جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تقریر مسٹر روز ویلٹ

فرانس نے اقوام عالم کو بہت سے سبق سکھلائے ہیں۔ نہایت ہی نادر بات جو اس کی تاریخ ہم کو سکھاتی ہے وہ یہ ہے کہ انتہائے علوم و فنون کے ساتھ بھی اہل سیف و اہلِ قلم کا اجماع ہو سکتا ہے۔ صدیوں تک فرانسیسی سپاہیوں کی دلیری ضرب المثل رہی ہے اور اسی کے ساتھ مدتوں تک زبان فرانسیسی تمام یورپ کی زبان رہی اور بڑے بڑے صناع و قادرالکلام اس کی نثر کا دم بھرتے رہے۔

جنہوں نے بڑی بڑی عالمانہ فضیلتیں حاصل کیں ان کو اور ان کے ساتھ ان کو بھی جو نہ حاصل کر سکے ایک طرف کرو، کیونکہ یاد رکھو کہ یہ فضیلتیں بھی چند دوسری چیزوں کے آگے کم قدر ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ہم کو مضبوط بدن کی ضرورت ہے اور اس سے بھی مضبوط تر دماغ کی ضرورت ہے، مگر صاحبو بدن و دماغ سے بھی بالاتر ایک چیز ہے اور وہ ہمارے اخلاق ہیں! یعنی تمام اوصاف انسانی کا وہ نچوڑ جسے ہم جوہرِ انسانیت، دلیری، پختگیِ اعتقاد اور غیرتمندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ میں ورزشِ جسمانی کا پکا معتقد ہوں بشرطیکہ یہ ہمیشہ مدنظر رہے کہ صرف بدن کی پرورش ہی انتہائے مقصد نہیں۔ میں اس کا بھی ویسا ہی حامی ہوں کہ لوگوں کو پوری پوری تعلیم دی جائے مگر اس تعلیم کو مفید بنانے کے لئے بہت سی باتیں فاضل از کتاب بھی بتانی ہوں گی ہم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کیسی ہی زبردست ذہانت و فراست ہو، کیسے ہی اعلیٰ و ارفع خیالات ہوں، اور ذہن میں کیسی ہی تیزی و براقی ہو ان وزنی اور ٹھوس اخلاقی اوصاف کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ نفس کشی، ضبط و تحمل، دانائی، ذمہ داری کو تنہا اٹھا لینے کی طاقت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت، دلیری، اولوالعزمی۔ یہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کو زبردست و برگزیدہ بناتے ہیں۔ بغیر اس کے کوئی قوم اپنے اوپر آپ حکومت نہیں کر سکتی۔

حضرات! میں اس وقت بہت ہی شاندار جماعت کے آگے گفتگو کر رہا ہوں۔ میں ایک بڑی تعلیم گاہ میں تقریر کر رہا ہوں جس میں فرانسیسی ذہانت کے چیدہ پھول ہیں۔ میں ذہانت و طباعی کو پوری تعظیم کرتا ہوں میں تحصیل علوم کے اصول مروجہ کی پوری عزت کرتا ہوں پھر بھی حضرات، مجھ کو یقین ہے کہ آپ میری تائید کریں گے جب میں کہوں گا کہ ان سب سے زیادہ ضروری اور بالاتر وہ اخلاقی اوصاف اور نیکیاں ہیں جن کی ہر دم ضرورت ہوتی ہے۔ روزانہ کے عام اوصاف میں یہ بھی داخل ہے کہ ہر شخص میں فرداً فرداً کام کرنے کی صلاحیت ہو، بوقت ضرورت اپنے ملک کے لئے سینہ سپر ہو سکے اور بہت سے تندرست لڑکے رکھتا ہو۔ کام کرنے کی ناگزیر ضرورت تو اس سے ظاہر ہے کہ بہت کم لوگ ملک میں ایسے ہوتے ہیں جن کو بالکل بے فکری و فراغت نصیب ہو سکے۔ مگر ایسے خوشحال لوگ بھی بے کار نہیں۔ بشرطیکہ وہ اپنی فراغت کے معنی کاہلی و بیکاری نہ سمجھیں۔ کیونکہ ملک میں بہت سے ایسے کام ہیں جن کو ایسے ہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو فکرِ معاش سے آزاد اور اجرت و مزدوری سے مستغنی ہوں۔ مگر عوام الناس کو اپنی روٹی کے لیے محنت کرنی ہوگی اس لئے قوم کو روٹی پیدا کرنے کی پوری تعلیم دینی چاہیے اور اسے آگاہ کر دینا چاہیے کہ اگر وہ کوئی روزگار نہیں کرتا ہے تو نہایت ہی بے حیا و بے غیرت آدمی ہے وہ اس غلط خیال میں نہ پڑے کہ لوگ اس کی کاہلی کو آزادی و بے فکری سمجھ کر رشک کرتے ہیں۔ سمجھداروں کے نزدیک وہ نہایت ہی ذلیل و مجہول الخلقت آدمی ہے۔

اس کے بعد، حضرات! دوسری خوبی یہ ہونا چاہیے کہ ہر شخص دلیر و طاقتور ہو کہ بوقت ضرورت حفاظتِ وطن کے لیے میدان میں کود پڑے۔

بہت سے حکمائے نیک نیت ہیں جو خون ریزیوں اور جنگ وجدل کے سخت مخالف ہیں۔ مگر ان کی مخالفت اسی وقت تک صحیح ہے جبکہ جنگِ ناحق و ناروا ہو۔ جنگ بیشک نہایت ہی نفرت انگیز و ہولناک شے ہے اور جنگِ ناحق بندگانِ خدا پر صریح ظلم اور گناہِ عظیم ہے مگر گناہ اسی وقت ہے جبکہ ناحق ہے گناہ اس لئے نہیں کہ وہ کشت و خون ہے۔ ہمیشہ حق کی تائید کرنی چاہیے اس میں لڑائی ہو یا صلح صرف یہ خیال نہیں ہونا چاہیے کہ صلح بہتر ہے یا لڑائی، بلکہ ہمیشہ یہ خیال مد نظر رہے کہ حق کو فتح ہو۔ اگر یہ سوال ہو کہ کیا قوانین عدل و انصاف پھر جاری کیے جائیں گے؟ تو صاحبو، ایک دلیر و مضبوط قوم کی طرف سے یہی جواب ملے گا کہ ”ہاں“! جو کچھ ہو جائے ”ہاں“! بیشک ہمیشہ اس کی کوشش کرنی چاہیے کہ قتل و خون کا موقع نہ آئے۔ جس طرح ہم ہمیشہ اس کی کوشش کرتے ہیں کہ آپس میں نزاعیں نہ ہوں۔ مگر کوئی غیرت مند شخص یا کوئی غیرت مند قوم اس کو ہرگز گوارا نہیں کر سکتی کہ اس پر ناحق و ناروا ظلم ہو اور وہ چپ رہے۔

آخر میں، حضرات! کام کرنے کی لیاقت اور بوقتِ ضرورت سینہ سپر کر دینے کی صلاحیت سے بھی بڑھ کر ایک ضروری امر ہے۔ کسی قوم کی سب سے بڑی دولت و نعمت یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے نسلیں چھوڑ جائے۔ قرنہائے ماضی میں اولاد بہت بڑی دولت سمجھی جاتی تھی، حضرات! اسی طرح وہ بہت بڑی نعمت آج بھی ہے۔ بے ثمری و لاولدی سے بڑھ کر کوئی نحوست نہیں اور جو لوگ عمداً انقطاع نسل کے درپے ہیں ان کو سخت ذلیل و رسوا کرنا چاہیے۔ تمدن کا پہلا فرض یہ ہے کہ عورت و مرد بہت سے تندرست لڑکوں کے والدین ہوں تاکہ افرادِ قوم میں اضافہ ہو اور وہ کم نہ ہونے پائیں۔ اگر کسی اور سبب سے نسلیں گھٹ رہی ہیں تو حضرات آپ یقین جانیں کہ یہ ایک سخت بدنصیبی ہے اور اگر نسلیں عمداً گھٹائی جا رہی ہیں کہ بچوں کے بکھیڑے عیش و عشرت میں خلل انداز نہ ہوں تو قوانینِ الٰہی کی بے خطا و دردناک سزاؤں سے وہ بچ نہیں سکتے۔ ہم لوگ بڑی بڑی جمہوری سلطنت کے افراد ہیں اگر عمداً اپنے گھروں میں بے ثمری کی نحوست کو لے آئیں گے تو ہماری ساری فخر و خود ستائی ایک نہایت ہی لغو حرکت ہو گی۔ تمام تہذیب و شایستگی، تمام تراش و خراش، ہمارے مذاق سلیم، ہمارے علوم و فنون کی ترقی، تمام مال و دولت کا غلیظ انبار اخلاقی بنیادوں کی کمی کو کبھی پورا نہیں کر سکتے اور انہیں اخلاقی بنیادوں میں حضرات! ایک زبردست بنیاد توسیعِ نسل کی قوت ہے۔

اخلاقی خوبیوں کا رنگ ہمارے تمام افعال میں ہونا چاہیے۔ ہمارے فرائضِ ذاتی میں بھی اور ہمارے فرائضِ ملکی میں بھی انسان کا سب سے بڑا فرض اس کی ذات خود اور اس کے اہل عیال کے متعلق ہے اور اپنے اور اپنے اہل و عیال کے فرائض اسی وقت انجام دے سکتا ہے جبکہ وہ ان کی کفالت کے لئے روپیہ پیدا کرے۔ جب اس کو اس سے فراغت ہو گی تو البتہ وہ کوئی قومی کام بھی کر سکتا ہے۔ پہلے جب وہ اپنا بار اٹھا لے گا تو پھر وہ قوم کا بھی بار اٹھا سکے گا۔ وہ شخص جو قومی و ملکی خدمات میں ایسا مصروف ہے کہ اپنے اہل و عیال کی ضرورتوں سے بے پروا اور ان کو تکلیف میں رکھے ہوئے ہے ہرگز قابلِ ستائش نہیں، اس پر لوگ خندہ زنی کرنے سے کبھی باز نہیں آ سکتے۔

مگر بایں ہمہ اگرچہ روپے کو میں قوم و افراد کے لئے نہایت ضروری سمجھتا اور اس پر اتنا زور دے گیا ہوں مگر اس کو بنیاد کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا اور گو بنیاد عمارت سے نہ جدا ہونے والی چیز ہے مگر وہ بنیاد ایک بالکل بے مصرف چیز ہے اگر اس پر مقاصدِ اعلیٰ کی عمارت نہ بنائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ میں محض دولت مندوں اور کروڑ پتیوں کی وقعت نہیں کرتا اور ان کو کسی ملک و ملت کے لئے مفید نہیں جانتا اور خاص کر وہ میرے ملک کے لئے تو بالکل بے مصرف ہیں۔ اگر کسی نے روپیہ کو اس طرح حاصل کیا ہے یا اس طرح استعمال کرتا ہے کہ اس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے تو کیا کہنا ہے، وہ ملک کی دولت ہے۔ مگر اس کی تعریف صرف اسی وجہ سے کریں گے کہ اس نے اس طرح پیدا کیا یا اس خوبی سے خرچ کرتا ہے، ہرگز اس لئے نہیں کہ وہ ایسا دولت مند ہے۔ جس طرح بہت سے انسانی مشاغل میں ہادی اور رہنماؤں کی ضرورت ہے اسی طرح کاروباری دنیا میں بھی بڑے بڑے رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ ان کی جگہ عام لوگ پُر کر سکتے ہیں۔