آسکر وائلڈ کو ادبِ حاضرہ میں ایک نئی تحریک کا مجدد ہونے کی حیثیت سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس تحریک کا ما حصل یہ تھا کہ صنعت کی تحصیل میں اُس کے حصول کے سوا کوئی دوسری غرض و غایت نہ ہونا چاہیئے۔ صنعت کو صنعت سمجھ کر ہی دیکھنا چاہیئے۔ وہ بذاتہ اپنا معیار ہے۔ اُسے کسی عملی یا اخلاقی فائدے کے نقطۂ نگاہ سے نہ دیکھنا چاہیئے۔ اس کی اس تعلیم کو غلط فہمی سے اخلاق کے منافی سمجھا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ نا قدردانی کا ہدف رہا۔ لیکن تمام حقیقی صناعوں اور پیغمبروں کی طرح موت کے بعد اُسے بقائے دوام حاصل ہوئی۔
اُس نے صنعت کی صداقت بیانی پر عمل کر کے اپنے ملک کی معاشرت کا ایک ایسا کریہہ پہلو اپنی تصانیف میں پیش کیا، جس نے انگلستان بھر میں ہر طرف اُس کے دشمن پیدا کر دیئے۔ چنانچہ وہ ایک مکروہ جرم میں ماخوذ کر کے قید بھی کیا گیا (اُس کی نا کردہ گنائی کا حال بعد میں کھلا، اور اُس کے نام پر جو بدنما دھبہ اس واقعہ نے لگا دیا وہ بعد میں دشمنوں کی بد اندیشی کا نتیجہ ثابت ہوا)۔ ڈورین گرے (The Picture of Dorian Gray)، تصویرِ شباب جس کا ترجمہ ہے، اُس کی اختراعِ فائقہ سمجھی جاتی ہے۔ اُس میں اُس نے انسانی فطرت کے جن غوامض کو بے نقاب کیا، اور گناہ کو تحلیل کیا، اُس نے اُسے بد اخلاقی کے الزام میں ماخوذ کیا۔ اس کتاب کا دیباچہ معترضین کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ یہ مختصر سا دیباچہ صنعت کے متعلق ایک وسیع و بسیط سے بھی زیادہ پُر معنی ہے اور اُس کی خاص اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ آسکر وائلڈ کے خیالات و آرا کا نچوڑ ہے۔
آسکر وائلڈ کے اجتہادی خیالات جو وہ اپنے افراد کی زبانی ادا کرتا ہے ایک خاص نفسیاتی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ اُس کے اندازِ تحریر کے متعلق یہ بات غور کے قابل ہے کہ وہ موزوں و مرصع الفاظ کا جویاں رہتا تھا۔ وہ ایک ”مصورِ الفاظ“ تھا۔ ترجمے میں اس خوبی کو بہت حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔
دیباچہ
صنّاع حسین اشیاء کا خالق ہے۔
صنّاع کی شخصیت پر پردہ ڈالنا اور اپنے کو بے نقاب کرنا صنعت کا مقصد ہے۔
نقاد وہ ہے جو حسین اشیاء کے تاثرات کو ایک نئے قالب میں ڈھال سکے یا ایک نئے انداز میں اُن کی ترجمانی کر سکے۔
تنقید کی بہترین اور بدترین صنعت خود نوشتہ سوانح عمری ہے۔
جو لوگ حسین اشیاء کو بدزیب جامہ پہناتے ہیں، اُن کی فطرت ناقص ہے اور لطافت سے یکسر عاری ہے۔ یہ ایک غلطی ہے۔
جو لوگ حسین اشیاء کو حسین جامہ پہناتے ہیں، اُن کی فطرت سلیم ہے، اُن کی حالت اُمید افزا ہے۔
وہ چند منتخب ہستیاں ہیں جن کے لیے حسین اشیاء یکسر حُسن ہیں۔
کوئی کتاب مہذب اخلاق یا مخرب اخلاق نہیں ہوتی۔ کتابیں صرف اچھی طرح لکھی جاتی ہیں یا بُری طرح، اور بس۔
اُنیسویں صدی کو واقعیت سے جو نفرت ہے، وہ اُس حبشی کے قہر و غضب کی طرح ہے جسے آئینے میں اپنی اصلی صورت نظر آتی ہے۔
انسانی زندگی کا اخلاقی شعبہ صنّاع کے موضوع کا ایک جزو ہے۔ لیکن صنعت کی اخلاقیت اسی میں ہے کہ وہ ایک ناقص وسیلے کا بہترین استعمال کرے۔
کوئی صنّاع کسی بات کو ثابت نہیں کرنا چاہتا۔ بدیہی حقائق بھی تو ثابت کیے جا سکتے ہیں۔
کوئی صنّاع اخلاقیات کا ہم خیال نہیں ہوتا۔ اخلاقیات کی ہم خیالی طرز ادا کا ایک ناقابلِ معافی تصنع ہے۔
کوئی صنّاع کبھی ادائے مطلب سے عاجز نہیں آتا۔ اُسے ہر چیز کے اظہار پر قدرت کاملہ حاصل ہوتی ہے۔
زبان اور خیال صنّاع کے لیے ایک صنعت کے اوزار ہیں۔
نیکی اور بدی صنّاع کے لیے ایک صنعت کے مواد ترکیبی ہیں۔
موسیقی تشکیلِ اصوات کا، اور ایکٹری تمثیلِ جذبات کا فن ہے۔ اور ان باتوں کے اعتبار سے یہ دونوں اپنی اپنی جگہ تمام فنون کا نمونہ ہیں۔
صنعت ایک ہی وقت میں سطح بھی ہے اور نقش بھی۔
جو لوگ سطح سے نیچے اُتر کر تہ تک پہنچنا چاہتے ہیں، وہ ایک عظیم ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں۔
صنعت زندگی کی نہیں، بلکہ زندگی کے مبصر کی، آئینہ داری کرتی ہے۔
کسی صنعتی تخلیق کی نسبت اختلافِ رائے اُس کی جدت، معنویت، اور اہمیت کی دلیل ہے۔
جب نقاد آپس میں مختلف الرائے ہوں، تو صنّاع کو اپنی صنعت کی یکجہتی کا یقین ہونا چاہیئے۔
کوئی شخص اگر کوئی مفید چیز بنائے تو ہم اُس کو اُسی حالت میں معافی کا حقدار سمجھ سکتے ہیں کہ وہ مطلق اُس کی تعریف نہ کرے۔ لیکن جو شخص کوئی غیر مفید چیز بنائے اُس کا بہانہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اُس کی بیحد تعریف کرے۔
صنعت سراسر غیر مفید ہے۔
باب 1
تصویر خانہ گلاب کے پھولوں کی لطیف عطر بیزیوں سے معمور تھا، اور جب ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے خانہ باغ کے درختوں میں سنسناتے ہوئے چلتے، تو کھلے دروازے میں سے بکائن کی تیز خوشبو یا پیازی رنگ کے پھولوں سے لدے ہوئے کیکروں کی بھینی بھینی مہک آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
لارڈ ہنری واٹن اُس ایرانی دیوان کے ایک کونے سے، جس پر لیٹا وہ حسب دستور سگرٹ پر سگرٹ پیئے جاتا تھا، کبھی کبھی گلِ اشرفی کے شہد سے شیریں اور رنگین شگوفوں کی ایک جھلک دیکھ پاتا تھا، جن کے شعلہ مثال حُسن کی تاب برداشت نہ لا کر درخت کی نازک شاخیں لرز رہی تھیں۔ بعض اوقات جب پرندوں کی پرواز کا موہوم سا سایہ اُن ریشمی پردوں پر، جو کھڑکی کے سامنے چھٹے ہوئے تھے، ایک اُڑتی سی جھپک دکھا کر غائب ہو جاتا، تو ایک لمحے کے لیے بعینہ کسی جاپانی نگار خانے کا سماں بندھ جاتا، اور لارڈ ہنری کی آنکھوں میں ٹوکیو کے اُن زرد پیلے اور دُبلے پتلے نقاشوں کی صورتیں پھرنے لگتیں، جو ایک ایسے فن کے ذریعے سے، جو لازماً غیر متحرک ہے، حرکت اور سُرعت کا نقشہ آنکھوں میں اُتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں جو لمبی گھاس میں اُلجھ اُلجھ کر اُڑتی پھرتی تھیں یا ایک افسردہ تسلسل سے ایک بیل کی سنہری سنہری گرد سے اٹی ہوئی شاخوں کا طواف کر رہی تھیں، اپنی اُداس بھنبھناہٹ سے خاموشی کو اور بھی نا گوار کیے دیتی تھیں۔ شہر لندن کا مدھم شور و غل یوں معلوم ہوتا تھا کہ دور کہیں ارغنوں بج رہا ہے، اور اُس کی ہم آہنگیاں فضا میں گونج گونج کر سُنائی دے رہی ہیں۔
کمرے کے عین وسط میں ایک اونچی تپائی پر ایک غیر معمولی حُسن و جمال کے نوجوان کی قدِ آدم تصویر کھڑی تھی۔ اور اُس کے سامنے ذرا پرے ہٹ کر، خود مصور باسل ہالورڈ بیٹھا تھا۔ یہی وہ شخص تھا، جس کی گم شدگی سے لندن میں چند سال پیشتر ایک عام گڑ بڑ مچ گئی تھی اور طرح طرح کے قیاس اور اندازے کیے گئے تھے۔
مصور اس حسین اور دلفریب صورت کو بغور دیکھ رہا تھا جس کی عکاسی اُس نے اِس پُر فن انداز میں کی تھی، اور اس کے چہرے پر اطمینان و مسرت کا تبسم تھا۔ یکایک وہ چونکا اور اُس نے آنکھیں بند کر کے اپنی پلکوں پر اُنگلیاں رکھ لیں، گویا وہ اپنے دماغ کے نہانخانے میں کسی ایسے پُر لطف خواب کو مقیّد کرنا چاہتا ہے جس سے بیدار ہونا اُسے منظور نہیں۔
لارڈ ہنری نے ایک سُست لہجے میں کہا۔ ”باسل، یہ تمہاری بہترین تصویر ہے۔ تم ضرور اسے آیندہ سال گرو سویز کی نمایش میں بھیجنا۔ اکیڈمی تمہارے لیے بہت بڑی اور بہت مبتذل ہے۔ جب کبھی میں وہاں گیا ہوں، یا تو اتنے آدمی تھے کہ مجھ سے تصویریں نہ دیکھی گئیں، جو میرے نزدیک نہایت بدمزگی کی بات ہے، یا پھر اتنی تصویریں تھیں کہ مجھ سے آدمی نہ دیکھے گئے، جسے میں اُس سے بھی بدتر سمجھتا ہوں۔ گرو سویز تمہارے لیے دنیا میں ایک ہی جگہ ہے“۔
باسل نے اپنا سر اُس انوکھے انداز میں ہلایا جو آکسفورڈ میں اُس کے ہم مکتب دوستوں کو بے اختیار ہنسا دیا کرتا تھا اور جواب دیا۔ ”میرا خیال ہے میں اسے کہیں نہ بھیجوں گا۔ نہیں، میں اسے کہیں نہ بھیجوں گا“۔
