مالن نے دامن پھیلا کر دعائیں دیں۔ ”بیٹا تم جگ جگ جیو۔ بڑی عمر ہو۔ یہاں کوئی گھر ملے تو مجھے دلوا دو۔ میں یہاں رہوں گی تو میری بھتیجی کہاں جائے گی؟ وہ بیچاری شہر میں کس کے آسرے رہے گی؟ مگن داس کا خون حمیت جوش میں آیا۔ ان پر یہ افت میری لائی ہوئی ہے۔ ان کی اس آوارہ گردی کا ذمہ دار میں ہوں۔ بولا، ”کوئی ہرج نہ ہو تو اسے بھی یہیں لے آؤ۔ میں دن کو یہاں بہت کم رہتا ہوں صرف ایک بار کھانے آیا کرتا ہوں۔ رات کو باہر چارپائی ڈال کر پڑ رہا کروں گا میری وجہ سے تم لوگوں کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ یہاں دوسرا مکان ملنا مشکل ہے۔ یہی جھونپڑا بڑی مشکلوں سے ملا ہے۔ یہ اندھیر نگری ہے۔ جب تمہارا سبھیتا کہیں لگ جائے تو چلی جانا۔“
مگن داس کو کیا معلوم تھا کہ حضرت عشق اس کی زبان پر بیٹھے ہوئے اس سے یہ باتیں کہلا رہے ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ عشق پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوتا ہے!
(5)
ناگپور اس گاؤں سے بیس میل کے فاصلے پر تھا۔ چمپا اسی دن چلی گئی۔ اور تیسرے دنرنبھاکے ساتھ لوٹ آئی۔ یہ اس کی بھتیجی کا نام تھا۔ اس کے آنے سے جھونپڑے میں جان سی پڑ گئی۔ مگن داس کے ذہن میں مالن کی لڑکی کی جو تصویر تھی اس کو رنبھا سے کوئی مناسبت نہ تھی۔ وہ جنسِ حسن کا مشاق جوہری تھا مگر ایسی صورت جس پر شباب کی مستانہ اور فتنہ خیز دلاویزیاں نثار ہو رہی ہوں اس کی نظر سے کبھی نہیں گزری تھی اس کی جوانی کا چاند اپنی سنہری اور متین شان کے ساتھ چمک رہا تھا۔ صبح کا وقت تھا۔ مگن داس دروازہ پر پڑا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا لطف اٹھا رہا تھا۔ رنبھا سر پر گھڑا رکھے پانی بھرنے کو نکلی۔ مگن داس نے اسے دیکھا۔ اور ایک لمبی سانس کھینچ کر اٹھ بیٹھا۔ خط و خال بہت ہی دلفریب تازہ پھول کی طرح شگفتہ چہرہ۔ آنکھوں میں متین سادگی کا جلوہ مگن داس کو اس نے بھی دیکھا۔ چہرہ پر حیا کی سرخی نمودار ہو گئی۔ عشق نے پہلا وار کیا۔
مگن داس سوچنے لگا۔ کیا تقدیر یہاں کوئی اور گل کھلانے والی ہے۔ کیا دل مجھے یہاں بھی چین نہ لینے دے گا۔رنبھاتو یہاں ناحق آئی۔ ناحق ایک غریب کا خون تیرے سر پر ہو گا۔ میں تو اب تیرے ہاتھوں بک چکا۔ مگر کیا تو بھی میری ہو سکتی ہے؟ لیکن نہیں اتنی عجلت نہیں۔ دل کا سودا سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ تم کو ابھی ضبط کرنا ہو گا۔ رنبھا حسین ہے مگر جھوٹے موتی کی آب و تاب اسے سچا نہیں بنا سکتی۔ تمہیں کیا خبر کہ اس بھولی نازنین کے کان حرفِ محبت سے آشنا نہیں ہو چکے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کا باغِ حسن کسی گلچین کی دست درازیوں سے آلودہ نہیں ہو چکا۔ اگر چند دنوں کی دل بستگی کے لیے ایک مشغلہ کی ضرورت ہے تو تم آزاد ہو۔ مگر یہ نازک معاملہ ہے۔ ذرا سنبھلے ہوئے قدم رکھنا پیشہ ور ذاتوں میں حسن ظاہری اکثر اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ تین مہینے گزر گئے۔
مگن داس رنبھاکو جوں جوں موشگافانہ نگاہوں سے دیکھتا توں توں اس پر پریم کا رنگ گاڑھا ہو جاتا تھا۔ وہ روز اسے کنوئیں سے پانی نکالتے دیکھتا۔ وہ روز گھر میں جھاڑو دیتی، روز کھانا پکاتی۔ آہ مگن داس کو ان جوار کی روٹیوں میں جو مزہ آتا وہ کبھی نعمتوں کے خوان لطیف میں بھی نہ آیا تھا۔ اسے اپنی کوٹھری ہمیشہ صاف اور ستھری ملتی۔ نہ جانے کون اس کے بستر بچھا دیتا۔ کیا یہ رنبھا کی عنایت تھی؟ اس کی نگاہیں کیسی شرمیلی تھیں اس نے اسے کبھی اپنی طرف شوخ نگاہوں سے تاکتے نہیں دیکھا۔ آواز کیسی میٹھی۔ اس کی ہنسی کی آواز کبھی اس کے کان میں نہیں آئی۔ مگر مگن داس اس کے پریم میں متوالا ہو رہا تھا تو کوئی تعجب کی بات نہیں تھی اس کی گرسنہ نگاہیں اضطراب اور اشتیاق میں ڈوبی ہوئی ہمیشہ رنبھا کو ڈھونڈھا کرتیں۔ وہ جب کسی دوسرے گاؤں کو جاتا تو میلوں تک اس کی پُر ضد اور بیتاب آنکھیں مڑ مڑ کر جھونپڑے کے دروازے کی طرف آتیں اس کی شہرت قرب و جوار میں پھیل گئی تھی۔ مگر اس کی خلقی مروت اور کشادہ ظرفی سے اکثر لوگ بیجا فائدہ اٹھاتے، انصاف پسند حضرات تو خاطر مدارات سے کام نکال لیتے۔
اور جو لوگ زیادہ دانشمند تھے وہ متواتر تقاضوں کے منتظر رہتے اور مگن داس اس فن سے بیگانہ محض تھا اس لیے باوجود شب و روز کی دوڑ دھوپ کے افلاس سے اس کا گلا نہ چھوٹتا۔ جب وہ رنبھاکو چکی پیستے ہوئے دیکھتا تو گیہوں کے ساتھ اس کا دل بھی پس جاتا تھا۔ وہ کنوئیں سے پانی نکالتی تو اس کا کلیجہ نکل آتا۔ جب وہ پڑوس کی عورتوں کے کپڑے سیتی تو کپڑوں کے ساتھ مگن داس کا دل چھد جاتا۔ مگر کچھ بس تھا نہ قابو۔
مگن داس کی رمز شناس نگاہوں کو اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ اگر اس کی کششِ محبت بالکل بے اثر نہیں ہے۔ ورنہرنبھاکی وفادارانہ خاطر داریوں کو کس خیال سے منسوب کرتا۔ وفا ہی وہ جادو ہے جو غرورِ حسن کا سر بھی نیچا کر سکتی ہے۔ مگر عاشقانہ رسائی پیدا کرنے کا مادہ اس میں بہت کم تھا۔ کوئی دوسرا منچلا عاشق اب تک اپنے عملِ تسخیر میں کامیاب ہو چکا ہوتا۔ لیکن مگن داس نے دلِ عاشق کا پایا تھا اور زبانِ معشوق کی۔
ایک روز شام کے وقت چمپا کسی کام سے بازار گئی ہوئی تھی اور مگن داس حسب معمول چارپائی پڑا خواب دیکھ رہا تھا کہ رنبھا ایک شانِ رعنائی کے ساتھ آ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس کا بھولا چہرہ کنول کی طرح کھلا ہوا تھا۔ اور آنکھوں سے ہمدردی کا پاک جذبہ جھلک رہا تھا مگن داس نے اس کی طرف پہلے حیرت اور پھر محبت کی نگاہوں سے دیکھا۔ اور دل پر زور ڈال کر بولا۔ ”آؤ رنبھا ! تمہیں دیکھنے کو بہت دن سے آنکھیں ترس رہی تھیں۔“
رمبھا نے بھولے پن میں کہا۔ ”میں یہاں نہ آتی تو تم مجھ سے کبھی نہ بولتے“
مگن داس کا حوصلہ بڑھا۔ بولا ”بلا مرضی پائے تو کتا بھی نہیں آتا۔“
رمبھا مسکرائی۔ کلی کھل گئی۔ ”میں تو آپ ہی چلی آئی۔“
مگن داس کا کلیجہ اچھل پڑا۔ اس نے جرات کر کےرنبھاکا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور جذبہ سے کانپتی ہوئی آواز سے بولا ”نہیں رنبھا ایسا نہیں ہے۔ یہ میری مہینوں کی کڑی تپسیا کا پھل ہے۔“
مگن داس نے بیتاب ہو کر گلے سے لگا لیا۔ جب وہ چلنے لگی تو اپنے عاشق کی طرف التجا آمیز نگاہوں سے دیکھ کر بولی ”اب یہ پریت تم کو نباہنی ہو گی۔“
پوپھٹنے کے وقت جب سورج دیوتا کی آمد کی تیاریاں ہو رہی تھیں مگن داس کی آنکھ کھلی۔رنبھاآٹا پیس رہی تھی۔ اس پر سکون سناٹے میں چکی کی گھمر گھمر بہت سہانی معلوم ہوتی تھی اور اس سے سر ملا کر رنبھا اپنے دلکش انداز میں گاتی تھی۔
”جھلینا موری پانی میں گری۔“
”میں جانوں پیا مجھ کو میں نہیں۔ الٹی مناؤں مجھ کو پڑی۔“
”جھلینا موری پانی میں گری۔“
سال بھر گزر گیا مگن داس کی محبت اوررنبھا کے سلیقہ نے مل کر اس ویران جھونپڑے کو کنجِ باغ بنا دیا۔ اب وہاں گائیں تھیں۔ پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ اور کئی دیہاتی وضع کے مونڈھے تھے۔ فراغت اور آسائش کی برکتیں نمودار تھیں۔
ایک روز صبح کے وقت مگن داس کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ ایک معزز آدمی انگریزی لباس پہنے۔ اسے ڈھونڈھتا ہوا آ پہنچا اور اسے دیکھتے ہی دوڑ کر گلے سے لپٹ گیا۔ مگن داس اور وہ دونوں ایک ساتھ پڑھا کئے تھے۔ وہ اب وکیل ہو گیا تھا۔ مگن داس نے بھی اب اسے پہچانا۔ اور کچھ جھیپتا اور کچھ جھجھکتا۔ اس سے بغلگیر ہو گیا۔ بڑی دیر تک دونوں دوست باتیں کرتے رہے۔ باتیں کیا تھیں؟۔ واقعات اور اتفاقات کی ایک ضخیم داستان تھی۔ کئی مہینے ہوئے، سیٹھ لگن داس کا چھوٹا بچہ چیچک کی نذر ہو گیا سیٹھ جی نے فرطِ ملال سے خود کشی کر لی۔ اور اب مگن داس ساری جائداد، کوٹھی، علاقہ اور مکانات کا بلا شرکت غیرے مالک و مختار تھا۔ سیٹھانیوں میں خانہ جنگیاں ہو رہی تھیں ملازموں نے غبن و خیانت کو اپنا وطیرہ بنا رکھا تھا۔ بڑی سیٹھانی اسے بلانے کے لیے خود آنے پر آمادہ تھیں۔ مگر وکیل صاحب نے انہیں روکا تھا۔ جب مگن داس نے مسکرا کر پوچھا۔ تمہیں کیوں کر معلوم ہوا کہ میں یہاں ہوں تو وکیل صاحب نے فرمایا۔ ”مہینہ بھر سے تمہارے ہی سراغ میں ہوں۔ سیٹھ مکھن لال نے پتہ بتلایا تم وہاں پہنچے اور میں نے اپنا مہینہ بھر کابل پیش کیا۔“
رمبھا بیقرار تھی کہ یہ کون ہے اور ان میں کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ دس بجتے بجتے وکیل صاحب مگن داس سے ایک ہفتہ کے اندر آنے کا وعدہ لے کر رخصت ہوئے۔ اسی وقترنبھاآپہنچی اور پوچھنے لگی، ”یہ کون تھا؟ ان کا تم سے کیا کام تھا؟“
