جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تصویرِ شباب (حصہ اول)

”جو شخص سوسائٹی میں اپنا بول بالا کرنے کے لیے اتنے جتن کرے، اور آدابِ مجلس سے اتنی بھی واقفیت نہ رکھتا ہو، میں اُس کی کیا تعریف کر سکتا ہوں؟ خیر، تم مجھے یہ بتاؤ کہ لیڈی برینڈن نے کیا کہہ کر اُس کا تعارف کرایا“۔

”کچھ ایسی ویسی بے سر و پا باتیں کرتی رہی کہ ”بیچارہ خوب آدمی ہے۔ اُس کی ماں اور میں ایک جان ہیں۔ یہ یاد نہیں رہا کہ وہ کیا کام کاج کرتا ہے۔ ہاں شاید آج کل بیکار ہے۔ نہیں، نہیں، پیانو بجاتا ہے پیانو یا سارنگی، مسٹر گرے؟“ ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر بے اختیار ہنس دیئے۔ اور اس طرح اجنبیت کا پردہ یکبارگی درمیان سے اُٹھ گیا“۔

لارڈ ہنری نے گلِ داؤدی کا ایک اور پھول توڑتے ہوئے کہا۔ ”ہنسی دوستی کی کوئی بُری تمہید نہیں اور دوستی کا سب سے اچھا انجام بھی ہنسی ہی ہے“۔

ہالورڈ نے سر کی ایک جنبش سے اختلافِ رائے کا اظہار کیا۔ اور جواب دیا۔ ”ہنری، تم نہیں جانتے کہ دوستی کس چیز کا نام ہے، یعنی تم دشمنی کے مفہوم سے قطعًا نا آشنا ہو۔ تم کو ہر کس و ناکس سے اُنس ہو جاتا ہے، دوسرے الفاظ میں تم ہر شخص سے بے اعتنائی کا سلوک کرتے ہو“۔

لارڈ ہنری نے اپنا سر پیچھے کو ڈال کر اُن ننھے ننھے ابر پاروں کی طرف دیکھا جو آسمان کے خلائے آبگوں میں سفید چمکیلے ریشم کے پیچ در پیچ لچھوں کی طرح لہراتے ہوئے تیر رہے تھے۔ اور کہا۔ ”یہ تم نے کس قدر انصاف کے خلاف بات کی! میں لوگوں میں بہت حد تک تمیز کرتا ہوں۔ میں اپنے دوستوں کو قبول صورتی کے لحاظ سے انتخاب کرتا ہوں، اپنے واقف کاروں کو نیک سیرتی کے لحاظ سے، اور اپنے دشمنوں کو فہم و فراست کے لحاظ سے انسان اپنے دشمنوں کے انتخاب میں جتنا بھی زیادہ سوچ سمجھ سے کام لے، کم ہے۔ میرے دشمنوں میں کوئی شخص ایسا نہیں جسے احمق کہا جا سکے۔ سب کے سب کسی حد تک دماغی قابلیتوں میں ممتاز ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ سب میری خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے اس سے خود پسندی تو نہیں ٹپکتی؟ میری سمجھ میں یہ بہت خود پسندی کی بات ہے“۔

”ہاں کچھ خود پسندی ہی کی بات ہے۔ مگر تمہاری تقسیم کے مطابق میں تو تمہارا ایک معمولی واقف کار ہوا“۔

”میرے پیارے دوست، تم مجھے ایک معمولی واقف کار سے بہت زیادہ عزیز ہو“۔

”تا ہم ایک دوست سے کم، ایک طرح کا بھائی ہوں۔ ہے نہ؟“

”بھائی! اونہہ، میں بھائیوں کی پروا نہیں کرتا۔ میرا بڑا بھائی مرنے ہی میں نہیں آتا۔ اور میرے چھوٹے بھائی مرنے کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں“۔

ہالورڈ نے ماتھے پر بل ڈال کر برہمی کے لہجے میں کہا۔ ”ہنری! یہ تم کیا کہہ رہے ہو!“۔

”نہیں، باسل، میں تو از راہِ مذاق کہہ رہا تھا۔ مگر اصل میں مجھے اپنے رشتہ داروں سے کچھ نفرت ہے۔ اور یہ میرے بس کا روگ نہیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے اس کی وجہ ہماری فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہم کبھی نہیں دیکھ سکتے کہ کسی دوسرے میں وہی عیب ہوں جو ہم میں ہیں۔ انگلستان کے جمہور کو بقول خود طبقاتِ اعلیٰ کے افراد کی بُرائیاں دیکھ دیکھ کر جو غصہ آتا ہے، مجھے اس سے پوری ہمدردی ہے۔ جمہور اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہیں کہ شراب خوری، حماقت، اور بد کرداری صرف اُن کا حصہ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم لوگوں میں سے کوئی شخص کوئی ایسی غلطی کرے تو وہ ان کے حقوق میں ناجائز مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب غریب سوتھ وارک طلاق کے مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہوا، تو اُن کا قہر و غضب جلال کی حد کو پہنچ گیا تھا۔ تا ہم میں نہیں سمجھتا کہ ان نیچے طبقوں کے لوگوں میں دس فیصدی لوگ بھی نیکو کارانہ زندگی بسر کرتے ہوں“۔

”ہنری، مجھے تمہاری اس طویل تقریر کے ایک لفظ سے بھی اتفاق نہیں۔ بلکہ مجھے یقین ہے خود تم کو اپنے کہے سے اتفاق نہ ہو گا“۔