل بار۔ ہزار اشعار پر ہزار اشرفیاں بطریقِ انعام دی گئیں۔ اور ممکن تھا کہ قدر دان سلطان تکمیلِ ”شاہ نامہ“ پر ایسا بیش قدر انعام دیتا۔ جس کی شرح فی شعر ایک اشرفی سے بھی بڑھ جاتی! لیکن فرؔدوسی کی بد قسمتی کا کیا علاج تھا؟ کہ تہمتِ بیدینی اُس کے گلے پڑی!
(13) آپ کو معلوم ہے کہ دربار سلطانی میں علما، فضلاء اور شعرا کی گویا ایک فوج موجود تھی، مگر کیوں؟ سلطان کی قدردانی اور آوازۂ جُود و سخا نے اہلِ ہنر دُور دُور سے کھینچ لئے۔ پورے چار سو تو مردان بیکار (شاعر) موجود تھے۔ اچھا ان تمام باتوں پر سرسری نظر ڈال کر غور کیجئے کہ کیا ایسا عظیم الشان اور علم دوست سلطان فرؔدوسی کے ساتھ ایسی مکروہ بد عہدی کر سکتا ہے!
حاصل کلام یہ کہ نہ تو سلطان نے فرؔدوسی کو فی شعر۔ ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا اور نہ معاہدہ سے انحراف ہی کیا۔
اور نہ فرؔدوسی ہی نے سلطان کی ہجو کہی یا لکھی۔
ساٹھ ہزار اشرفیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فرؔدوسی اس قدر رقم خطیر اپنی دختر کے جہیز میں دینے کا متمنّی تھا۔ مگر یہ ایک لغو بیان ہے۔ اس قدر رقمِ کثیر کی پابندی کیا ضرور تھی؟ پھر فردوسی نے بقولِ خود شاہ نامہ تیس سال میں (بروایتِ دیگر) پینتیس سال میں تصنیف کیا۔ پس آپ سوچئے کہ کیا وہ تہائی صدی تک اپنی دختر نیک اختر کی شادی کا انتظار کر سکتا تھا؟
ہجو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب فرؔدوسی کو معہودہ انعام نہیں ملا تو وہ سلطان سے ناراض ہو کر چلا گیا اور جھٹ پٹ ہجو کہہ ڈالی اور اس میں یہاں تک کہہ دیا کہ
|
پرستار زادہ نیاید بکار |
اگرچہ بود زادۂ شہریار |
|
ترجمہ کنیز زادہ کسی کام نہیں آتا ۔ اگرچہ وہ بادشاہ کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ |
|
یہ بھی روایت ہے کہ مؔنوچہر بن قابوص نامی رئیس نے فردوسی سے خواہش کی کہ وہ اسے شاہ نامہ سے جدا کر دے اور اُس کے عوض ایک سو اسی (180) مثقال سونا پیش کیا اور فرؔدوسی نے ہجو شاہ نامہ سے نکال دی۔
سال گزشتہ مشہور و محقق پروفیسر محمود خاں شیرانی نے ایک معرکۃ الآرا مقالہ لکھ کر یہ بات ثابت کی تھی کہ فرؔدوسی کی جو ہجو سلطان سے منسوب کی جاتی ہے وہ دراصل کوئی مستقل نظم نہیں ہے بلکہ فرؔدوسی کے وہ متفرق اشعار ہیں جو اُس نے شاہ نامہ کے مختلف مقامات میں مختلف اشخاص کے متعلق کہے۔
یہ اہم مضمون اردو نیز انگریزی جرائد میں شایع ہو چکا ہے۔
بایں ہمہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ آخر اس فرضی افسانہ نے اس قدر شہرت کیوں حاصل کی کہ وہ سلطان مؔحمود اور فرؔدوسی کی تاریخ کا جزو لاینفک بن گیا۔
بات یہ ہے کہ جب کوئی با اقبال اور حاملِ علم و فضل قوم انحطاط کی طرف مائل ہوتی ہے تو اس کے تمام معقول و منقول علوم و فنون کی قائم مقام صرف شاعری رہ جاتی ہے۔ عروجِ تمدن شاعری کا دشمن ہے۔ چنانچہ انگلستان سے منصب ملک الشعرا اُڑایا جانے والا ہے کہ اُس کا مشاہرہ قومی دولت کا بیجا اصراف ہے!
ہاں تو شاعری اور زوال قوم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
یہ کلّیہ مسلمانوں پر بالکل منطبق ہے! طؔہران جائیے یا بغداد یا دربار غزنی دیکھئے یا دیوان خاص دہلی کی سیر کیجئے، ہر جگہ یہی نظارے پیش نظر ہوں گے۔ سب جگہ۔ ان عَلم برداران عِلم و فن کے پاس یہی اسلحہ (شاعری) رہ گیا تھا اور وہ اس سے امراء کو مرعوب و مغلوب کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک مرزا سؔودا تھا۔ اسی قبیل کے ذات شریفوں نے واقعہ فرؔدوسی میں نمک مرچ لگا کر اس افسانہ کا صور کچھ اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ اس کی گونج آج تک بھی ہمارے کانوں میں موجود ہے۔
پھر قوم کی تاریخی بدمذاقی اور اس شریف فن سے بےاعتنائی، مزید براں کسی فردِ قوم نے بھی آنکھ کھول کر نہیں دیکھا کہ واقعہ اور حقیقت کیا ہے۔
حیرت کی بات کون سی ہے۔ قومی ادبار کے زمانہ میں ایسے ہی شگوفے کھلا کرتے ہیں۔ خودبیں افراد کے اخلاق نہایت پست اور شرم ناک ہو جاتے ہیں۔ انہیں بے تکلّف اپنے بزرگانِ عظام کے اخلاق میں بھی ایسی ہی عفونت و غلاظت نظر آ جایا کرتی ہے۔
سلطان محمود کی دینی سرگرمی، جہادی جوش، فاتحانہ پیش قدمی، علمی سرپرستی، معدلت گستری، سب کچھ فراموش! گلدستہ طاق نسیاں۔ مگر بد عہدی کا فرضی فسانہ، سرودِ محفل ۔حیف بر ما۔
الغرض مجاہدِ اعظم، سلطان محمود غزنوی نہ طامع و حریص تھا، نہ زرپرست اور نہ دون ہمّت۔ بلکہ وہ علم دوست، علوم و فنون کا مربی، صاحب جود و سخا اور عالی ہمّت تھا۔
سلطان نے غزنی میں دارالعلوم قائم کیا ممالک محروسہ میں بیشمار دینی و دنیوی مدارس اور خانقاہیں۔ تعمیر کرائیں جن میں تشنگان علم و فنون مدتوں سیراب ہوتے رہے۔ سلطان کا دربار علماء و فضلا کا مرجع بنا ہوا تھا۔
