جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تصویرِ شباب (حصہ اول)

”تم خوب جانتے ہو“

”نہیں مجھے یاد نہیں پڑتا“

”اچھا، میں تمہیں یاد دلاتا ہوں۔ میں تم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم کیوں ڈورین گرے کی تصویر نمائش میں نہیں بھیجتے۔ سچ بتانا، اس میں کیا بھید ہے“۔

”بھید کیسا؟ میں نے تمہیں اس کی وجہ بتا دی تھی“۔

”نہیں، تم نے تو یہ کہا تھا کہ اس تصویر میں تم نے اپنے کو بہت زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ یہ وجہ میرے نزدیک کچھ قابلِ تسلیم نہیں۔ اس میں حد سے زیادہ طفلانہ مزاجی پائی جاتی ہے“۔

باسل ہالورڈ نے لارڈ ہنری کے چہرے پر نظر جما کر کہا۔ ”ہنری، ہر وہ تصویر جسے مصور ایک دلی جذبے سے متاثر ہو کر بنائے مصور کی تصویر ہوتی ہے نہ کہ تصویر والے کی۔ وہ تو محض ایک اتفاقی عنصر ہوتا ہے۔ مصور تصویر کے پردے پر اُس کو بے نقاب نہیں کرتا، بلکہ اپنے آپ کو۔ میں جس وجہ سے اس تصویر کو نمائش میں نہیں بھیجتا، وہ یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں میں نے اس میں اپنی روح کا راز افشا کر کے رکھ دیا ہے“۔

لارڈ ہنری ہنسا، اور پوچھنے لگا۔ ”اور وہ راز کیا ہے؟ میں بھی تو سنوں“۔

مصور نے جواب دیا۔ ”میں تمہیں بتاتا ہوں“۔ مگر معاً تذبذب کے آثار اُس کے چہرے پر ظاہر ہونے لگے۔

اُس کے دوست نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”باسل، میں ہمہ تن انتظار ہوں“۔

مصور نے کہا۔ ”مجھے اصل میں بہت کچھ نہیں کہنا ہے۔ اور مجھے خوف ہے تم اُسے نہ سمجھ سکو گے۔ ممکن ہے تم اُسے باور نہ کرو“۔

لارڈ ہنری مسکرایا۔ اُس نے جھک کر گھاس میں سے گلِ داؤدی کا ایک پھول توڑ لیا، اور اُس کو بغور دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے پھول کی قرصِ خورشید کی سی ننھی ننھی سنہری پنکھڑیوں پر نظر گاڑے ہوئے جواب دیا۔ ”مجھے یقین ہے، میں تمہاری بات سمجھ لوں گا“۔ اور باور کرنے کی پوچھتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں ہر بات کو باور کر سکتا ہوں، بشرطیکہ وہ بالکل خلاف قیاس ہو“۔

ہوا کے ایک جھونکے نے درختوں پر سے شگوفوں کی برکھا برسا دی، اور بکائن کے بڑے بڑے شگوفے اپنے عقد ثریا کے سے گچھوں سمیت ہوا میں ادھر اُدھر اُڑتے ہوئے پھرنے لگے۔ ایک جھینگر نے دیوار کے قریب اپنے گوشئہِ تنہائی میں اپنا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ اور ایک نیلے ڈورے کی طرح ایک مکھی اپنے بھورے اور گدلے پر کھولے ہوئے اُن کے پاس سے گزر گئی۔ لارڈ ہنری کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا باسل ہالورڈ کا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے اور وہ حیران تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔

مصور نے کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد کہا۔ ”واقعہ سیدھے سادے الفاظ میں یوں ہے، دو مہینے ہوئے کہ میں کسی تقریب پر لیڈی برینڈن کے ہاں گیا۔ تم جانتے ہو کہ ہم غریب مصوروں کو وقتًا فوقتًا لوگوں میں جا کر منہ دکھانا پڑتا ہے جس سے ہمیں یہ جتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہم صحبت سے گریز کرنے والے رمیدہ خُو وحشی نہیں ہیں۔ تمہارے قول کے مطابق، ایک ایوننگ کوٹ اور سفید ٹائی پہن کر ہر شخص چاہے وہ کوئی بنیا ہی کیوں نہ ہو، شایستگی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ قصہ مختصر، مجھے وہاں گئے بمشکل دس منٹ گزرے تھے جن کے دَوران میں مَیں ضرورت سے زیادہ کپڑوں میں لدی پھندی بیواؤں اور اپنی معرفت کی باتوں سے تھکا دینے والے عالموں سے گفتگو کرتا رہا تھا کہ یکایک مجھے یوں معلوم ہوا کہ کوئی شخص میری جانب دیکھ رہا ہے۔ میں نے ذرا مڑ کر پیچھے کو دیکھا۔ اور اپنی عمر میں پہلی مرتبہ ڈورین گرے کے مقابل ہو گیا۔ جب ہماری آنکھیں چار ہوئیں، تو مجھے محسوس ہوا کہ میری رنگت زرد پڑتی جاتی ہے۔ خوف کی ایک سنسنی میرے روئیں روئیں پر طاری ہو رہی تھی۔ میرا دل گواہی دیتا تھا کہ میں اس وقت ایک ایسے شخص کے حضور میں ہوں جس کی شخصیت اپنے میں ایسا جادو کا اثر رکھتی ہے کہ اگر چاہے تو میری تمام فطرت، میری تمام روح، بلکہ میری صنعت پر بھی چھا سکتی ہے۔ میں اپنی زندگی میں کسی خارجی اثر سے مغلوب ہو کر نہ رہنا چاہتا تھا۔ تم خوب واقف ہو کہ میں فطرۃً کیسا آزاد منش واقع ہوا ہوں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ آپ اپنا حاکم رہوں۔ کم از کم ڈورین گرے کو دیکھنے سے پہلے میری یہی کوشش تھی۔ مگر جب میں نے اُسے دیکھا تو مجھے نہیں معلوم میں کس طرح تمہیں اپنا مطلب سمجھاؤں۔ میرے دل کے اندر سے کسی ہاتفِ غیب کی آواز پکار پکار کر مجھ سے کہہ رہی تھی کہ اس وقت میری زندگی کا ایک انقلابِ عظیم میرے درپیش ہے۔ ایک نا معلوم سا احساس مجھے بتا رہا تھا کہ قسمت مجھے لطیف خوشیاں اور لطیف غم دکھایا چاہتی ہے۔ میں ڈر گیا، حقیقت میں ڈر گیا۔ اور میں نے کمرے میں سے نکل بھاگنا چاہا۔ یہ میرے ضمیر کا کوئی تقاضا نہ تھا جس نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ بلکہ میری بزدلی تھی، سرا سر بُزدلی“۔

”ضمیر اور بزدلی حقیقت میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ضمیر اُس دکان کا تجارتی نام ہے“۔

”مجھے یقین نہیں آتا، اور نہ میرے خیال میں تم دل کے یقین سے یہ بات کہہ رہے ہو۔ بہر حال میرے اس فعل کا محرک چاہے جو کچھ بھی ہو، ممکن ہے وہ غرور ہو، کیونکہ میں کسی زمانے میں بیحد مغرور ہوتا تھا۔ یہ امرِ واقعہ ہے کہ میں نے دروازے کی طرف جانے کی کوشش کی۔ دروازے کے قریب پہنچ کر میری لیڈی برینڈن سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اُس نے مجھے اس طرح بے تحاشا بھاگتے ہوئے دیکھا تو چلا کر پوچھا ”یہ آپ ابھی سے کہاں بھاگے جا رہے ہیں؟“ تم جانتے ہی ہو کہ اُس کی آواز کیسی باریک اور کان کے پردے پھاڑ دینے والی آواز ہے“۔

لارڈ ہنری نے اپنی لمبی لمبی اُنگلیوں سے پھول کی پنکھڑیاں بکھیرتے ہوئے کہا۔ ”ہاں وہ سوائے خوبصورتی کے ہر چیز میں مور کے لگ بھگ ہے“۔

”میں اُس سے دامن نہ چھڑا سکا۔ وہ مجھے شہزادوں اور امتیازی تمغوں والے لوگوں اور اونچی کلغیوں اور طوطے سے مڑی ہوئی ناک والی عمر رسیدہ خاتونوں کے پاس لے گئی۔ اُس نے مجھے اپنا عزیز ترین دوست کہہ کر میرا تعارف کرایا۔ میں اس سے پہلے اُس سے صرف ایک مرتبہ ملا تھا، مگر نہیں معلوم اُس کے سر میں کیا سمائی کہ مجھے خواہ مخواہ بانس پر چڑھانا شروع کر دیا۔ جہاں تک میں قیاس کر سکتا ہوں، میرا خیال ہے کہ میری کسی تصویر کو اُن دنوں میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی یا کم از کم روزانہ اخباروں میں اُس کی بڑی دھوم مچی تھی، جو انیسویں صدی میں بقائے دوام کا عام معیار ہے۔ یکا یک میں نے اپنے آپ کو اُس شخص کے روبرو پایا جس کی شخصیت نے مجھ پر اتنا اثر کیا تھا۔ ہم بالکل ایک دوسرے کے قریب تھے۔ ہماری آنکھیں پھر چار ہوئیں۔ اگر چہ یہ ایک طرح کا اوچھا پن تھا، مگر میں لیڈی برینڈن سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ اُس سے میرا تعارف کرا دیا جائے۔ شاید یہ اوچھا پن نہ تھا۔ کیونکہ ہمارا تعارف ناگزیر تھا۔ ذرا اور دیر تک ہمارا تعارف نہ کرایا جاتا تو ہم آپ ہی آپ ایک دوسرے کے واقف بن جاتے۔ مجھے اس امر کا یقین ہے۔ ڈورین نے خود مجھ سے بعدہ اس کا ذکر کیا تھا۔ اُسے بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری قسمت میں ایک دوسرے سے متعارف ہونا لکھا ہے“۔

لارڈ ہنری نے پوچھا۔ ”پھر لیڈی برینڈن نے اس حیرت خیز نوجوان کی کیا تعریف کی؟ مجھے معلوم ہے کہ اُسے تعارف کراتے وقت اپنے دوستوں کی ایک مجمل سی تاریخ بیان کرنے کی عادت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ وہ مجھے ایک تُرش رو اور سُرخ چہرے والے آدمی کے پاس لے گئی، جس کی پوشاک پر تمغوں اور اعزازی نشانوں کی بھرمار سے تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور اُس نے ایک ایسی سرگوشی میں، جو باوجود اُس کی انتہائی کوشش کے کمرے میں ہر شخص نے سُن لی ہو گی، اُس کے متعلق تعجب انگیز فردیات کا ایک دفتر کھول دیا۔ یہ فردیات میرے لیے بیحد صبر آزما تھیں۔ اُن کو سُن سُن کر بے صبری کے مارے میرا دماغ پھٹا جاتا تھا۔ مجھے اپنے آپ لوگوں کے متعلق حالات معلوم کرنے کا شوق ہے۔ مگر لیڈی برینڈن اپنے مہمانوں سے وہی سلوک کرتی ہے جو ایک نیلام کنندہ اپنے مال و اسباب سے کرتا ہے۔ یا تو وہ اُن کی ایک ایسی مختصر سی تعریف کرتی ہے کہ اُن کی شخصیت بدستور معمّے کا معمّا رہ جاتی ہے۔ یا پھر اُن کی نسبت اُن باتوں کے سوا جن کا بتانا ضروری ہوتا ہے ہر ذرا سی بات بتا دیتی ہے“۔

ہالورڈ نے کم توجہی کے انداز میں کہا۔ ”ہنری تم بیچاری لیڈی برینڈن سے بے انصافی کر رہے ہو“۔