جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تذکرۂ جمال پاشا (حصہ دوم)

شریف حسین کی غداری اور عربوں کی بغاوت

جنگ کے ابتدائی دنوں میں مجھے انور پاشا نے ایک روز بلا کر کہا کہ ہم نہر سویز پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ہندوستانی فوجوں کو مصر میں ہی روکا جائے۔ کیونکہ اگر وہ فوجیں بلا روک ٹوک درہِ دانیال میں پہنچ گئیں۔ تو ہمیں ایک سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس واسطے اگر میں چہارم فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لوں تو بہت اچھا ہو گا۔ میں نے یہ عہد منظور کر لیا۔ اور سیریا میں جا کر ڈیرے ڈال دیے۔ مجھے یہ ہدایت کی گئی تھی کہ میں فوج کا سازوسامان درست کر کے نہر سویز کو عبور کروں۔ تاکہ مصر پر حملہ کیا جائے۔ میں نے دمشق کو اپنا ہیڈ کواٹر بنایا۔ اور نہر تک فوج کی نقل و حرکت کے واسطے پختہ سڑکیں بنائیں۔ اور دو دفعہ سویز کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ انہی دنوں میں غازہ کی مشہور لڑائی ہوئی تھی۔ میری فوج نے جس شان سے انگریزی فوجوں کا مقابلہ کیا تھا وہ اظہر من الشمس ہے۔ ترکوں اور عربوں نے ان لڑائیوں میں ایسے جوہر دکھائے کہ تمام دنیا ششدر ہو گئی، اگر شریف حسین بار برداری کے سامان اور عربی رنگروٹوں سے ذرا بھی مدد کرتا تو انگریزی افواج بیت المقدس کو کبھی فتح نہ کر سکتیں۔ لیکن یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نے بجائے امداد کے پرلے درجے کی غداری کا ثبوت دیا۔ وہ ابتدائے جنگ سے ہی ترکوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کر رہا تھا۔ اور جب اس نے دیکھا کہ ترکوں کی طاقت کمزور ہو رہی ہے تو علانیہ انگریزوں سے جا ملا۔ 

جس دن میں اپنی فوج کو ساتھ لے کر دمشق پہنچا تو حلسی والیِ دمشق نے مجھے چند ضروری کاغذات دیئے۔ جو فرانسیسی کونسل خانے سے برآمد ہوئے تھے۔ ان کے پڑھنے سے پتہ لگتا تھا کہ دمشق اور بیروت کے امرا فرانسیسی حکومت کی سرپرستی میں ترکوں کے خلاف بغاوت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اس وقت ان امیروں کے برخلاف عدالتی کارروائی کرتے تو عام مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو جاتا کہ ترکی حکومت خواہ مخواہ انتقام کی خاطر معزز لوگوں کو مٹا دینے پر تلی ہوئی ہے، مگر ہم اتحاد کو بڑھانا چاہتے تھے نہ کہ گھٹانا چاہتے تھے۔ اس جنگ میں شامل ہونے سے ہمارا یہ مقصد تھا کہ مسلمانانِ عالم کو یورپ کی سلطنتوں سے آزاد کریں، اس واسطے اس نازک وقت میں ہم نے ان عربی سرداروں کے برخلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اس سازش میں دروزیوں کا سردار یحیٰی العطرش بھی شامل تھا۔ مجھے یقین تھا کہ جب یہ لوگ محسوس کریں گے کہ ترک اور عرب اس وقت نازک حالت میں ہیں، تو اپنی حرکات سے باز آکر پشیمان ہوں گے، مگر میرا خیال غلط نکلا۔

چونکہ میری دلی خواہش تھی کہ عربوں کو مزید اصلاحات عطا کی جائیں، اس واسطے میں نے ان سازش کنندگان کے سردار مسمی عبدالکریم الخلیل کو اپنے مکان پر بلوایا۔ اس کی بڑی خاطر و مدارات کی۔ اور اس کی وساطت سے عربی سرداروں کو اپنی جگہ پر طلب کیا۔ میں نے ان کو گورنمنٹ کے ارادے سے آگاہ کیا۔ اور کہا کہ اگر ہم اس لڑائی میں کامیاب ہو گئے تو تمام اسلامی ممالک دشمنوں کے پنجے سے آزاد ہو جائیں گے۔ اس واسطے ان کو علیحدگی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ بعدازاں تمام عربی سرداروں نے اس وقت حلف اٹھایا کہ وہ جنگ کے دوران میں گورنمنٹ کی ہر طرح سے امداد کریں گے۔ جب یہ معاملہ طے ہو چکا تو ان انقلاب پسندوں نے وہیں اپنی اپنی رام کہانی شروع کر دی، بعض کہتے تھے کہ وہ مفلس ہیں انہیں روپیہ درکار ہے۔ بعض چاہتے تھے کہ انہیں کوئی ملازمت مل جائے۔ پھر میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ لوگ محض اپنی اغراض کی خاطر لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ اور اپنی قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس واسطے میں نے ان کا منہ بند کرنے کے لیے خزانے سے روپیہ دلوایا۔ اس واقعے کے بعد بھی یہ لوگ مجھے یقین دلاتے رہے کہ وہ باغیانہ تحریک کو بالکل دبا دیں گے۔ 

میں نے دمشق سے آتے ہی نہر سویز پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کوشش کرتا رہا کہ عربوں میں جوشِ حمیت پیدا کیا جائے۔ تاکہ وہ بھرتی ہو کر دشمنانِ اسلام کے خلاف لڑیں۔ میں نے بدیں وجہ دمشق میں ایک مجلس قائم کی۔ جس میں عربی اور ترکی باہمی تنازعات اور غلط فہمیوں کو دور کیا جاتا تھا۔ میں خود بھی عموماً ان جلسوں میں جایا کرتا تھا۔ اور عربوں کے نصب العین کے ساتھ بڑی ہمدردی کیا کرتا تھا۔ میں نے اپنے علاقے کے سرکاری مدرسوں اور عدالتوں میں عربی زبان رائج کرا دی تھی۔ میں عربی سرداروں کو کہا کرتا تھا کہ اگر ترکوں اور عربوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو دونوں قومیں تباہ ہو جائیں گی۔ اور ہمارے دشمن تماشا دیکھیں گے، بلکہ ہمارے ملکوں پر وہ قبضہ کر لیں گے۔ اور ہمیں غلامی کا طوق گردن میں ڈالنا پڑے گا۔ اگر عربوں کو فرانسیسی حکومت کی مدد سے آزادی مل گئی اور ترکی حکومت سے علیحدہ ہو گئے تو پھر ایک دن آئے گا کہ فرانس اس عارضی آزادی کو چھین کر تمام عربستان پر قابض ہو جائے گا۔ میری تقریروں سے عوام الناس پر اچھا اثر پڑا تھا۔ دمشق کے باشندوں نے تو ایک دفعہ قرآن شریف پر حلف اٹھا کر کہا کہ وہ برطانیہ اور فرانس کے خلاف اپنی جانیں لڑا دیں گے۔

ان دنوں میں بیروت اور شام کے عام باشندگان میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ عنقریب لبنان کے عیسائی لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں اور مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ ان لوگوں کے خصوصی مراعات کو لڑائی کے دنوں میں منسوخ کر دیا جائے اور ایک عام اعلان کر دیا جائے کہ کل عیسائی آبادی اپنے اسلحہ کو سرکاری اسلحہ خانوں میں فی الفور داخل کر دے۔ مگر میں نے اس قسم کی افواہوں کو چنداں وقت نہ دی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے ان کا اسلحہ ضبط کیا۔ تو فلسطین اور شام کی عیسائی آبادی ہماری حکومت سے بدظن ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ وہ بغاوت پر آمادہ ہو جائے۔ اس واسطے میں نے لبنان کے عیسائیوں کے واسطے ایک خاص اعلان شائع کیا، جس میں ان کو یقین دلایا۔ کہ ترکی حکومت ان کے حقوق کا خاص خیال رکھے گی اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائے گی۔ اس اعلان کا یہ اثر ہوا کہ لبنان کے پادریوں نے اپنی قوم کی طرف سے وعدہ کیا کہ وہ اس جنگ میں ترکی حکومت کی وفادار رعایا بن کر رہیں گے۔ لیکن پھر بھی بعض عیسائی اور دروزی مفسدوں کو جنہیں برطانیہ اور فرانس نے بغاوت پھیلانے کی غرض سے متعین کیا ہوا تھا مجھے بیت المقدس میں بلانا پڑا۔ اور ان کو سرکاری خرچ دے کر وہاں نظر بند کرنا پڑا۔ تا کہ وہ علاقے میں فساد نہ کر سکیں۔

امریکن سفیر مارگنتھو نے مجھ پر بڑے بہتان باندھے ہیں۔ کہ میں نے لڑائی کے دنوں میں شام کے عیسائیوں پر بڑے مظالم کئے تھے۔ لیکن واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ جب میں 6 جنوری 1915ء کو بیت المقدس میں پہنچا تو اتحادِ ثلاثہ کے قونصلوں نے مجھے اطلاع دی کہ کسی مسلمان نے جہاد کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس میں مسلمانوں کو سخت اشتعال دیا گیا ہے تاکہ وہ تمام عیسائیوں کو غارت کریں۔ میں نے وہ کتاب منگوا کر پڑھی اس میں واقعی چند ایک اشتعال انگیز فقرات تھے۔ میں نے اس اثر کو زائل کرنے کے لئے ایک سرکاری اعلان شائع کیا جو ملک کے ہر ایک گوشے میں بھجوایا گیا۔ میں اس اعلان سے کچھ حصے کا اقتباس کرتا ہوں ”خلیفۃ المسلمین نے برطانیہ فرانس اور روس کے خلاف جہاد کیا ہے صرف وہی شخص ہماری قوم اور مذہب کے دشمن ہیں جنہوں نے ہمارے برخلاف ہتھیار اٹھائے ہیں لہذا اگر کوئی شخص ہماری غیر مسلم رعایا کو کسی طریقے سے تنگ کرے گا۔ تو اس کو سخت سزا دی جائے گی“ گورنمنٹ کی اس منصفانہ پالیسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ جنگ کے دوران میں ہماری عیسائی اور یہودی رعایا کو کسی نے نہیں چھیڑا۔ اگر عیسائیوں کے قتل کرنے کی ذرا بھی ہمیں خواہش ہوتی تو یہ بالکل آسان بات تھی۔ کیونکہ بدوؤں کو محض اشارہ کرنا ہی کافی ہوتا۔ اور وہ آکر قتل و غارت کر جاتے۔