جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تریا چرتر

مگن داس نے جواب دیا، ”جمراج کا دوت۔“

رمبھا، ”کیا اشگون بکتے ہو۔“

مگن، ”نہیں رنبھا یہ اشگون نہیں ہے۔ یہ سچ مچ میری موت کا فرشتہ تھا۔ میری خوشیوں کے باغ کو روندنے والا، میری ہری بھری کھیتی کو اجاڑنے والا۔ رنبھا ! میں نے تمہارے ساتھ دغا کی ہے۔ میں نے تمہیں اپنے فریب کے جال میں پھنسایا ہے۔ مجھے معاف کر دو۔ محبت نے مجھ سے یہ سب کروایا۔ میں مگن سنگھ ٹھاکر نہیں ہوں۔ میں سیٹھ لگن کا بیٹا اور سیٹھ مکھن لال کا داماد ہوں۔“

مگن داس کو خوف تھا کہ رنبھا یہ سنتے ہی چونک پڑے گی اور شاید اسے ظالم دغاباز کہنے لگے گی۔ مگر اس کا خیال غلط نکلا۔ رنبھا نے آنکھوں میں آنسو بھر کر صرف اتنا کہا، ”تو کیا تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟“

مگن داس نے اسے گلے لگا کر کہا، ”ہاں“۔

رمبھا، ”کیوں؟“

مگن، ”اس لیے کہ اندرا بہت ہوشیار حسین اور دولت مند ہے۔“

رمبھا۔ میں تمہیں نہ چھوڑوں گی۔ کبھی اندرا کی لونڈی تھی۔ اب ان کی سوت بنوں گی۔ تم جتنی میری محبت کرو گے اتنی اندرا کی تو نہ کرو گے۔ کیوں؟

مگن داس اس بھولے پن پر متوالا ہو گیا۔ مسکرا کر بولا۔ اب اندرا تمہاری لونڈی بنے گی مگر سنتا ہوں وہ بہت سندر ہیں۔ کہیں میں ان کی صورت پر لبھا نہ جاؤں۔ مردوں کا حال تم نہیں جانتیں۔ مجھے اپنے ہی سے ڈر لگتا ہے۔

رمبھا نے پر یقین نگاہوں سے دیکھ کر کہا، ”کیا تم بھی ایسا کرو گے؟ ان جو جی میں آئے کرنا میں تمہیں نہ چھوڑوں گی۔ اندرا رانی بنے میں لونڈی بنوں گی۔ کیا اتنے پر بھی مجھے چھوڑ دو گے؟

مگن داس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بولا، ”پیاری! میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ دہلی نہ جاؤں گا۔ یہ تو میں کہنے ہی نہ پایا کہ سیٹھ جی کا سرگباس ہو گیا۔ بچہ ان سے پہلے ہی چل بسا تھا۔ افسوس سیٹھ جی کے آخری درشن بھی نہ کر سکا۔ اپنا باپ بھی اتنی محبت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مجھے اپنا وارث بنایا ہے۔ وکیل صاحب کہتے تھے کہ سیٹھانیوں میں ان بن ہے۔ نوکر چاکر لوٹ مار مچا رہے ہیں۔ وہاں کا یہ حال ہے اور میرا دل وہاں جانے پر راضی نہیں ہوتا۔ دل تو یہاں ہے وہاں کون جائے؟“

رمبھا، ”ذرا دیر تک سوچتی رہی پھر بولی، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گی۔ اتنے دن تمہارے ساتھ رہی۔ زندگی کا سکھ لوٹا۔ اب جب تک جیوں گی اس سکھ کا دھیان کرتی رہوں گی۔ مگر تم مجھے بھول تو نہ جاؤ گے؟ سال میں ایک بار دیکھ لیا کرنا اور اسی جھونپڑے میں۔“

مگن داس نے بہت ضبط کیا مگر آنسو نہ تھم سکے۔ بولے، ” رمبھا، یہ باتیں نہ کرو، کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔“

میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ اس لئے نہیں کہ تمہارے اوپر کوئی احسان ہے۔ تمہاری خاطر نہیں اپنی خاطر، وہ راحت، وہ محبت، وہ آنند، جو مجھے یہاں میسر ہے۔ اور کہیں نہیں مل سکتا۔ خوشی کے ساتھ زندگی بسر ہو۔ یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ مجھے ایشور نے وہ خوشی یہاں دے رکھی ہے تو میں اسے کیوں چھوڑوں؟ مال و دولت کو میرا سلام ہے مجھے اس کی ہوس نہیں ہے۔

رمبھا، پھر متین لہجے میں بولی، ”میں تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بنوں گی۔ چاہے تم ابھی مجھے نہ چھوڑو۔ لیکن تھوڑے دنوں میں تمہاری یہ محبت نہ رہے گی۔“

مگن داس کو تازیانہ لگا۔ جوش سے بولا، ”تمہارے سوا اس دل میں اب کوئی اور جگہ نہیں پا سکتا۔“

رات زیادہ آگئی تھی۔ اشمٹی کا چاند خواب گاہ میں جا چکا تھا۔ دوپہر کے کنول کی طرح صاف و شفاف آسمان میں ستارے کھلے ہوئے تھے۔ کسی کھیت کے رکھوالے کے بانسری کی آواز جسے دوری نے تاثیر، سناٹے نے سریلاپن اور تاریکی نے روحانیت کی ددلکشی بخشی تھی کانوں میں آ رہی تھی۔ گویا کوئی مبارک روح ندی کے کنارے بیٹھی ہوئی، پانی کی لہروں سے یا دوسرے ساحل کی خاموش و پرکشش درختوں سے اپنی زندگی کی داستان غم سنا رہی ہے۔

مگن داس سو گیا۔ مگر رنبھا کی آنکھوں میں نیند نہ آئی۔

(7)

صبح ہوئی تو مگن داس اٹھا اور رنبھا ! رنبھا ! پکارنے لگا۔ مگر رنبھا رات ہی کو اپنی چچی کے ساتھ وہاں سے کہیں چلی گئی تھی۔ مگن داس کو اس مکان کے درودیوار پر ایک حسرت سی چھائی ہوئی معلوم ہوئی۔ گویا گھر کی جان نکل گئی تھی۔ وہ گھبرا کر اس کوٹھری میں گیا۔ جہاںرنبھا روز چکی پیستی تھی مگر افسوس! آج چکی بے حسن و حرکت تھی۔ پھر وہ کنوئیں کی طرف دوڑا گیا۔ لیکن ایسا معلوم ہوا کہ کنوئیں نے اسے نگل جانے کے لئے اپنا منہ کھول دیا ہے۔ تب وہ بچوں کی طرح چیخ اٹھا۔ اور روتا ہوا پھر اسی جھونپڑی میں آیا جہاں کل رات تک محبت کا باس تھا۔ مگر آہ! اس وقت وہ ماتم کدہ بنی ہوئی تھی۔ جب ذرا آنسو تھمے تو اس نے گھر میں چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ رمبھا کی ساڑھی الگنی پر پڑی ہوئی تھی۔ ایک پٹاری میں وہ کنگھن رکھا ہوا تھا جو مگن داس نے اسے دیا تھا۔ برتن سب رکھے ہوئے تھے صاف اور ستھرے۔ مگن داس سوچنے لگا، ”رمبھا تو نے رات کو کہا تھا، ”تمہیں چھوڑ دوں گی۔“ کیا تو نے وہ بات دل سے کہی تھی؟ میں نے تو سمجھا تھا کہ تو دل لگی کر رہی ہے۔ نہیں تو میں تجھے کلیجے میں چھپا لیتا۔ میں تو تیرے لیے سب کچھ چھوڑے بیٹھا تھا۔ تیری محبت میرے لیے سب کچھ تھی۔ آہ میں یوں بے چین ہوں، کیا تو بے چین نہیں ہے؟“ ہائے تو رو رہی ہے، مجھے یقین ہے کہ اب بھی لوٹ آئے گی۔ پھر مجسم تصویر کا ایک جھمگٹ اس کے سامنے آیا۔ وہ نازک ادائیاں، وہ متوالی نگاہیں۔ وہ بھولی بھالی باتیں، وہ خود فراموشانہ مہر انگیزیاں۔ وہ جان بخش تبسم، وہ عاشقانہ دلجوئیاں۔ وہ پریم کا نشہ، وہ دائمی شگفتہ مزاجی۔ وہ لچک لچک کر کنوئیں سے پانی لانا۔ وہ صورتِ انتظار، وہ پرمحبت اضطراب۔ یہ سب تصویریں اس کے نگاہوں کے سامنے حسرتناک بیتابی کے ساتھ پھرنے لگیں۔ مگن داس نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ اور رقت و درد کے امڈے ہوئے دریا کو مردانہ ضبط سے روک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ناگپور جانے کا قطعی فیصلہ ہو گیا۔ تکیہ کے نیچے سے صندوق کی کنجی اٹھائی تو کاغذ کا ایک ٹکڑا نکل آیا۔ یہ رمبھا کا الوداعی خط تھا۔

”پیارے! میں بہت رو رہی ہوں۔ میرے پیر نہیں اٹھتے۔ مگر میرا جانا ضروری ہے، تمہیں جگاؤں گی تو تم جانے نہ دو گے۔ آہ! کیسے جاؤں! اپنے پیارے پتی کو کیسے چھوڑوں۔ قسمت مجھ سے یہ آنند کا گھر چھڑا رہی ہے۔ مجھے بے وفا مت کہنا۔ میں تم سے پھر کبھی ملوں گی۔ میں جانتی ہوں کہ تم نے میرے لیے سب کچھ تیاگ دیا ہے۔ مگر تمہارے لیے زندگی میں بہت کچھ امیدیں ہیں، میں اپنی محبت کی دھن میں تمہیں ان امیدوں سے کیوں دور رکھوں۔ اب تم سے وداع ہوتی ہوں۔ میری سدھ مت بھولنا۔ میں تمہیں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ یہ آنند کے دن کبھی نہ بھولیں گے۔ کیا تم مجھے بھول سکو گے؟“

تمہاری پیاری رنبھا