اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تعلیقات

وہ فلسطینی عربوں کے مضمرات و امکانات اور ان کی صلاحیتوں سے واقف ہیں، اس لیے انھیں خودی کی پرورش اور لذّتِ نمود کی خلش کے لیے ابھارنا چاہتے ہیں، اور وہ سوز و ساز یاد دلاتے ہیں، جس سے زمانہ اب بھی محروم نہیں ہے۔ اقبال کے پیامِ خودی میں ظاہر ہے کہ عربی جذبات اور اسلامی احساسات ایمان و یقین کی کیفیات، روحانی امکانات اور عزم و ثبات ہی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ عربوں کو انہی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر جنگِ حریت میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا اور خودی پر بھروسے کے سوا یورپ اور اقوامِ متحدہ پر اعتماد خوش فہمی یا خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں:

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے

تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے

ماخذ

مولانا سید ابو الحسن علی ندوی: نقوشِ اقبال۔ ص 195 - 200

بابی اور بہائی تحریکیں

انیسویں صدی عیسوی کے ربعِ اوّل میں ایران میں جو تحریکیں پیدا ہوئیں ان میں مذہبی اور سیاسی ردِ عمل کے اعتبار سے بابیت کو قابلِ ذکر سمجھا جاتا ہے۔

محمد شاہ قاجار کے عہد (1834-1848ء) میں سید علی شیرازی (ولادت 1820ء) نے ’’باب‘‘ یعنی امامِ غائب کے قائم مقام ہونے کا دعویٰ کیا۔ ’’باب‘‘ دروازے کو کہتے ہیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر لوگ امامِ موعود کے بارے میں علم حاصل کر سکتے ہیں۔ بعد میں اس نے ایک نئی شریعت کا دعویٰ کیا۔ اس کی تصانیف میں سب سے مشہور ’’بیان‘‘ ہے کہ جو بابیوں کے لیے صحیفۂ آسمانی کا مقام رکھتی ہے۔ بالآخر علماء کے فتویٰ اور ناصر الدین شاہ قاجار کے حکم کے مطابق اسے 1850ء میں تبریز میں قتل کر دیا گیا۔ باب کے حامیوں نے بڑی مزاحمت دکھائی۔ اگست 1852ء کو شاہِ ایران پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس پر اس فتنے کو سختی سے دبا دیا گیا۔

اس کے بعد باب کے خلیفہ میرزا یحییٰ ’’صبحِ ازل‘‘ (متوفی 1912ء) اور بہاء اللہ نے ’’بابیت‘‘ کی تبلیغ کے فرائض سنبھالے اور بابی تحریک کا مرکز ایران سے بغداد اور ترکی کے مقبوضات میں منتقل ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد بہاء اللہ نے ’’بہائیت‘‘ نام کے نئے مذہب کا اعلان کیا۔ بہاء اللہ کے لیے دیکھیے: حواشی۔

ماخذ:

دائرۃ المعارف اسلامیہ۔ جلد سوم۔ ص 830-839

ڈاکٹر محمد صدیق شبلی، ڈاکٹر محمد ریاض فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ۔ ص 139

بنگال اسکول کی مصوری

انیسویں صدی میں ہندوستان میں فنونِ لطیفہ میں زوال آیا۔ لیکن جب مغربی اثرات کی وجہ سے احیاءِ علوم و فنون ہوا تو 1854ء میں کلکتہ‌ میں آرٹ اسکول قائم ہوا۔ اس وقت فنی معیار محض کتابی اور درسی تھے۔ چنانچہ کلکتہ آرٹ اسکول میں کار آمد فنون پر زور دیا گیا۔ مثلاً آرائشی تصاویر، لکڑی پر نقاشی کا کام، سنگی طباعت اور فوٹو گرافی۔ بعد میں ہندوستانی فنونِ لطیفہ کی قدیم روایات کو تازہ کرنے کی سعی ہوئی اور اس طرح اس صدی کی پہلی دہائی میں بنگال‌ میں نشأۃِ ثانیہ کا آغاز ہوا۔

اس وقت قدیم روایات کی پیروی کے لیے اجنتا‌Ajanta اور ایلورا‌Ellora گپھاؤں کی مصوری کو سرچشمۂ ہدایت سمجھا گیا۔ مغل اور بعد میں راجپوت اور پہاڑی مصوری میں از سرِ نو دلچسپی لی جانے لگی۔ اساطیر، مذہبی اور کلاسیکی ادب نے مصوری کے لیے موضوعات فراہم کیے۔

تکنیک میں یورپین روغنی رنگوں (OIL PAINTING) کی جگہ پانی کے رنگ استعمال کرنا شروع کیے گئے۔ مشرقی مصوری کی اہمیت کے پیشِ نظر چینی اور جاپانی مصوری کا خاص طور پر مطالعہ کیا گیا۔ ٹیگور‌ کی تصاویر میں مختلف روایات چینی خطاطی، جاپانی رنگ آمیزی اور ایرانی حسنِ تکمیل کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ نندن لال بوس نے اپنی تصاویر میں بدھ مت کے فنکاروں کے شوق و شغف کی آئینہ داری کی۔ اسیت کمار ہلدار نے حسیّت پر مبنی پیکر تراشے۔ سریندر ناتھ گپتا نے اپنی مصوری میں شاعرانہ خصوصیت کو سمویا اور یہ روایت عبد الرحمن چغتائی تک پہنچی۔ دیوی پرشاد رائے چودھری نے مشرقی اور مغربی اسالیب کا امتزاج پیش کیا۔

اس کے بعد انتہا پسندی اور جدیدیت کا ظہور ہوا۔ اس کے حامی پرانی ڈگر پر چلنے کی بجائے نئی راہیں نکالنا چاہتے تھے۔ جدیدیت کے عظیم علمبرداروں میں نگیندر ناتھ ٹیگور، رابندر ناتھ ٹیگور اور جیمنی رائے شامل ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو اپنے زورِ تخیل اور وفورِ جذبۂ تخلیق کے پیشِ نظر اساطیر اور قدیم قصوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہ ہوئی۔ ان کی تصاویر میں غیر معمولی سادگی، داخلیت، پوشیدہ معانی جو تحت الشعور کی گہرائیوں سے اخذ کیے ہیں، پائے جاتے ہیں۔ عصرِ حاضر کی اظہاریت ان کی مرہونِ منت ہے۔ نگیندر ناتھ ٹیگور نے حقیقت پسندی پر زور دیا اور مہندسانہ نقاشی (CUBISM) کے بھی تجربات کیے۔ انھوں نے روایت پسندی میں جدت نگاری کی روایت تلاش کی۔ جیمنی رائے نے روایتی اسلوب کو نیا رنگ دیا اور اپنی مصوری میں لوک آرٹ کی روایت کو جگہ دی۔

الغرض بنگال اسکول کی تصاویر کی خصوصیات میں قدیم روایت پرستی، انتہا پسندی، جدیدیت، حقیقت پسندی اور لوک آرٹ کی روایت کا فروغ شامل ہیں۔

ماخذ:

INDIAN ART THROUGH THE AGES PP 41-48

ہندوستانی مصوری مختلف ادوار میں۔ ص 41-48۔

تزک4 تیموری

یہ کتاب مختلف ناموں سے مذکور ہے۔ ملفوظاتِ امیر تیمور، ملفوظاتِ تیموری، ملفوظاتِ صاحبقران، واقعاتِ تیموری، توزکِ تیموری۔ امیر تیمور نے اپنی ابتدائی زندگی سے لے کر 71 ویں سال تک کے واقعات ترکی زبان میں لکھے تھے۔ تزکِ تیموری اس کا فارسی ترجمہ ہے۔ مترجم ابو طالب حسینی ہے، جس نے اپنا ترجمہ 1047 ہجری‌1637-38ء میں شاہجہاں کو پیش کیا تھا۔ بعض مورخین کو ان ملفوظات کے مستند ہونے میں شک ہے۔ فارسی ترجمہ عام ہے اور اس کے نسخے عام طور پر مل جاتے ہیں۔

ماخذ:

سی۔ اے۔ سٹوری‌: پرشین لٹریچر 2/280 ریویو‌

فہرست فارسی مخطوطات در برٹش میوزیم، جلد اول۔ ص 177-179

C.A. STOREY, PERSIAN LITERATURY, 2:280, REV.

CES OF PERSIAN MSS IN THE BRITISH MUSEUM V.I. PP 177-179

چیمبر آف پرنسیز (CHAMBER OF PRINCES)

مانٹیگو‌Montagu چیمس فورڈ‌Chelmsford رپورٹ5 میں ایک سفارش یہ بھی تھی کہ ریاستوں کے حکمرانوں کی ایک کونسل قائم کی جائے۔ چنانچہ جنوری 1919ء میں ریاستوں کے حکمرانوں کی کانفرنس ہوئی جس میں بالاتفاق رائے چیمبر آف پرنسیز قائم کرنے کی تجویز منظور کی گئی۔ وائسرائے نے سکریٹری آف اسٹیٹ سے صلاح و مشورہ کے بعد اسے باضابطہ منظور کر لیا۔ چنانچہ یکم فروری 1921ء کو چیمبر آف پرنسیز کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ اس کا افتتاح ڈیوک آف کناٹ‌Duke of Connaught نے دلّی کے لال قلعہ میں کیا۔

اس چیمبر کی نوعیت مشاورتی تھی اور اس کے خاص فرائض حسبِ ذیل تھے:

1۔ اُن معاہدوں کا تحفظ جو سرکارِ برطانیہ اور ریاستوں کے درمیان ہوئے ہیں۔

2۔ دیسی ریاستوں، اُن کے حکمرانوں اور ان کے جملہ افرادِ خاندان کے اختیارات و مراعات کی برقراری۔

یہ چیمبر صدر، سکریٹری، چانسلر، پرو چانسلر اور ارکان پر مشتمل تھا۔

1947ء میں یہ چیمبر توڑ دیا گیا۔

ماخذ:

ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ ورما۔ چیمبر آف پرنسیز۔ دہلی۔

DR. S. M. VERMA: CHAMBER OF PRINCES, DELHI

حیاتِ رحیم

یہ غلام احمد مہجور کشمیری کی تصنیف ہے۔ انھیں تاریخِ کشمیر کو منظوم کرنے کا شوق تھا۔ انھوں نے ایک مختصر تذکرہ ’’حیاتِ رحیم‘‘ کے نام سے لکھا۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں کہ:

’’میرے دل میں عرصہ سے یہ تمنّا چلی آتی ہے کہ میں مفتخر متقدمینِ کشمیر کے حالاتِ زندگی فرداً فرداً کتابی صورت میں مروّجہ زبان اُردو کا لباس پہنا کر اہلِ دُنیا کے آگے پیش کروں۔ لیکن بوجوہاتِ چند در چند یہ خیال عالمِ وجود میں نہ آ سکا۔

........ میں نے بہ کوشش تمام شعرائے کشمیر کی چند غیر مطبوعہ تصانیف فراہم کی ہیں جن کو میں انشاء اللہ تعالیٰ ضرور شائع کروں گا۔‘‘

ان صوفی بزرگ کا پورا نام رحیم صاحب قلندر صفی پوری تھا۔ ان کی کشمیر کے حلقۂ صوفیاء میں بڑی عزّت و توقیر تھی۔ یہ مہجور کے پیر و مرشد بھی تھے۔ ان کا انتقال بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ہوا۔ ان کا مقبرہ موضع صفی پور میں ہے۔ جو مشہور منسبال جھیل کے کنارہ واقع ہے۔ ان کا مقبرہ آج بھی مرجعِ خاص و عام ہے۔

’’حیاتِ رحیم‘‘ اُردو میں لکھی گئی اور تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔

ماخذ:

1۔ مجلّہ ’’انہار‘‘، کشمیری ڈپارٹمنٹ، کشمیر یونیورسٹی۔ سری نگر، 1979ء۔ ص 43-45

2۔ بصد شکریہ جناب محمد یوسف ٹینگ، سکریٹری، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچرل اینڈ لینگویجز، سری نگر، جموں۔