لارڈ ہنری نے اپنے ابرو اُٹھا کر، دھوئیں کے اُن نیلگوں بادلوں میں سے جو عجیب عجیب قسم کی نا مانوس سی شکلیں بناتے ہوئے اُس کے افیون آلود سگرٹ سے اُٹھ رہے تھے، اُس کی طرف دیکھا اور تعجب سے کہا۔ ”کہیں نہ بھیجو گے؟ بندہ خدا، اس کے کیا معنے؟ آخر اس کی کوئی وجہ؟ تم مصور بھی خدا جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہو! جب تک تمہیں شہرت نہیں حاصل ہوتی تم اُس کی آرزو میں مر مٹتے ہو۔ اور جب تمہیں شہرت حاصل ہونے لگتی ہے تو تم اُسے رد کر دیتے ہو۔ یہ تمہاری کم عقلی ہے۔ کیونکہ دنیا میں چرچا ہونے سے بدتر صرف ایک چیز ہے، یعنی چرچا نہ ہونا۔ یہ تصویر وہ تصویر ہے کہ انگلستان کے سب نوجوانوں میں تمہاری دھاک بٹھا دے گی، اور اگر بڑے بوڑھوں کے دل میں کوئی جذبہ پیدا ہو سکتا ہے تو وہ بھی تمہاری شہرت دیکھ کر رشک کریں گے“۔
اُس نے جواب دیا۔ ”تم چاہے میری اس ضد پر ہنسو، مگر سچ یہ ہے میں اسے نمایش میں نہیں بھیج سکتا۔ میں نے اپنے کو اس میں بہت زیادہ نمایاں کر دیا ہے“۔
لارڈ ہنری نے دیوان پر لیٹے لیٹے انگڑائی لیتے ہوئے ایک زور کا قہقہہ لگایا۔
باسل نے کہا۔ ”میں جانتا تھا کہ تم ہنسو گے۔ مگر میں نے جو کہا ہے واقعہ ہے“۔
”تم نے اپنے کو اس میں بہت زیادہ نمایاں کر دیا ہے! خوب! واللہ، باسل، میں نہ سمجھتا تھا کہ تم ایسے خود بین ہو، اور سچ پوچھو تو مجھے تم میں اور اس میں کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔ کہاں تمہارا یہ چہرہ اور تمہارے کوئلے سے کالے بال، اور کہاں یہ یوسف جمال نوجوان جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھی دانت اور گلاب کی پنکھڑیوں کا بنا ہوا ایک پُتلا ہے۔ میرے دوست، وہ ہمہ تن حسن و خوبی ہے، اور تم ہاں، تمہارے چہرے پر ذہانت ضرور ٹپکتی ہے۔ مگر حُسن، حقیقی حُسن، اُسی وقت ختم ہو جاتا ہے جب ذہانت کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگیں۔ ذہانت ایک قسم کا مبالغہ ہے۔ وہ خوبصورت سے خوبصورت چہرے کے تناسب کو بھی بیگاڑ دیتی ہے۔ جس وقت کوئی شخص بیٹھ کر غور و فکر کرنے لگتا ہے، تو ناک ہی ناک ایک بیڈول انداز میں اُس کے چہرے پر پھیل جاتی ہے، یا پیشانی ہی پیشانی ہو جاتی ہے یا پھر اُس کا چہرہ کوئی اور مہیب صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ایسے شخص کو لو، جو علوم و فنون کی کسی صنف میں کامیابی حاصل کر چکا ہو۔ دیکھو کیا بگڑی ہوئی صورت ہے! البتہ پادری لوگ اس کلیّے سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر پادری لوگ غور و فکر کب کرتے ہیں؟ ایک پادری اسی سال کی عمر میں طوطے کی طرح اُسی بات کی رٹ لگائے جاتا ہے جو اُس نے اٹھارہ سال کی عمر میں پڑھی تھی۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ہشاش و بشاش نظر آتا ہے۔ تمہارا یہ پُر اسرار دوست جس کا نام تم نے مجھے کبھی نہیں بتایا، مگر جس کی تصویر نے مجھے حقیقت میں مسحور کر لیا ہے، میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ کبھی غور و فکر نہیں کرتا۔ مجھے وہ ایک بھولا بھالا اور سیدھا سادہ نوجوان معلوم ہوتا ہے، جسے ہمیشہ یہاں سردی کے موسم میں رہنا چاہیئے جب کہ یہاں کوئی پھول دیکھنے کو نہیں ہوتے، اور گرمی کے موسم میں یہاں اُس وقت رہنا چاہیئے جب ہمیں کسی ایسی چیز کی ضرورت ہو جو ہماری عقل و فکر کی سرگرمیوں کو منجمد کر سکے۔ باسل، اس خیال خام کو دل سے نکال دو کہ تم اس نوجوان کے ایسے ہو۔ بھلا، عقل کو شکل سے کیا نسبت؟“
مصور نے جواب دیا۔ ”ہنری، تم میرا مطلب نہیں سمجھے۔ بے شک میں اُس جیسا نہیں۔ میں یہ خوب جانتا ہوں۔ اور بغرض محال، اگر میں اُس جیسا ہو بھی جاؤں، تو مجھے کوئی خوشی نہ ہو۔ تمہیں میری بات کا یقین نہیں آتا؟ میں کہتا ہوں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ ہر طرح کے امتیاز میں، عام اس سے کہ وہ ذہنی ہو یا جسمانی، ایک جان کا خدشہ دامن گیر رہتا ہے، اُس ناگزیر حشر کا خدشہ جو ہر ملک اور ہر زمانے میں سائے کی طرح بادشاہوں کے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ لگا رہا ہے۔ اس دنیا میں اپنے ہمجولیوں سے سرفراز ہونا خطرناک ہے۔ بیچارے عقل اور شکل کے سیدھے لوگ سب سے اچھے رہتے ہیں۔ اُن کو اتنا تو فائدہ ہوتا ہے کہ وہ با آرام سب سے الگ تھلگ بیٹھ کر دنیا کی کشمکش کا تماشا دیکھ سکتے ہیں۔۔ اُنہیں احساسِ کامرانی کی عشرت حاصل نہیں ہوتی، تو وہ کم از کم احساس ناکامی کی کُلفت سے بچے رہتے ہیں۔ اُن کی زندگی رشک کے قابل ہوتی ہے، سُکھ چین، بیفکری، اور خوشباشی کا نمونہ۔ وہ نہ دوسروں کی زندگی تباہ کرتے ہیں، اور نہ دوسروں کے ہاتھوں اپنی زندگی تباہ کراتے ہیں۔ ہنری، تمہاری دولت اور تمہارا مرتبہ، میری ذہانت، وہ جو کچھ بھی ہے۔ میری صنعت، اچھی یا بُری جیسی ہے، اور ڈورین گرے کا حُسن یہ چیزیں جو قضا و قدر نے ہمیں دی ہیں، ان کا ہمیں ایک ہولناک معاوضہ دینا ہو گا“۔
لارڈ ہنری نے یکا یک اپنی جگہ سے اُچھل کر باسل ہالورڈ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ ”ڈورین گرے! تو یہ ہے اُس کا نام؟“
”ہاں یہی ہے۔ میرا ارادہ تمہیں بتانے کا نہ تھا“۔
”وہ کیوں؟“
”میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ مجھے جن لوگوں سے زیادہ اُنس ہو جائے، میں اُن کا نام کسی کو نہیں بتایا کرتا۔ ایسا کرنا گویا اُن کا ایک حصہ کسی دوسرے کو دے دینا ہے۔ مجھے کچھ دنوں سے ایک طرح کی راز داری پسند ہو چلی ہے۔ صرف یہ ایک ایسی چیز ہے جو موجودہ طرزِ معاشرت میں قدیم زمانے کی سی نُدرت اور نیرنگی پیدا کر سکتی ہے۔ معمولی سی معمولی چیز بھی پُر لطف بن جاتی ہے، بشرطیکہ انسان اُسے چُھپا سکے۔ اب جب کبھی مجھے شہر سے باہر کہیں جانا ہوتا ہے تو میں کسی سے اس کا ذکر نہیں کرتا۔ اگر میں ہر کسی کو بتاتا پھروں تو میرا سارا مزا کر کرا ہو جائے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک بُری عادت ہے۔ مگر اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ انسان کی زندگی کو ایک عجیب رومان سا بنا دیتی ہے۔ تم میری اس بوالعجبی پر دل ہی دل میں ہنستے ہو گے؟“
لارڈ ہنری نے جواب دیا۔ ”نہیں، نہیں، باسل۔ تمہیں شاید خیال نہیں رہا کہ میری شادی ہو چکی ہے۔ اور شادی کا ایک طُرفہ لطف اس بات میں ہے کہ وہ طرفین کے لیے ایک فریب کارانہ زندگی قطعًا ضروری کر دیتی ہے مجھے کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ میری بیوی اس وقت کہاں ہے اور کہاں نہیں۔ اور نہ میری بیوی کو معلوم ہوتا ہے کہ میں اس وقت کیا کر رہا ہوں کیا نہیں کر رہا۔ کبھی کبھی ہم شام کا کھانا اکٹھا کھاتے ہیں، یا دونوں ڈیوک کے ہاں مدعو ہوتے ہیں تو ملاقات ہو جاتی ہے۔ پھر ہم کمال متانت سے ایک دوسرے کو طوطے مینا کی کہانیاں سُنا کر پیچھا چھڑا لیتے ہیں۔ میری بیوی اس فن میں بہت مشاق ہے، کم از کم مجھ سے کہیں زیادہ مشاق ہے، وہ بغیر تامل کیے دن اور تاریخیں بتا کر اپنے بیان کی شہادت پیش کرتی ہے۔ مجھ سے یہ بن نہیں پڑتا۔ مگر وہ مجھے تاڑ بھی جاتی ہے، تو بے فائدہ موشگافیوں سے مجھے دق نہیں کرتی۔ میں بعض اوقات چاہتا ہوں کہ وہ ایسا کرے، مگر وہ صرف ہنس کر بات کو رفت گزشت کر دیتی ہے“۔
باسل ہالورڈ نے اس دروازے کی جانب جاتے ہوئے، جو باغ کی طرف کُھلتا تھا، کہا۔ ”ہنری، تم جس انداز میں اپنی منکوحہ زندگی کا ذکر کرتے ہو، مجھے اُس سے قطعی نفرت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم ایک نیک شوہر ہو، مگر میں متعجب ہوں کہ تم یوں اپنی نیکیوں سے شرمندہ کیوں ہو۔ تم بھی ایک عجیب انسان ہو۔ تمہارے قول و فعل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کہنے کو تو تم نے کبھی منہ سے اخلاق کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ مگر کبھی بد اخلاقی کا بھی کوئی کام نہیں کیا۔ تمہارا یہ انسان سے نفرت سکھانے والا فلسفہ سرا سر ایک تصنع ہے، اور تمہاری فطرت کے بالکل برعکس“۔
لارڈ ہنری نے ہنس کر جواب دیا۔ ”فطرت کے مطابق ہونا سرا سر ایک تصنع ہے، ایک سخت تکلیف دہ تصنع“۔ پھر دونوں نوجوان اُٹھ کر باغ میں چلے گئے، اور بانس کی ایک بڑی سی نشست پر جو ایک تناور جھاڑ کی چھاؤں میں پڑی تھی، بیٹھ گئے۔ سورج کی کرنیں پتوں کی شفاف چکنی سطح پر پھسل رہی تھیں۔ گھاس میں گلِ داؤدی کے سفید سفید پھول لہلہا رہے تھے۔
قدرے توقف کے بعد لارڈ ہنری نے جیب میں سے گھڑی نکالی اور وقت دیکھ کر آہستہ سے کہا۔ ”لو باسل، اب مجھے جانا چاہیئے۔ مگر جانے سے پیشتر میں چاہتا ہوں کہ تم سے اس سوال کا جواب سُن لوں جو میں نے کچھ مدت ہوئی تم سے کیا تھا“۔
مصور نے نگاہیں نیچی کیئے ہوئے پوچھا۔ ”وہ کیا سوال تھا؟
