مالن نے پیرانہ چڑ چڑے پن کے ساتھ جواب دیا۔ ”تمہاری سمجھ موٹی ہو تو کوئی کیا کرے۔ کوئی پان لگاتی ہے کوئی پنکھا جھلتی ہے۔ کوئی کپڑے پہناتی ہے۔ دو ہزار روپیہ میں تو سیج گاڑی آئی تھی۔ چاہو تو منہ دیکھ لو تو اس پر ہوا کھانے جاتی ہیں۔ ایک بنگالن گانا بجانا سکھاتی ہے۔ میم پڑھانے آتی ہے۔ شاستری جی سنسکرت پڑھاتے ہیں۔ کاگد1 پر ایسی مورت بناتی ہیں کہ اب بولی اور اب بولی۔ دل کی رانی ہے۔ بیچاری کے بھاگ پھوٹ گئے دلی کے سیٹھ لگن داس کے پالک لڑکے سے بیاہ ہوا تھا۔ مگر رام جی کی لیلا۔ ستر برس کے مردے کو لڑکا دیا۔ کون پتیائے گا۔ جب سے یہ سناونی آئی ہے تب سے بہت اداس رہتی ہیں۔ ایک دن روتی تھیں۔ میرے سامنے کی بات ہے۔ باپ نے دیکھ لیا۔ سمجھانے لگے۔ لڑکی کو بہت چاہتے ہیں۔ سنتی ہوں داماد کو یہیں بلا کر رکھیں گے۔ نارائن کرے میری رانی دو دھون نہائے پوتوں پھلے۔ ما مر گیا تھا۔ انہوں نے آڑ نہ دی ہوتی تو گھر گھر کے ٹکڑے مانگتی۔
مگن داس نے ایک لمبی سانس لی۔ ”بہتر ہے اب یہاں سے اپنی عزت آبرو لئے ہوئے چل دو۔ یہاں میرا نباہ نہ ہو گا۔ اندرا رئیس زادی ہے۔ تم اس قابل نہیں ہو کہ اس کے شوہر بن سکو۔“ مالن سے بولا۔ تو دھرم سالے میں جاتا ہوں جانے وہاں کھاٹ واٹ مل جاتی ہے کہ نہیں۔ مگر رات تو کاٹنی ہے کسی طرح کٹ ہی جائے گی رئیسوں کے لیے مخملی گدے چاہئے۔ ہم مزدوروں کے لیے پوال ہی بہت ہے۔
یہ کہہ کر اس نے لٹھیا اٹھائی ڈنڈا سنبھالا۔ اور با دلِ پر درد ایک طرف کو چل دیا۔
اس وقت اندرا اپنے جھروکے پر بیٹھی ہوئی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ کیا اتفاق کی خوبی ہے کہ عورت کو جنت کی نعمتیں حاصل اور اس کا شوہر آوارہ وطن۔ جسے رات کاٹنے کا ٹھکانہ نہیں۔
(4)
مگن داس مایوسانہ خیالات میں ڈوبا ہوا شہر سے باہر نکل آیا۔ اور ایک سرائے میں ٹھہرا جو صرف اس لیے مشہور تھی کہ وہاں شراب کی ایک دوکان تھی۔ یہاں قرب و جوار سے مزدور لوگ آ آ کر غم غلط کیا کرتے تھے۔ جو بھولے بھٹکے مسافر یہاں ٹھہرتے انہیں ہشیاری اور چوکسی کا عملی سبق مل جاتا تھا۔ مگن داس تھکا ماندہ تھا وہی ایک بیڑ کے نیچے چادر بچھا کر سو رہا۔ اور جب صبح کو نیند کھلی تو کسی پیرومرشد کی زندہ تلقین معرفت کا کرشمہ نظر آیا جس کی پہلی منزل ترک دنیا ہے۔ اس کی مختصر بقچی جس میں دو ایک کپڑے اور زادِ راہ اور لٹیا ڈور بندھی ہوئی تھی غائب ہو گئی تھی۔ بجز ان کپڑوں کے جو اس کے بدن پر تھے۔ اب اس کے پاس کچھ تھی نہ تھا۔ اور بھوک جو افلاس میں اور بھی تیز ہو جاتی ہے اسے بے چین کر رہی تھی۔ مگر مستقل مزاج آدمی تھا۔ اس نے قسمت کا رونا نہیں رویا۔ گزران کی تدبیریں سوچنے لگا۔ سیاق و سباق میں اسے اچھی دستگاہ تھی مگر اس حیثیت میں اس سے فائدہ اٹھانا غیر ممکن تھا وہ بہت ہی خوش گلو تھا اس فن میں بہت ریاض کی تھی۔ کئی رنگین مزاج رئیسِ دربار میں اس کی قدر ہو سکتی تھی۔ مگر اس کی مردانہ غیرت نے اس پیشہ کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دی۔ ہاں وہ اعلیٰ درجہ کا شہسوار تھا اور یہ فن شان و وضع داری کے ساتھ اس کی معاش کا وسیلہ بن سکتا تھا۔ یہ مصمم ارادہ کر کے اس نے قدمِ ہمت آگے بڑھائے۔ بظاہر یہ قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا۔ مگر وہ اپنا بوجھ ہلکا ہو جانے سے اس وقت بہت رنجیدہ خاطر نہیں تھا۔ مردانہ ہمت کا آدمی ایسی افتادوں کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے ایک ہوشیار طالب علم امتحان کے سوالات کو دیکھتا ہے۔ اسے اپنی ہمت آزمانے کا۔ ایک مشکل سے عہدہ برآ ہونے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ اس کی ہمت نادانستہ طور پر مضبوط ہو جاتی ہیں۔ فی الواقعہ ایسے معرکہ مردانہ حوصلہ کے لئے تحریک کا کام دیتے ہیں۔ مگن داس اس جوش سے قدم بڑھاتا چلا جاتا تھا گویا کامیابی کی منزل سامنے نظر آرہی ہے۔ مگر شاید وہاں کے گھوڑوں نے شرارت اور سرکشی سے توبہ کر لی تھی۔ یا وہ خلقی طور پر خوشگام و سبکخرام واقع ہوئے تھے۔ وہ جس گاؤں میں جاتا، ہمت یاس کو اکسانے والا جواب پاتا بالآخر شام کے وقت جب آفتاب اپنی منزل مقصود پر جا پہنچا تھا۔ اس کی منزل دشوار تمام ہوئی۔ ناگر گھاٹ کے ٹھاکر اٹل سنگھ نے اس کی فکر معاش کا خاتمہ کیا۔ یہ ایک بڑا گاؤں تھا۔ پختہ مکانات بہت تھے۔ مگر ان میں آسمانی روحین آباد تھیں۔ کئی سال پہلے پلیگ نے آبادی کے بڑے حصے کو عالم سفلی سے اٹھا کر عالم علوی میں پہنچا دیا تھا۔ اس وقت پلیگ کے موجودہ اور خانہ برانداز جانشین گاؤں کے نوجوان اور شوقین زمیندار صاحب اور حلقہ کے کارگزار اور ذی رعب تھانہ دار صاحب تھے۔ ان کی متفقہ سرگرمیوں سے گاؤں میں ستجگ کا راج تھا۔ مال و دولت کو لوگ عذاب جان سمجھتے تھے۔ اسے گناہ کی طرح چھپاتے تھے۔ گھر میں روپیہ رہتے ہوئے لوگ قرض لے لے کر کھاتے، اور پھٹے حالوں رہتے تھے۔ اسی میں نباہ تھا۔ کاجل کی کوٹھری تھی۔ سفید کپڑے پہننا ان پر دھبہ لگاتا تھا۔ حکومت اور جبر کا بازار گرم تھا۔
امیروں کے یہاں انجن کے لیے بھی دودھ نہ تھا۔ اور تھانہ میں دودھ کی ندی بہتی تھی۔ مویشی خانہ کے محرر دودھ کی کلیاں کرتے تھے۔ اسی اندھیر نگری کو مگن داس نے اپنا مسکن بنایا۔ ٹھاکر صاحب نے غیر معمولی فیاضی سے کام لے کر اسے رہنے کے لیے ایک مکان بھی دے دیا جو صرف بہت وسیع معنوں میں مکان کہا جا سکتا تھا۔ اسی گوشۂ قناعت میں وہ ایک ہفتہ سے زندگی کے دن کاٹ رہا ہے۔ اس کا چہرہ زرد ہے اور کپڑے میلے ہو رہے ہیں۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے اب ان باتوں کا حس ہی نہیں رہا۔ زندہ ہے مگر زندگی رخصت ہو گئی ہے۔ ہمت اور حوصلہ مشکل کو آسان کر سکتے ہیں۔ آندھی اور طوفان سے بچا سکتے ہیں۔ مگر بشاشت ان کے حیطۂ امکان سے باہر ہے۔ ٹوٹی ہوئی ناؤ پر بیٹھ کر ملار گانا ہمت کا کام نہیں۔ حماقت کا کام ہے۔
ایک روز جب شام کے وقت وہ اندھیرے میں کھاٹ پر پڑا ہوا تھا۔ ایک عورت اس کے دروازے پر آکر بھیک مانگنے لگی۔ مگن داس کو آواز مانوس معلوم ہوئی باہر آکر دیکھا تو وہی چمیا مالن تھی۔ کپڑے تار تار، مصیبت کی روتی ہوئی تصویر۔ بولا، ”مالن! تمہاری یہ کیا حالت ہے؟ مجھے پہچانتی ہو؟“
مالن نے چونک کر دیکھا اور پہچان گئی۔ رو کر بولی، ”بیٹا اب بتاؤ میرا کہاں ٹھکانا لگے؟ تم نے میرا بنا بنایا گھر اجاڑ دیا۔ نہ اس دن تم سے باتیں کرتی نہ مجھ پر یہ بپت پڑی۔ بائی نے تمہیں بیٹھے دیکھ لیا۔ باتیں بھی سنیں، صبح ہوتے ہی مجھے بلایا اور برس پڑیں“۔ ناک کٹوا لوں گی۔ منہ میں کالک لگوا دوں گی۔ چڑیل کٹنی نے تو میری بات کسی غیر آدمی سے کیوں چلائی؟ تو دوسروں سے میرا چرچا کیوں کرے؟ وہ کیا تیرا داماد تھا جو تو اس سے میرا دکھڑا روتی تھی۔ جو کچھ منہ میں آیا، بکتی ہیں۔ مجھ سے بھی نہ سہا گیا۔ رانی روٹھیں گی اپنا سہاگ لیں گی۔ بولی بائی جی مجھ سے قصور ہوا، لیجیئے اب جاتی ہوں۔ چھینکتے ناک کٹتی ہے تو میرا نباہ یہاں نہ ہوگا۔ ایشور نے منہ دیا ہے تو اہار بھی دے گا۔ چار گھر سے مانگوں گی تو میرے پیٹ کی ہو جائے گا۔ اس چھوکری نے مجھے کھڑے کھڑے نکلوا دیا۔ بتاؤ میں نے تم سے اس کی کون سی شکایت کی تھی۔ اس کی کیا چرچا کی تھی۔ میں تو اس کا بکھان کر رہی تھی مگر بڑے آدمیوں کا غصہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اب بتاؤ میں کس کی ہو کر رہوں۔ آٹھ دن اسی طرح ٹکرے مانگتے ہو گئے۔ ایک بھتیجی انہیں کے یہاں لونڈیوں میں نوکر تھی۔ اسی دن اسے بھی نکال دیا۔ تمہاری بدولت جو کبھی نہ کیا تھا وہ کرنا پڑا۔ تمہیں کاہے کو دوش لگاؤں۔ قسمت میں جو کچھ لکھا تھا وہ دیکھنا پڑا۔
مگن داس سناٹے میں آگیا۔ نخوتِ مزاج کا یہ عالم ہے۔ یہ غرور، یہ شانِ تحکم، مالن کو تشفی دی۔ اس کے پاس اگر دولت ہوتی تو اسے مالا مال کر دیتا۔ سیٹھ مکھن لال کی صاحبزادی کو بھی معلوم ہو جاتا کہ رزق کی کنجی اسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ بولا، ”تم فکر نہ کرو میرے گھر میں آرام سے رہو۔ اکیلے میرا جی بھی نہیں لگتا۔ سچ کہو تو مجھے تمہاری طرح ایک عورت کی تلاش تھی۔ اچھا ہوا تم آگئیں۔“
