اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تعلیقات

’’اللہ اللہ! یہ انسان ایک کروڑ سالانہ کی تجارت کرتا ہے، تہمد پہنتا ہے اور حقیقتِ مادّہ و روح جیسے علمی مسائل پر انگریزی اور اردو میں گفت گو کرتا ہے۔ اس کو فکر دامن گیر ہے کہ مسلمانوں کی قدیم اور نئی تعلیم کا حقیقی اتصال ہو اور اسلام اپنی اصل شان میں دنیا پر ظاہر ہو۔ مسلمانوں میں ایسے افراد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ TYPE پیدا نہ ہو گا، نصب العین تک رسائی محال ہے۔‘‘

1925-26ء کے قریب سیٹھ محمد جمال نے ایک ادارہ ’’مسلم ایسوسی ایشن مدراس‘‘ کے نام سے قائم کیا اور خطباتِ اسلامیہ کا سلسلہ شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مذہب سے واقف کرایا جائے اور قابل اور محقق اصحاب کو مدراس مدعو کیا جائے اور اس مجلس کی سرپرستی میں مختلف تقاریر ہوں۔ چنانچہ سب سے پہلے مولانا سید سلیمان ندوی نے سیرتِ محمدی کے مختلف پہلوؤں پر لیکچر دیے اور پیغامِ محمدی کی حقیقت کو آشکار کیا۔ یہ ’’خطباتِ مدراس‘‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد محمد مارماڈیوک پکتھال (MOHAMMAD MARMADUKE PICKTHAL) پرنسپل چادر گھاٹ ہائی اسکول حیدر آباد (سابق ایڈیٹر، بمبئی کرانیکل‌Bombay Chronicle) (ان پر نوٹ حواشی میں ملاحظہ فرمائیں) کو مدعو کیا۔ ان کے انگریزی لیکچر ’’اسلام اور مدنیت‘‘ بہت مقبول ہوئے۔ بعد میں یہ تقریریں ایسوسی ایشن کی جانب سے مجموعے کی صورت میں شائع کی گئیں۔

1928ء میں اراکینِ ایسوسی ایشن کی نظرِ انتخاب علامہ اقبال پر پڑی اور بذریعہ خط و کتابت یہ امر طے پایا کہ علّامہ موصوف ’’اسلام اور فلسفہ‘‘ کے عنوان پر چھ خطبات دیں۔ لیکن کثرتِ کار اور مشاغل کی وجہ سے یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ بالآخر یہ طے پایا کہ 1928ء میں ماہِ دسمبر کے وسط میں تین لیکچروں کا انتظام ہو۔ بعض وجوہ کی بنا پر دسمبر 1928ء کے بجائے اقبال 5 جنوری 1929ء کو مدراس پہنچے۔ چار دن قیام رہا۔ جس میں ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں تین تقریریں ہوئیں۔ یہ خطبات ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ (مترجم سید نذیر نیازی) کے نام سے مکتبہ جامعہ، نئی دہلی سے شائع ہوئے۔

ماخذ:

سلیم تمنائی۔ دانائے راز دیارِ دکن میں۔ ص 19-20-25، 42، 43

نوابان کنج پورہ

ریاست کنج پورہ کی بنیاد نواب نجابت خاں نے اٹھارویں صدی میں ڈالی۔ نواب نجابت خاں کاکڑ زئی پٹھان تھا۔ 1728ء میں ہندوستان آیا۔ کچھ عرصہ لاہور اور ملتان میں شاہی صوبہ دار کی فوجی ملازمت میں رہا۔ اس کے بعد تین سو سواروں کی جمعیت کے ساتھ کرنال آیا۔ اس زمانے میں مغلیہ شہنشاہ محمد شاہ کی فرمانروائی تھی۔ دربار عیش و عشرت میں مصروف تھا اور ملک میں شاہی انتظام بگڑ چکا تھا۔ ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر نواب نجابت خاں نے کرنال کے قرب و جوار کے کچھ علاقہ پر قبضہ کر کے دریائے جمنا کے کنارے ریاست نجابت گڑھ کی بناء ڈالی۔ اسی نجابت گڑھ کا نام بعد میں کنج پورہ ہوا۔ یہ نئی بستی مضبوط فصیلوں اور خندق سے محفوظ کر کے پٹھانوں اور دوسری قوموں سے آباد کر دی گئی۔ اس کے بعد دہلی دربار سے صوبۂ سہارنپور کے فوجدار کو نجابت خاں پر فوج کشی کرنے کا حکم پہنچا۔ جنگ کی نوبت آئی اور نجابت خاں کی فتح ہوئی۔ آخر میں دہلی دربار نے نجابت خاں کو باقاعدہ نواب تسلیم کر لیا۔ لیکن ایک ہی سال بعد مرہٹوں سے جنگ ہوئی۔ نجابت خاں کو شکست ہوئی اور مرہٹوں کے ہاتھوں اسیر ہوا۔ اسی اسیری میں انتقال ہوا۔

1761ء میں احمد شاہ دُرّانی اور مرہٹوں میں پانی پت کی مشہور تاریخی جنگ ہوئی جس میں مرہٹوں کو شکستِ فاش ہوئی۔ اس جنگ میں نواب نجابت خاں کے بیٹے دلیر خاں نے درّانی کی طرف سے مرہٹوں کے خلاف ایسی جانبازی سے جنگ کی تھی کہ اس نے اس کے صلہ میں دلیر خاں کو کنج پورہ کا نواب بنا دیا اور اس طرح یہ ریاست نواب نجابت خاں کے خاندان میں بارِ دگر واپس آئی۔ پنجاب کی چھ بڑی ریاستوں میں کنج پورہ کی ریاست بھی شمار ہوتی ہے۔ جب امن و راحت کا زمانہ نصیب ہوا تو خاندانِ کنج پورہ کے رئیس آرام طلب ہو گئے۔ آخر سکھوں نے ریاست کا ایک بڑا حصہ چھین لیا۔

نواب ابراہیم علی خاں بانیٔ ریاست کنج پورہ کی پانچویں پشت میں تھے۔ ان کے بھائی غلام احمد خاں کے دو بیٹے ہوئے۔ صاحبزادہ آفتاب احمد خاں اور صاحبزادہ سر سلطان احمد خاں — موخر الذکر 1864ء میں کنج پورہ میں پیدا ہوئے۔ ریاست گوالیار میں چیف جسٹس رہے۔ صاحبزادہ آفتاب احمد خاں کا سوانحی خاکہ حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔

ماخذ:

حبیب اللہ خاں۔ حیاتِ آفتاب۔ پرنٹر عبد المجید۔ اسرار کریمی پریس، الہ آباد (یوپی) 1947ء