(8)
مگن داس کو دہلی آئے تین مہینے گزر چکے ہیں۔ اس اثنا میں اسے سب سے بڑا ذاتی تجربہ ہوا، وہ یہ تھا کہ فکرِ روزگار اور کثرتِ مشاغل سے جذباتِ سرکش کا زور کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل کا بے فکر نوجوان اب ایک معاملہ فہم اور مآل اندیش انسان بن گیا تھا۔ ساگر گھاٹ کے چند روزہ قیام سے اسے رعایا کی ان تکالیف کا ذاتی علم ہو گیا تھا جو کارندوں اور مختاروں کی سخت گیریوں کی بدولت انہیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ اس نے اسے ریاست کے انصرام میں بہت مدد دی اور گو ملازمین بے زبان سے اس کی شکایت کرتے تھے اور اپنی قسمتوں اور زمانے کی نیرنگیوں کو کوستے تھے۔ مگر رعایا آسودہ حال تھی۔ ہاں، جب وہ سب دھندوں سے فرصت پاتا۔ تو ایک بھولی بھالی صورت والی نازنین اس کے پہلوئے خیال میں آ بیٹھی۔ اور تھوڑی دیر کے لیے ساگر گھاٹ کا وہ ہرا بھرا جھونپڑا اور اس کی دلفریبیاں آنکھوں کے سامنے آجاتیں۔ ساری باتیں ایک دلکش خواب کی طرح یاد آ آ کر اس کے دل کو مسوسنے لگتیں۔ لیکن کبھی کبھی خود بخود اس کا خیال اندرا کی طرف بھی جا پہنچتا۔ گو اس کے دل میںرنبھاکی وہی جگہ تھی مگر کسی طرح! اس میں اندرا کے لیے بھی ایک گوشہ نکل آیا تھا جن حالتوں اور آفتوں نے اسے اندرا سے بیزار کردیا تھا وہ اب رخصت ہو گئی تھیں۔ اب اسے اندرا سے کچھ ہمدردی ہو گئی تھی۔ اگر اس کے مزاج میں غرور ہے، حکومت ہے، تکلف ہے، شان ہے تو یہ اس کا قصور نہیں۔ یہ رئیس زادوں کی عام کمزوریاں ہیں یہی ان کی تعلیم ہے۔ وہ بالکل معذور و مجبور ہیں۔ انہیں متغیر اور معتدل جذبات کے ساتھ جہاں وہ بیچینی کے ساتھ رنبھا کی یاد کو تازی کیا کرتا تھا۔ وہاں اندرا کا خیر مقدم کرنے اور اسے اپنے دل میں جگہ دینے کے لیے تیار تھا۔ وہ دن بھی دور نہیں تھا جب اسے اس آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے کئی عزیز امیرانہ شان و شکوہ کے ساتھ اندرا کو رخصت کرانے کے لیے ناگپور گئے ہوئے تھے۔ مگن داس کی طبیعت آج گونا گوں جذبات کے باعث جن میں انتظار اور اشتیاق کی حیثیت نمایاں تھی۔ اچاٹ سی ہو رہی تھی۔ جب کوئی ملازم آتا تو وہ سنبھل بیٹھتا کہ شاید اندرا آ پہنچی۔ آخر شام کے وقت جب دن اور رات مل رہے تھے زنانخانہ میں نغمہ پر شور کی صداؤں نے بہو کے پہنچنے کی اطلاع دی۔ سہاگ کی سہانی رات تھی۔ دس بج گئے تھے۔ پرفضا صحن میں چاندنی چھٹکی ہوئی تھی۔ وہ چاندنی جس میں نشہ ہے، آرزو ہے اور کشش ہے۔ گملوں میں کھلے گلاب اور چمپے کے پھول چاند کی سنہری روشنی میں زیادہ متین اور خاموش نظر آتے تھے۔ مگن داس اندرا سے ملنے کے لیے چلا۔ اس کے دل میں آرزوئیں ضرور تھیں۔ مگر حسرت ناک شوقِ دیدار تھا۔ مگر تشنگی سے خالی۔ محبت نہیں نفس کی کشش تھی۔ جو اسے کھینچے لیے جاتی تھی۔ اس کے دل میں بیٹھی ہوئی رنبھا شاید بار بار باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی لیے دل میں دھڑکن ہو رہی تھی۔ وہ گلاب گاہ کے دروازہ پر پہنچا۔ ریشمی پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس نے پردہ اٹھا دیا۔ اندرا ایک سفید ساڑھی پہنے کھڑی تھی ہاتھ میں چند خوشنما چوڑیوں کے سوا اس کے بدن پر ایک زیور بھی نہ تھا۔ جوں ہی پردہ اٹھا اور مگن داس نے اندر قدم رکھا وہ مسکراتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ مگن داس نے اسے دیکھا اور متحیر ہو کر بولا۔ ” رمبھا“ اور دونوں بیتابانہ جوش سے باہم لپٹ گئے۔ دل میں بیٹھی ہوئی ابھی باہر نکل آئی تھی۔
سال بھر گزرنے کے بعد ایک دن اندرا نے اپنے شوہر سے کہا، ”کیا رنبھا کو بالکل بھول گئے؟ کیسے بے وفا ہو۔ کچھ یاد ہے اس نے چلتے وقت تم سے کیا التجا کی تھی؟“ مگن داس نے کہا۔ ”خوب یاد ہیں۔ وہ آواز بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ میں رنبھا کو بھولی بھالی لڑکی سمجھتا تھا، یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ تریا چرتر کا طلسم ہے۔ میں اپنی رنبھا کو اب بھی اندرا سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ تمہیں رشک تو نہیں ہوتا؟“ اندرا نے ہنس کر جواب دیا۔ ”رشک کیوں ہو؟ تمہیں رمبھا ہے تو کیا میرا مگن سنگھ نہیں ہے؟ میں اب بھی اس پر مرتی ہوں۔“ دوسرے دن دونوں دہلی سے ایک قومی جلسے میں شریک ہونے کا بہانہ کر کے روانہ ہو گئے اور ساگرگھاٹ جا پہنچے۔ وہ جھونپڑا، وہ محبت کا مندر، وہ پریم بھون، پھول اور سبزہ سے لہرا رہا تھا۔ چمپا مالن انہیں وہاں ملی۔ گاؤں کے زمیندار ملنے کے لیے آئے۔ کئی دن تک پھر مگن سنگھ کو گھوڑے نکالنا پڑے۔ رمبھا کنوئیں سے پانی لائی۔ کھانا پکاتی، پھر چکی پیستی اور گاتی۔ گاؤں کی عورتیں پھر اس سے اپنے کرتے اور بچوں کی لیس دار ٹوپیاں سلاتیں۔ ہاں اتنا ضرور کہتیں کہ اس کا رنگ کیسا نکھر آیا ہے۔ ہاتھ پاؤں کیسے ملائم پڑ گئے ہیں۔ کسی بڑے گھر کی رانی معلوم ہوتی ہے مگر مزاج وہی ہے، وہی میٹھی بولی ہے، وہی مروت، وہی ہنس مکھ چہرہ۔ اس طرح ایک ہفتہ تک اس سادہ اور پاکیزہ زندگی کا لطف اٹھانے کے بعد دونوں دہلی واپس آئے۔ اور اب دس سال گزرنے پر بھی سال میں ایک بار اس جھونپڑے کے نصیب جاگتے ہیں۔ وہ محبت کی دیوار ابھی تک ان دونوں پریمیوں کو اپنے سایہ میں آرام دینے کے لئے کھڑی ہے۔
