جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تذکرۂ جمال پاشا (حصہ اول)

جنگ بلقان (ثانی) کا آغاز و اختتام

(1)

جب بلغاریہ، یونان، سربیا اور دیگر بلقانی ریاستوں کی متحدہ افواج نے ایڈریا نوپل، جنینا اور سکوتری کو فتح کر لیا تو محمود شفقت پاشا، وزیراعظم، کو ناچار ان سے صلح کرنی پڑی۔ پاشا موصوف کی وفات کے تھوڑے عرصے کے بعد بلقان کی دوسری لڑائی شروع ہو گئی، جس میں سربیا، یونان اور رومانیا نے بلغاریہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ بلقان کی ریاستوں کی باہمی مخالفت سے ہمیں موقع مل گیا کہ ہم بھی بلغاریہ پر حملہ کر کے ایڈریا نوپل واپس لے لیں۔ کیونکہ ترکی میں ایڈریا نوپل کو فتح کرنے کے متعلق سخت جوش پھیلا ہوا تھا۔ اور یہ یقین کیا جاتا تھا کہ حکومت ترکی عوام الناس کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی فوج کو پیش قدمی کا حکم دے گی۔ دوسری طرف سے ایڈورڈ گرے جو ان دنوں میں انگلستان کا وزیرِ امورِ خارجہ تھا، بابِ عالی کو مجبور کر رہا تھا کہ ایسی تجویز کو ترک کر دیا جائے۔ بلکہ اس نے انگریزی پارلیمنٹ میں بھی ترکی کے خلاف سخت تقریریں کیں اور ہمیں دھمکایا کہ اگر ترکی اس جنگ میں شامل ہوئی تو برطانیہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو گا۔ لیکن ہماری حکومت نے ابھی تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

میں اس دن کا واقعہ کبھی بھول نہیں سکتا۔ جب وزیراعظم، سید حلیم پاشا، کے مکان میں وزرا کی مجلس منعقد ہوئی۔ میں بھی وہاں گیا۔ تو میں نے دیکھا کہ سید حلیم پاشا اور طلعت بے ایک کمرے میں بڑے پریشان اور متفکر بیٹھے ہوئے تھے۔ باقی وزرا ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ وزیراعظم نے مجھے بتایا کہ بہت سے اس لڑائی سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے۔ مجلس میں بڑی دیر تک بحث مباحثہ ہوتا رہا، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ دوسرے روز طلعت بے نے ریگی (Regie) کو چند مراعات دے کر اس سے پندرہ لاکھ پونڈ قرض لے لیا۔ اور پھر اس نے جا کر عزت پاشا سے جو ڈپٹی کمانڈر انچیف تھا، ملاقات کی اور اس سے فوج کی طاقت کے متعلق دریافت کیا۔ عزت پاشا نے جواب دیا کہ اگر روپیہ میسر ہو سکے تو فوج لڑنے کے واسطے ہر وقت تیار ہے۔ لیکن پھر بھی کئی وزیر کہتے تھے کہ اس تجویز سے ملک کو مزید نقصان پہنچے گا۔ دوسری صبح میں اور مدحت شکری پاشا ان وزیروں کے پاس گئے۔ جو ہماری تجویز کے مخالف تھے، ان کو جا کر سمجھایا کہ اگر ہم اس وقت اپنے ملک کی خدمت نہیں کر سکتے تو مناسب ہے کہ ہم اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں۔ جب فوج لڑائی کے واسطے تیار ہے۔ اور عوام الناس بھی مدد کرنے کو تیار ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان واقعات سے فائدہ نہ اٹھائیں جبکہ ان حالات میں ہماری کامیابی ایک یقینی امر ہے۔ آخرکار ہماری تجویز کثرتِ رائے سے منظور کی گئی۔

جب ترکی فوج کو حملہ کرنے کا حکم دیا گیا، تو وزیرِ امورِ خارجہ نے تمام یورپ کی سلطنتوں کو اطلاع دے دی کہ ہمارا ارادہ صرف ایڈریا نوپل کو دشمنوں کے پنجے سے آزاد کرنا ہے۔ جب وہ فتح ہو گیا تو ہم لڑائی کو بند کر دیں گے اور دریائے مرٹزا کے دائیں کنارے پر کسی صورت میں قبضہ نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں وزیرِ امورِ خارجہ کی یہ حرکت ایک بڑی سیاسی غلطی تھی۔ کیونکہ جب تک ایڈریا نوپل کے مضافات اور مرٹزا کے دائیں کنارے پر قبضہ نہ ہو، ایڈریا نوپل کا شہر خطرے سے محفوظ نہیں ہو گا اور اس قسم کے اعلان سے خواہ مخواہ حکومت پر پابندی لازم ہوتی ہے۔ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایڈریا نوپل کے مضافات میں مسلمانوں کی آبادی پچاسی فیصدی ہے۔ اس واسطے یہ نہایت ضروری تھا کہ تمام علاقے کو فتح کیا جاتا تاکہ شہر دشمنوں کے حملے سے آیندہ محفوظ ہو جاتا۔

جونہی حکومت نے فوج کو حملہ کرنے کا حکم دیا، برطانیہ جو ہمیشہ سے دوستی کے پردے میں دشمنی کیا کرتا تھا، اپنے اصلی رنگ میں نظر آیا۔ برطانوی سفیر کی معرفت ترکی پر ناجائز دباؤ ڈالنے کی بہت کوشش کی گئی۔ لیکن اس کو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ آخرکار ایڈورڈ گرے نے اپنی تقریر میں پارلیمنٹ کے روبرو یہ دھمکی دی کہ اگر ترکی نے عہدنامہ لندن کی شرائط کے خلاف ایڈریا نوپل کو فتح کیا تو ترکوں کو یورپ سے خارج کر دیا جائے گا اور قسطنطنیہ پر قبضہ کیا جائے گا۔ لیکن روس نے ہماری پیش قدمی میں کوئی روڑا نہ اٹکایا۔ جس پر ہم بہت حیران ہوتے تھے، کیونکہ وہ تو ہمارا قدیمی دشمن تھا۔ روس اس لڑائی میں بالکل غیر جانبدار رہا۔ ہمیں اس کا یہ عجیب رویہ سمجھ میں نہ آیا۔ بعدازاں ایک دفعہ میں بلغاریہ کے ایک وزیر ٹاچف سے روس کی پالیسی کے متعلق بات چیت کر رہا تھا۔ تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ روس نے اس جنگ میں بلغاریہ کی امداد کیوں نہ کی؟ اس نے مجھے جواب دیا کہ روس قسطنطنیہ کو اپنی وراثت سمجھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب کبھی اس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا، تو اس کے ساتھ بہت سا علاقہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اس وقت ایڈریا نوپل بھی ترکوں کے قبضے میں ہوا، تو وہ بھی اس کے ہاتھ آ جائے گا۔

ایڈریا نوپل کی فتح پر فرانس اور برطانیہ ہم سے سخت ناراض تھے۔ لیکن ہم نے ان کی مخالفت کی چنداں پرواہ نہ کی۔ اور چند ہی دنوں میں ہماری فوج نے ایڈریا نوپل کو دشمن کے پنجے سے چھڑا لیا۔ بلغاریہ کو مجبوراً ہم سے صلح کرنی پڑی۔ چونکہ ترکی اور بلغاریہ کو بلقان کی ریاستوں سے ہمیشہ خطرہ رہتا تھا۔ اس واسطے یہ فیصلہ ہوا کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مستحکم اتحاد قائم ہو جائے تاکہ اگر کوئی دشمن ایک سلطنت پر حملہ کرے، تو اس کا حلیف بھی لڑائی میں شامل ہو کر اس کی مدد کرے۔ کئی مہینوں کی متواتر کوشش کے بعد بلغاریہ اور ترکی کے درمیان عہدنامہ ہوا۔ اور دونوں نے ایک دوسرے کی امداد کا وعدہ کیا۔

(2)

عربوں کی سازش

جن دنوں کمال پاشا وزیراعظم تھے، عرب کی ایک جماعت نے اصلاحات کی تحریک کے بہانے سے اوہم بے، گورنر، کی اجازت سے بیروت میں ایک قومی مجلس منعقد کی۔ اس مجلس میں علاوہ دیگر تجاویز کے، ایک یہ بھی قرارداد پاس ہوئی کہ حکومت کو درخواست کی جائے کہ عربوں کے تمام صوبوں میں مزید اصلاحات نافذ کی جائیں۔ لیکن محمود شفقت پاشا نے اپنے عہد میں یہ مجلس حکماً بند کر دی۔ اور ان کی تحریک ممنوع قرار دے دی۔ کیونکہ ان کی حرکات ترکی حکومت کے خلاف پائی گئیں۔ اس بندش سے عربوں کے سینوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ وہ پھر علانیہ اپنی آزادی کے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کرنے لگے۔ اور ترکوں کے خلاف طرح طرح کے بہتان گھڑنے لگے۔ لیکن حکومت نے ان شورش پسند لوگوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی۔ بعض تو اس حد تک بڑھ گئے کہ ترک اعلیٰ افسروں کے نام سے اپنے کتوں کو پکارتے تھے۔ اور ان کے گلے میں یہ نام کاغذ پر لکھ کر لٹکاتے تھے۔ عربی اخبارات نے حکومت پر ناجائز حملے کرنے سے دریغ نہ کیا۔ لیکن پھر بھی ترکی حکومت نے مداخلت کرنے سے گریز کیا۔

غرضیکہ ترکوں کے خلاف ایک باقاعدہ پروپیگنڈا شروع ہو گیا۔ انجمن اتحاد و ترقی کے سربر آوردہ ممبروں کے متعلق ایسے جھوٹ باندھے گئے کہ توبہ ہی بھلی۔ بعد ازاں، ان مفسدوں نے ایک وسیع پیمانے پر عربی کانفرنس کرنے کا انتظام شروع کیا۔ چونکہ ان کو علم تھا کہ ترکی حکومت نے اس قسم کے جلسوں کو ممنوع قرار دیا ہے، اس واسطے فرانسیسی گورنمنٹ کی سرپرستی میں پیرس میں یہ مجلس منعقد ہوئی، اور عرب قوم کے بعض سرداروں نے بڑے شوق سے حصہ لیا۔ چونکہ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ یورپ والے ترکوں اور عربوں کے درمیان نفاق ڈالنے کے لیے ہر قسم کی جدوجہد کر رہے ہیں، اس واسطے میں چاہتا تھا کہ کس طرح عربوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کر کے خاطرخواہ اصلاحات جاری کر دی جاتیں، اور پھر آہستہ آہستہ اصلاحات کو ایک بڑے پیمانے پر تمام عربی صوبجات میں نافذ کیا جائے۔ چنانچہ میری استدعا پر حکومت نے ترک افسر پیرس میں بدیں غرض پہنچے تاکہ عرب سرداروں کے ساتھ اصلاحات کے متعلق گفت و شنید کی جائے ۔ عربوں نے اپنی خواہشات افسران مذکورہ بالا کی معرفت گورنمنٹ کو پہنچائیں، اور گورنمنٹ نے ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا۔