جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سورج مل

1745ء سے 1763ء تک مرہٹہ مسلمان اور راجپوتوں میں جو خانہ جنگیاں ہوتی رہیں۔ ان میں جس شخص نے زیادہ حصہ لیا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھا کر اپنے لئے ایک علیحدہ سلطنت قائم کر لی وہ سورج مل تھا۔ راجپوتانہ میں بھرت پور کی سرزمین اس سورما پر جتنا فخر کرے کم ہے۔ اسی کے طفیل سے آج تک بھرتپور کی ریاست قائم ہے۔

بھرتپور کے جاٹ اصل میں سنسنی گاؤں کے باشندے ہیں۔ یہ گاؤں بھرت پور کے قریب دیگ شہر کے جنوب میں کوئی آتھ میل پر واقع ہے۔ جس طرح راجپوتوں کو قدرتی طور پر بہادری اور دلیری عطا ہوئی ہے۔ اسی طرح اس قوم کو سپاہیانہ خوبیاں حاصل ہونے کے علاوہ جسمانی طاقت بھی ملی ہے۔ جاٹ قوم کے لوگ راجپوتوں سے بھی زیادہ قوی اور جسیم اور لمبے قد کے ہوا کرتے ہیں۔

اورنگزیب کے زمانہ میں برج نامی کوئی جاٹ تھا جو اسی زمین پر لوٹ مار کر کے اپنی گزران کیا کرتا تھا۔ اور اسی لوٹ مار کی وجہ سے برج نے کچھ مختصر سی جماعت اپنے ہم مزاج لوگوں کی جمع کر رکھی تھی جو اس کے ساتھی ہونے کے علاوہ فوج کا بھی کام دیا کرتے تھے۔ مغلیہ حکومت کا یہاں بہت کم اثر تھا۔ اور برج نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔ بالآخر اسی سنسنی گاؤں میں اس نے اپنی ایک چھوٹی سی سلطنت قائم کر لی۔

چونکہ برج کی لوٹ مار روز بروز زیادہ بڑھنے لگی اور مغلیہ حدود میں حد سے زیادہ اس نے ہاتھ پھیلانے شروع کر دیئے تھے۔ لہذا بادشاہِ دہلی کی طرف سے برج کی گوشمائی کے لئے ایک مختصر سی فوج روانہ کی گئی۔ تاکہ برج کی خاطر خواہ سرزش کی جائے۔ ادھر برج بھی مغلیہ فوج کے مقابلہ کو تیار تھا۔ جنگ ہوئی اور اسی میں برج مارا گیا۔ یہ واقعہ اٹھارویں صدی کی ابتدا کا ہے۔

برج کے مارے جانے پر اس کا لڑکا چوڑامن سردار بنایا گیا۔ اور اس نے اپنے باپ سے بھی زیادہ مغلیہ حدود پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں دیگ اور کنبھیر وغیرہ مقامات پر قابض ہو گیا۔ دہلی میں فرخ سیر کی حکومت تھی۔ مغلیہ سلطنت کا زوال تھا۔ چوڑامن کو روزبروز زبردست ہوتے دیکھ کر فرخ سیر گھبرایا۔ بہت سی تجویزیں کی گئیں مگر سب بیکار، آخرکار مجبوراً چوڑامن کو مفتوحہ ملک بطور جاگیر دینا پڑا۔ مگر اس پر بھی چوڑامن کی لوٹ مار اور مغلیہ حدود میں پیش قدمی موقوف نہ ہوئی۔ لہذا 1718ء میں راجہ سوائی جے سنگھ کو کچھ فوج دے کر بادشاہِ دہلی نے جاٹوں پر چڑھائی کرنے کے لئے روانہ کیا، مگر چوڑامن نے تھون اور سنسنی مقامات کی ایسی حفاظت کی اور اپنے قلعوں کو اس قدر مستحکم بنا دیا کہ راجہ جے سنگھ کی کچھ بھی نہ چلنے پائی۔

1723ء میں چوڑامن اور اس کے بیٹے میں سخت نااتفاقی ہونے سے چوڑامن نے خودکشی کر لی۔ اور اس کا بیٹا محکم سنگھ گدی نشین ہوا۔ تخت پر بیٹھتے ہی اس نے بون سنگھ اپنے حریف کو قید کر دیا۔ مگر جاٹ امیروں کی سفارش سے رہا کر دیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد بون سنگھ نے راجہ سوائی جے سنگھ کی مدد سے محکم سنگھ سے اپنا بدلہ لیا۔ ایک سخت جنگ کے بعد محکم سنگھ کو شکست فاش دی۔ 1725ء میں بون سنگھ کو بادشاہِ دہلی کی طرف سے راجۂ دیگ کا خطاب اور ملک ملا۔ اور یہ ایک باج گزار ریاستوں میں داخل ہو گئی۔

بون سنگھ راجہ سوائی جے سنگھ کے ساتھ دوستانہ طریق سے رہنے لگا۔ اور اپنے تئیں بھی ”ٹھاکر“ ظاہر کرنے لگا۔ دیگ اور کنبھیر مقامات میں اس نے بڑی بڑی عمارتیں، قلعہ وغیرہ بنوائے ہیں۔ 1755ء تک اس نے حکومت کی، مگر اسی حکومت میں اس نے اپنی تلوار کے وہ وہ جوہر دکھلائے کہ اچھے اچھے راجپوت سورما سپاہیوں کے چھکے چھڑا دیئے۔ چنانچہ 1739ء میں راجہ سوائی جے سنگھ والی جے پور اور جودھپور کے راجہ ابھی سنگھ میں جو سخت معرکہ ہوا اور جس میں جودھپور کے بخت سنگھ کو شکست فاش ہوئی، اس کا سہرہ صرف بون سنگھ ہی کے سر باندھا گیا۔ حالانکہ بخت سنگھ کے پاس دوگنی فوج تھی مگر بون سنگھ کی نئی نئی تدبیروں اور طریقِ جنگ کے آگے دوگنی فوج کی کچھ بھی نہ چلی۔

بون سنگھ میں جس طرح فوجی اور جنگی قابلیت تھی، اسی طور سے ملکی لیاقت بھی قدرت سے ودیعت ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس کے 23 لڑکے تھے۔ اور سورج مل ان میں سے پانچواں تھا۔ سررج مل اپنے باپ ہی کی مانند بہادر، دلیر، دوراندیش، خیرخواہِ ملک اور ایک قابل شخص تھا۔ 1755ء میں جب کہ بون سنگھ کا انتقال ہو گیا۔ اور گدی کے حقدار کی تلاش ہوئی تو سب لڑکے اپنے حقوق جتلانے لگے۔ مگر ان میں سے سورج مل ہی کا انتخاب کیا گیا، کیونکہ اپنے باپ کے زمانہ میں بھی یہی تمام امورِ ریاست کا انتظام کیا کرتا تھا۔

سررج مل اگرچہ سپاہی کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور جنگ و جدل کے سوا کچھ جانتا ہی نہ تھا، مگر قدرت کی طرف سے اسے وہ ساری خوبیاں عطا ہوئی تھیں جو کہ ایک دوراندیش اور اعلیٰ مدبر میں ہونی چاہئیں۔ اس کے بچپن کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ سوائی جے سنگھ نے کسی تہوار پر تمام راجپوتانہ کے راجوں کو مدعو کیا۔ ان میں سورج مل بھی حاضر تھا۔ مذہبی رسم کے بعد جب کہ راجہ جے سنگھ اٹھ کر اپنے جوتے پہننے کے لئے فرش کے دوسرے کنارے کی طرف جانے لگے تو سورج مل فوراً دوڑ کے راجہ جے سنگھ کے جوتے لے آیا، اور راجہ مذکور کے روبرو رکھے، اور دست بستہ عرض کی کہ جس طرح آپ کے لڑکے ہیں اسی طرح میں بھی آپ کا خادم ہوں۔ اس گفتگو کا راجہ جے سنگھ پر بڑا ہی اثر ہوا۔ اور اسی روز سے سورجمل کو یہ اپنا سچا دوست سمجھنے لگا۔ چنانچہ جس وقت سورجمل گدی نشین ہوا تو اسے جے سنگھ کی بڑی ہی مدد تھی۔ کیونکہ راجہ سوائی جے سنگھ دربارِ مغلیہ کا ایک زبردست رکن سمجھا جاتا تھا۔

راجپوتانہ میں مرہٹوں کے دھوم دھام مچانے سے بادشاہِ دہلی بھی فکر مند ہو گیا، اور آپس کی نااتفاقیاں بھی روزبروز بڑھنے لگیں۔ ایسے وقت میں سررج مل نے موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ چنانچہ اس نے صفدر جنگ وزیرِ سلطنتِ مغلیہ کو امداد دی اور دہلی سے روہیلوں کو نکال دیا۔ اس لیے بادشاہِ دہلی سورج مل سے بہت ہی خوش ہوا، اور بہت کچھ اس کی تعریف کی اور بہت سا ملک بھی دیا گیا۔

چونکہ سررج مل کے صفدر جنگ کو مدد دینے سے غازی الدین کو نیچا دیکھنا پڑا تھا، لہٰذا غازی الدین نے ملہار راؤ ہولکر اور جے آپا سندھیا جیسے زبردست اور بہادر مرہٹہ سرداروں کو اپنی طرف کر کے سورج مل پر حملے کی تیاریاں کرنی شروع کیں۔ ملہار راؤ کا مسئلہ جے پور کی وجہ سے پہلے ہی سورج مل پر دانت تھا اور ایسا موقع ہی ڈھونڈ رہا تھا، لہذا اس نے بھی اپنی تمام فوج کو جمع کر کے سورجمل کے مستحکم مقامات مثلاً بھرت پور، دیگ اور کنبھیر کا محاصرہ کر لیا۔ مگر سورجمل کے پاس زیادہ فوج وغیرہ ہونے سے ملہار راؤ کو کچھ بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ دوسری طرف دکن کے مرہٹہ بھی راجپوتانہ میں اپنی لوٹ مار روزبروز بڑھا رہے تھے، اور انہوں نے بھی ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ چنانچہ مرہٹہ بھی سورجمل پر آپڑے۔ مگر سورجمل مطلق نہ گھبرایا اور قلعۂ بھرت پور کا معقول انتظام کر کے کنبھیر میں چلا آیا، کیونکہ یہاں پر مرہٹوں نے محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس حساب سے اب سورجمل کو دو دشمنوں سے جنگ درپیش تھی: ایک ملہار راؤ ہولکر اور دوسرے دکن کے مرہٹے۔ تین ماہ تک کنبھیر کا محاصرہ رہا، مگر مرہٹہ فوج بالکل کامیاب نہ ہونے پائی۔ دونوں طرف کی سخت جھڑپوں کی وجہ سے مرہٹوں کے اچھے اچھے تجربہ کار سپاہی اور نیز سردار مارے گئے۔ ملہار راؤ ہولکر کا اکلوتا لڑکا بھی کام آیا۔ اور اسی جنگ یعنی 1754ء میں اہلیا بائی مہارانی ہولکر کا خاوند کھنڈے راؤ بھی ایک توپ کا گولا لگنے سے مارا گیا۔

اپنے اکلوتے لڑکے کے مارے جانے سے ملہار راؤ کا غصہ زیادہ بڑھ گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ یا تو میں اپنی جان دے دوں گا یا سررج مل کا سرکنبھیر کے قلعہ پر لٹکا دوں گا۔ مگر سورج مل نے اپنا ایک معتبر وکیل روپ رام کٹاری نامی بھیج کر مرہٹوں سے صلح کر لی، اور 30 لاکھ روپیے سالانہ ”کھنونی“ یعنی نعلبندی دینے پر راضی ہوا۔