ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت بغدادی، مشہور مورخِ بغداد، خدا غریقِ رحمت کرے، عجیب و غریب فضل و کمال کے بزرگ تھے۔ ان کے تبحر کو زمانے ہی نے نہیں تسلیم کر لیا بلکہ اس نے ہر شخص کو تسلیم کرا دیا کہ وہ حافظِ حدیث تھے۔ اور روایتوں کے نقل کرنے اور وسعتِ نظر کے اعتبار سے وہ اپنے ہی عہد میں نہیں، ہر عہد کے لوگوں کی نظر میں اعجوبۂ روزگار اور بیمثل و بے بدل شخص تھے۔ راویوں کی جانچ پڑتال اور فقہ الرجال میں ان کا رتبہ اس پایہ پر ہےکہ متاخرین ہر امر میں ان کے فیصلوں پر اعتبار کرتے ہیں۔ ابنِ سمعانی نے ان کی تعریف میں فرمایا ہے، وہ اپنے عہد میں یا متاخرین میں اس مرتبے کے فاضل وعلامہ تھے جس مرتبہ کو فقہائے قدیم اور آئمہ سلف نے حاصل کر لیا تھا۔ بہت بڑے صاحبِ خلق اور صاحبِ رعب تھے۔ سچائی اور راست بازی میں اس آزادی سے کام لیتے تھے کہ انھوں نے جو کچھ اپنی تصانیف میں تحریر فرمایا وہ علی الاتفاق سب کے لیے حجت ہو گیا۔ ایک محدث تھے کہ تیز باعتبارِ نقلِ روایات، نیز ملحوظِ خوبیٔ خط، اور نیز بہ حیثیتِ قوتِ حافظہ اور یادداشتِ زمانہ میں نامور تھے۔ جو کچھ بیان کرتے تھے، اس کو نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ خدا نے خلق و مروت اور خوبصورتی و زیبائیٔ صورت، دونوں باتوں میں انھیں کمال بخشا تھا۔ علمِ حدیث کا ان پر خاتمہ ہوا اور حفاظِ حدیث کا سلسلہ اُن پر منقطع ہو گیا۔
چوبیس جمادی الثانی 392ھ میں جمعرات کے روز دارالسلام بغداد میں پیدا ہوئے ۔ اور اسی مبارک و مشہور شہر کے سواد میں نشوونما پائی۔ جب کھیل کود کا ابتدائی زمانہ اور بچپن کی آزاد اور دلچسپ زندگی گزر گئی اور کچھ کچھ رشد و تمیز کے سَن میں قدم رکھا تو مکتب میں آئے اور عام مسلمان لڑکوں کی طرح سعادتِ دارین سمجھ کر قرآن مجید پڑھنے لگے۔ قرأت کے تمام اصول کے ساتھ کلام پاک آلہی کو پڑھ کے نحو و صرف اور زبانِ عرب میں لیاقت حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔ شیخ ابو اسحٰق ابراہیم بن عقیل قرشی جن کو عام پبلک نے”مکبر نحوی“ کا خطاب دے رکھا تھا ۔ ان کے شاگردوں میں شامل ہوئے ۔ نحو و صرف کے قاعدے ان سے حاصل کیے اور علم فقہ میں بصیرت پیدا کرنے کے لیے قاضی ابو الطیب طبری اور شیخ ابو الحسین محاملی اور دیگر فقہائے معروف کی خدمت میں حاضر ہو کر زانوئے شاگردی تہ کیا ۔ 403ھ میں جب کہ ہنوز گیارہ ہی برس کی عمر تھی، علمِ حدیث نے اس نوعمر اور ہونہار بچے کو اپنی خوبیوں کا فریفتہ کر لیا۔ علمِ حدیث ایک ایسا علم تھا جس پر تمام کمالاتِ علم منحصر خیال کیے جاتے تھے۔ اور جمہورِ قدمائے اسلام نے اپنی لیاقت کا اظہار اسی فنِ شریف میں معرکہ آرائیاں کر کے کیا ہے۔ علم حدیث میں خطیب بغدادی کو اس کم سنی ہی کی عمر میں کچھ ایسی لذت حاصل ہوئی کہ وہ عہد جب کہ انسان کو سوا کھیل کود کے کچھ نہیں سوجھتا، اُس کی ساری دلچسپیاں اُنھیں بھول گئیں۔ کلامِ پاکِ رسول اللہ ﷺ کے ذوق نے گیارہ بارہ برس ہی کی عمر میں خطیب بغدادی کو دنیا کی تمام لذتوں اور راحتوں کا مزہ بھلا دیا تھا۔ کبھی شب و روز میں کوئی ایسی گھڑی نہ آتی تھی جس کو وہ نو عمر عاشقِ قولِ رسولؐ، سوائے حدیث کے کسی اور کام میں صرف کرتا ہو ۔ حتیٰ کہ کہتے ہیں اگر کسی خانگی اور ضروری کام کے لیے اُنہیں مجبوراً گھر سے نکلنا بھی پڑتا تھا تو کتب احادیث کا کوئی جزو ہاتھ میں لیتے جاتے تھے تا کہ راستہ میں اُسے یاد کرتے جائیں۔ مشہور محدث ابن جوزی، خطیب بغدادی کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس ذوق و شوق کا یہ نتیجہ ہوا کہ خطیب ممدوح تمام علما سے بغداد کے فیض افادت سے تھوڑے ہی دنوں میں بے پروا ہو گئے اور اس مرکز و دارالخلافتِ بنو عباس کے علمی خزانوں میں جو کچھ تھا، سب حاصل کر لیا۔ آخر شوقِ علم اور اس کی بے چینی نے بغداد چھڑا دیا۔ وطن مالوف کا چھوٹنا تھا کہ یہ عالم ہو گیا کہ جہاں اور جس شہر میں کسی نامور عالم اور حافظِ حدیث کا نام سنتے، اُس کی صحبت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے وہاں روانہ ہوتے۔ مدت تک خاکِ بصرہ پر مقیم رہے اور ایک عرصہ آپ سوادِ نیشاپور کی ہوا کھاتے رہے۔ کچھ دنوں اصفہان میں قیام کیا ۔ حتیٰ کہ مختلف استادوں اور شیوخ سے حاصل کر کے اپنی روایتوں اور سندوں کو نہایت ہی مضبوط کر لیا۔ جب اس امر میں اطمینان حاصل ہو گیا تو کششِ وطن نے انھیں کھینچ کے پھر بغداد پہنچایا ۔ کچھ دنوں وطن میں قیام رہا ۔ اعزا و اقارب کی صحبت سے تھوڑا ہی لطف اُٹھانے پائے تھے اور یار و آشنا کو ان کی دوستی سے زیادہ نفع حاصل کرنے کا موقع نہ ملا تھا کہ شوقِ علم کا جوش پھر دماغ میں پیدا ہوا۔ اور سفر کی تیاریاں کر دیں۔ وہ ممالک جو بغداد سے مشرق کی جانب واقع ہیں اُن کی آب و ہوا کا تو پہلے سفر میں امتحان کیا تھا۔ اس مرتبہ جو وطن سے قدم نکالا تو مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ اطرافِ شام کو بھی دنیائے علم میں بہت کچھ شہرت حاصل تھی۔ عراق سے نکل کر پہلا ملک شام تھا جو ان سے مغرب کی جانب واقع ہے ۔ لہذا خطیب بغدادی سرزمینِ شام میں پہنچے ۔ کچھ دنوں دمشق میں رہے، کچھ دنوں شہرِ صور کے لوگوں سے لطفِ صحبت اٹھایا ۔
عمر نسوی کہتے ہیں، جن دنوں خطیب بغدادی شہرِ صور میں تھے، اتفاقاً وہاں کی جامع مسجد میں ایک روز مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ میں اُن کی صحبت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک علوی شخص آیا۔ اس کی آستین1 میں کچھ دینار تھے جن کو لا کر اس نے خطیب ممدوح کے سامنے رکھ دیا اور عرض کرنے لگا کہ ’’شہر کے فلاں رئیس نے یہ دینار بطورِ نذر آپ کی خدمت میں بھیجے ہیں، اور عرض کیا ہے کہ ان کو آپ اپنے حوائجِ ضروریہ میں صرف کیجیے۔‘‘ ابو بکر خطیب نے لاپروائی سے جواب دیا ”مجھے ان کی کچھ ضرورت نہیں ۔“ اُس علوی نے یہ جواب سن کے کہا ’’شاید آپ ان دیناروں کو تھوڑا خیال کر کے نہیں قبول فرماتے، بہتر! تو لیجیے اور بھی حاضر ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے آستین جھاڑی تو چھنا چھن بہت سے دینار گر پڑے اور اس جانماز پر پھیل گئے جو خطیب صاحب کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ اور اُن دیناروں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا، ”لیجیے یہ تین سو دینار، ان کو قبول فرما کے اپنے امورِ ضروریہ میں صرف کیجیے۔“ اتنا سننا تھا کہ ابو بکر خطیب کو غصہ آ گیا۔ جھلا کے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنی جانماز اُٹھا کے جھاڑ دی۔ وہ تمام دینار مسجد کی چٹائی پر ادھر ادھر بکھر گئے۔ اور خود مسجد سے نکل کے اپنے فرودگاہ کا راستہ لیا۔ وہ علوی ذلیل ہو کے رہ گیا۔ نسوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں نہ کسی کو اتنا برہم اور مستغنی دیکھا جس قدر کہ اس وقت مجھے خطیب بغدادی نظر آئے اور نہ میں نے کسی کو اتنا نادم اور ذلیل دیکھا جس قدر کہ اس وقت وہ علوی تھا۔ اس بیچارے نے آخر پچھتا کے وہ دینار چٹائی کے شگافوں سے نکالے اور اپنے دل میں خود اپنے اوپر نفرین کرتا ہوا چلا گیا۔
