جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تقریر مسٹر روز ویلٹ

کسی قوم کے لئے یہ نہایت ہی خراب بات ہے کہ وہ کامیابی کا ایک غلط معیار قائم کرکے اس کی تعریف و تحسین کرے اور اس سے بڑھ کر لغو و غلط معیار کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہم صرف مادی ترقیوں کی اتنی ناواجب عظمت کریں۔ کوئی شخص اگر کسی وجہ سے جس کے لئے وہ خود ہی ذمہ دار ہو گا اگر اپنے اہل و عیال کی کفالت نہ کرسکا تو بے شک اس کو سمجھنا چاہیے کہ اس نے ایک بہت بڑے فرض کو ادا نہیں کیا، لیکن وہ شخص جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کی ضرورتوں سے مستغنی ہو گیا ہو اور اب حرص و بخل سے دولت کا انبار لگا رہا ہے جس کے روپیہ سے قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ناکارہ و بے مصرف وجود ہے سمجھدار اور دانشمند لوگ نہ اس کی عزت کرتے ہیں اور نہ اس پر رشک۔ اس کی تعریف و توصیف وہی لوگ کریں گے جن کے دل و دماغ اس سے بھی پست ہیں۔

مسئلۂ مال کی نسبت میری رائے یہ ہے کہ تمام شائستہ اقوام میں لوگوں کے مال کی پوری حفاظت ہونی چاہیے اور عام طور سے حقوقِ انسانی و حقوقِ مالی ایک شے ہے، لیکن جب کسی وجہ سے ان دونوں حقوق میں تنازع پیدا ہو جائے تو اس وقت یقینی دولت سے زیادہ انسانی حقوق کا پاس کیا جائے گا۔

اہلِ شہر کے دیگر فرائض میں ایک امر یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ وہ جن امور کو پسند کریں یا کسی شے کی تعریف و توصیف کریں تو اس تعریف و توصیف کو بلحاظِ اس شے کے افادے و نقصان کے ہونا چاہیے نہ کہ محض اس شے کی ذاتی خوبی اور برائی کے سبب۔

آج کل دو امور بہت ہی قدردانی کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں: ایک تو کسبِ زر کی قابلیت، دوسرے زبان آوری۔ اس میں شک نہیں کہ کسبِ زر کی معتدل لیاقت نہایت ہی ضروری ہے اور بہت بڑی لیاقت بھی مفید ہے بشرطیکہ یہ روپیہ پیدا کرنے کی قابلیت دوسرے اوصافِ حمیدہ کی ماتحت ہو، ورنہ بغیر اس کے یہ دولت اس شخص کو زمانۂ حال کی کاروباری دنیا کا ایک نہایت ہی بدنما نمونہ بنا دے گا۔

یہی حال زبان آور مقرروں کا ہے۔ بے شک یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ سلطنت جمہوری میں رہبرانِ خیال اظہارِ مطالب پر پورے قادر ہوں۔ مگر فصاحت و زباں آوری صرف یہ بتا دینے کی مختار ہے کہ اظہارِ مدعا کیونکر کرتے ہیں۔ اگر اس سے یہ کام لیا جانے لگا کہ سامعین کو اپنی رنگین بیانی سے دھوکا دے کر اپنا ہم خیال بنا لیا، تو حضرات! وہ شخص ایک فتنہ و فساد کا آلہ ہے۔ بہت سے لائق لوگوں میں زبان آوری کی صلاحیت ہوتی ہی نہیں، اس لیے آپ کو اپنی زبانِ اعمال کی فصاحت پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اگر فصاحت میں صداقت نہیں ہے یا مقرر صادق اللہجہ نہیں ہے یا تقریر معقول، قابلِ عمل نہیں ہے تو صاحبو ایسی سب صورتوں میں یاد رکھیے کہ جتنی زبردست زبان آوری ہو گی ویسی ہی زبردست خرابیاں بھی پیدا ہوں گی۔ یہ نہایت ہی شدید سیاسی کمزوری ہے کہ کوئی قوم صرف لسانی و زباندانی کے ذریعے سے مسحور کر لی جائے۔ الفاظ کی قدر صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ الفاظ ہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہ قائم مقامِ اعمال ہیں۔ لسانی، گویائی، حاضر جوابی سے اگر بلند حوصلگی، اصابتِ رائے اور پرہیزگاری کو تقویت نہیں پہنچتی تو وہ نہایت ہی خطرناک شے ہے۔۔ اس گویائی کی تعریف کرنی، جس میں اخلاقی آمیزش مطلق نہیں، پبلک پر ظلم کرنا ہے۔۔

جو باتیں میں نے مقرر کی نسبت کہی ہیں وہ اخبار نویسوں کے لیے بھی اسی قدر صحیح ہیں۔ اخبار نویسوں کی طاقت نہایت ہی وسیع ہے لیکن اگر وہ اپنی طاقت کو بری طرح استعمال کرتے ہیں تو مطلق تعریف کے مستحق نہیں۔۔ وہ پبلک کو بے انتہا نفع پہنچا سکتے ہیں اور اکثر پہنچاتے ہیں، مگر ساتھ ہی پبلک کو بے انتہا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور پہنچاتے بھی ہیں۔۔ وہ باتیں جو سراسر مذاقِ سلیم اور تہذیب و اخلاق کے منافی ہیں اگر ان کو اخبار نویس و دیگر اربابِ قلم پھیلائیں تو وہ سخت لعنت و ملامت کے مستحق ہیں۔ کذب و افترا، بدگوئی، بے حیائی اور عامیانہ پن، یہ سب نہایت ہی زبردست عنصر ہیں جن سے پبلک کے دل و دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔ ناجائز تحریروں کے لئے یہ عذر کہ چونکہ پبلک کو اس کی طلب ہے اس لیے اس کی فراہمی کی جاتی ہے اسی طرح کی ناقابل سماعت بات ہے جس طرح کوئی رسد رساں اپنی زہر آمیز رسد کی بابت کہے۔۔

بہرحال اہل شہر میں دو قسم کی خوبیاں ہونی چاہئیں اور یہ دونوں خوبیاں ایک دوسرے کی تابع ہیں۔ ہر شخص میں پہلے لیاقت ہونی چاہیے کہ وہ اسے ایک مستعد کار گزار بنائے، بعد اس کے اس میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی اس مستعد کار گزاری سے پبلک کو بھی نفع پہنچا سکے۔۔ اگر کوئی شخص بے لیاقت ہے تو نکما ہے۔

اگر کوئی شخص صرف غریب و معصوم ہے تو ناکارہ ہے۔ سست اور بودی نیکی سے کچھ نہیں ہو سکتا اور دنیائے جدوجہد میں ڈرپوک نیکی کی کہیں جگہ نہیں۔۔ جو شخص اپنی غربت و مسکینی کے سبب بڑی بڑی برائیوں سے بچتا ہے وہ اپنی سادہ لوحی کے سبب بڑی بڑی نیکیوں سے بھی بے نصیب رہتا ہے۔ غرض، اہلِ شہر کو اپنا درجہ اور وقار قائم رکھنے کے ساتھ جفاکش و دلیر بھی ہونا چاہیے۔

مگر حضرات! میں پھر کہوں گا کہ اگر لیاقت و دلیری کی باگ اخلاق حمیدہ کے ہاتھ میں نہیں ہے تو وہ شخص جتنا زیادہ بالیاقت ہو گا اسی قدر زیادہ خطرناک بھی ہو گا۔ ذہانت، فراست، جفاکشی اور الوالعزمی اگر اغراضِ خودغرضی اور بندگانِ خدا کے حقوق سے بے اعتنائی میں صرف ہوں تو ان سے بڑھ کر کوئی شے بری نہیں، اور اگر ایسے شخص کی لوگ قدر کریں تو یہ پبلک کی کم ظرفی و تہی مغزی کی دلیل ہے۔ مگر صاحبو! ایسے لوگ بدنصیبی سے ہر فرقے میں ہیں۔ مدبرانِ سلطنت، اہلِ سیف، مقررانِ نام آور، اخبار نویس، تجار، بادیانِ ملت، قریب قریب ہر فرقے کے لوگ کم و بیش ان عیوب کے شکار ہو رہے ہیں۔۔ دانشمندوں اور دوربینوں کو چاہیے کہ ایسے آدمی جتنے زیادہ مشہور و کامیاب ہوں اسی قدر زیادہ ان کی توہین کرنی چاہیے۔ محض کامیابی کو انسان کے جاچنے کا ذریعہ بنانا نہایت ہی فاش غلطی ہے۔ اگر عام طور سے لوگ کسی کی تعریف محض اس خیال سے کریں کہ اس کو بڑی کامیابی ہوئی ہے تو حضرات! ان کی عقلوں میں فتور ہے اور وہ نہیں جانتے کہ سلطنتِ جمہوری کا شیرازہ صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اس طرح کی ناواجب عظمت و تعریف سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ نعمتِ آزادی کے اہل نہیں۔۔

نیکیاں جو عورتوں کو عمدہ مائیں اور سلیقہ مند بیبیاں بناتی ہیں اور مردوں کو جفاکش و دلیر، یہ سب شاخیں ہیں۔ عمدہ اخلاق کی۔۔ لیکن اگر سلطنت کو بہتر کے ساتھ بڑا بھی بنانا ہے تو حضرات، ان اوصاف کے ساتھ دوسرے اوصاف کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ عمدہ شخص صرف وہی نہیں ہے جس کے اوصاف صرف گھر کی چار دیواری میں محدود ہوں بلکہ اس شخص پر سلطنت کے بھی حقوق ہیں اور خاص کر ایسی جگہ کی سلطنت میں جہاں کی آبادی میں کاروباری افراد کا پیچیدہ عنصر غالب ہے۔۔

امورِ سیاسی میں اہلِ شہر کو اور خصوصاً لیڈروں کو اس بات کا بہت لحاظ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی گرمجوشی میں اپنے ذہنی منصوبے نہ باندھا کریں جن کا رتبہ خیالی پلاؤ سے زیادہ نہ ہو۔ دقیقہ رس فیلسوف و فضیلت مآب حضرات جو اپنے کتب خانوں سے بیٹھے ہوئے اپنے منقولوں کے مطابق کیا کرتے ہیں کہ کارِ جہانبانی کو یوں ہونا چاہیے اور یوں ہونا چاہیے، حقیقت میں عملی دنیا کے لیے بالکل بیکار ہیں۔ جوشیلے بزرگوار اور منافقان بے بصر جو صرف اپنے اغراض میں کامیاب ہونے کے لیے لوگوں کو ان ہونی باتوں کی توقع دلایا کرتے ہیں صرف بے کار ہی نہیں ہیں بلکہ فسادی ہیں۔۔