جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تقریر مسٹر روز ویلٹ

ہر اہلِ شہر کو چاہیے کہ ان کے خیالات بہت ہی اعلیٰ و ارفع ہوں مگر وہ اتنے اونچے نہ ہوں کہ عمل میں نہ آسکیں۔ ایسے تمام منصوبے جو عمل میں نہ آسکیں نہایت مضر و قابل نفرت ہیں۔ ایسے خیالات رکھنے والے حقیقت میں دیوانے اور بادیانِ حقیقی کے دشمن ہوتے ہیں۔ جو بیچارے گر گر کر اور ٹھوکریں کھا کھا کر بری بھلی طرح اپنے منصوبوں کو عملی شکل میں لے آتے ہیں وہ اپنے ہم خیالوں کی آرزو و امید کو تو تھوڑی بہت پوری کر دیتے ہیں۔ خیالی پلاؤ پکانے والے لفاظوں پر افسوس ہے جو عملی آدمیوں کے لیے راستہ صاف کرنے کے عوض بوقتِ عمل ان کا مخالف اور ان کی راہ میں روڑے اٹکانے والا ہو جاتا ہے۔ علاوہ اس کے ایسے خیالی منصوبے باندھنے والے حضرات کو یاد رکھنا چاہیے کہ جن باتوں کے کرنے کی وہ دوسروں کو ہدایت کیا کرتے ہیں اگر وہ خود ان کے حصول کی کوشش نہیں کرتے تو وہ کس طرح کا بدنما، مضحکہ انگیز نمونہ پبلک کے آگے پیش کریں گے۔۔ ان کو بھولنا نہیں چاہیے کہ تمام مقاصدِ اعلیٰ کی قدر اس سے جانچی جاتی ہے کہ وہ قابل عمل کس قدر ہیں۔۔ اور ہم کو ایسے عملی آدمیوں سے سخت نفرت کرنی چاہیے جن کے کاموں میں کمینہ پن کا رنگ آجاتا ہے اور جو حصولِ مقاصد کے وقت اخلاق و شائستگی کی مطلق پروا نہیں کرتے۔ ایسا شخص ملک کا دشمن ہے۔

انتہائے شخصیت کے اصول متفرقہ کو جس طرح میں نہیں مانتا اسی طرح مساوات کی انتہائی تجویزوں کی بھی میں تائید نہیں کر سکتا۔ جداگانہ اشخاص کی کوششوں کی تردید کے عوض ان کی تائید کرنی چاہیے مگر ساتھ ہی یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح تمدن بڑھتا جاتا اور پیچیدہ ہوتا جاتا ہے، اسی کے ساتھ حالات بھی بدلتے جاتے ہیں۔ اس تبدیل شدہ حالت میں جو کام پہلے افراد متفرق پر چھوڑ دیا جا سکتا تھا اب وہی کام مل کر زیادہ خوبی کے ساتھ انجام پا سکتا ہے۔ یہ سخت غلطی ہے اور ناممکن بھی ہے کہ ہم ایسے سخت اصول قائم کریں جو دونوں حالتوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیں۔ ان باتوں کی اصل حقیقت عام مشاہدات سے ظاہر ہو جاتی ہے بشرطیکہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو نشۂ غرور نے اندھا نہ کر دیا ہو۔ مثلاً جب افراد انسانی جھونپڑوں اور گاؤں میں رہتے ہیں تو فراہمیِ آب اور صفائی کا مسئلہ فرداً فرداً اشخاص پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر جب وہی لوگ آبادی میں زیادہ اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں تو نئی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

صرف یہی نہیں ہوتا کہ چونکہ وہ تعداد میں بڑھ گئے ہیں اس لئے ان کی ضرورتوں کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے بلکہ اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ یعنی اب صفائی اور فراہمیِ آب کا ایک جداگانہ مستقل مسئلہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات صرف تحکمانہ رایوں کے تابع نہیں ہے کہ وہ ضرورت کب پیش آتی ہے بلکہ اس کا فیصلہ تجربہ و مشاہدہ کے ہاتھ ہے۔ بہت سی نزاعیں مساویانہ و متفرقانہ برتاؤ کی نسبت نہایت لغو ہیں۔ یہ معمولی سمجھ کی بات ہے کہ بہت سا کام الگ الگ کرنے کے عوض مل کر بہت خوبی کے ساتھ انجام پا سکتا ہے۔

جس طرح ہم کو جھوٹ بولنا نہیں چاہیے اسی طرح ہم کو ان افعال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن میں صداقت نہیں۔ ہر جگہ ہم کو نہیں کہنا چاہیے کہ تمام افراد مساوی الحقوق ہیں مگر ہاں، ایک خاص حد تک مساوات کی کوشش نازیبا نہیں۔ آزادی کے یہ معنی سمجھنا بالکل غلط ہے کہ فرق مراتب کا لحاظ رکھنا چاہیئے بلکہ اصل معنی یہ ہیں کہ کسی کی جان و مال و آزادی افعال معرض خطر میں نہ ہو اور وہ زندگی کا پورا پورا لطف اٹھا سکے۔ ہم ان لوگوں کی باتیں بالکل نہیں سن سکتے جو مساوات کے اس درجہ درپے ہیں کہ سارے عالم کو ایک سطح پر لے آنا چاہتے ہیں بلکہ ہم اس کی کوشش کریں گے کہ روز بروز وہ زمانہ قریب ہوتا جائے کہ ہر آدمی کو آسانی کے ساتھ اپنا جوہر دکھلانے کا موقع ملے اور اس کے بعد جیسے وہ عمل کرے گا انہی کے مطابق اس کے درجے ہوں گے اور جب عمل میں فرق ہو گا تو صلہ میں بھی فرق ہونا لازمی ہے۔ کوئی سپہ سالار یا مصور، کوئی صناع یا پیشہ ور اگر اپنی خلقی کمزوریوں کے سبب کوئی کام اچھی طرح نہ انجام دے سکے تو ہم اس کی کمزوریوں پر افسوس کریں گے۔ مگر بہرحال صلہ و انعام اسی شخص کا حق ہو گا جو اچھا کام کرے گا۔ اس کے علاوہ کوئی خاص صورت عطائے اجرت کی صرف غلط ہی نہ ہوگی بلکہ صریح ناانصافی ہوگی۔ یہ کہنا کبھی صحیح نہیں ہو سکتا کہ فضول خرچوں، کاہلوں اور نالائقوں کو بھی ایسی ہی اجرت ملنی چاہیے جیسی اجرت کہ ہم کفایت شعار، محنتی اور قابل اشخاص کو دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، تو بے شک اس کی تھوڑی مدد کرنی بہت خوب ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کبھی نہ کبھی تھوڑی اعانت کا محتاج ہے لیکن اگر کوئی کاہل اور ناعاقبت اندیش اپنے کو بے پروائی سے ڈال دے، تو اس کی مدد کرنی تضیعِ اوقات ہے اور یہ سخت مضر ہے کہ ہم کاہلوں کے دل میں یہ گمان پیدا کر دیں کہ ان کو بھی کار ناکردہ پر ویسی ہی اجرت ملے گی جیسی کہ جفاکش و محنتی کو۔

مگر مساویانہ برتاؤ کے حامی اگر کوئی تجویز پیش کریں تو ہم کو ہرگز اسے اس خیال سے کہ یہ ایک وہمی و خیالی شخص کی تجویز ہے رد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کام کی تجویز ہے، تو قبول کرو اور اگر ناقابل عمل ہے تو انکار۔ بہت سی نئی تجویزیں پیش کرنے والے اشخاص ہیں جن کے ساتھ مل کر ایک حد خاص تک کام کرنا ممکن ہے اگرچہ ان کی دوسری تجویزوں سے ہم کو اختلاف ہو لیکن اگر ترقی کے دوسرے قدم میں ہم اور وہ متفق ہیں، تو ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حامیان اصلاح و ترقی کے تمام مطالبات کو رد کرنا اس بنا پر کہ وہ آگے بڑھ کر حد جائز سے تجاوز کر جاتے ہیں، فاش غلطی ہے۔