اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تعلیقات

سائمن کمیشن

نومبر 1927ء میں برطانوی سرکار نے ایک کمیشن سر جان (بعد میں وائی کانٹ) سائمن‌ (SIR JOHN, LATER VISCOUNT SIMON) کی صدارت میں مقرر کیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی کارگزاری کا جائزہ لیا جائے نیز یہ کہ کس حد تک ذمّہ دار حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس کے تمام ممبران انگریز تھے۔ اس بنا پر تمام سیاسی جماعتوں نے اس کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ جہاں جہاں کمیشن نے تحقیقات کیں، وہاں ہڑتالیں کی گئیں اور ’’سائمن واپس جاؤ‘‘ کے نعروں سے اُن کا استقبال کیا گیا۔ اس کی وجہ سے کہیں کہیں تشدد کی وارداتیں بھی ہوئیں۔ سرکار نے اسے دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے جس کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ انڈین نیشنل کانگریس نے 1929ء کے لاہور کے سالانہ اجلاس میں ہندوستان کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیا اور سول نافرمانی کی تحریک زور شور سے شروع کی۔

سائمن کمیشن نے اپنی رپورٹ 27؍ مئی 1930ء کو پیش کی۔ اسے دیکھ کر ہندوستانی لیڈروں کو شدید مایوسی ہوئی۔ اس میں سفارش کی گئی تھی کہ نظامِ دو عملی (DYARCHY) ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ صوبوں میں مکمل ذمّہ دار حکومت کی تشکیل کی جائے۔ ہندوستانی قومی رہنماؤں کو یہ شکایت تھی کہ اس نے مرکز میں مکمل ذمّہ دار حکومت کے قیام کی سفارش نہیں کی تھی۔

ہندوستانی قوم پرستوں نے کمیشن کی سفارشات کو یکسر رد کر دیا تھا۔ بہرحال اس کی سفارشات پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء نافذ کیا گیا۔

ماخذ:

آر۔ کوپ لینڈ‌Coupland — دی کونسٹی ٹیوشنل پرابلم اِن انڈیا، آکسفورڈ 1944ء، ص 97-112

R. COUPLAND: THE CONSTITUTIONAL PROBLEM IN INDIA, OXFORD, 1944 P.P. 97-112

شدّھی تحریک

شدّھی (لغوی معنی پاک کرنا)۔ سوامی دیانند اور اُن کی تنظیم آریہ سماج نے انیسویں صدی کے آخر میں نیچی ذات کے ہندوؤں کو اوپر اُٹھانے کے لیے دہرہ دون‌Dehradun سے یہ تحریک شروع کی۔ اس تحریک کے تحت جن ہندوؤں نے حال یا ماضیٔ بعید میں کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لیا تھا، انھیں ہندو مت میں واپس لانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام، سکھ مت اور عیسائی دھرم کے پیروؤں کو بھی ہندو مت میں لانے کے لیے مہم چلائی گئی۔ دہرہ دون میں خود سوامی دیانند نے محمد عمر نامی ایک مسلمان کو آریہ سماج میں داخل کیا اور اس کا نام ’’الکھ دھاری‘‘ رکھا۔

1920ء کی دہائی میں شدھی تحریک نے سنگٹھن تحریک کے تعاون سے ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی۔ ردِّ عمل کے طور پر مسلمانوں نے بھی تبلیغ کی تحریک شروع کی۔

ماخذ:

کینتھ ولیم جونس‌Kenneth William Jones — آریہ دھرم۔ ص 307-312

KENNITH WILLIAM JONES-ARYA DHARAM P 307-312

شمسِ بازغہ

ملّا محمود جونپوری (993-1062ھ‌1585-1652ء) کی تصنیف شمس بازغہ جو ان کی کتاب الحکمۃ البالغہ کی شرح ہے۔ فلسفۂ قدیم کی اہم اور بنیادی کتابوں میں شمار کی جاتی ہے اور سیکڑوں سال سے ہندوستان کی قدیم درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہے۔

اپنی سلاستِ بیان کے لحاظ سے فلسفے کی کتابوں میں شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ ملّا صاحب کا ارادہ علومِ عقلیہ کی تینوں شاخوں (منطق، طبیعیات اور ما بعد الطبیعیات) پر کتاب لکھنے کا تھا۔ لیکن اپنی علالت کے باعث صرف ایک شاخ یعنی طبیعیات پر اپنے خیالات منضبط کر سکے۔ یہ پہلی بار 1280ھ/1863ء میں لکھنؤ سے شائع ہوئی۔

مصنف کا پورا نام ملّا محمود جونپوری بن شیخ محمد بن شاہ محمد فاروق تھا۔ علومِ حکمیہ و ادبیہ میں بہت بلند درجہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے جدِّ امجد شاہ محمد سے حاصل کی۔ پھر انھوں نے ملّا محمد افضل جونپوری کی خدمت میں رہ کر درسیات کی تکمیل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد بہت دنوں تک وہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اپنے عہد میں وہ معقولات کے امام سمجھے جاتے تھے۔

فوائد فی شرح الفوائد ان کی دوسری اہم تصنیف ہے۔ شیخ محب اللہ بہاری (متوفی 1119ھ‌1707-08ء) کے رسالہ ’’تسویہ‘‘ کے رد میں انھوں نے ’’الدوحہ المیّادۃ فی تحقیق الصورۃ والمادّۃ6‘‘ لکھی ہے۔ فارسی کا ایک دیوان بھی ان کی تصنیف بتایا جاتا ہے۔

مآخذ:

1۔ مآثر الکرام۔ دفترِ اول۔ ص 202-203

2۔ حدائق الحنفیہ۔ ص 412-414

3۔ سبحۃ المرجان۔ ص 53-65

4۔ ابجد العلوم۔ ص 901-902

5۔ تذکرۂ علمائے ہند۔ ص 486-487

6۔ تاریخ شیرازِ ہند، جونپور۔ مرتبہ سید اقبال حسین، مطبوعہ جونپور 1963ء

7۔ تاریخ ادبیاتِ مسلمانانِ پاکستان و ہند۔ جلد دوم، ص 278۔ مرتبہ پروفیسر عبد القیوم۔ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور۔ 1970ء

8۔ براکلمن‌Brockelmann۔ جلد دوم۔ ص 420 ذیل 621/2

طبقات ابن سعد

’’الطبقات الکبیر‘‘ جو طبقات ابن سعد کے نام سے مشہور ہے۔ عبد اللہ ابن سعد کاتب الواقدی7 (785ء-845ء) کی تصنیف ہے۔ یہ 785 ہجری میں پیدا ہوئے اور 845 ہجری میں فوت ہوئے۔ حدیث و رجال کے بہت بڑے عالم ہیں۔

الطبقات الکبیر دس جلدوں میں ہے۔ پہلی دو جلدوں میں سیرۃِ طیبہ کا مواد ہے۔ باقی صحابہ اور تابعین کے احوال پر مشتمل ہیں۔ یہ کتاب تقریبًا ناپید ہو چکی تھی، اور متفرق جلدیں دنیا کے مختلف کتب خانوں میں گوشۂ گمنامی میں پڑی تھیں۔ جرمنی کے شہنشاہ کو اس کی طبع و اشاعت کا خیال پیدا ہوا اور اس نے پروفیسر زخاؤ (SACHAU) کو اس کام پر مامور کیا۔ وہ قسطنطنیہ، مصر اور یورپ میں جا بجا پھر کر اس کتاب کے اجزا فراہم کر کے لایا۔ یورپ کے بارہ پروفیسروں نے الگ الگ جلدوں کی تصحیح اپنے ذمہ لی۔ چنانچہ نہایت اہتمام اور صحت کے ساتھ یہ نسخہ لیڈن (LEIDEN) ہالینڈ میں چھپ کر شائع ہوا اور آج کل اسلام کی ابتدائی تین صدیوں کی تاریخ اور معاشرت پر ایک مستند نسخہ سمجھا جاتا ہے۔

ماخذ:

اردو دائرہ المعارف اسلامیہ۔ جلد اوّل۔ ص 545-546۔

فیہ ما فیہ

مولانا جلال الدین رومی (1207ء-1273ء) کے خطوط کا مجموعہ جو معین الدین پروانہ کو وقتًا فوقتًا لکھے گئے۔ یہ رکن الدین قلیج ارسلان شاہ قونیہ کے حاجب تھے اور مولانا سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ مولانا کی یہ کتاب ایک عرصہ تک گوشۂ گمنامی میں پڑی رہی۔ اس گمنام کتاب کی دریافت اور اشاعت کا سہرا مولانا عبد الماجد دریابادی کے سر ہے۔ ان کو 1923ء میں حیدر آباد دکن میں اس کے دو نسخے ملے۔ انھوں نے 1928ء میں اس کی تصحیح کی اور اعظم گڑھ سے شائع کیا۔ رضا لائبریری رامپور میں بھی اس کا ایک نسخہ تھا۔ ایران میں یہ کتاب استاد بدیع الزماں فروزانفر کے اہتمام میں 1950ء میں شائع ہوئی۔ ملفوظاتِ رومی کے نام سے عبد الرشید تبسم نے اس کا ترجمہ اردو میں کیا ہے۔

اس میں تصوف، اخلاق اور سادہ عقائدِ دین سے بحث کی گئی ہے۔

مآخذ:

1۔ قاضی سجاد حسین۔ مقدمہ مثنوی مولانائے روم ص 8

2۔ مرزا مقبول بیگ بدخشانی۔ ادب نامۂ ایران۔ ص 419

3 ڈاکٹر محمد صدیق شبلی

ڈاکٹر محمد ریاض۔ فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ۔ ص 106-107۔

کتاب الفرج

عربی میں تصوف پر ’’کتاب الفجر‘‘ کے نام سے کسی کتاب کا سراغ نہیں ملا۔ البتہ تین تصنیفات ’’کتاب الفرج‘‘ کے نام سے ہیں۔ ایک المدائنی (135ھ/752ء-225ھ/840ء) کی تصنیف ہے۔ اس کا موضوع تاریخ ادبیات ہے اور اس میں اقوال، حکایات اور ضرب المثل وغیرہ جمع کی گئی ہیں۔ دوسری التنوخی (327ھ/939ء-384ھ/994ء) نے اس کتاب اور دوسری کتابوں سے استفادہ کر کے لکھی۔ تیسری کتاب ابو سعید بن عیسیٰ الخرّاز8 کی ہے جو تصوف پر ہے۔ یہ بغداد کا رہنے والا تھا۔ اس کی زندگی کے بہت کم حالات معلوم ہیں۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے فنا اور بقا کے متعلق اظہارِ خیال کیا۔ اس کی تصنیف ’’کتاب السر‘‘ نے سخت غلط فہمیاں پیدا کر دیں جس کے باعث اسے بغداد سے فرار ہو کر بخارا جانا پڑا۔ پھر قاہرہ چلا گیا جہاں اس نے ذوالنونؒ اور جنیدؒ سے مذاکرات کیے۔

اس کا انتقال قاہرہ میں 279ھ/892ء یا 286ھ/899ء میں ہوا۔

یقینًا علّامہ اقبال کی مراد الخرّاز کی ’’کتاب الفرج‘‘ سے تھی۔ بد قسمتی سے اس خط کا عکس دستیاب نہیں، ورنہ مطبوعہ خط کے متن کے ساتھ موازنہ کر کے صحیح صورتِ حال واضح ہو جاتی۔

ماخذ:

فواد سیزگن‌Sezgin۔ تاریخ التراث العربی۔ جلد اوّل

مآثر الکرام

مآثر الکرام از غلام علی آزاد بلگرامی (م 1200ھ‌1785-86ء) ہندوستانی علماء، شیوخ اور شعراء کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں میں ہے۔ (الف) دفترِ اول مآثر الکرام دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں 80 صوفیاء کا تذکرہ ہے اور دوسری فصل میں 73 علماء کا تذکرہ ہے۔ (ب) دفترِ ثانی مآثر الکرام موسوم بہ سروِ آزاد بھی دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں 143 شعرائے فارسی اور دوسری فصل میں آٹھ شعرائے ہندی کا تذکرہ ہے۔

مسلم ایسوسی ایشن مدراس

حاجی محمد جمال بن حاجی جمال محی الدین مدراس کے متمول اور بین الاقوامی تاجر تھے اور جاپان، آسٹریلیا، امریکہ، یورپ کے تمام بڑے ممالک سے اُن کا سلسلۂ تجارت تھا۔ یہ اپنی فیاضیوں کی وجہ سے تمام ہندوستان میں ’’مسلمانوں کے برلا‌Birla‘‘ کہلاتے تھے۔ یہ محض سیٹھ ہی نہیں بلکہ علم و فضل کے مالک بھی تھے۔ علّامہ اقبال نے ان کی تعریف یوں کی ہے: